تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : ’بڑوں کی لڑائی‘ اور نواز شریف کی واپسی کا تنازعہ

وزیر اطلاعات شبلی فراز نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو 15 جنوری تک وطن واپس لا کر کوٹ لکھپت جیل میں ڈالنے کا اعلان کیا ہے ۔ تو دوسری طرف اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے لیڈر جنوری تک موجودہ حکومت کی روانگی کی نوید دے رہے ہیں۔ یعنی فریقین جنوری کو ڈرامائی مہینہ قرار دینے پر بہر حال متفق ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ نواز شریف کی واپسی کے لئے برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن سے بات کریں گے اور اگر ضروری ہؤا تو اس مقصد سے خود برطانیہ کا دورہ کریں گے۔ اس کے برعکس مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ عمران خان کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے ۔ وہ محض ڈمی ہیں اور کراچی میں کیپٹن صفدر کی گرفتاری کا واقعہ ’بڑوں کی لڑائی ‘ ہے جس میں عمران خان غیر متعلقہ ہیں۔
ان متضاد دعوؤں یا بیانات میں کوئی بھی قاری نہ تو جمہوریت تلاش کرسکتا ہے اور نہ ہی حکومت کی قانون پسندی کا سراغ ملتا ہے۔ ان سے یہ اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ یہ لڑائی ملک میں واقعی ’ووٹ کو عزت دو‘ کے واحد مقصد سے لڑی جارہی ہے۔ مریم نواز نے لاہور میں میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے جو مؤقف اختیار کیا ہے، اگر اسے مان لیا جائے کہ کیپٹن صفدر کی گرفتاری کا واقعہ دو چار بڑوں کی لڑائی ہے اور اس لڑائی سے عمران خان کا کوئی تعلق نہیں ہے تو اس دعوے میں جمہوریت کی جد و جہد کہاں ہے؟ ملک میں جمہوریت کی بالادستی اور سیاست میں غیر منتخب اداروں کی مداخلت کے خلاف جد و جہد کرنے والی ایک اہم لیڈر کو محض زیب داستان کے لئے اس قسم کی جملے بازی سے گریز کرنا چاہئے۔
مریم نواز کی اس گفتگو سے چند روز پہلے وزیر اعظم ایک تقریر میں مریم اور بلاول کو ’بچے‘ قرار دے چکے تھے۔ مریم نے عمران کی فقرے بازی کا انتقام تو ضرور لیا ہے لیکن ایسی باتیں مسلم لیگ (ن) کے جمہوری امیج کے لئے شدید نقصان دہ ہیں۔ سیاست میں شریف خاندان کے ماضی اور جمہوریت کے حوالے سے مسلم لیگ کے مشکوک کردار کے حوالے سے اب بھی شبہات پائے جاتے ہیں۔ اگرچہ کسی بھی جمہوری جد و جہد کی تائد کرتے ہوئے اصولوں کو ہی بنیاد بنانا چاہئے اور نواز شریف یا مریم نواز کے مؤقف کو محض اس لئے مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ماضی میں جمہوریت کش رویہ بھی اختیار کرچکے ہیں۔ یا وہ بھی ایک فوجی آمر کی سہولت کاری کی وجہ سے سیاست میں نمایاں ہوئے تھے۔ نواز شریف نے خود 2017 میں معزولی کے بعد جی ٹی روڈ سے لاہو رکے سفر کے دوران اپنی تقریروں میں اعلان کیا تھا کہ وہ اب ’نظریاتی‘ ہوگئے ہیں۔ اس سے یہی مراد لی جاسکتی ہے کہ انہوں نے ماضی میں کی گئی غلطیوں سے تائب ہونےاور مستقبل میں صرف جمہوری طریقہ کا ساتھ دینے کا اعلان کیا تھا۔ یہ بات تسلیم کی جانی چاہئے کہ کسی بھی سیاسی لیڈر کے تازہ مؤقف یا بیانیہ کو اس کےماضی میں مؤقف کی وجہ سے رد نہیں کیا جاسکتا۔ لیڈروں کو بھی رائے تبدیل کرنے کا حق حاصل ہے۔
تاہم 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ میں نواز شریف نے آرمی اور آئی ایس آئی کے سربراہ کا نام لے کر الزام عائد کیاتھا کہ یہ دونوں مسلم لیگ (ن) کی حکومت گرانے اور 2018 میں عمران خان کو اقتدار میں لانے میں براہ راست ملوث تھے۔ اسی لئے نواز شریف کا مؤقف تھا کہ عوام کو جس مہنگائی و معاشی پریشانی کا سامنا ہے، اس کی براہ راست ذمہ داری ان دونوں فوجی افسروں پر عائد ہوتی ہے۔ اس حوالے سے یہ سوال اٹھایا جاتا رہا ہے اگر نواز شریف، جنرل باجوہ کے جمہوریت دشمن اور غیر آئینی کردار کے بارے میں جانتے تھے تو مسلم لیگ (ن) نے اس سال جنوری میں آرمی چیف کو مزید تین سال کی توسیع دینے کے معاملہ پر تاریخی تیز رفتاری سے قانون بنانے میں معاونت کیوں کی تھی؟ اس وقت یہ بات واضح کرتے ہوئے اس عمل سے کنارہ کشی کیوں اختیار نہیں کی گئی؟
موجودہ حکومت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات، ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے جو حالات پیدا ہوئے ہیں، ان میں اس سوال کی شدت ضرور کم ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں جمہوری و آئینی انتظام کی خواہش کی وجہ سے متعدد لوگ خود کو نواز شریف اور پی ڈی ایم کا ساتھ دینے پر مجبور سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ بھی واضح ہونا چاہئے کہ جمہوریت کی کامیابی عمران خان کی حکومت ختم کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ عسکری اداروں کے ساتھ کسی ایسے سیاسی انتظام تک پہنچنے کا نام ہے جس کے تحت انتخابات آزادانہ اور کسی مداخلت کے بغیر ہوں اور ان کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت کو کسی مداخلت کے بغیر پارلیمنٹ کی مشاورت سے فیصلے کرنے کا اختیار ہو۔ اس عمل میں صرف ماضی میں فوج کے کردار کی عیب جوئی کرنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ سیاسی جماعتوں کو اپنے کردار پر غور کرتے ہوئے اس میں بھی تبدیلی لانا ہوگی۔
اس حوالے سے 3 اہم ترین پہلو یہ ہوسکتے ہیں: 1) پارلیمنٹ کو مؤثر بنانا اور پارلیمانی نظام کی روح بحال کرنا یعنی وزیر اعظم خود کو ’بادشاہ سلامت ‘ سمجھنے کی بجائے قائد ایوان سمجھے اور باقاعدگی سے جوابدہی کے لئے قومی اسمبلی میں موجود ہو۔ 2) سیاسی پارٹیوں میں جمہوریت متعارف کروانا اور موروثیت ختم کرنے کے لئے کام کرنا۔ 3)اپنے مفاد یا اقتدار کے لئے عوامی نظروں سے پرے ہوکر طاقت کے انہی مراکز سے معاہدے کرنے کا سلسلہ موقوف کرنا، جن سے اس وقت آئین کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ اس حوالے سے پی ڈی ایم میں شامل پارٹیاں سیاسی منشور کے طور پر یہ اعلان بھی کرسکتی ہیں کہ مستقبل میں مسلح افواج کے سربراہان کو توسیع دینے کا طریقہ ختم کیا جائے گا ۔ اور سپریم کورٹ میں جس طریقہ سے چیف جسٹس مقرر ہوتا ہے، وہی طریقہ فورسز کے سربراہان کی تقرری کے لئے بھی اختیار کیا جائے گا۔ یعنی کوئی وزیر اعظم کسی جونئیر افسر کو اپنے صوابدیدی اختیار کے تحت آرمی چیف مقرر نہیں کرے گا۔ تاکہ اس سے سینئیر جنرلز کو اپنے عہدے نہ چھوڑنے پڑیں ۔ کسی وزیر اعظم کی شخصی پسند کی بجائے سینارٹی کا اصول اختیار کرکے دو طرفہ ’احسان مندی‘ سے پیدا ہونے والی صورت حال کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ یہ اصول کسی بھی فورس کی پیشہ وارانہ صلاحیت کو بہتر بنانے کے لئے بھی اہم ہوسکتا ہے۔
کراچی میں کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری جس کے حکم سے بھی عمل میں آئی ہو لیکن اسے ’بڑوں‘ کی لڑائی ہرگز قرار نہیں دینا چاہئے۔ اگر اس بات کو مان لیا جائے تو اس سے یہ تاثر قوی ہوگا کہ یہ جد و جہد آئین کی بالادستی کا اصول منوانے کی بجائے ذاتی جھگڑا نمٹانے کی کوشش ہے۔ اس سے اپوزیشن کی تحریک کمزور ہوگی اور اتحاد میں دراڑیں پڑنے کا اندیشہ بھی موجود رہے گا۔ یوں بھی مسلم لیگی لیڈروں کے بیانات میں سامنے آنے والا تضاد ان کے ارادوں اور حکمت عملی کے بارے میں شبہات کو قوی کرتا ہے۔ گزشتہ روز سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ آئی ایس آئی اور رینجرز براہ راست وزیر اعظم کو جوابدہ ہیں، اس لئے کراچی میں کیپٹن صفدر کی گرفتاری میں عمران خان براہ راست ذمہ دار ہیں۔ آج مریم کہہ رہی ہیں کہ اس میں عمران خان کا کوئی کردار ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ تضاد جمہوری اصولوں کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کی حکمت عملی کے بارے میں بھی ابہام پیدا کرتا ہے۔
دوسری طرف وزیر اعظم اور ان کے وزیر، نواز شریف کی گرفتاری کو اہم ترین عوامی مسئلہ بنا کر پیش کررہے ہیں۔ اس طریقہ سے نہ حکومت کا اعتبار بحال ہوگا اور نہ ہی ان مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے جن کی وجہ عوام بے چین و پریشان ہیں۔ عمران خان اور شبلی فراز کے دعوے عوام کو گمراہ کرنے اور دھوکہ دینے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ کوئی بھی برطانوی حکومت پاکستانی وزیر اعظم کے دورے یا فون کرنے سے اپنی جمہوری روایت سے روگردانی نہیں کرسکتی۔ عمران خان برطانوی نظام کو گہرائی سے جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں تو انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ بورس جانسن اگر کسی طور عمران خان کو ’خوش‘ کرنے کے لئے نواز شریف کو ڈی پورٹ کرنے کا حکم دے بھی دیں تو بھی برطانیہ کا نظام عدل ان کی پشت پر کھڑا ہوگا۔ تین بار وزیر اعظم رہنے والے شخص پر خواہ کیسے ہی سنگین الزامات عائد کئے جائیں لیکن اسے جیل میں ڈالنے کا فیصلہ اس وقت تک سیاسی انتقام ہی کہلائے گا جب تک ٹھوس شواہد کے ساتھ اس کے خلاف جرائم کو ثابت نہ کیاجائے۔ جو حکومت پاکستانی عدالتوں میں الزامات ثابت کرنے سے قاصر ہے، وہ برطانوی عدالتوں کو کون سے ثبوت فراہم کرے گی؟ اس کے علاوہ ایک تقریر پر نواز شریف کے خلاف ’بغاوت‘ کا مقدمہ درج کرکے، حکومت نے نواز شریف کی ذبردستی واپسی کی رہی سہی امید خود ہی ختم کردی ہے۔
عمران خان کی مجبوری ہے کہ کرپشن ان کا واحد سیاسی نعرہ اور ہتھکنڈا ہے لیکن وہ نواز شریف کو جیل سے بیرون ملک جانے کی اجازت دے کر خود ہی اس غبارے سے ہوا نکال چکے ہیں۔ اب پھٹے ہوئے غبارے میں ہوا بھرنے کی کوشش کرنے کی بجائے وزیر اعظم کو عوامی بہبود کے منصوبوں پر توجہ مبذول دے کر اپنی سیاسی قبولیت بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ نواز شریف کو سزا دینے والے جج کی بدنیتی کا پول ان کی معزولی کی صورت میں کھل چکا ہے۔ کسی وزیر اعظم کو زیب نہیں دیتا کہ وہ ایک ایسی سزا کا حوالہ دے کر سیاسی قد اونچا کرنے کی کوشش کرے جس میں بیرونی عناصر کی مداخلت اب کوئی راز نہیں رہی۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker