تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ۔۔دنیا میں طاقت کا نیا توازن: پاکستان کے لئے امکانات و خدشات

جون کے آخر اور جولائی کے پہلے ہفتہ کے دوران ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کے مراکز میں پراسرار دھماکے ہوئے جن کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کے بعد ایرانی حکام کو تسلیم کرنا پڑا کہ تہران کے نواح میں نطنز کے مقام پر جوہری تنصیبات پر ہونے والے دھماکے سے ایٹمی پروگرام کئی ماہ پیچھے چلا گیا ہے۔
اس سے پہلے خجیر میں ایرانی میزائل فیکٹری میں دھماکہ سے شدید نقصان ہؤا تھا۔ ان دو پراسرا دھماکوں کے علاوہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران میں آتشزنی اور تخریب کاری کے کئی پر اسرار واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ا ن میں دارالحکومت تہران کے ایک ہسپتال میں ہونے والا دھماکہ بھی شامل ہے جس میں مبینہ طور پر 19 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ایرانی حکام کی طرف سے ان سانحات کی تفصیلات بتانے اور کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا جارہاہے لیکن ایران کے معاملات پر نگاہ رکھنے والے امریکی اور یورپی ماہرین یہ شبہ ظاہر کررہے ہیں کہ تخریب کاری کے ان واقعات میں دراصل اسرائیلی حکومت ملوث ہے۔ اور اسے امریکہ کی براہ راست یا بالواسطہ مدد بھی حاصل ہے۔
ایک ذریعہ نے تو ان دھماکوں اور آتشزنی کے واقعات کو اسرائیلی موساد اور امریکی سی آئی اے کی مشترکہ منصوبہ بندی قرار دیا ہے۔ ایران نے ان واقعات کو تخریب کاری قرار نہیں دیا اور نہ ہی امریکہ یا اسرائیل نے اس بارے میں کوئی دعویٰ کرنے کی ضرورت محسوس کی ہے۔ البتہ جب اسرائیلی حکام سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اس سے لاعلمی ظاہر کی۔ تاہم اسرائیل کے وزیر خارجہ گابی اشکنزئی نے اتوار کو کہا کہ ’ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اور ہم ایسی کارروائیوں میں حصہ دار ہوسکتے ہیں جن کے بارے میں بات کرنا مناسب نہیں ہوتا‘۔ اسرائیل نے ہمیشہ ایران کے ایٹمی پروگرام کی شدید مخالفت کی ہے اور اسے اپنی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد امریکہ ، ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے جوہری معاہدہ سے علیحدہ ہوگیا تھا۔ گزشتہ دو برس کے دوران امریکہ نے ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں ۔ جوہری معاہدہ میں شامل دیگر یورپی ممالک صدر ٹرمپ کی حکمت عملی کو مسترد تو کرتے ہیں لیکن وہ معاہدہ کے حوالے سے ایران کی زیادہ امداد کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔
اس دوران البتہ پاکستان میں اس خبر کا چرچا رہا ہے کہ ایران نے بھارت کو چاہ بہار ریل منصوبہ سے علیحدہ کردیا ہے۔ یہ منصوبہ تین برس قبل ایران، بھارت اور افغانستان کے درمیان طے پایا تھا جس کے تحت بھارت چاہ بہار سے افغانستان اور وسطی ایشیا تک ریل کی پٹری بچھانے میں سرمایہ کاری کرنے کے علاوہ تکنیکی امداد بھی فراہم کرنے والا تھا۔ اب ایران نے اعلان کیا ہے کہ بھارت اس منصوبہ میں بروقت پیش رفت کرنے اور سرمایہ فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس لئے ایران یہ منصوبہ اپنے ذرائع سے ہی مکمل کرے گا۔ اب یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ ریل منصوبہ کے بعد ایران نے بھارت کو خلیج فارس میں فرزاد۔بی نامی گیس منصوبہ سے بھی علیحدہ کردیا ہے۔ اس منصوبہ میں بھی بھارت نے ایران کے ساتھ سرمایہ کاری کے علاوہ فنی امداد فراہم کرنے کا معاہدہ کررکھا تھا۔ اس پراجیکٹ سے 217ارب کیوبک فٹ گیس فراہم ہونے کی توقع ہے۔
پاکستان میں ان دونوں خبروں کو اس حوالے سے خوشگوار سمجھا جارہا ہے کہ اس طرح بھارت علاقے میں تنہائی کا شکار ہوگا اور عرب ممالک کے علاہ ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے معاشی تعلقات میں پڑنے والی دراڑ پاکستان کے لئے سود مند ہوسکتی ہے۔ چاہ بہار منصوبہ کی خبر پر پاکستان میں یوں بھی گرمجوشی پائی جاتی ہے کہ اس ایرانی بندرگاہ کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کے تحت بنائی جانے والی گوادر بندرگاہ کا متبادل کہا جارہا تھا۔ اس کے علاوہ یہ سمجھا جارہا تھا کہ چاہ بہار منصوبہ کے ذریعے بھارت خشکی کے راستے افغانستان تک رسائی کے لئے پاکستان کا محتاج نہیں رہے گا بلکہ چاہ بہار کے ذریعے براہ راست افغانستان اور وسطی ایشیا میں تجارتی سامان بھیج سکے گا۔ اس طرح بھارت کو افغان معاملات میں پہلے سے زیادہ اہمیت حاصل ہوسکتی تھی۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے افغانستان کی سیاست پر پاکستانی اجارہ داری کے تناظر میں اسے پاکستان کی خارجہ پالیسی، معاشی و سفارتی امکانات کے حوالے سے ایک بری خبر سمجھا جارہا تھا۔
ایران اور بھارت کے درمیان دو بڑے منصوبوں میں تعطل کی خبریں البتہ ان رپورٹوں کے بعد سامنے آئی ہیں جن کے مطابق چین اور ایران کے درمیان 400 ارب ڈالر سرمایہ کاری کے ایک معاہدہ پر سنجیدہ پیش رفت ہوئی ہے۔ اس معاہدہ کے تحت چین ایران میں دفاعی شعبہ سمیت متعدد دوسرے شعبوں میں کثیر سرمایہ کاری کرے گا اور اس کے عوض ایران آئیندہ پچیس برس تک چین کو سستے داموں تیل و گیس فراہم کرے گا۔ چین کے ساتھ امریکہ کے بڑھتے ہوئے تنازعہ کی وجہ سے اب یہ بات واضح ہورہی ہے کہ بیجنگ شاید اس بات کی پرواہ نہ کرے کہ امریکہ نے ایران پر پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں۔ اس طرح دونوں ملکوں کے درمیان معاشی مفادات کی یہ جنگ اسٹریجک اور علاقائی تسلط کی کوشش تک پھیل جائے۔ امریکہ اس سے پہلے بحر جنوبی چین میں مصنوعی جزیرے آباد کرنے اور وسیع بحری علاقوں پر چین کے حق ملکیت کو چیلنج کرچکا ہے۔ اس کے علاوہ ہانگ کانگ میں نئے سیکورٹی قانون کے بعد صدر ٹرمپ کی حکومت نے ہانگ کانگ کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح چین کے ساتھ امریکہ کے تنازعہ میں اضافہ ہوگا۔
صدر ٹرمپ کے ارادوں اور اقدامات کے بارے میں سب اندازے غلط ثابت ہوتے ہیں۔ اس لئے اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ اگر وہ نومبر میں دوبارہ امریکی صدر بن گئے تو وہ اس حکمت عملی کو تبدیل کردیں اور چین کے ساتھ براہ راست تصادم کی صورت حال پیدا نہ ہو۔ اس وقت صدر ٹرمپ دوبارہ صدر منتخب ہونے کے لئے ہر ممکن اقدام کرنے پر آمادہ ہیں۔ کورونا وائرس کے بارے میں ان کی ناقص حکمت عملی اور سیاہ فام آبادی کے حقوق کی تحریک نے ان کی شہرت کو دھچکہ لگایا ہے۔ اس لئے وہ نومبر کے انتخاب سے پہلے خارجہ محاذ پر خود کو سخت گیر اور امریکی مفادات کا پرجوش محافظ ثابت کرکے امریکی ووٹروں کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم اگر ڈیموکریٹک امید وار جو بائیڈن کامیاب ہوگئے تو امریکہ کی طرف سے چین کے علاوہ پوری دنیا کے حوالے سے نئی حکمت عملی دیکھنے میں آئے گی۔ البتہ بعض فیصلوں کے نتیجے میں ان دو بڑی طاقتوں کے درمیان جو بدگمانی اور فاصلہ پیدا ہوچکا ہے، اسے دور ہوتے بہت وقت لگے گا۔
عالمی منظر نامہ پر وقوع پذیر ہونے والے یہ واقعات پاکستان کی قومی سلامتی اور اقتصادی مفادات کے حوالے سے بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ امریکہ کی چین کے ساتھ لڑائی محض تجارتی خسارہ تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں بحرجنوبی چین پر تسلط، مشرق وسطیٰ کی سیاست اور ایران و بھارت کے ساتھ معاملات بھی شامل ہیں۔ پاکستان محض طالبان اور امریکہ کے درمیان ایلچی کا کردار ادا کرکے اور امریکی فوجوں کی افغانستان سے واپسی کی راہ ہموار کرکے اس بڑی تصویر میں دوررس مفادات کی ضمانت حاصل نہیں کرسکتا۔
گزشتہ دنوں لداخ میں چین اور بھارت کے ساتھ چپقلش کو بھی پاکستانی نقطہ نظر سے سود مند سمجھا گیا تھا۔ تاہم اس سرحدی تنازعہ کے دوران چین کی طرف سے بھارت کو دیے گئے پیغام پر غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ چین نے بھارت کو متنبہ کیا تھا کہ ’وہ چین کے خلاف امریکی اتحاد کا حصہ بننے سے گریز کرے‘۔ اس حوالے سے یہ سمجھنا اہم ہوگا کہ ایران نے بھارت کو دو منصوبوں سے صرف اسی بنا پر علیحدہ کیا ہے کیوں کہ بھارت نے امریکی پابندیوں کی وجہ ایک طرف ایرانی تیل کی خریداری مکمل طور سے روک دی ہے تو دوسری طرف باہمی معاہدوں کے باوجود سرمایہ کاری میں پیش رفت نہیں کی۔ یعنی بھارت اور امریکہ کے تعلقات کی وجہ سے ایران اور نئی دہلی میں فاصلہ پیدا ہؤا ہے۔
یہ صورت حال اگر سفارتی اور معاشی لحاظ سے پاکستان کے لئے امکانات کی نوید دیتی ہے تو اس کے ساتھ ہی اس کے لئے اندیشے اور خطرات کے گہرے بادلوں کو بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ خطے اور عالمی منظرنامہ پر ابھرنے والے ان حالات میں پاکستان کو اپنے آپشنز پر سنجیدگی سے غور کرنےاور قومی مفاد کی تناظر میں فیصلوں کی ضرورت ہوگی۔ پاکستان طویل عرصہ تک امریکہ کا حلیف رہا ہے۔ بدلتے ہوئے حالات میں امریکہ نے اب بھارت کو اس خطے میں اپنی امیدوں کا محور بنا لیا ہے۔ پاکستان اپنا معاشی مستقبل محفوظ کرنے کے لئے سی پیک منصوبہ اور چینی سرمایہ کاری کا محتاج ہوچکا ہے۔ یہ منصوبہ اگر چین کے ساتھ دوستی کا ذریعہ ہے تو امریکہ کے ساتھ دوری کا سبب بھی بنا ہؤا ہے۔ چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعہ میں پاکستان پر سفارتی دباؤ میں اضافہ ہوگا ۔ ایسے میں اسے نہایت چابکدستی سے معاملات طے کرنے کی ضرورت ہوگی۔
پاکستان کی سرحدوں کے ساتھ رونما ہونے والی اس پیچیدہ اور مشکل صورت حال کا تقاضہ ہے کہ پاکستان داخلی استحکام پیدا کرے ۔ اب نہ صرف پارٹی و شخصی سیاست کے دلدل سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے بلکہ سول یا ملٹری بالادستی کے معاملہ کو بھی طے کرنا ہوگا۔ اس وقت اگر پوری قوم ایک مٹھی کی مانند متحد ہو کر خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کا مظاہرہ نہ کرسکی تو پاکستان کے معاشی و سفارتی مفادات ہی نہیں جغرافیائی سلامتی کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
ایران میں گزشتہ دو ہفتے کے دوران ہونے والی تخریب کاری کے واقعات سے یہ سبق سیکھنے کی ضرورت ہے کہ عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے لئے کسی بھی وقت کسی بھی حد تک جانے پر تیا رہوجاتی ہیں۔ پاکستان کو نہ صرف بھارت جیسے دشمن کا سامنا ہے بلکہ اندرونی طور پر پائے جانے والا انتشار اور اختلاف بھی اس کے مفادات پر کاری ضرب کا سبب بن سکتا ہے۔ ان چیلنجزکا مقابلہ کرنے کے لئے باہم دست و گریبان ہونے کا تاثر فوری طور سے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker