تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ۔۔کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملہ: حکومت ناکام کیوں ہے؟

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کراچی اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گرد حملہ کو بھارتی خفیہ ایجنسی ’را ‘ کی کارروائی قرار دیا ہے۔ آج صبح ہونے والے اس سانحہ میں چاروں حملہ آور ہلاک کردیے گئے۔ سیکورٹی فورسز کے چار افراد بھی مقابلہ میں جاں بحق ہوئے۔ افغانستان سے سرگرم دہشت گرد گروپ بلوچستان لبریشن آرمی نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ تاہم وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت، پاکستان میں دہشت گردوں کو منظم کرتا ہے اور اس قسم کے ہتھکنڈوں سے پورے خطے کے امن و امان کے لئے خطرہ بنا ہؤا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان پائی جانے والی چپقلش اور سرد جنگ کی صورت حال میں اس قیاس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ بھارتی ایجنسیاں اس دہشت گرد کارروائی میں ملوث ہوں۔ بلوچستان لبریشن آرمی اور پاکستان سے ناراض دیگر بلوچ گروہوں کے ساتھ بھارتی ایجنسیوں کے تعلقات صیغہ راز میں نہیں ہیں۔ تاہم شاہ محمود قریشی اور دیگر سرکاری ترجمانوں نے اس حملہ کے بعد بھارت پر الزام کے ذریعے بعض بنیادی سوالوں کو نظر انداز کیا ہے۔ اس حملہ میں بھارتی ایجنسیوں کا سراغ لگانا اور اس معاملہ کو متعلقہ فورمز پر اٹھانا بھی اہم ہے لیکن حملہ کے فوری بعد کسی تحقیق و تفتیش کے بغیر بھارت کو مورد الزام ٹھہرا کر دہشت گردی کے ایک افسوسناک واقعہ میں بھارت کے مجرمانہ کردار کو بے نقاب نہیں کیا جاسکتا۔ یہ تو وہی طریقہ ہے جو بھارتی حکمران بھی اپنی سرزمین پر ہونے والے واقعات کے بعد اختیار کرتے ہیں اور کسی ثبوت اور شواہد کے بغیر پاکستان پر الزام لگاتے ہوئے اپنے عوام کو اشتعال دلوانے کی کارروائی کا آغاز کردیتے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے بھی وہی آزمودہ طریقہ اختیار کرنے سے بھارتی مداخلت اور مجرمانہ حرکت کے خلاف پاکستان کا مقدمہ کمزور ہوگا۔
کسی بھی دہشت گردی کے بعد اس کی تہ تک پہنچنے کے لئے مناسب تحقیق و جستجو کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اگر اس معاملہ میں بھارت کے ملوث ہونے کا شبہ موجود تھا تو بھی اس ایک خاص واقعہ پر ابتدائی تحقیقات کے بعد ہی سرکاری سطح پر الزام تراشی ہونی چاہئے تھی۔ بلکہ اس بارے میں پہلے بھارت کو شواہد کے ساتھ تفصیلات سے آگاہ کرنے کے بعد احتجاج ریکارڈ پر لایا جاتا تو اس کی سفارتی اور سیاسی اہمیت میں اضافہ ہوتا۔ شاہ محمود قریشی کی سرکردگی میں حکومت پاکستان نے جو طریقہ اختیار کیا ہے، اس سے اس معاملہ کو سیاسی رنگ دے کر شبہ کا فائدہ بھارت کو مل جائے گا۔ اور عالمی فورمز پر پاکستان کا مقدمہ کمزور ہوگا۔ کیوں کہ ماضی میں جب بھارت اسی طرح کی الزام تراشی کرتے ہوئے پاکستان کو ملوث کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے تو پاکستان نے ہمیشہ ہمسایہ ملک سے ثبوت طلب کیے ہیں۔ پاکستانی حکام کے بقول بھارت کبھی بھی دہشتگردی کے کسی معاملہ میں ایسے ثبوت فراہم نہیں کرسکا جن کی بنیاد پر حکومت کسی پاکستانی عدالت میں ان لوگوں کے خلاف مقدمہ قائم کرسکتی۔ اسی عذر کی بنا پر حافظ سعید سے لے کر مولانا مسعود اظہر تک سنگین الزامات کے باوجود پاکستان میں عزت و وقار کی زندگی گزارتے رہے ہیں ۔ فنانشل ٹاسک فورس کے شدید دباؤ سے پہلے یہ افراد اور ان کی تنظیمیں بظاہر پابندیوں کے باوجود آزادی سے سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں مصروف رہی ہیں۔
کراچی اسٹاک ایکسچینج حملہ کے حوالے سے بھی بھارت ، پاکستان سے ثبوت ہی مانگے گا۔ عالمی فورمز پر بھی پاکستان سے یہی پوچھا جائے گا کہ اس کے پاس اس بات کے کیا ثبوت ہیں کہ بلوچستان لبریشن آرمی کے دہشت گردوں کو بھارتی ایجنسیاں مسلح کرتی ہیں اور ان کی تربیت کی جاتی ہے۔ سفارتی معاملات میں قیاس آرائیوں اور الزامات سے تند و تیز ماحول تو پیدا کیا جاسکتا ہے لیکن کسی جرم کا سراغ لگانے اور اس کے سرپرستوں کی گرفت کرنے کا کام نہیں ہوسکتا۔ وزیر خارجہ کے علاوہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف نے جس طرح اپنی توپوں کا رخ بھارت کی طرف کیا ہے ، اس سے یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کی حکومتی ایجنسیاں اور ادارے کیوں ایک اہم قومی ادارے پر حملہ کو قبل از وقت روکنے میں کامیاب نہیں ہوئے؟ بھارت کے ساتھ دشمنی کے تناظر میں سوچے سمجھے بغیر الزام تراشی کا ماحول پیدا کرکے کیا یہ تاثر قوی نہیں ہوگا کہ حکومت شاید اپنی ناکامی سے توجہ مبذول کروانے کی کوشش کررہی ہے۔
کسی واقعہ میں بھارت پر الزام لگاتے ہوئے صرف اتنا کہہ دینا کافی نہیں ہوسکتا کہ یہ کام بھارت نے کیا ہے ، اس لئے عوام دشمن ہمسایہ ملک کو کوس کر صبر کرلیں۔ اگرچہ خوش قسمتی سے اس حملہ میں زیادہ نقصان نہیں ہؤا۔ دہشت گرد منصوبہ کے مطابق اسٹاک ایکسچینج کی عمارت پر قبضہ کرنے اور لوگوں کو یرغمال بنا کر زیادہ خطرناک یا سنسنی خیز صورت پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ عمارت کی حفاظت پر مامور پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز کے چوکس اہلکاروں نے فوری طور سے حملہ آوروں کو چیلنج کیا اور ان کا مقابلہ کرتے ہوئے انہیں ہلاک کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ البتہ اس مقابلہ میں سیکورٹی فورسز کے 4 جاں باز بھی شہید ہوئے۔ پاکستان کو اس سانحہ سے محفوظ رکھنے کے لئے ان لوگوں کی بے مثال قربانی اور شجاعت کی داد و تحسین ضروری ہے۔ لیکن ا س کے ساتھ ہی حکومت پر اس سوال کا جواب واجب ہے کہ اگر اسے بھارت کی تخریبی سرگرمیوں کاعلم تھا اور پاکستانی ایجنسیاں یہ جانتی تھیں کی کون سے عناصر کے ساتھ مل کر بھارتی’ را ‘ یا دوسرے ادارے پاکستان میں دہشت گردی کرسکتے ہیں تو وہ ان کا سراغ لگانے اور اس حملہ کا سد باب کرنے میں کیوں ناکام ہوئے۔ یہ جواب صرف اس حملہ کی وجوہ جاننے کی حد تک ہی نہیں بلکہ مستقبل میں کسی دشمن گروہ کی کارروائی کو ناکام بنانے کے لئے بھی ضروری ہوگا۔ کوئی بھی قوم اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کر مستقبل میں حفاظت کا بہتر انتظام کرسکتی ہے لیکن اگر ایک واقعہ کو سیاسی رنگ دے کر اسے اشتعال انگیزی کی کیفیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی تو اس سے کوئی مقصد بھی حاصل نہیں ہوسکتا۔
اسی تصویر کا یہ پہلو بھی اہم ہے کہ پاکستان نے بھارت پر الزام تو لگایا ہے لیکن کیا صرف الزام تراشی سے یہ مسئلہ حل ہوجائے گا؟ پاکستان اس حملہ کے بعد بھارت کو اپنا جرم تسلیم کرنے پر کیسے مجبور کرے گا یا ایک ایسا واقعہ جس میں چار پاکستانی سیکورٹی اہلکار شہید ہوئے ہیں ، اس کا انتقام لینے کے لئے کیا کیا جائے گا؟ سانحہ کے اس پہلو کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ اس حملہ میں ایک باغی بلوچ گروہ ملوث ہے۔ اسے کسی بھی ملک کی حمایت حاصل ہو لیکن ان کی شکایات کی بنیاد پاکستانی حکومت کے سیاسی فیصلے ہیں۔ حکومت کو اس بات پر بھی غور کرنا ہو گا کہ کیا وجہ ہے کہ بلوچستان کے کچھ نوجوان اپنے ہی وطن پر حملہ آور ہونے پر آمادہ ہوچکے ہیں۔ کیا نئی نوجوان نسل کو اس گمراہ کن سرکشی سے محفوظ رکھنے کے لئے اختلافی امور کو سیاسی طور سے حل کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے؟ اگر پاکستانی حکومت بلوچ عوام اور نوجوانوں کو سی پیک ، گوادر اور دیگر علاقائی امور پر مطمئن کرنے میں ناکام ہورہی ہے تو ہمسایہ ملک پر الزام لگانے کے باوجود اس انتشار اور بے چینی کے ماحول کو ختم نہیں کیا جاسکتا جس کی وجہ سے بعض نوجوان، دشمن عناصر کا کھلونا بننے پر تیار ہوجاتے ہیں۔
حال ہی میں بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ نے حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اس موقع پر سردار اختر مینگل نے شکایات کی طویل فہرست پیش کی تھی اور کہا کہ انہوں نے چھ نکاتی معاہدے کے تحت تحریک انصاف کی تائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن حکومت 20 ماہ میں ان میں سے کوئی بھی معاملہ طے کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ انہوں نے خاص طور سے لاپتہ افراد کا ذکر کیا ۔ ان کا دعویٰ تھا کہ حکومت کو پانچ ہزار لاپتہ لوگوں کی فہرست دی گئی تھی لیکن چند سو کا سراغ ملا البتہ اسی مدت میں اس سے زیادہ افراد کو غائب کردیا گیا۔ سوال ہے کہ جو ریاست سیاسی معاملات طے کرنے کے لئے اپنے ہی شہریوں کو اٹھانے پر مجبور ہوچکی ہو اور جو حکومت حلیف پارٹی سے کئے گئے وعدے پورے کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے، وہ اپنی غلطیوں کا بوجھ کب تک دوسروں پر لاد سکتی ہے۔
آج قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعظم کی طرف سے اسامہ بن لادن کو شہید قرار دینے کی شدید مذمت کی۔ شاہ محمود قریشی اور دیگر وزیروں نے عمران خان کی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے اس کا دفاع کرنا ضروری سمجھا۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن جو مرضی کر لے، چاہے سڑکوں پر آجائے مگر ہم اپنے نظریے پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ وزیر اعظم کو ایوان کا اعتماد حاصل ہے، وہ کیوں استعفی دیں‘۔
تحریک انصاف کی حکومت اگر دنیا کے بدترین دہشت گرد اور ہزاروں لوگوں کے قاتل کی حمایت میں اس حد تک جانے کوتیار ہے تو وہ بلوچستان کے باغیوں کی حمایت کرنے پر بھارت کے خلاف کیسے عالمی ہمدردی اور سفارتی کامیابی کی امید کرسکتی ہے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker