تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : دشمن کی سازش اور کامیابی کے دعوے، حکومت کہاں ہے؟

اپوزیشن نےاراکین اسمبلی کے استعفے جمع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پی ڈی ایم کی اسٹیرنگ کمیٹی بدھ کو لاہور جلسے کے بعد اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا پروگرام طے کرے گی۔ اس دوران وزیر اعظم نے میڈیا ایڈیٹرز سے ایک ملاقات میں اپوزیشن تحریک کے درپردہ بین الاقوامی سازش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ ان کے بقول بعض ممالک دیگر اسلامی ملکوں کی طرح پاکستان کو بھی کمزور کرنا چاہتے ہیں۔
اسلام آباد میں آج پی ڈی ایم اجلاس میں حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے۔ اجلاس کے بعد اپوزیشن اتحاد کے صدر مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ 11 رکنی اتحاد میں شامل سب پارٹیوں کے صوبائی اور قومی اسمبلی کے ارکان 31 دسمبر تک استعفے اپنی پارٹی قیادت کے پاس جمع کروادیں گے۔ وزیر اعظم نے اس سے قبل مدیران سے ملاقات میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے قومی ڈائیلاگ پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن کہا تھا کہ کسی اپوزیشن لیڈر کو ’این آر او‘ نہیں دوں گا۔ اس پیشکش کے بارے میں پی ڈی ایم کے صدر کا کہنا ہےکہ ’عمران خان بات چیت کے قابل نہیں ہے۔ اب وہ ڈائیلاگ نہیں ’این آر او‘ مانگ رہے ہیں۔ اپوزیشن حکومت کو این آر او نہیں دے گی‘۔
اس پرہنگام سیاسی فضا میں اپوزیشن نے اتوار کو لاہور میں جلسہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ جلسہ حکومت کی روانگی کا پیغام ثابت ہوگا۔ اپوزیشن کے اجلاس سے پہلے میڈیا نمائیندوں نے وزیر اعظم سے ملاقات میں جب یہ دریافت کیا کہ ’کیا وجہ ہے اپوزیشن کے اعتماد میں اضافہ ہورہا ہے؟‘ تووزیر اعظم نے خیال ظاہر کیا کہ ’اپوزیشن کا اعتماد کسی بین الاقوامی سازش کا نتیجہ ہوسکتا ہے‘۔ بعض ممالک پاکستان کو کمزور کرنے کی منصوبہ بندی کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے اسی کی دہائی میں ایران عراق جنگ کا حوالہ دیا جو ان کے بقول ان دو نوں ملکوں کو کمزور کرنے کے لئے سازشی منصوبہ کے تحت کروائی گئی تھی۔ اسی طرح ایران اور سعودی عرب کو ایک دوسرے کے مقابل لاکر انہیں کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستان بھی بعض ملکوں کے نشانے پر ہے۔
وزیر اعظم نے دھمکی آمیز انداز میں اپوزیشن کو ’بات چیت ‘ کی دعوت ضرور دی ہے۔ اس کا اظہار میڈیا نمائیندوں کے اس اصرار کے بعد سامنے آیا کہ عمران خان کو حکومت کا سربراہ ہونے کی حیثیت میں بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنا چاہئے۔ لیکن اگلےہی سانس میں یہ اعلان کرکے کہ اپوزیشن کے پیچھے کوئی عالمی سازش ہے، انہوں نے ممکنہ مفاہمت کا دروازہ خود اپنے ہی ہاتھوں سے بند کرلیا ۔ دوسرے لفظوں میں ملک کا وزیر اعظم قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں قابل ذکر نمائیندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو دشمن کا ایجنٹ قرار دے کر یہ شبہ ظاہر کررہا ہے کہ وہ دشمن ممالک کے ایجنڈے پر کاربند ہیں۔ تاہم اپوزیشن کی ’حب الوطنی‘ کو پرکھنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہوگا کہ جس حکومت کا سربراہ ملکی سیاست میں بیرونی ممالک کی مداخلت کا امکان ظاہر کررہا ہے، کیا وہ ملکی مفادات کی حفاظت کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے؟عمران خان نے اگرچہ اپویشن کو بدنام کرنے اور عوام میں اس کی نیک نیتی، جمہوریت دوستی حتی کہ اس دھرتی سے وفاداری کو مشکوک بنانے کی اپنی سی کوشش کی ہے لیکن یہ بیان دراصل حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی اور انٹیلی جنس اداروں کی بے بسی کا اعلان بھی کہا جاسکتا ہے۔ ایسا کوئی وزیر اعظم کس منہ سے اپنی کامیابی کے دعوے کرسکتا ہے جو یہ بتا رہا ہے کہ اس کی حکومت عوام کے خلاف سازشوں کو ناکام بنانے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی کیوں کہ بعض ممالک اس میں ملوث ہیں۔ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیت اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کارکردگی کے بارے میں اکثر بلند بانگ دعوے کرتا رہتا ہے۔ تاہم عمران خان کی طرف سے بیرونی سازش کے امکان پر بے بسی کا اظہار یہ بتا رہا ہے کہ ملک کے وزیر اعظم کو اپنے زیر انتظام کام کرنے والے اداروں اور افواج پاکستان کی صلاحیتوں پر بھی بھروسہ نہیں ہے۔ ایسا نادان اگر ملک پر ’اسٹبلشمنٹ‘ کی سرپرستی کی وجہ سے حکمرانی کررہا ہے تو حکمرانی کے اس پورے نظام پر اپوزیشن کے اعتراضات اور عوام میں اٹھنے والے شبہات ضرور درست ہیں۔
عمران خان کو ایک خاص مقصد کے لئے اقتدار تک پہنچنے کی سہولت فراہم کی گئی تھی ۔ اگرچہ اس منصوبہ کی بنیاد مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے بارے میں اسٹبلشمنٹ کی بڑھتی ہوئی ناپسندیدگی تھی ۔ اس کا اظہار پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کے ادوار میں سامنے آچکا تھا۔ عمران خان کو ان دونوں بڑی جماعتوں کے متبادل کے طور پر ’پسندیدہ‘ سمجھا گیا تھا۔ تاہم اس کے ساتھ ہی قومی اور عالمی سطح پر آمر انہ طریقہ حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی ناپسندیدگی اور عدم قبولیت کی وجہ سے یہ بھی محسوس کیا جاتا تھا کہ ملک پر کسی ایسے شخص یا پارٹی کی حکومت ہو جو بظاہر منتخب قائد ہو لیکن خارجہ، سیکورٹی اور قومی سلامتی کے امور میں مقتدرہ کا سو فیصد ہم خیال ہو۔ اس کے ساتھ ہی نئی قیادت سے معاشی حالت بہتر کرنے اور قومی نظام پر عوام کے منتشر اعتماد کو بحال کرنے کی امید بھی باندھی گئی تھی۔ گویا سمجھ لیا گیا تھا کہ عمران خان جیسا مقبول اور پرکشش لیڈر اقتدار سنبھالنے کے بعد کسی جادو کی چھڑی سے سارے معاملات درست کردے گا۔
یہ منصوبہ متعدد وجوہ کی بنیاد پر ناکامی کا شکار ہؤا ہے۔ سب سے بڑی وجہ اندازہ لگانے والوں کی یہ غلطی تھی کہ ایک لیڈر اسٹبلشمنٹ کی ساری خواہشات پر بھی پوری کرے گا، عوام کی تشفی بھی کروائے گااور عالمی اداروں کے سامنے پاکستان کی ’امیج بلڈنگ‘ میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔ ناتجربہ کار، جذباتی اور دنیا داری سے اچانک دین کی طرف رجوع کرنے والے ایک شخص سے ایسی توقعات باندھنا دراصل ایک ہی ٹوکری میں سب انڈے رکھنے جیسی غلطی تھی۔ سیاست میں ایسی غلطی بہت مہنگی ثابت ہوتی ہے۔ اس حوالےسے دوسری بڑ ی غلطی یہ کی گئی کہ کسی بھی سیاسی انتظام کے برعکس متبادل سیاسی قیادت کے لئے گنجائش رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ اہم لیڈروں کو بدنام کیا گیا اور کردار کشی کی ایسی بدنما مہم شروع کی گئی جس کا اختتام ہونے میں نہیں آرہا۔ اپوزیشن کو کسی منتخب پلیٹ فارم پر بات کہنے کا موقع دینے سے انکار کیا گیا۔ اس حوالے سے تیسری کلیدی غلطی یہ تھی کہ پاکستان کے گوناں گوں مسائل کو محض سابقہ حکمرانوں کی بدعنوانی اور بدنیتی کا نتیجہ قرار دیا گیا۔مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ نئی حکومت سے یہ توقعات ملک کے عام یا ناخواندہ شہریوں نے ہی نہیں بلکہ اسٹبلشمنٹ اور کسی حد تک اشرافیہ کے ایک حصے نے بھی باندھ رکھی تھیں۔ لگتا ہے کہ منصوبہ پر عمل درآمد سے پہلے کسی بھی سطح پر نہ تواس کی کمزوریوں کو پرکھا گیا یا ناکامی کی صورت میں متبادل انتظامات پر غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ اس پر مستزاد یہ کہ عمران خان نے خارجہ و سلامتی امور میں فوج کی بالادستی کو تو بلا چوں و چرا قبول کرلیا لیکن ملک چلانے کے لئے جس تدبر، معاملہ فہمی اور دوررس منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے ، ان میں اس کی شدید کمی تھی۔ عمران خان کوئی ایسی معاشی ٹیم بھی سامنے نہیں لاسکے جو ملکی معیشت بحال کرنے اور اس کی کمزوریوں کو کامیابیوں میں تبدیل کرنے کا بیڑا اٹھا سکتی۔ آج میڈیا سے گفتگو میں وزیر اعظم نے جن دو غلطیوں کا اعتراف کیا ہے ان میں ایک آئی ایم ایف کے پاس تاخیر سے جانا تھا اور دوسرے اسٹیل مل کے حوالے سے بروقت فیصلہ نہ کرنا تھا جس کی وجہ سے عمران خان کے بقول ملک کو اربوں روپے کا نقصان ہؤا ہے۔ایسی ناکام قیادت اپنی انانیت اور تند مزاجی کی وجہ سے ملک میں سیاسی مفاہمت پیدا کرنے میں بھی ناکام ہے۔ اس طرح نہ صرف معیشت مشکلات کا شکار ہوئی بلکہ سماجی و سیاسی سطح پر ایسا ماحول پیدا کیا جاچکا ہے جو بے یقینی میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ بے یقینی سرمایہ کاری اور قومی پیداواری صلاحیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ناتجربہ کاری اور عاقبت نااندیشی کی وجہ سے حکومت گندم جیسی جنس کی خریداری اور بروقت ایل این جی خریدنے میں ناکام رہی۔ قلت اور مہنگائی پر بدحواسی میں ’مافیاز‘ کو ذمہ دار قرار دے کر تاجروں اور سرمایہ داروں کو مزید پریشان کیا گیا۔ ان حالات میں وزیر اعظم نئے ڈیم بنانے اور شہر آباد کرنے کی باتوں کو اپنی حکومت کے کارنامے بتانے پر مصر ہیں۔ ایسے منصوبوں کے لئے جو وسائل اور وقت درکار ہے ، وہ موجودہ حکومت کو میسر نہیں ہے۔وزیر اعظم موجودہ سیاسی صورت حال سے پریشان ہیں لیکن وہ اسے دوسرے ملکوں کی سازش قرار دے کر اپوزیشن کو دبانا چاہتے ہیں۔ ان کے پاس اس بحران کا کوئی حل نہیں ہے۔ تحریک انصاف میں صرف ان لیڈروں کی پذیرائی ہے جو عمران خان کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا سکتے ہوں۔ اس وقت ملک کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ ایک ناکام وزیر اعظم کو یہ بتانے والا کوئی نہیں ہے کہ اصلاح احوال کی ضرورت ہے۔ یہ تو درست ہے کہ جلسوں اور احتجاج سے حکومتیں ختم نہیں ہوتیں لیکن عمران خان کو دعوؤں کی بجائے عمل سے بتانا پڑے گا کہ اس ملک میں حکمرانی نام کی کوئی شے موجود ہے۔ بصورت دیگر طوفان کے سامنے وہ تنہا اور بے بس ہوں گے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker