تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ۔۔عمران خان کا وعدہ پاک فوج نبھائے گی

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس کی ہے۔ یوں تو پاک فوج کی گزشتہ دس سالہ کارکردگی بتانا مقصود تھی لیکن بنیادی سوال یہی تھا کہ ملک میں فوج کے سیاسی کردار پر آئی ایس پی آر کیا مؤقف اختیار کرتا ہے۔ پریس کانفرنس میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان نے کسی حد تک اس موضوع پر بات کی لیکن اس وضاحت سے مزید الجھن پیدا ہوگئی۔ اپوزیشن کے دوٹوک الزامات کو ’بے بنیاد‘ قرار دے کر طویل خاموشی کا جواز تلاش نہیں کیا جاسکتا۔
ملک بھر میں اس وقت سیاسی معاملات میں پاک فوج کے کردار اور موجودہ حکومت کے حوالے سے اس کی پوزیشن کے بارے میں سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ پی ڈی ایم کے تحت اپوزیشن کا اتحاد موجودہ حکومت کو نامزد قرار دے کر یہ جواب طلب کررہا ہے کہ فوج ان تمام ناکامیوں کا جواب دے جو عمران خان کو ملک پر مسلط کرکے ،پاکستان کی تقدیر میں لکھ دی گئی ہیں۔ اپوزیشن نے یہ مؤقف کسی غیرواضح پس منظر میں اختیار نہیں کیا۔ ملک کی کوئی بھی سیاسی پارٹی کسی جواز کے بغیر فوج جیسے طاقت ور ادارے کو چیلنج نہیں کرسکتی۔ پاکستان کی تاریخ اور سیاسی زیر و بم میں فوج کے اثر و رسوخ کو دیکھتے ہوئے، یہ فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ فوجی قیادت ہر زمانے میں ملک کے سیاسی معاملات میں دلچسپی لیتی رہی ہے۔
کبھی یہ ’دلچسپی‘ اس حد تک بڑھتی ہے کہ کوئی بہادر جرنیل براہ راست اقتدار سنبھال لیتا ہے اور آئین کو معطل، منسوخ یا مسترد کرتے ہوئے عسکری طاقت کی بنیاد پر فیصلے نافذ کرنا شروع کردیتا ہے۔ فوج کی اس طاقت کا اندازہ اس حقیقت سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ملک کی کسی بھی عدالت نے کسی بھی عہد میں ملک پر نافذ کی گئی کسی فوجی حکومت کو للکارنے یا مسترد کرنے کا حوصلہ نہیں کیا۔ پرویز مشرف کے خلاف عدلیہ بحالی تحریک کے نام سے ضرور ایک ایسا احتجاج دیکھنے میں آیا تھا جس کی قیادت ذبردستی معزول کئے گئے چیف جسٹس افتخار چوہدری کررہے تھے۔ البتہ بعد میں سامنے آنے والے حالات نے واضح کردیا کہ یہ بھی دراصل فوجی قیادت کی اندرونی چپقلش کا نتیجہ تھا۔ جو عناصر عدلیہ بحالی تحریک کی حوصلہ افزائی کررہے تھے، وہ بھی بااختیار پوزیشنز میں ہی موجود تھے۔ اسی کے نتیجے میں لگ بھگ ایک دہائی تک آرمی چیف کے عہدے سے چمٹے رہنے کے بعد پرویز مشرف کو زمینی حقائق، عوامی غم و غصہ اور ججوں کی ’خود مختاری‘ کی خواہش کے سامنے ہتھیار پھینکنے پڑے ۔ اسی تحریک کا بالواسطہ نتیجہ تھا کہ 2008 کے انتخابات منعقد ہوئے اور ملک میں ایک بار پھر جمہوری حکومت قائم ہوسکی۔
مسئلہ صرف یہ رہا کہ پرویز مشرف کے زوال کے بعد بھی فوج ملکی سیاسی معاملات کو اپنی مرضی سے کنٹرول کرنے کے حق سے دست بردار نہیں ہوئی۔ افتخار چوہدری جب تک ملک کے چیف جسٹس رہے ، وہ اپنی بحالی میں کردار ادا کرنے والوں کی خوشنودی کے لئے فراخ دلی سے اپنے منصب کو استعمال کرتے رہے۔ اسی وجہ سے پیپلز پارٹی کے پورے دور حکومت میں وزیر اعظم عدالت عظمیٰ کا دست نگر رہا اور اور صدر مملکت کو کٹہرے میں کھڑا رکھا گیا۔ افتخار چوہدری کی ریٹائرمنٹ کے بعد کسی کو سوس اکاؤنٹ میں پڑے 60 ملین ڈالر یاد نہیں رہے۔ حتیٰ کہ ملک میں دیانت کا پھریرا لہرانے اور ’چوروں ڈاکوؤں ‘ کو این آر او نہ دینے کا تسلسل سے اعلان کرنے والے وزیر اعظم عمران خان یا ان کی خاص نگرانی میں قائم کئے گئے ’اثاثہ ریکوری یونٹ‘ کے سربراہ بیرسٹر شہزاد اکبر کو بھی یہ ساٹھ ملین ڈالر یاد نہیں رہتے۔ اب وہ منی لانڈرنگ اور جعلی اکاؤنٹ جیسے معاملات پر گھنٹوں طویل پریس کانفرنسیں منعقد کرکے قوم کے سرمایہ میں اضافہ کرنے کی شدید خواہش کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ عمران خان کی پوری توجہ اس امر پر مرکوز ہے کہ کہیں اپوزیشن لیڈروں کو این آر او نہ مل جائے۔ اسی لئے وہ کسی ہوشیار چوکیدار کی طرح ’جاگتے رہو‘ کی طرز پر ’این آر او نہیں دوں گا‘ کا نعرہ بلند کرکے قوم کو چوکنا کرنے کے علاوہ خود کویہ یقین دلاتے رہتے ہیں کہ ابھی وہی حکومت میں ہیں اور این آر او کی دستاویزات تیار نہیں ہوئیں۔
میجر جنرل بابر افتخار کی پریس کانفرنس اور اس میں بتائی گئی تفصیلات کو اسی پس منظر میں سمجھنے اور دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پی ڈی ایم نے گزشتہ چند ماہ کے دوران فوجی قیادت کے عوامی امیج کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور سیاسی معاملات میں فوجی اداروں کے غیر آئینی کردار کے خلاف رائے عامہ منظم کی گئی ہے ۔ اس کی روشنی میں آئی ایس پی آر کے سربراہ کی تازہ پریس کانفرنس پبلک ریلیشننگ اسٹنٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ملک کےسیاسی حالات اور فوج پر عائد ہونے والے الزامات براہ راست اس پریس کانفرنس کا موضوع نہیں تھے۔ لیکن اس دوران صحافیوں کے سوالات کا فوکس سیاست اور فوج ہی تھا اور میجر جنرل بابر افتخار ان سوالات کا جواب تیار کرکے لائے ہوئے تھے۔ تاہم تیار شدہ جواب میں یہ دعویٰ کرنا کہ ’فوج چونکہ ایک بہت مصروف ادارہ ہے ، اس لئے وہ کسی ایسی بات پر تبصرہ نہیں کرتا جو بے بنیاد ہو اور جس میں کوئی حقیقت نہ ہو‘۔ یعنی اپوزیشن لیڈر فوج پر موجودہ حکومت کو مسلط کرنے اور سیاسی معاملات میں مداخلت کا جو الزام تواتر سے عائد کرتے ہیں، فوجی ترجمان کے مطابق وہ اس قدر بے وقعت اور جھوٹا ہے کہ فوج اس پر تبصرہ کرنا بھی مناسب نہیں سمجھتی۔ لیکن اس بیان سے نہ تو تعلقات میں حائل ہونے والی دوریاں کم ہوں گی اور نہ ہی فوج کی پوزیشن واضح ہوئی ہے۔
یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے کہ اپوزیشن کو جھوٹا کہہ کر اسے حل کرلیا جائے۔ آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کا مقصد ہی اپوزیشن کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت کو روکنے کی کوشش اور احتجاج کے نتیجہ میں ملک بھر میں فوج کے سیاسی کردار کے بارے میں پیدا ہونے والے شبہات کو ختم کرنا تھا۔ یہ واضح ہونا چاہئے کہ فوج کے ترجمان کئی ماہ تک خاموش رہے ہیں۔ کسی ’جھوٹ‘ پر خاموشی ہی اگر فوج کی میڈیا پالیسی ہے تو آج سوالوں کے جواب ہی کی صورت میں سہی، میجر جنرل بابر افتخار کو یہ وضاحت کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟
اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ یہ سوال کسی عام آدمی یا علاقائی لیڈر نے نہیں اٹھائے بلکہ ایک ایسا شخص سامنے لایا ہے جو تین بار ملک کاوزیر اعظم رہا ، اور جس کا تعلق ملک کے سے سب سے بڑے صوبے پنجاب سے ہے۔ اس نے نام لے کر فوجی قیادت پر سیاسی انجینرنگ کا الزام عائد کیا ہے۔ یا تو ان الزامات کا جواب گوجرانوالہ ریلی کے فوری بعد ایک سادہ سی پریس ریلیز میں دیا جاتا۔ اس پر اختیار کی گئی طویل اور پر اسرار خاموشی نے شبہات کو قوی کیا ہے اور سیاست میں فوجی کردار کے بارے میں اٹھنے والے شبہات گہرے ہوئے ہیں۔ چار ماہ بعد ایک پریس کانفرنس میں یہ کہہ کر فوج اپنی پوزیشن واضح نہیں کرسکتی کہ یہ سب جھوٹ ہے۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ خواہ کتنے ہی اعتماد سے سیاست سے فوج کی لاتعلقی کا اعلان کریں، رونما ہونے والے واقعات اس کے غلط ہونے کی چغلی کھاتے ہیں۔
ایسا ایک واقع تو اکتوبر کے دوران کراچی میں پی ڈی ایم کی ریلی کے موقع پر کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے لئے آئی سندھ کواغوا کرنا ہی ہے۔ بعد میں آئی ایس پی آر نے خود آئی ایس آئی اور رینجرز کے افسروں کی غیر ضروری سرگرمی کا اعتراف کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ تحقیقات کے بعد انہیں عہدوں سے علیحدہ کردیا گیا ہے۔ اگر ایک جلسہ کے موقع پر ایک کم اہم اپوزیشن لیڈر کی گرفتاری کے لئے فوجی افسر مجرمانہ تگ و دو کرسکتے ہیں تو ملکی سیاست میں بڑے مقاصد کےلئے مزید کیا کچھ ممکن نہیں ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے لیڈر ہوں یا پیپلز پارٹی کے ترجمان ، جب وہ فوج اور سیاست کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں تو اس میں ان کے دہائیوں پر محیط تجربوں کی چھاپ ہوتی ہے۔
آئی ایس پی آر نے فوج کی آئینی ذمہ داری کا بالواسطہ حوالہ دیا ہے لیکن میجر جنرل افتخار اس پہلو پر روشنی ڈالنے سے قاصر رہے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان خود متعدد انٹرویوز میں یہ تفصیلات بتا چکے ہیں کہ ماضی میں فوج کس طرح سیاسی کرداروں کی سرپرستی کرتی تھی اور کس طرح نواز شریف کو لیڈر بنایا گیا تھا۔ فوج کے منظور نظر وزیر داخلہ شیخ رشید بھی جی ایچ کیو کے کسی گیٹ نمبر4 کا حوالہ دیے بغیر اپنی بات مکمل نہیں کرتے۔ اس پر روشنی ڈالنا بھی ضروری تھا۔ اور اگر فوج میں سیاسی معاملات کے حوالے سے تبدیلی قلب رونما ہوچکی ہے تو یہ بتانا اہم تھا کہ یہ واقعہ کب اور کیسے پیش آیا؟ یہ وقوعہ دسمبر 2019 تک تو نوٹس نہیں ہؤا تھا جب ایک خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کو سزائے موت دینے کا اعلان کیا تھا۔ فوجی ترجمان نے اسے سخت الفاظ میں مسترد کیا تھا اور ’خود مختار‘ حکومت کے نمائیندے کورس کی صورت میں اس مؤقف کو دہرا کر طاقت کے مراکز سے اپنی وابستگی کا اعلان کرتے رہے تھے۔
فوج کے ترجمان نے اس بات پر حیرت کا اظہار ضرور کیا ہے کہ پی ڈی ایم آخر کیوں لانگ مارچ لے کرراولپنڈی آنا چاہتی ہے لیکن یہ کہہ کر اس کا ’خیر مقدم‘ بھی کیا ہے کہ اگر وہ آئے تو ان کا خیال رکھا جائے گااور چائے پانی پوچھا جائے گا۔ یہ وہ وعدہ ہے جو درحقیقت عمران نے اقتدار سنبھالتے ہوئے اپوزیشن سے کیا تھا کہ آپ احتجاج کریں ہم آپ کے لئے کنٹینر اور لنگر کا انتظام کریں گے۔ حکومت اپنے اس وعدے کو بھول کر قانون و آئین کی بات کرنے لگی ہے لیکن فوجی نمائیندے نے اس وعدے کا بھرم رکھا ہے اور یقین دہانی کروائی ہے کہ ہم چائے پانی پوچھیں گے۔ اس کا یہ مطلب بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ’مولانا ، ہماری آپ کی کوئی لڑائی نہیں ہے‘۔
مولانا فضل الرحمان البتہ زیادہ غصے میں ہیں۔ انہوں نے جنرل صاحب کی چائے پانی کی دعوت کو آداب مہمان نوازی کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’آپ خود تو پاپا جونز کے پیزے کھائیں اور ہمیں چائے پانی پر ٹرخائیں۔ یہ تو پھر زیادتی ہے،مہمانداری نہیں ہے‘۔ امید ہے فوج کے میزبان مولانا کے اس شکوے پر بھی غور کریں گے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker