تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کاتجزیہ۔۔جنرل صاحب ! جنگ کے نشہ سے قوم کی جان چھڑائیں

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اطلاع دی ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے عید الاضحی کے موقع پر لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا اور جوانوں اور افسروں سے ملاقات میں انہوں نے ولولہ انگیز باتیں کیں۔ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا موقف دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج قربانی کے جذبہ سے سرشار ہے اور دشمن کی سازشیں ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
جنرل صاحب کو یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ اہل پاکستان گزشتہ سات دہائیوں سے اسی عزم اور ارادے کی کہانیاں سنتے چلے آرہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نصف ملک گنوانے کے علاوہ معاشی لحاظ سے ابتری کی آخری حد تک پہنچ چکے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کو آزاد کروانے کے خواب اور دشمن کی سازشیں ناکام بنانے کے دعووں میں ضرور حقیقت ہوگی لیکن یہ سچائی پاکستان کے غریب لوگوں کے خوابوں کی تکمیل نہیں کرسکتی۔ کوئی بھی قوم اسی وقت جنگ کا عزم کرتی ہے یا دشمن کو للکارتی ہے جب اس کے لوگوں کو خوشحالی نصیب ہو اور وہ معاشی لحاظ سے جنگ سے ہونے والے نقصانات کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ یوں بھی جنرل قمر جاوید باجوہ سے زیادہ کون اس بات سے آگاہ ہوگا کہ جدید دور کی جنگ ارتغرل غازی کے دور کی جنگ نہیں ہے کہ جہاد کا نعرہ لگایا، تلوار کی دھار تیز کی اور دشمن پر پل پڑے۔ سات آٹھ سو سال پہلے ہونے والی جنگوں میں عزم اور انفرادی طاقت کام آتی ہوگی۔ اب صورت حال یکسر تبدیل ہوچکی ہے۔ اب کسی فرد کے باحوصلہ اور طاقت ور ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اب اسلحہ اور تکنیکی صلاحیت کے بل پر ہی کوئی جنگ جیتی جاسکتی ہے۔
فی زمانہ جنگ کا جیتنا بھی ایک غیر واضح ا ور بے مقصد اصطلاح ہے۔ اب کوئی تنازعہ شروع ہونے کے بعد اس سے جان چھڑانے کو ہی ’جنگ جیتنا ‘ کہا جاتا ہے۔ اگر یہ بات درست نہ ہوتی تو دنیا کا سب سے باوسیلہ اور طاقت ور ملک امریکہ ، افغانستان کی جنگ سے باہر نکلنے کے لئے پاکستان کی منت سماجت پر مجبور نہ ہوتا۔ ورنہ یہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تھے جنہوں نے انتخابی مہم کے دوران ہی نہیں بلکہ برسر اقتدار آنے کے بعد بھی پاکستان کے بارے میں جو ہزرہ سرائی کی اور جس قسم کے الزامات عائد کئے تھے وہ جنرل باجوہ کی یاد داشت سے محو نہیں ہوسکتے۔ کیوں کہ جب ٹرمپ نے پاکستان پر ’ امریکی لیڈروں کو بے وقوف بنا کر دھوکے سے اربوں ڈالر عسکری امداد‘ میں وصول کرنے کا الزام لگایا تھا تو جنرل باجوہ نے ہی یہ بیان ارزاں کیا تھا کہ ’کوئی ملک ہمیں چاہے امداد نہ دے لیکن ہم نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں اور شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ دنیا پاکستان کی ان خدمات کا اعتراف کرے‘۔
جنرل باجوہ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ میں ان کے ہمراہ تھے ، اس لئے یہ بھی اچھی طرح جانتے ہوں کے ٹرمپ جیسے مقبولیت پسند اور امریکی مفاد کو سب سے پہلے رکھنے والے لیڈر کے لئے پاکستان کے نئے ہینڈ سم وزیر اعظم کی آکسفورڈ کے لہجے میں انگریزی نے انہیں متاثر نہیں کیا تھا بلکہ پاک فوج کی اس یقین دہانی سے دونوں ملکوں کے درمیان جمی ہوئی برف پگھلی تھی کہ پاکستان ، افغان طالبان کو مذاکرات پر راضی کرے گا اور امریکہ کے ساتھ طالبان کے معاہدہ کی راہ ہموار کرے گا۔ یہ معاہدہ ہوچکا ہے اور پاکستان اس معاہدہ کو افغانستان میں پائیدار امن کے لئے اہم سمجھتا ہے۔ امریکی صدر کے لئے یہ امن افغانستان سے فوجیں نکالنے اور اپنے عوام کو یہ باور کروانے کے لئے ضروری ہے کہ وہ بیرون ملک ایک ایسا محاذ بند کر نے میں کامیاب ہوگئے، جہاں نہ صرف امریکی دولت بے دریغ صرف ہورہی تھی بلکہ اس جنگ میں ملوث ہونے کی وجہ سے ہزاروں امریکی فوجی وطن سے ہزاروں میل دور جانیں گنوا چکے تھے۔
کیا کوئی دعویٰ کرسکتا ہے کہ امریکہ نے اپنے طاقت ور حلیف ملکوں کے ساتھ دودہائی تک افغانستان میں جنگ کے بعد اس میں کامیابی حاصل کی ہے؟ کوئی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ امریکہ اس جنگ کے بیان کردہ مقاصد حاصل کرنےمیں بری طرح ناکام رہا ہے۔ وہ طالبان اور القاعدہ کو ختم کرنے کے لئے 11/9 کے بعد 2001 میں افغانستان پر حملہ آور ہوا تھا۔ اس کا مقصد طالبان اور القاعدہ کو تباہ کرنا تھا۔ ثانوی ہدف کے طور پر ملک میں ایسی جمہوری حکومت کا قیام تھا جو ایک طرف شدت پسندی کی حوصلہ شکنی کرے اور مغربی ممالک کے مفادات کا تحفظ کرے تو دوسری طرف ملک میں بنیادی انسانی حقوق جن میں خواتین کو مساوی حق و مواقع دینے کا اصول سر فہرست تھا، کو نافذ کرسکے۔ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک ان سب مقاصد میں ناکام ہوچکے ہیں۔
جن طالبان کو ختم کرنے اور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لئے امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تھا، 18 برس بعد انہی کے ساتھ معاہدہ کرکے وہ افغانستان سے فوج نکالنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ قطر میں طے پانے والے معاہدے کے مطابق امریکہ طالبان سے یہ امید رکھتا ہے کہ وہ افغانستان میں القاعدہ اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو ختم کرنے کا کام کریں گے۔ ملک کی جس حکومت اور آئین پر انحصار کرتے ہوئے افغانستان میں صنفی مساوات اور بنیادی انسانی حقوق محفوظ کرنے کی خواہش کی جارہی تھی، اس کا مستقبل طالبان کے رحم و کرم پر ہوگا جو دو ٹوک الفاظ میں بین الافغان مذاکرات میں اپنا یہ موقف پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ مغربی ممالک کی سرپرستی میں تیار کئے گئے افغانستان کے موجودہ آئین کو منسوخ کرکے ملک میں قران و سنت کے مطابق نیا اسلامی آئین نافذ کیاجائے گا۔
موجودہ آئینی انتظام اور جمہوریت کی اصلیت تو یوں بھی گزشتہ دو صدارتی انتخابات میں ہی واضح ہوچکی ہے۔ صدر اشرف غنی دونوں بار صدر ’منتخب‘ ہوئے لیکن ان کے مد مقابل عبدللہ عبداللہ نے نتائج کو ماننے سے انکار کردیا۔ بالآخر امریکہ کی مداخلت سے اشرف غنی ، عبداللہ عبداللہ کو شریک اقتدار کرنے پر مجبور ہوگئے۔ قطر میں طالبان کے ساتھ ہونے والے معاہد کا عنوان ہی اس جنگ میں امریکی ناکامی کی گواہی دینے کے لئے کافی ہے۔ یہ معاہدہ ’اسلامی امارات آف افغانستان‘ اور امریکہ کے درمیان طے پایا ہے۔ امریکی وفد اس میں صرف یہ اضافہ کروانے میں کامیاب ہوا کہ امریکہ اسلامی امارات آف افغانستان کو مملکت کے طور پر تسلیم نہیں کرتا اور یہ گروہ طالبان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ حقیقت بجائے خود امریکی مجبوری پر دلالت کرتی ہے کہ دنیا کا سب سے طاقت ور ملک ایک ایسے گروہ سے مذاکرات اور معاہدہ کرنے پر مجبور ہوگیا جسے وہ تسلیم تک نہیں کرتا۔
اس تفصیل سے صرف یہ نتیجہ اخذ کرنا مطلوب ہے کہ نہ تو جنگ کسی مسئلہ کا حل ہے اور نہ ہی اسے شروع کرنے کے بعد اس سے جان چھڑانا آسان ہوتا ہے۔ جنگ نے امریکی معیشت پر جو اثرات چھوڑے اور افغانستان کو جس طرح تباہ و برباد کیا ، اس سے سبق سیکھنے اور جنگ سے گریز کا ہر ممکن اقدام کرنے کی کوشش کرنا ہر باشعور انسان پر واجب ہے۔ اس پس منظر میں جذبات سے بھرپور جنرل قمر جاوید باجوہ کے تازہ ترین بیان پر نگاہ ڈالنے سے یہ بات ریکارڈ پر لائی جاسکتی ہے کہ اس قسم کے نعرہ نما بیانات سے برصغیر یا دنیا میں نہ تو امن کی کوشش زور پکڑ سکتی ہے اور نہ ہی پاکستان میں معاشی ترقی کا ماحول پیدا کرنا ممکن ہوگا۔ لائن آف کنٹرول پر جنرل باجوہ کے بیان کے اہم نکات یہ ہیں:
1۔دشمن پاکستان اور خطے کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتا ہے۔ ہم دشمن کے عزائم سے بخوبی آگاہ ہیں۔ پاک فوج مکمل تیار ہے اور ایسی سازشوں کو ناکام بنانےکی صلاحیت رکھتی ہے۔
2۔عیدالاضحی غیر مشروط قربانی کا درس دیتی ہے۔ قربانی کے جذبے کو فوجی جوان سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا۔
3۔ پاکستان بھارتی مظالم کے خلاف کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ کشمیری تمام مشکلات کے باوجود استصواب رائے کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔
اس بیان میں موجود پیغام کا اگر زمینی حقائق سے موازنہ کیا جائے تو تکلیف دہ صورت حال سامنے آتی ہے۔ بھارت نہ صرف حجم اور آبادی میں پاکستان سے کئی گنا بڑاہے بلکہ اس کی معیشت بھی ٹھوس بنیادوں پر استوار ہے اور وہ دفاع پر پاکستان سے کئی گنا وسائل صرف کرتا ہے۔ پاکستان کا 2019 کا دفاعی بجٹ 10 ارب ڈالر کے لگ بھگ تھا جبکہ اسی سال کے لئے بھارت کے دفاعی بجٹ پر 57 ارب ڈالر صرف کئے گئے۔ اس کے باوجود پاکستان نے اپنی قومی پیدا وار کا 4 فیصد دفاع پر صرف کیا جبکہ بھارت میں یہ شرح قومی پیداوار کے ڈیڑھ فیصد کے لگ بھگ تھی۔ صاف ظاہر ہے کہ پاکستان دفاعی تیاری میں کسی طرح بھی بھارت کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس حوالے سے ایٹمی ہتھیاروں کو ’ڈیٹرنٹ‘ قرار دے کر ضرور یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت کی وجہ سے برصغیر جنگ سے محفوظ ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو اس ایٹمی صلاحیت کے ہوتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کی بات نہیں ہونی چاہئے۔ اس کے برعکس پاکستانی اور بھارتی لیڈر کسی حجاب کے بغیر جنگ میں ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی بات کرتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کی کثیر آبادی غربت اور احتیاج کا شکار ہے۔ اس لئے دونوں ملکوں کے لیڈر جنگ کی بات کرنے کے علاوہ تصادم و دشمنی کا ماحول پیدا کر کے لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جنگ کی باتیں اور قربانی کے قصے درحقیقت برصغیر کے عوام کے لئے نشہ کی صورت اختیار کرچکے ہیں۔ سرحد کے دونوں طرف سرکاری کنٹرول میں میڈیا اس جذباتی کیفیت کو سنگین بنانے میں کردار ادا کرتا ہے۔ سیاسی لیڈروں کو عوام کی حمایت کے لئے اس بیانیہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا پڑتا ہے۔
ایسے میں جنرل قمر جاوید باجوہ سے ہی اپیل کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے بیانات میں جنگ کی بجائے امن کا پیغام عام کرنے کی کوشش کریں۔ لوگوں کو دشمن کی سازشوں کے قصے سنا کر جذباتی طور سے قلاش کرنے کی بجائے انہیں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے محنت کرنے اور قومی ترقی کے منصوبوں میں شراکت دار بنانے پر آمادہ کیا جائے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker