تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کاتجزیہ۔۔ریاست اب حافظ احتشاموں کی حفاظت میں ہے

بعض اداروں کے اعتراض کے بعد ممتاز صحافی ، براڈ کاسٹر اور کالم نگار سہیل وڑائچ کی نئی کتاب ’یہ کمپنی نہیں چلے گی‘ اشاعت کے ایک روز کے اندر ہی بک اسٹورز سے اٹھا لی گئی ہے۔ اس دوران راولپنڈی پولیس نے ایک شہری حافظ احتشام کی شکایت پر اسلام آباد کے ایک صحافی اسد طور کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے کیوں کہ شکایت کنندہ کے مطابق وہ اداروں اور فوج کے خلاف سوشل میڈیا پرنفرت انگیز مواد پوسٹ کرتے ہیں۔ اسد طور گزشتہ چند روز کے دوران ’عام شہریوں کے راڈار ‘میں آنے والے تیسرے صحافی ہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ ریاستِ پاکستان اس وقت حافظ احتشاموں کی حفاظت میں ہے۔
لاہور میں ایک تعمیراتی منصوبے کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’ مجھے لگتا ہے کہ میں نیاپاکستان طلوع ہوتے دیکھ رہا ہوں‘۔ وزیر اعظم کو ضرور نیا پاکستان ابھرتا دکھائی دیتا ہوگا کیوں کہ جیسا کہ انہوں نے لاہور میں کی گئی تقریر میں بھی کہا ہے کہ وہ زندگی کو خواب سمجھتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ کسی بھی انسان کو پرکھنے کے لئے یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کیسے خواب دیکھتا ہے۔ فی الوقت یوں دکھائی دیتا ہے عمران خان نے ایک ایسے نئے پاکستان کا خواب دیکھ رکھا ہے جہاں ان کی توصیف میں اٹھنے والی آوازوں کے علاوہ کسی کو بولنے بلکہ سوچنے کی بھی اجازت نہ ہو۔ کراچی کے روزنامہ ڈان نے ایک اداریے میں اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’اس خوف سے دم گھٹ رہا ہے‘۔
پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے ایک مزید صحافی کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں کے خلاف مقدمے قائم کرنا تشویشناک صورت حال ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت آزادی اظہار کو دبانا چاہتی ہے۔ کمیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیاجائے اور حکومت و ریاست اس بارے میں درست رویہ اختیار کریں۔ اس سے پہلے سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کے چئیر مین مصطفیٰ نواز کھوکھر نے ابصار عالم کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے پر جہلم کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر کو طلب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پارلیمنٹ تو ایسے معاملات پر آواز اٹھاتی رہے گی لیکن ملک کی اعلیٰ عدالتوں کو بھی اس صورت حال کا نوٹس لینا چاہئے‘۔
راولپنڈی کا ملک احتشام پہلا باخبر اور مستعد شہری نہیں ہے۔ اس سے پہلے کراچی کے ایک فیکٹری کارکن جاوید خان کی تیز نگاہوں نے بلال فاروقی نام کے صحافی کی ملک دشمن سرگرمیوں کا سراغ لگالیا تھا اور پولیس کو شکایت کی تھی یہ صحافی جو ایک انگریزی اخبار میں نیوز ایڈیٹر کے ذمہ دارانہ عہدے پر کام کرتا ہے، سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اداروں کے خلاف توہین آمیز اور نفرت پر مبنی مواد شائع کرتا ہے۔ کراچی کی مستعد پولیس نے تو فوری طور سے بلال غوری کو گرفتار کرلیا تھا تاکہ انصاف کے سارے تقاضے پورے ہوسکیں لیکن پھر وکیل کی ذاتی ضمانت پر اسے گھر جانے کی اجازت دے دی۔ ایک روز بعد جہلم میں انصاف لائرز فورم کے ہونہار وکیل نوید احمدچوہدری نے پیمرا کے سابق چئیرمین اور ممتاز صحافی ابصار عالم کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کروایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابصار عالم بھی سوشل میڈیا پر فوج اور وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توہین آمیز مواد شائع کرتے ہیں جو غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ اس لئے ان کے خلاف آئین کی شق 6 کے تحت مقدمہ قائم کیا جائے اور انہیں ملک سے غداری کی قرار واقعی سزا دی جائے۔
ابصار عالم کے خلاف شکایت کرتے ہوئے نوید چوہدری نے واضح کیا تھا کہ پاک افواج کو صرف پاکستان میں ہی نہیں سراہا جاتا بلکہ پوری دنیا ان کی تعریف کرتی ہے۔ اسی طرح عمران خان کی صورت میں ملک کو پہلی بار ایک ایسا وزیر اعظم نصیب ہؤا ہے جو اس کی تقدیر بدل دینا چاہتا ہے۔ اس لئے جو شخص بھی ایسے وزیر اعظم کے خلاف رائے کا اظہارکرتا ہے ، وہ ملک کی بھلائی نہیں چاہتا۔ گویا وہ غداری کا مرتکب ہؤا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے آج لاہور میں راوی واٹر فرنٹ پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے یہی واضح کیا ہے کہ ملک میں مہنگائی ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ سابقہ حکومتوں نے اتنے قرض لے لئے تھے کہ موجودہ ایماندار حکومت کی کمر تو یہ قرض اتارتے اتارتے دوہری ہوچکی ہے۔ اس لئے لوگ مہنگائی سے پریشان ہوکر حکومت کے خلاف باتیں نہ کریں بلکہ خواب دیکھیں۔ خواب دیکھنے والا ہی ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی پر پہنچ سکتا ہے۔ عمران خان یہ بھی کہنا چاہتے ہوں گے کہ خواب دیکھ کر ہی کوئی ملک کی کرکٹ ٹیم کا کپتان بن سکتا ہے لیکن شرمیلی طبیعت کی وجہ سے وہ اپنے منہ سے اپنی تعریف کر نہیں پائے۔
نئے پاکستان میں عمران خان کی قیادت میں ہوشیار اور چوکنے شہریوں کی ایک نئی نسل تیار ہوچکی ہے جوملک دشمن اور غدار صحافیوں کے بارے میں ہمہ وقت سرگرم ہے۔ کوئی ایسی سرگرمی ان کی نظر سے اوجھل نہیں رہ سکتی جس میں ملک کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچنے کا کوئی بھی شائبہ ہو۔ ویسے تو ریاست کے ہوشیار ادارے بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ کراچی میں ماورائے عدل و انصاف قتل و خوں ریزی کے خلاف کوئی فنکارانہ اظہار ہو یا کسی کتاب کی اشاعت کا معاملہ ہو ، ہوشیار آنکھیں نقصان پہنچنے سے پہلے ہی ان کا سراغ لگا کر سد باب کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ گزشتہ سال کراچی میں ایک ایسی ہی نمائش کو بند کروایا گیا جبکہ اس سال جنوری میں عالمی شہرت یافتہ ناول نگار اور صحافی محمد حنیف کے دس سال پرانے انگریزی ناول ’پھٹتے آموں کا قصہ‘ کا اردو ترجمہ شائع ہؤا تو ملکی مفاد کے یہ محافظ مکتبہ دانیال پہنچ گئے اور اڑھائی سو ناول ’ضبط‘ کرلئے۔ بلکہ پبلشر سے استفسار کیاکہ وہ بتائے یہ خطرناک ناول کہاں کہاں بھیجا بلکہ چھپایا گیا ہے۔ انہیں بتایا گیا کہ بھئی یہ تو دس سال پرانا انعام یافتہ ناول ہے۔ اب تو پرانی کتاب کا اردو میں ترجمہ شائع ہؤا ہے۔ لیکن محافظوں کو دلیل سے نہیں ملک و قوم کی عزت بچانے سے کام ہوتا ہے۔
اب سہیل وڑائچ بھی یہی کہتے ہیں کہ بھئی میری کتا ب’یہ کمپنی نہیں چلے گی‘ تو روزنامہ جنگ اور بی بی سی اردو پر شائع ہونے والے پرانے کالموں کا مجموعہ ہے۔ یہ سارے کالم پہلے چھپ چکے ہیں اور داد و و نکتہ چینی کے عمل سے گزر چکے ہیں۔ لیکن کتاب اٹھانے والوں کے دل و دماغ پر نرم و نازک باتیں اور دلیل کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ سہیل وڑائچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے خیال ظاہر کیا ہے کہ ’دیکھیں اس کتاب میں جو مواد ہے وہ پہلے سے شائع شدہ کالمز ہیں۔ البتہ مجھے پتا چلا ہے کہ اس کے سرورق پر کچھ حلقوں کو اعتراض ہوا ہے۔ گزشتہ روز مجھ سے بھی رابطہ کیا گیا کہ اس کے سرورق پر جو کارٹون ہے وہ وزیراعظم کے وقار میں کمی لاتا ہے‘۔ جس وزیر اعظم کے مزاج نازک پر ایک کارٹون بھاری گزرتا ہو اور جس کی حکومت سہیل وڑائچ جیسے میٹھا بولنے اور اس سے بھی میٹھا لکھنے والے کی تحریر ’ہضم‘ کرنے کا حوصلہ نہ رکھتی ہو ، اس کی شان و شوکت کا اندازہ ہر شہری خود ہی کرسکتاہے۔ یہ وہی وزیر اعظم ہیں جو بے خوف اور نڈر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ایک کارٹون کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔
مغربی جمہوریت کی مثالیں دینے والے اپنے بارے میں ایک کارٹون شائع ہونے پر مارکیٹ سے کتاب اٹھوا لیتے ہیں۔ پوچھا جائے کہ اگر آپ میں حس ظرافت، لطافت اور حوصلہ کی اتنی کمی ہے تو سیاست میں آنے کا مشورہ کس حکیم نے دیا تھا؟ یا منہ پھاڑ کر اپنے سیاسی مخالفین پر ذاتی حملے کون سے اصول یا اخلاقیات کے مطابق درست تصور کئے جاسکتے ہیں؟ اپنی نئی نویلی کتاب مارکیٹ سے غائب ہونے کے بعد البتہ سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ’ایسے تو وہ کتاب چلنے ہی نہیں دیں گے مگر یہ بھی ضروری ہے کہ کتاب لوگوں تک پہنچے، اس لئے بہتر ہے کہ اس پر جو اعتراض ہے اُسے ٹھیک کر لیا جائے‘۔ سہیل وڑائچ نے سرکاری دباؤ کے بعد اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے اس کتاب کے ٹائیٹل کو ہٹا دیا ہے اور اب وہ کتاب کو نئے سرورق کے ساتھ چھاپنے کے خواہاں ہیں۔
سہیل وڑائچ کی کتاب تو شاید ’عمران دوست‘ ٹائیٹل کے ساتھ قبول کرلی جائے لیکن حکومت اور ادارے ملک میں مباحث اور اختلافی رائے کی اجازت دینے کے لئے آمادہ نہیں ہیں۔ آوازوں کا گلا گھونٹنے کے لئے جنگ و جیو کے مالک و مدیر گزشتہ کئی ماہ سے زیر حراست ہیں اور اب یکے بعد دیگرے صحافیوں کو اٹھانے اور ان کے خلاف مقدمے قائم کرنے سے خوف کی ایک نئی فضا پیدا کی جارہی ہے۔ سہیل وڑائچ مصلحت پسند آدمی ہیں۔ انہوں نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ کوئی مواد یا کارٹون پسند ناپسند ہونا ہر کسی کا انفرادی معاملہ ہے لیکن دکانوں سے کتاب اٹھالینے کا اختیار ملک کی کسی بھی اتھارٹی کو کیسے حاصل ہوسکتا ہے۔
مروجہ قانون کے مطابق کوئی عدالت ہی ایسا حکم جاری کرسکتی ہے یا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اس حیثیت میں یہ حکم دے سکتا ہے۔ کسی اختیار کے بغیر انسانوں کے بعد کتابوں کو غائب کرنے کی تازہ روایت اس نئے پاکستان کی نمایاں علامت ہے جو عمران خان افق پر ابھرتا دیکھ رہے ہیں۔ وزیر اعظم کو سہیل وڑائچ کے کارٹون کی بجائے اس کے عنوان پر غور کرنے اور جاننے کی ضرورت ہے کہ انہوں نے یہ ٹائیٹل کیوں چنا ہے: ’یہ کمپنی نہیں چلے گی‘۔
(بشکریہ:کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker