سید مجاہد علیکالملکھاری

سید مجاہد علی کاتجزیہ۔۔مسائل کو نعروں، دعوؤں اور الزامات سے حل کرنے کا تیر بہدف نسخہ

یہ طے ہونا چاہئے کہ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے۔ کیا یہ غیر مصدقہ اطلاعات ملکی سلامتی کے لئے خطرے کا سبب ہیں کہ نواز شریف شاید لندن سے سعودی عرب کا دورہ کریں گے یا یہ اطلاع قومی مفاد کے لئے کسی دھماکہ کی حیثیت رکھتی ہے کہ بھارت کے ایک انتہا پسند نیوز اینکر اور صحافی ارناب گوسوامی کو فروری 2019 میں بالاکوٹ پر بھارتی فضائی حملہ سے قبل ہی اس بارے میں معلومات حاصل تھیں۔ یا 19 جنوری کو اسلام آباد میں پاکستان الیکشن کمیشن کے باہر اپوزیشن کا متوقع احتجاج کوئی ایسا وقوعہ ہے کہ مرکزی حکومت کے اہم ترین نمائیندے پنجوں کے بل کھڑے ہوکر اس کی دہائی دینے پر مامور ہوں۔
پاکستان کو سنگین سیاسی ،معاشی اور سماجی مسائل کا سامنا ہے۔ بیروزگاری اور مہنگائی کا طوفان لوگوں میں شدید ہیجان پیدا کررہا ہے۔غیر یقینی معاشی حالات سرمایہ کاری اور عالمی سطح پر پاکستان کی شہرت پر سیاہ دھبہ کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ حال ہی میں ایک معاملہ میں برطانوی عدالت کے حکم پر براڈ شیٹ نامی کمپنی کو 29 ملین ڈالر کی خطیر رقم ادا کی گئی لیکن یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ بنک نے ناجائز طور سے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے اکاؤنٹ سے یہ رقم منہا کی تھی۔ البتہ اس سوال کا جواب دینے کے لئے کوئی سرکاری اہلکار یا سیاسی عہدیدار دستیاب نہیں ہے کہ اتنی خطیر رقم محض چندروز پہلے ہی کیوں لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی تھی۔ اور اس کثیر رقم کو اسٹیٹ بنک سے منتقل کرنے کا حکم کون سی مجاز اتھارٹی نے دیا تھا۔ یہ جواب فراہم ہو تو اس بااختیار سے پوچھا جائے کہ زبردستی رقم وصول کرنے کے عدالتی حکم سے محض چند روز پہلے یہ اقدام کون سے وسیع تر قومی مفاد میں کیا گیا تھا۔ عمران خان اور تحریک انصاف چونکہ اس وقت خود کو ملکی مفاد، دیانت اور احتساب کے واحدپروپرائیٹر کی حیثیت سے متعارف کروانا پسند کرتے ہیں، اس لئے انہیں جواب دینا چاہئے کہ کاوے موساوی کی کمپنی کو جرمانہ ادا کرنے کے بعد اسی شخص کی باتوں کو کون سے اعلیٰ ظرف اور ارفع اصولوں کی بنیاد پر سیاسی سلوگن کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے؟
لیز پر لئے گئے طیاروں کی بروقت ادائیگی نہ کرنے پر کوالالمپور میں پی آئی کا ایک طیارہ ذبردستی روک لیا گیا۔ اب شہری ہوا بازی کے وزیر غلام سرور نہایت فخر سے یہ اعلان کررہے ہیں کہ پی آئی اے وبا کی وجہ سے واجب الادا رقم بروقت دینے میں ناکام رہی تھی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ملائشین عدالت کے یک طرفہ فیصلے اور برطانیہ میں اس تنازعہ پر چلنے والے مقدمہ کا ذکر بھی کیا جارہا ہے۔ وفاقی وزیر شہری ہوا بازی پائیلٹوں کے لائسنسوں پر غیر ذمہ دارانہ بیان دے کر قومی ائیر لائن کی مالی تباہی کا سبب بن چکے ہیں لیکن اس کے باوجود بیان بازی کا شوق گھٹی میں پڑا ہے۔ دنیا میں کون سا مالی لین دین کورونا وبا کی وجہ سے رکا ہؤا ہے کہ یہ وبا پی آئی اے کی طرف سے لیزنگ کمپنی کو ادائیگی میں رکاوٹ بن گئی تھی؟ ایک معاملہ میں غلام سرور صاحب کو نہ تو مکمل معلومات حاصل ہیں اور نہ ان کے پاس اس بارے میں استعداد ہے لیکن پھر بھی حکومت کی کامرانی اور سرفرازی کے لئے جھوٹ اور جعل سازی پر مبنی بیان دینے سے باز نہیں آتے۔
سعودی عرب کے دیرینہ ’نمک خوار‘ حافظ طاہر اشرفی جو حال ہی میں مذہبی ہم آہنگی و امور مشرق وسطیٰ کے لئے وزیر اعظم کے معاون خصوصی بنائے گئے تھے، اب عمران خان کے ساتھ حق نمک ادا کرنے کے لئے میدان عمل میں اترے ہیں۔ لاہور میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے اس غیر مصدقہ خبر پر تبصرہ کرنا ضروری سمجھا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف لندن سے سعودی عرب کے نجی دورہ پر جائیں گے۔ خبر کے مطابق وہ اعلیٰ سعودی حکام سے ملاقات کریں گے اور عمرہ بھی ادا کریں گے۔ اب طاہر اشرفی اپنے خصوصی ذرائع سے یہ خبر نکال کر لائے ہیں کہ سعودی شاہ سلمان نے نواز شریف کو مدعو نہیں کیا۔ اور نہ ہی انہیں برطانیہ کی بجائے سعودی عرب میں قیام کی پیش کش کی ہے۔ ریاض سے دیرینہ مراسم کی وجہ سے عین ممکن ہے کہ طاہر اشرفی کی معلومات سو فیصد درست ہوں لیکن کیا وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے طور پر نواز شریف کے تعلقات کی ’جاسوسی‘ کرنا اور اس بارے میں معلومات عام کرنے کے لئے پریس کانفرنس منعقد کرنا ہی طاہر اشرفی کا منصب ہے؟
کیا مذہبی روا داری اور امور مشرق وسطیٰ میں سب سے اہم معاملہ یہی بچا ہے کہ سراغ لگایا جائے کہ نواز شریف اگر سعودی عرب جائیں گے تو وہ سرکاری مہمان ہوں گے یا ان کی حیثیت غیر سرکاری ہوگی۔ یوں تو میڈیا پر آنے والی اس خبر کا کوئی مصدقہ ذریعہ سامنے نہیں آیا لیکن طاہر اشرفی نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ اعلان کرکے کہ باخبر ذرائع کے مطابق سعودی شاہ نے ذاتی طور پر نواز شریف کو مدعو نہیں کیا ہے، یہ رسید ضرور فراہم کردی ہے کہ یہ خبر درست بھی ہوسکتی ہے اور اس پر حکومت وقت کو شدید پریشانی بھی لاحق ہے۔ کیا وجہ ہے کہ حکومت کو نواز شریف کی نقل و حرکت پر ملکی معاملات پر توجہ دینے سے زیادہ پریشانی رہتی ہے۔ کیا یہ معاملہ عدالتوں اور برطانوی حکومت کے درمیان طے نہیں ہونا چاہئے۔
معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی کے منصب پر فائز حافظ طاہر اشرفی حال ہی میں کوئٹہ میں ہزارہ شیعہ کانکنوں کی بے دردی سے ٹارگٹ کلنگ پر تو کوئی مذمتی بیان نہیں دے سکے ۔ جدید مدینہ ریاست کے دیگر نامی گرامی علما بھی منہ میں گھنگنیاں ڈالے بیٹھے رہے لیکن اب وہ عالمی سطح پر توہین مذہب کا قانون منظور کروانے کے لئے حکومت وقت کی سر توڑ کوششوں کا ذکر نہایت درمندی سے کررہے ہیں۔ کبھی کسی نے سوچا ہے کہ جو ملک مسلک کی بنیاد پر قتل و غارت کو روکنے میں ناکام ہو اور جن جرائم کا ’کھرا‘ سرکاری اداروں تک پہنچتا ہو، اس ملک کی انسان دوستی پر کون بھروسہ کرے گا۔ جب پاکستانی حکومت اسلام اور پیغمبر اسلام کے ناموس کی حفاظت کے لئے پاکستانی قانون کی طرز کا کوئی توہین مذہب قانون بین الاقوامی طور سے منظور کروانے کی کوشش کرے گی تو کیا کوئی ان سے یہ بھی پوچھے گا کہ پاکستان کی اپنی اقلیتیں کس حال میں ہیں؟

حیرت ہے کہ وزیر اعظم کو مشورے دینے کے منصب پر فائز ایک شخص توہین مذہب کا بین الاقوامی قانون منظور کروانے کی حکومتی کوششوں کا ذکر کررہا ہے۔ تو لگے ہاتھوں طاہر اشرفی اس عالمی پارلیمنٹ کا نام بھی بتا دیتے جہاں ایسے قانون منظور کئے جاتے ہیں جن کا اطلاق تمام دنیا کے ممالک پر ہو؟ اقوام متحدہ نے انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کا ایک عالمی چارٹر ضرور منظور کررکھا ہے۔ اس پر پاکستان بھی دستخط کرچکا ہے لیکن پاکستان میں انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کا چرچا عالمی میڈیا میں عموماً زیر بحث رہتا ہے۔ باقی رہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں۔ عمران خان کی سربراہی میں موجودہ حکومت بھی کشمیر پر 70 سال قبل منظور کی گئی جن قراردادوں پر عمل کرنے کی دہائی دیتی ہے وہ اسی سلامتی کونسل نے منظور کی تھیں۔ دنیا کو اپنے نقش قدم پر چلنے کے لئے آمادہ کرنا ہو تو سب سے پہلے انتہا پسندی، تعصب اور بنیادی انسانی آزادیوں کے خلاف قومی چلن کو تبدیل کرنا ہوگا۔ آزادیوں پر حملہ آوار کوئی حکومت یا قوم کسی بڑے مقصد کے لئے کوئی نعرہ بلند بھی کرے گی تو اسے اس کی بد نیتی اور داخلی مسائل سے روگردانی کا نام ہی دیاجائے گا۔
پاکستانی حکومت کے اس رویہ کا ایک نمونہ طاہر اشرفی کی لاہور میں پریس کانفرنس تھی تو دوسرا نمونہ وزیر اطلاعات شبلی فراز نے اسلام آباد میں منعقد کی گئی پریس کانفرنس میں پیش کیا۔ 19 جنوری کو تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ کیس کے جلد فیصلہ کے لئے پی ڈی ایم کے احتجاج کا ’جواب‘ دینے کے لئے منعقد کی گئی اس پریس کانفرنس میں شبلی فراز اور پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلوے فرخ حبیب نے اپوزیشن پارٹیوں کو للکارا ہے کہ وہ تحریک انصاف پر کیچڑ اچھالنے کی بجائے اپنے پارٹی فنڈز کا حساب پیش کریں۔ وفاقی وزیر اطلاعات کا دعویٰ ہے کہ تحریک انصاف تو اپنے پارٹی فنٖڈ کے بارے میں سارے ثبوت پیش کرچکی ہے۔ اس کے ہاتھ صاف ہیں۔ مسئلہ صرف اتنا ہے کہ یہ ثبوت پریس کانفرنسوں میں پیش کرنے سے گلو خلاصی نہیں ہوسکتی بلکہ اس کا ثبوت الیکشن کمیشن اور عدالت کے سامنے پیش کرنا پڑے گا۔ یاوش بخیر تحریک انصاف گزشتہ سات سال سے یہ ثبوت پیش کرنے کے لئے بار بار مہلت مانگتی رہی ہے۔ اب عمران خان کی گردن بچانے کے لئے یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر کوئی بے قاعدگی ہوئی تو پارٹی لیڈر کی ہدایت پر فنڈ جمع کرنے والے ایجنٹ اس کے ذمہ دار ہوں گے۔ اس دلیل پر بھی جب تک کسی عدالت کی مہر تصدیق ثبت نہیں ہوگی، تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کا معاملہ ختم نہیں ہوسکتا۔ لیکن پریس کانفرنسوں کی حد تک ڈرامہ جاری ہے۔
ملکی سیاسی قیادت تو اپنی ناکامی کا پردہ فاش ہونے کے خوف میں پریس کانفرنسوں اور ٹاک شوز میں ’میلہ‘ لگا کر اصل مسائل سے درگزر کو اہم ترین ’کامیابی‘ سمجھتی ہے۔ لیکن اس کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وزارت خارجہ کی ترجمانی کے منصب پر فائز شخص کو بھی سیاسی ڈرامہ میں کردار ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں تخریب کاری کے ’شواہد‘ پر مبنی ڈوسئیر جاری کرنے کے بعد سے بھارت کے بارے میں یا وہاں سے آنے والی ہرخبر پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کی صداقت اور نئی دہلی کے جھوٹ کا ثبوت تلاش کیا جاتا ہے۔ یہ کوشش اب اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے بھی کی گئی ہے کہ ممبئی پولیس کی دستاویزات کے مطابق بھارتی اینکر ارناب گوسوامی کو بالاکوٹ پر حملہ کے بھارتی منصوبے کی پہلے سے خبر تھی۔ یہ جاننا ابھی باقی ہے کہ حکومت کے قریب کہے جانے والے ایک صحافی کے پاس پیشگی خبر ہونے سے بھارتی جارحیت کی سنگینی کیسے تلاش کی جاسکے گی؟
خبروں پر تبصرے ، حکومتی منصوبوں کے دعوے ، سرکاری پارٹی کے فنڈز کو کھلی کتاب قرار دینے اور ایک برطانوی کمپنی کے ایرانی نژاد مالک کی باتوں کو کبھی جھوٹ کبھی سچ کہنے سے البتہ نہ ذخیرہ اندوزی بند ہوگی اور لوگوں کے مصائب میں کمی آئے گی۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ واضح ہورہا ہے کہ موجودہ سیاسی قیادت نہ صرف اس ذمہ داری کو محسوس نہیں کرتی بلکہ وہ اس کی سنگینی سمجھنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker