تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ۔۔پاکستانی معیشت کے لئے2021 زیادہ مشکل ہوگا

2020 کو کورونا سے برپا ہونے والی آفت کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔ اس سے نہ صرف انسانی زندگی کو شدید خطرہ لاحق رہا بلکہ کورونا وبا کی وجہ سے کاروبار زندگی معطل ہوگیا اور دنیا بھر کی معیشت متاثر ہوئی۔ فی الوقت وائرس کی ویکسین لوگوں تک پہنچانے اور اس وبا کی قہر سامانی سے نکلنے کی جد و جہد ہورہی ہے۔ اندازہ ہے کہ عالمی معیشت پر کورونا کے اثرات کا تخمینہ لگانے اور معاشی ترقی کی رفتار کو وبا کے آغاز سے پہلے کی سطح پر لانے کے لئے پانچ سے دس سال کا عرصہ لگ جائے گا۔
کورونا وائرس اور جانے والے سال کے حوالے سے ترقی یافتہ یا مضبوط نظام کے تحت چلنے والے ممالک تو وبا پر قابو پانے کے بعد کسی طرح اس دباؤ سے نکلنے کے لئے منصوبہ بندی کر ہی لیں گے البتہ پاکستان جیسے ملک میں یہ کام آسان نہیں ہوگا۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں جن میں پارلیمنٹ یا اجتماعی دانش کا غیر فعال ہونا سر فہرست ہے۔ حکمرانی کے نظام میں قوت فیصلہ کی شدید کمی بھی بڑی مشکل کا سبب ہے۔ آج ہی لندن سے خبر آئی ہے کہ مقامی ہائی کورٹ نے براڈ شیٹ ایل ایل سی نامی کمپنی کی ادائیگی کے لئے ہائی کمیشن آف پاکستان کے اکاؤنٹ سے 28اعشاریہ 7 ملین ڈالر وصول کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ رقم قومی احتساب بیورو کے خلاف عائد کی گئی ایک پینلٹی کا حصہ ہے جسے نیب کئی سال گزرنے اور اربوں روپے لیگل فیس پر صرف کرنے کے باوجود ادا نہیں کرسکا۔
معاملات پر نیب افسران کی گرفت کا معاملہ آج کا موضوع نہیں ہے ۔ صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ پاکستان میں صرف نیب ہی ایک ایسا ادارہ نہیں ہے جہاں فیصلے کرنے یا ذمہ داری قبول کرنے کا رویہ موجود نہیں ۔ یہ صورت حال نچلی سطح سے اوپر تک دیکھی جاسکتی ہے۔ اس کی نمایاں ترین مثال وزیر اعظم عمران خان کا حال ہی میں سامنے آنے والا یہ اعتراف حقیقت ہے کہ انہیں پہلے ڈیڑھ سال تو امور حکومت سمجھنے میں ہی لگ گئے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تیاری کے بغیر حکومت نہیں سنبھالنی چاہئے۔ پاکستان میں کام کی بجائے چونکہ مباحث اور پسند و ناپسند کی بنیاد پر دلیل دینے کا رواج ہے لہذا عمران خان کے اس چونکا دینے والے بیان پر بھی دو طرح کا رد عمل سامنے آیا ہے۔
اپوزیشن کی طرف سے اسے بہر صورت حکومت کی نالائقی اور غیر ذمہ داری کہا جارہا ہے جس کی وجہ سے ملکی معیشت و سیاست کو شدید نقصان پہنچا لیکن ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے جو اس بیان کو عمران خان کی صداقت و دیانت داری کا نمونہ بنا کر پیش کررہےہیں۔ اور یہ دور کی کوڑی لاتے ہیں کہ عمران خان ان سابقہ حکمرانوں سے تو اچھے ہیں جنہوں نے ملک کو نقصان بھی پہنچایا اور کبھی اپنی کم فہمی یا غلطی کا اعتراف نہیں کیا۔ اس بحث سے قطع نظر سوال یہ ہے کہ وزیر اعظم اس حقیقت کا اعتراف کرنے کے باوجود کہ وہ حکومت میں آنے کے لئے تیار نہیں تھے ، اس سوال کا جواب دینے پر آمادہ نہیں ہیں کہ پھر انہوں نے وزیر اعظم بننے کی جد و جہد ہی کیوں کی؟ ان کو ووٹ دینے والوں کی بڑی تعداد نے تو اس بات پر یقین کرکے ووٹ دیا تھا کہ وہ ملکی معیشت مستحکم کرنے والے دو سو ماہرین کی مضبوط ٹیم کے ہمراہ برسر اقتدار آئیں گے اور ملک کو دہائیوں سے جن مشکلات کا سامنا رہا ہے، ان میں کمی کا امکان پیدا ہوگا۔
وزیراعظم تو یہ بتانے کے لئے بھی تیار نہیں ہوں گے کہ اس ڈیڑھ سال کی مدت میں ہونے والے نقصان کا ذمہ دار کون ہے اور تحریک انصاف کی حکومت میں شامل نااہل لوگوں کو کیا سزا دی گئی ہے؟ عام گھر میں بھی اگر کسی نوکر سے کوئی نقصان ہوجائے تو اس کی گوشمالی ہوتی ہے۔ یا تو اسے نوکری سے نکالا جاتا ہے یا آئیندہ غلطی نہ کرنے کا انتباہ دیا جاتا ہے۔ یہ تو 22 کروڑ آبادی کے ملک کو چلانے کا معاملہ تھا۔ عمران خان اپنی پارٹی کے جن ہونہاروں کے بل بوتے پر تمام معاملات کو ایک سو دن میں درست کرنے کا خواب دیکھتے اور دکھاتے تھے، کیا یہ جان لینے کے بعد کوئی کارروائی کی گئی ہے کہ انہیں تو امور حکومت کی ابجد کا بھی پتہ نہیں تھا۔ یا ایسے لوگ، دوست یا وفادار ہونے کی وجہ سے بدستور عوام کے سر پر سوار ہیں اور قومی خزانے پر بوجھ بنے ہوئے ہیں؟ اپنی حکومت کے بارے میں عمران خان کا دعویٰ ہے کہ یہ ملکی تاریخ کی مضبوط ترین اور خود مختار ترین حکومت ہے ۔ اسے عسکری قیادت سمیت تمام اداروں کا مکمل تعاون حاصل ہے۔ کیوں کی عمران خان کے اقتدار سنبھالتے ہی وہ وزیر اعظم کے حکم کے مطابق کام کرنے کے پابند ہوچکے ہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ جب وزیر اعظم خود ہی تمام معاملات سے نابلد تھے تو ان لوگوں سے کام کیسے لیتے ہوں گے؟
برسراقتدار عناصر کی اس بے چارگی کے بعد یہ جاننا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ معاملات کو اسٹبلشمنٹ ہی چلاتی رہی ہے۔ سول اسٹبلشمنٹ کے بابو نالائق اور یا لاعلم سیاسی لیڈروں سے دستخط کرواکے اپنا حکم چلاتے رہے اور عسکری اسٹبلشمنٹ نے سیکورٹی و خارجہ کے علاوہ سیاسی معاملات طے کرنے کے پرانے طریقے کو زیادہ زور شور جاری رکھا۔ عمران خان کے اعتراف نے اس حد تک تو اپوزیشن کے دعوے کو درست ثابت کردیا ہے۔ بس اب یہ ماننا باقی ہے کہ حکمرانی کے لئے عمران خان کا انتخاب کن مقاصد سے عمل میں آیا تھا اور وہ مقاصد کس حد تک حاصل ہوپائے ہیں۔ یہ حقائق سامنے آنے میں شاید ایک دہائی بیت جائے لیکن اقتدار اور اختیار کے اس عدام توازن میں ملک کو غلط فیصلوں یا بروقت فیصلے نہ کرنے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ یہ وہی صورت حال ہے جس کا سامنا نیب برطانیہ میں کررہا ہے۔ اس ادارے کی نااہلی کی وجہ سے اسے عدالتی حکم پر کثیر رقم ادا کرنا ہوگی۔ ملک کی شہرت کو پہنچنے والا نقصان اس کے علاوہ ہے۔
وزیر اعظم وقفے وقفے سے وزارت خزانہ یا وزیر خزانہ کے فراہم کردہ پیچیدہ اعداد و شمار کی بنیاد پر ٹوئٹ پیغام یا تقریروں میں ملکی معیشت کو درست سمت گامزن کرنے کا دعویٰ کرتے رہتے ہیں۔ ایسے بیانات کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عمران خان خود معیشت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ انہیں ’سب اچھا ہے ‘ کی خبر سنائی جاتی ہے جو وہ پورے جوش سے عوام تک پہنچا کر مطمئن ہوجاتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ یہ معاشی تبدیلی کیسے رونما ہوگی؟ موجودہ حکومت کے اڑھائی برس میں معیشت کو گھسیٹنے کے لئے ساڑھے تئیس ارب ڈالر کا غیر ملکی قرض لیا گیا ہے۔ عمران خان اصرار کرتے ہیں کہ ملک پر قرضوں کے بوجھ کی سب سے بڑی وجہ یہ رہی ہے سابقہ حکمران ملک کے نام پر قرض لے کر خود اس دولت کو اپنے مصرف میں لے آتے تھے۔ اب ان کی حکومت کو قرض اتارنے کے لئے مزید قرض لینا پڑاہے۔ عمران خان نے جب اگست 2018 میں اقتدار سنبھالا تو ملک کا بیرونی قرض 90ارب ڈالر تھا۔ مارچ 2020 میں یہ قرض 112 ارب ڈالر ہوچکا تھا۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان اگر اپنے موجودہ وسائل کے ساتھ 90 ارب ڈالر قرض پر سود اور اقساط ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو اس بوجھ میں 25 سے 30فیصد اضافہ کو کیسے برداشت کرے گا۔
جدید معیشت میں قرض لینا بجائے خود غیر صحت مند رجحان نہیں ہے لیکن اس کا پیداواری مصرف اہم ہوتا ہے۔ یعنی بیرونی قرض کو ملک کی پیدا واری صلاحیت میں اضافہ یا ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لئے استعمال کیا جائے۔ موجودہ حکومت کے دور میں بوجوہ یہ اقدام نہیں ہوسکا ۔ حکومت اپنی باقی ماندہ مدت میں بھی اس رجحان کو تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ 2020 کے دوران پاکستان کو مالی وسائل دوست ملکوں کے تعاون اور کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے عالمی بحران میں جی ۔20 ممالک کی سہولتوں کی وجہ سے حاصل ہوئے تھے۔ کورونا ویکسین دستیاب ہونے کے بعد 2021 کے دوران جوں جوں دنیا میں حالات معمول پر واپس آئیں گے، ترقی یافتہ ممالک یا عالمی مالیاتی ادارے غریب ملکوں کو دی گئی ہنگامی مراعات بھی کم کرنا شروع کردیں گے۔
اس صورت میں قرضوں پر انحصار کی عادی پاکستانی حکومت عالمی منڈیوں میں کمرشل بنیادوں پر مہنگے سود پر قرض لینے پر مجبور ہوگی۔ اس طرح پاکستانی عوام پر محصولات کا بوجھ ناقابل برداشت ہوجائے گا۔ کیوں کہ ملک میں ٹیکس نیٹ بڑھانے، لوگوں کو انکم ٹیکس دینے پر آمادہ کرنے، نظام میں دیرپا اور مؤثر اصلاحات کا کوئی طریقہ کامیاب نہیں ہؤا۔ حکومت ابھی تک اپنی آمدنی کے لئے بالواسطہ ٹیکس عائد کرنے پر مجبور ہے جو براہ راست غریب عوام سے وصول کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ سے ملکی معیشت بھی مسلسل عدم توازن کا شکار رہتی ہے جس کی وجہ سے قرض ریٹنگ میں اس کی حیثیت متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے ابھی تک پاکستان کو گرے لسٹ سے خارج نہیں کیا ۔ اگر نئے سال میں یہ اہم فیصلہ نہ ہوسکا تو اس سے ایک تو عالمی منڈیوں میں پاکستان کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچتا رہے گا لیکن پاکستا ن کے لئے آسان شرائط پر قرضے حاصل کرنا بھی ممکن نہیں ہوگا۔
حال ہی میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات سرد مہری کا شکار ہونے کے سبب پاکستان کو چین سے قرض لے کر سعودی عرب کا رعائیتی قرض واپس کرنا پڑا ہے۔ اس کا یہ پہلو تشویش ناک ہے کہ جلد ہی سعودی عرب کے باقی ماندہ ایک ارب ڈالر واپس کرنے کے لئے چینی حکومت براہ راست قرض دینے سے گریز کررہی ہے اور پاکستان کو چینی بنکوں سے قرض لینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اس سے ان سنگین مالی مشکلات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جو 2021 کے دوران پاکستان کا انتظار کررہی ہیں۔ اصلاح احوال کی امید نہ ہونے کے برابر ہے۔ نیا سال معاشی لحاظ سے پاکستانی حکومت اور عوام کے لئے مشکل چیلنج ثابت ہوگا۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker