تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ۔۔مغلظات اور الزام تراشی کی بجائے قومی مصالحت کا اہتمام کیجئے

پاکستان جمہوری تحریک کے نام سے اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج گوجرانوالہ سے کراچی پہنچ چکا ہے جہاں مختلف جماعتوں کے لیڈر خطاب کررہے ہیں۔ جلسہ کے آغاز میں پشتون تحفظ موومنٹ کے لیڈر محسن داوڑ نے مطالبہ کیا ہے کہ سیاست میں فوج کے کردار کے حوالے سے الزامات سننے میں آئے ہیں لیکن حکومت نے ابھی تک حقیقت جاننے کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا۔ مناسب ہوگا کہ اس بارے میں ’ٹروتھ کمیشن‘ بنایا جائے تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے۔
محسن داوڑ نے یہ بات مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی طرف سے جنرل قمر جاوید باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پر اس الزام کے تناظر میں کہی ہے کہ ان دونوں نے نواز شریف کو اقتدار سے علیحدہ کرنے اور تحریک انصاف کو اقتدار تک پہنچانے میں کردار ادا کیا تھا۔ اس الزام کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان نے نواز شریف پر الزام لگایا تھا کہ وہ ’ یہ وہ شخص ہے جو ضیا الحق کے جوتے پالش کرتے وزیراعلیٰ بنا تھا‘۔ محسن داوڑ کا کہنا ہے کہ دونوں طرف سے سیاست میں فوج کی مداخلت کے بارے میں الزامات کی حقیقت جاننے اور قیام پاکستان سے اب تک یہ معلوم کرنے کے لئے کہ سیاست میں فوج کا کیا کردار رہا ہے ، ایک ایسا کمیشن بنایا جائے جو سار ا سچ سامنے لاسکے۔
پشتون تحفظ موومنٹ کے لیڈر کو یہ مطالبہ کرتے ہوئے یقیناً اس بات کا پوری طرح احساس ہوگا کہ اس ملک میں کسی بھی معاملہ پر بننے والے کمیشن یا تحقیقاتی کمیٹی کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ اول تو ایسا کو ئی بھی کمیشن سچ سامنے لانے کی بجائے اسے چھپانے اور جھوٹ کا پردہ برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور اگر کسی کمیشن کی رپورٹ سامنے آبھی جائے تو اسے دبا لیا جاتا ہے۔ عمران خان نے چند ماہ پہلے چینی اور گندم کی قیمتوں میں اچانک اضافہ کے بارے میں بنائی گئی سرکاری کمیٹیوں کی رپورٹس جاری کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے ضرور اپنے سر یہ سہرا باندھا تھا کہ ان کی حکومت نے تاریخ میں پہلی بار تحقیقاتی رپورٹوں کو جاری کیا ہے۔ ایک طویل ٹوئٹ پیغام میں انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اس اسکینڈل میں ملوث ہر شخص کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔
اس وعدے کے بعد جو صورت حال سامنے آئی ہے اس کا خلاصہ یوں پیش کیا جاسکتا ہے: اول)عمران خان کے قریب ترین کہلانے والے جہانگیر ترین ، ان رپورٹوں میں نامزد ہونے کے بعد تحریک انصاف کی داخلی ریشہ دوانیوں سے بچنے کے لئے بیرون ملک روانہ ہوگئے لیکن حکومت اس وقت اپنا سارا زور نواز شریف کو لندن سے واپس لانے پر صرف کررہی ہے۔ دوئم)جس وزیر کا خاندان چینی اسکینڈل میں ملوث پایا گیا تھا اس کا محکمہ تبدیل کرکے ’مناسب سزا‘ دے دی گئی۔ اور حکومتی ترجمانوں نے زور بیان اس بات پر صرف کرنا شروع کردیا کہ شریف خاندان اور آصف زرداری چینی اسکینڈل سے استفادہ کرنے والے اصل مجرم تھے۔ سوئم) تحقیقات ، عمران خان کے وعدوں اور سرکاری اقدامات کے نتیجہ میں گزشتہ سال کے شروع میں جس بھاؤ سے چینی دستیاب تھی اب اس قیمت پر آٹا بھی نہیں ملتا۔ چینی کی قیمتیں ایک سو روپے کلو سے بڑھ چکی ہیں۔
کمیشن یا تحقیقاتی کمیٹیوں کی کارکردگی اور ان کے افشا ہونے یا مخفی رکھنے کے اگر ایسے ہی نتائج سامنے آتے ہوں تو یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ اگر عمران خان نے کسی طور محسن داوڑ کی بات سن بھی لی اور ان کے مطالبے یا تجویز کے عین مطابق کوئی ایسا ٹروتھ کمیشن بنا دیا جسے قیام پاکستان سے لے کر اب تک سیاست میں فوجی مداخلت کے سارے حقائق سامنے لانے کا کام دیا جائے تو اس کی کارکردگی اور اس پر ایک ایسی حکومت کا ردعمل کیا ہوگا جو اس وقت پوری طاقت سے اپوزیشن لیڈروں کو گمراہ اور دشمن کے ایجنڈے پر گامزن قرار دینے کے مشن پر متعین ہے۔ تمام تجزیہ نگار متفق ہیں کہ اپوزیشن کی موجودہ تحریک کو اصل قوت تحریک انصاف کی ناقص کارکردگی، بے مہار مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے ملی ہے۔ اگرچہ سیاسی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے یہ مطالبہ سامنے آرہا کہ ملک میں شفاف انتخابات کی روایت قائم کی جائے اور فوجی ادارے انتخابی نتائج میں مداخلت کے ذریعے پہلے سے طے شدہ پارٹی یالیڈر کو اقتدار میں لانے سے تائب ہوں۔ تاکہ ملک میں ووٹ کو عزت و تکریم نصیب ہوسکے۔ عوام کے مسائل وہ لوگ حل کرسکیں جنہیں عوام اپنے ووٹوں سے منتخب کرکے اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں۔
وزیر اعظم اور حکومت کے نمائیندے اس قضیہ میں یہ سادہ بات سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ جس تحریک کو وہ اپنی تقریروں اور دھمکیوں سے تباہ کردینے کی خواہش کا اظہار کررہے ہیں، اسے روکنے کے لئے عوام کو مطمئن اور خوش کرنا ضروری ہے۔ عوام کو خوش کرنا کوئی خاص مشکل نہیں ہوتا بشرطیکہ حکومت ان کی بنیادی ضرورتوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داری سمجھنے کی کوشش کرے۔ حکومت میں دو سال سے زائد گزارلینے والی حکومت اگر اب بھی اپنی کوتاہیوں کا ذمہ دار سابقہ حکمرانوں اور ان کی لوٹ مار کو قرار دے گی ، مارکیٹ میں اجناس کی قیمتیں عام شہری کی دسترس سے باہر ہوں گی اور نوجوانوں کو روزگار ملنے کا کوئی امکان نہیں ہوگا تو بھوکے اور بیکار لوگ حکومت کی ہر بات کو جھوٹ اور اس پر انگلی اٹھانے والے ہر لیڈر کو درست مانیں گے۔
اپوزیشن اتحاد پاکستان جمہوری تحریک کے قیام اور احتجاج کے اعلان کے ساتھ ہی عمران خان دھؤاں دار تقریروں میں اپوزیشن لیڈروں کو دھمکانے اور ان کے ساتھی وزیر روزانہ کی بنیاد پر اپوزیشن رہنماؤں کو گمراہ اور جھوٹا ثابت کرنے کی بجائے اگر عوامی مسائل پر توجہ دیتے، قیمتوں کو کنٹرول اور مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق اجناس کی سپلائی کو ممکن بنانے میں تمام صلاحیتیں صرف کرتے تو اس احتجاج کا جوش اور اثر از خود کم ہوسکتا تھا۔ سوچ لیجئے اگر حکومت پورا زور لگا کر آٹے اور چینی کی کی قیمتیں ایک آدھ روپیہ بھی کم کروانے میں کامیاب رہتی تو اپوزیشن لیڈروں کا سب سے مؤثر ہتھیار ناکارہ ہوسکتا تھا۔ بدنصیبی سے جو صلاحیت مسائل حل کرنے پر صرف ہونی چاہئے تھی، اسے بیان بازی اور نعروں پر ضائع کیا جارہا ہے۔
عمران خان دو سال تک وزیر اعظم رہنے کے باوجود یہ یقین نہیں کرپارہے کہ وہ اب برسراقتدار ہیں۔ اس صورت میں کیا یہ سوال جائز نہیں ہوجاتا کہ کیا اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ وہ بے اختیار اور فیصلوں سے معذور ہیں۔ ان سے بہتر تو صدر عارف علوی ہیں جو اگر ’بے اختیار‘ ہیں تو اس سچائی کے ساتھ مسکرا تو سکتے ہیں اور خود کو ملنے والے پروٹوکول پر راضی ہیں۔ عمران خان کے عہدے کی مجبوری و تقاضہ ہے کہ وہ کچھ کرکے دکھائیں لیکن وزیر اعظم باتیں بنانے کے سوا کچھ کرنے کےلئے تیار نہیں ہیں۔ یہ مشکل اگر ان کی ذہنی کیفیت کی وجہ سے درپیش نہیں ہے تو انہیں کھل کر بتانا چاہئے کہ کس مجبوری نے انہیں ناکارہ اور غیر مؤثر وزیر اعظم بنا دیا ہے۔ وہ یہ مجبوری بیان نہ بھی کرسکیں بلکہ صرف اسے جان بھی لیتے تو وہ نواز شریف پر گرجنے برسنے کی بجائے اپنی بے بسی پر آنسو بہا کر سونے کا اہتمام کرتے۔
اپوزیشن کی احتجاجی تحریک سے عمران خان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن حقائق سے آنکھیں چرا کر وزیر اعظم خود اپنی حکومت کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ کوئی بھی شخص اپنی ناکامی اور مجبوری کا الزام کسی دوسرے پر عائد نہیں کرسکتا۔ ملک میں آئینی حکومت کے دائرہ اختیا رکا معاملہ تمام سیاسی قوتوں کا اہم ترین مسئلہ رہا ہے۔ یہ مسئلہ عمران خان کو بھی درپیش ہے ۔ فوج کے ساتھ ایک پیج پر ہونے کا اعلان کرکے اپوزیشن کا منہ تو بند کیا جاسکتا ہے لیکن یہ اعلان حکومت کو درپیش چیلنجز کو ختم نہیں کرسکتا۔ بہت لوگ یہ بات بار بار مختلف طریقوں سے گوش گزار کرواتے رہے ہیں کہ کسی بھی معیشت کو متحرک رکھنے اور سرمایہ کاری کا ماحول پیدا کرنے کے لئے کسی بھی ملک میں سیاسی یک جہتی یا کم از کم ’سیز فائر‘ کی صورت حال ہونا ضروری ہے۔ اگر ملک میں تصادم اور جھگڑے کا ماحول ہو گا تو نہ کاروبار کام کریں گے، نہ سرمایہ کار اس معاشرے میں سرمایہ لگانے کا رسک لے گا اور نہ ہی معیشت کا پہیہ چلے گا۔ اس کا نتیجہ مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ کی صورت میں سامنے آئے گا۔
حکومت یہ سمجھنے پر بھی آمادہ نہیں ہے کہ اپوزیشن حکومت پر تنقید نہیں کرے گی تو کیا کرے گی؟ کیا 2013 کے انتخابات میں قابل ذکر کامیابی کے باوجود عمران خان نے مسلسل یہی طریقہ اختیار نہیں کیا تھا۔ اگر وہ واقعی نیا پاکستان بنانے کی آرزو کے ساتھ اقتدار تک پہنچے تھے تو وہ اپوزیشن کو چور اچکے قرار دینے کی بجائے ان کے ساتھ بھائی بندوں کا سلوک کرتے۔ سیاسی ماحول میں آسودگی پیدا کرتے۔ اپوزیشن کی بات نہ مانتے لیکن انہیں دیوار سے لگا کر سڑکوں پر نکلنے پر مجبور بھی نہ کرتے۔ جس آئینی پارلیمانی نظام نے تحریک انصاف کو اقتدار تک پہنچایا تھا، اسی کی جڑیں کاٹنے کے نعرے بلند نہ کئے جاتے۔ کوئی نہیں کہتا کہ احتساب نہ کیا جائے۔ چوری کا حساب نہ مانگا جائے اور عدالتیں قصور واروں کوسماجی یا سیاسی حیثیت سے قطع نظرسزائیں نہ دیں۔ لیکن جب ایک مشتبہ جج کے فیصلہ پر ملک کے نمایاں لیڈر کو ملنے والی سزا کو موقوف کرنے کی بجائے عدالتیں قانونی موشگافیوں میں مصروف ہوجائیں اور حکومت اسے سیاسی نعرہ بنا کر اپنے حامیوں کی جذباتی تشفی کا اہتمام کرنے لگے تو احتساب ، انصاف نہیں سیاسی انتقام کا نام بن جاتا ہے۔
محمود اچکزئی اور اختر مینگل کے الفاظ میں کراچی کے جلسے کا پیغام یہ ہے کہ چھوٹے صوبوں کے عوام کی مشکلات کو سمجھا جائے اور علاقائی خود مختاری کے اصول سے چھیڑ چھاڑ سے گریز کیا جائے۔ حکومت کو ایک پیج والی دوسری قوت کے ساتھ مل کر ایسے سیاسی و سماجی بیانیہ کی بنیاد رکھنی چاہئے جس میں سب خود کو عزت دار اور محفوظ محسوس کریں۔ نواز شریف کے جارحانہ طرز تخاطب سے خوف زدہ ہونے کی بجائے اس سے سبق سیکھنے کی کوشش کی جائے۔ ایسا ماحول پیدا کیا جائے کہ کسی سیاسی لیڈر کو پھر کبھی کسی فوجی لیڈر کا نام لے کر شکوہ شکایت کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔
عمران خان زیرکی کا مظاہرہ کریں تو وہ خود ایسے قومی ڈائیلاگ کی قیادت کرسکتے ہیں۔ اگر انہوں نے میڈیا پر قدغن لگانے اور ٹائیگر فورس سے خطاب والا لب و لہجہ اختیار کرنے پر ہی سارا زور صرف کردیا تو کسی دوسرے کو تو یہ کام کرنا ہی پڑے گا ۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker