تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کاتجزیہ۔۔اسلاموفوبیا اور عمران خان کی لڑکھڑاتی سیاست

پوری دنیا کی نگاہیں اس وقت امریکہ میں سنسنی خیز صدارتی مقابلے پر لگی ہوئی ہیں جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر رائے عامہ کے سب جائزوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے اپنی ’مقبولیت‘ کو برقرار رکھا ہے۔ وہ آخری خبریں آنے تک 67 ملین کے لگ بھگ ووٹ حاصل کرچکے تھے جو ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن سے صرف دو اڑھائی ملین ووٹ ہی کم ہیں۔ اگرچہ امریکہ کے پیچیدہ اور مشکل طریقہ انتخاب کی وجہ سے تادم تحریر یہ فیصلہ نہیں ہوسکا تھا کہ ملک کا آئیندہ صدر کون ہوگا۔
امریکہ سے کوسوں دور پاکستان کے وزیر اعظم اور حکومت، امریکی سیاست اور اس کے دنیا یا خطے پر اثرات سے لاپرواہ بالکل مختلف قسم کے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ ان میں اسلاموفوبیا کا خاتمہ اور غداروں و ملک دشمنوں کی تلاش کا کام سر فہرست ہے۔ وزیر اعظم نے فرانس میں حال ہی میں دہشت گردی کے دو واقعات کے بعد یورپ میں اسلامو فوبیا کے خلاف جد و جہد کا آغاز کیا ہے اور اس بات کی تبلیغ میں مصروف ہیں کہ آزادی رائے کو کسی مذہب یا نبی کی توہین کرنے کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ عمران خان کی ان باتوں کا فرانس یا دنیا کے باقی ملکوں پر کیا اثر مرتب ہوگا لیکن اس طرز تکلم سے وہ پاکستانی عوام کے غیظ و غضب کو کم کرنے کی کوشش ضرور کرسکتے ہیں جو ان کی ناقص پالیسیوں اور کارکردگی کی وجہ سے متعدد معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ عمران خان بھی جانتے ہیں کہ ان کی ضد اور نااہلی نے ملک میں سیاسی کشیدگی کا جو ماحول پیدا کیا ہے، اس میں معاشی اصلاح کے کسی ایجنڈے پر عمل درآمد ممکن نہیں ہے۔ ا س لئے نعروں سے لوگوں کا پیٹ بھرا جائے تاکہ انہیں کم از کم یہ احساس تو ہوسکے کہ ان کا وزیر اعظم اسلام کی سربلندی اور پیغمبر اسلام کی حرمت کے لئے کس قدر حساس اور فکر مند ہے۔
سیاسی مقاصد کے لئے مذہبی جذبات کا استعمال اگرچہ نہایت افسوسناک طریقہ ہے لیکن پاکستان جیسے ملک میں یہ نعرہ بد ترین حالات میں بھی مقبولیت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سیاسی مشکلات اور معاشی پریشانیوں میں گھرے عمران خان کے پاس سیاسی دشمنوں کو غدار قرار دینے کے علاوہ عوام کو یہ یقین دلانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کو خطرات لاحق ہیں، اس لئے انہیں عمران خان جیسے اولالعزم لیڈر کی سربراہی میں متحد ہوکر پہلے ان مشکلات کا سامنا کرنا چاہئے۔ روزگار اور مہنگائی جیسے مسائل تو آخر کار حل کر ہی لئے جائیں گے۔
آج وزیر اعظم ہاؤس میں بوسنیا ہرزیگووینا کے صدر شفیق جعفر ووچ کا استقبال کرتے ہوئے عمران خان کی گفتگو کا بنیادی نکتہ یورپ میں اسلامو فوبیا اور اہل یورپ کا اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں توہین آمیز رویہ تھا ۔جس کی تازہ ترین مثال پاکستانی وزیر اعظم کے خیال میں فرانس کے صدر میکرون کے بیانات اور طرز عمل ہے۔ اس بحث سے قطع نظر کہ فرانسیسی حکومت نے ایک استاد کا سر قلم کرنے کے رد عمل میں کیا کہا اور کون سے اقدامات کئے، یہ سمجھنا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ پاکستان کا وزیر اعظم جب عوامی تقریروں اور یورپ کے مسلمان آبادی والے ایک ملک کے سربراہ کی میزبانی کرتے ہوئے اسلامو فوبیا اور آزادی رائے پر پابندیوں کے بارے میں اظہار خیال کرتا ہے تو اس کا مخاطب نہ تو غیر ملکی مہمان ہوتا ہے اور نہ ہی اسے عالمی مسائل سے غرض ہوتی ہے۔ بلکہ وہ اپنے ملک کے لوگوں سے مخاطب ہوکر اپنی قیادت کو جائز و درست ثابت کرنے کی کوشش کررہاہوتا ہے۔
اسلامو فوبیا کے علاوہ آزادی اظہار کی آڑ میں اسلام اور رسول پاک ﷺ کی توہین کے معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے اگر عمران خان کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہ ہوتا تو انہیں صدر میکرون کی اس وضاحت کا علم بھی ہونا چاہئے تھا کہ فرانس نے دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے باوجود سرکاری طور پر گستاخانہ خاکوں کی تشہیر کا اہتمام نہیں کیا تھا۔ الجزیرہ ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ انہیں ’مسلمانوں کے جذبات کا احساس ہے لیکن وہ فرانس میں تشدد کو برداشت نہیں کرسکتے‘۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔ اس سے پہلے پاکستان میں کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹس ٹروڈو کے اس بیان کو بہت شہرت مل چکی ہے کہ آزادی رائے کی بنیاد کسی کے مذہبی جذبات کی توہین نہیں ہونی چاہئے۔ لیکن ان کے اسی انٹرویو میں بیان کی گئی اس بات پر غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ کینیڈا دہشت گردی کے خلاف فرانس کے ساتھ کھڑا ہے اور کسی قسم کے تشدد کو قبول نہیں کرتا۔
عمران خان کو یہ بتانا چاہئے تھا کہ پاکستان میں کون سے عناصر فرانس میں انسانوں کے بے دردی سے قتل کے بعد یہ خبریں پھیلاتے رہے ہیں کہ صدر میکرون کے حکم پر سرکاری عمارات پر گستاخانہ خاکوں کی نمائش کی گئی تھی۔ فرانسیسی لیڈر کی وضاحت کے بعد پاکستانی وزیر اعظم پر لازم تھا کہ اگر انہوں نے ایک یورپی لیڈر کے ساتھ ملاقات کے دوران اس معاملہ پر بات کرنا ضروری خیال کیا تو وہ صدر میکرون کی وضاحت کا بھی ذکر کرتے۔ اور یقین دلاتے کہ جس طرح وہ توہین آمیز خاکوں کو آزادی اظہار نہیں بلکہ مسلمانوں کو صدمہ پہنچانے کی کوشش سمجھتے ہیں، اسی طرح کسی بھی مسلمان کی طرف سے بے گناہ لوگوں کو ہلاک کرنا بھی جائز و درست نہیں مانتے۔ خاص طور سے جب ان دو واقعات میں سر قلم کرنے جیسا بھیانک جرم بھی سرزد ہؤا ہو۔ عمران خان نے اس حوالے سے گفتگو کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ کیوں کہ اس سے تشدد مسترد کرنے کے علاوہ فرانس کے ساتھ اظہار یک جہتی کا تاثر قوی ہوتا۔ اس طرز تکلم سے ہوم گراؤنڈ پر ان کا سیاسی ایجنڈا متاثر ہونے کا امکان تھا۔ انہیں اندیشہ ہوگا کہ اگر انہوں نے کوئی متوازن بیان دیا تو ملک کے انتہا پسند مذہبی گروہ اسے حکومت کے خلاف استعمال کریں گے اور ان کی سیاسی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
اس حوالے سے البتہ بوسنیا کے صدر شفیق جعفر ووچ نے اپنی گفتگو میں پہلے فرانس میں دہشت گردی کی مذمت کی اور قتل و غارت گری کو مسترد کیا۔ اس کے بعد یہ کہا کہ آزادی رائے کی بنیاد پر کسی بھی مذہب کی توہین کرنا مناسب نہیں ہے۔ کسی بھی قومی لیڈر کی طرف سے یہ ایک جائز اور متوازن رویہ ہے۔ فرانس کے صدر نے بھی مسلمانوں اور ان کے لیڈروں سے یہی اپیل کی ہے۔ ایک دوسرے کا نقطہ نظر سمجھنے کے لئے پہلے ایک دوسرے کو احترام دینے اور صورت حال کا غیر جانبداری سے جائزہ لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یورپ میں مسلمانوں کے خلاف انتہاپسندی کی لہر کا معاملہ ہو یا گستاخانہ خاکوں اور توہین آمیز مباحث کا قضیہ ہو، جب تک مسلمانوں کی طرف سے دلیل اور حجت کا راستہ اختیار نہیں کیا جائے گا، اس معاملہ پر مکالمہ کا آغاز نہیں ہوسکتا۔ عمران خان نے فرانس میں دہشت گردی کے بعد اسلاموفوبیا کے بارے میں لگاتار بیانات دیے ہیں۔ حالانکہ ایک استاد اور تین شہریوں کو چاقو سے حملے کرکے ہلاک کرنے کے واقعات اسلاموفوبیا کی وجہ سے رونما نہیں ہوئے۔ بلکہ ان سانحات کی وجہ سے فرانس کے ساٹھ لاکھ اور یورپ میں آباد کئی کروڑ مسلمانوں کے خلاف تعصبات اور شبہات میں اضافہ ہؤا ہے۔
یورپ کے اسلام دشمن عناصر سال ہا سال کی کوششوں سے بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت اور پریشانی کا وہ ماحول پیدا نہیں کرسکے جو دہشت گردی کے چند واقعات کے بعد دیکھنے میں آتاہے۔ اللہ اکبر کی صدا بلند کرتے ہوئے جب کوئی خوں خوار شخص عام شہریوں پر حملہ آور ہوتا ہے اور اس کی ویڈیو اور آڈیو سوشل میڈیا کے ذریعے گھر گھر پہنچتی ہے تو اس سے مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں خوف پیدا ہوتا ہے۔ اسلاموفوبیا اسی خوف کے بطن سے جنم لیتا ہے۔ عمران خان یا دوسرے مسلمان لیڈر اکا دکا واقعات کو موضوع گفتگو بناتے ہوئے ان دہشت گرد عناصر کی سماج دشمنی کا ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھتے ۔ اور نہ ہی ان عناصر کی وجہ سے اسلام کی شہرت اور مسلمانوں کے مفادات کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ کرنے کا کوشش کی جاتی ہے۔
اس کی وجہ بھی بہت سادہ ہے۔ بیشتر مسلمان لیڈر سازش یا طاقت کے زور پر اپنے لوگوں پر مسلط ہوتے ہیں۔ انہیں وسیع المقاصد مباحث یا کسی واقعہ کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ بلکہ ان کے لئے یہی اہم ہوتا ہے کہ کسی واقعہ کے تناظر میں کوئی ایک ایسا نکتہ چن لیا جائے جو اپنے لوگوں کی حمایت حاصل کرنے یا ان کا غصہ ختم کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکے۔ ایسے ہی رویے تعصبات اور نفرتوں کو جنم دیتے ہیں۔ عمران خان جس انتہاپسندی کو اسلاموفوبیا کا نام دیتے ہیں ،وہ بھی ایسے ہی تعصبات سے پیدا ہوتی ہے۔ مسلمانوں کا عالمی لیڈر بننے کے شوق میں کیا وہ یہ سمجھنے کی کوشش بھی کریں گے کہ نفرت سے نفرت کا خاتمہ نہیں ہوسکتا اور نہ ہی تعصبات کے مقابلے میں غلط تصورات کو مان کر کسی منفی سوچ کا قلع قمع کیا جاسکتا ہے۔
اسلام کے نام پر دہشت گردی کو فروغ دینے والے سب گروہوں کا بنیادی مقصد تفرقہ اور سماجی انتشار پیدا کرنا تھا۔ یورپ میں دہشت گرد حملوں، سر قلم کرنے کی روایت سے خوف و دہشت کی فضا پیدا کرنے یا اپنے زیر تسلط علاقوں میں غیر مسلم خواتین کی منڈیا ں لگا کر ، یہی مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اب بھی اس مشن پر یقین رکھنے والے بچے کھچے لوگ ایک بار پھر یورپ میں دہشت گردی کے ذریعے خوف اور بیگانگی کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
مسلمان لیڈر جب تک ان عناصر کی سرگرمیوں سے واشگاف الفاظ میں لاتعلقی کا اعلان نہیں کرتے، مسلمانوں کے خلاف تعصبات ختم نہیں ہوسکتے۔ تشدد اور دہشت کے ماحول میں کسی بھی مہذب ملک کو اس بات پر قائل کرنا ممکن نہیں ہو گا کہ آزادی رائے کی حدود مقرر کرنے سے ہی یہ لوگ اپنی حرکتوں سے باز آئیں گے۔ مسلمانوں اور ان کے لیڈروں کو تشدد اور دہشت گردی کو احترام مذہب کی بحث سے خلط ملط نہیں کرنا چاہئے۔
(بشکریہ:کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker