تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:اسلام آباد سے کولمبو تک: وزیر اعظم کا تنہائی سے تنہائی تک سفر

وزیر اعظم عمران خان دو روزہ سرکاری دورہ پر سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو پہنچے ہیں ۔ انہوں نے سری لنکا کے ہم منصب سے سی پیک کے امکانات، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ، پاکستان میں بدھ آثار قدیمہ سمیت باہمی دلچسپی کے متعدد امور پر بات چیت کی ہے۔ البتہ عمران خان اس دورہ میں اسلامو فوبیا، سری لنکا میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والی ناانصافی اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی استبداد پر کوئی حرف شکایت زبان پر نہیں لاسکے۔
سری لنکا پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد ہی یہ خبر سامنے آئی ہے کہ سری لنکن پارلیمنٹ کے مسلمان ارکان سے وزیر اعظم عمران خان کی ملاقات منسوخ کردی گئی ہے۔ اس کے لئے سیکورٹی کو عذر کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس خبر پر پاکستانی وزارت خارجہ یا عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے ٹوئٹ اکاؤنٹ پر کوئی اطلاع سامنے نہیں آسکی ۔ البتہ سری لنکن مسلم کانگریس کے رہنما راؤف حکیم نے کہا ہے کہ ’تمام مسلمان اراکین پارلیمان نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی درخواست کی تھی۔ اب منسوخی سے متعلق مضحکہ خیز اور بزدلانہ تاویلیں پیش کی جا رہی ہیں۔ پاکستانی وزیراعظم کے احترام میں جنہیں ہم سب بہت پسند کرتے ہیں، میں اس پر مزید کچھ نہیں کہوں گا‘۔ اس کے برعکس کابینہ کے ترجمان وزیر کہلیا رامبوک ویلا نے کہا کہ ’ دورے کی تفصیلات دونوں ممالک کے پروٹوکول ڈیپارٹمنٹ طے کرتے ہیں اور آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ سپورٹس کمپلیکس کا بھی دورہ کرنے والے تھے جو اب سکیورٹی ایجنسیوں کی تجویز کے بعد نہیں کر رہے ‘۔
اس سے پہلے وزیر اعظم پاکستان کا سری لنکن پارلیمنٹ سے طے شدہ خطاب منسوخ کردیا گیا تھا۔ یہ اطلاع اگرچہ چند روز پہلے ہی سامنے آگئی تھی اور سری لنکا حکومت نے اس تبدیلی کے لئے کووڈ19 کی صورت حال کو عذر بنایا تھا۔ پاکستان نے اس تبدیلی پر کسی حیرت کا اظہار کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی بلکہ وزارت خارجہ کے ترجمان کا اس حوالے سے سوال پر کہنا تھا کہ دورہ کا انتظام کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے حالات کی روشنی میں ہوگا۔ اس سے زیادہ کچھ کہنے کی بجائے زبان دانتوں میں دبا لی گئی اور بظاہر دورہ کے پروگرام میں کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ دو حوالے سے یہ تبدیلی چونکا دینے والی تھی اور اسلام آباد کو اس معاملہ پر سری لنکن حکومت سے کسی نہ کسی سطح پر احتجاج ریکارڈ کروانے کی ضرورت تھی۔ ایک تو پارلیمنٹ سے خطاب پروگرام کا طے شدہ حصہ تھا ۔ دورے سے عین پہلے اسے یک طرفہ طور سے یا ’باہمی مشاورت‘ سے تبدیل کردیا گیا۔ اسے نرم الفاظ میں بھی پاکستان کے لئے ’سفارتی شرمندگی‘ کہا جائے گا۔ دوسرے پارلیمنٹ سے خطاب کا پروگرام تبدیل کرنے کے بارے میں سرکاری وجہ اگرچہ کووڈ19 کی صورت حال بتائی گئی تھی لیکن سیاسی اور سفارتی مبصرین اس پر متفق ہیں کہ یہ فیصلہ بھارت کے دباؤ کی وجہ سے کیا گیا تھا۔
سری لنکا اور بھارت کے درمیان کئی معاملات پر اختلاف موجود ہے لیکن سری لنکن حکومت نئی دہلی میں نریندر مودی کی سخت گیر ہندو حکومت کو عمران خان کو غیر معمولی ’اعزاز‘ دے کر مزید ناراض نہیں کرنا چاہتی ۔ لگتا ہے بھارت نے سری لنکن حکومت پر وا ضح کردیا تھا کہ اگر پاکستانی وزیر اعظم نے سری لنکا کی پارلیمنٹ سے خطاب میں مقبوضہ کشمیر کا ذکر کیا یا بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھایا تو اس سے بھارت کے ساتھ سری لنکا کے تعلقات متاثر ہوں گے۔ متعدد شعبوں میں پاکستان کی امداد و تعاون کا محتاج ہونے کے باوجود سری لنکن حکومت اس بھارتی دباؤ کا سامنا نہیں کرسکی۔ یہ بات سامنے نہیں آئی کہ کولمبو نے اس معاملہ کو پاکستان کے ساتھ کیسے اٹھایا اور کیا یہ درخواست کی گئی تھی کہ عمران خان اپنی تقریر میں متوازن رویہ اختیارکریں یا سری لنکا کی حکومت نے اس قسم کا کوئی ’آپشن‘ دینے کی بجائے، عمران خان کا پارلیمنٹ سے خطاب منسوخ کرنے کے فیصلہ سے اسلام آباد کو مطلع کردیا تھا۔
عمران خان کی شخصیت اور پرجوش و ولولہ انگیز طرز خطابت کی روشنی میں سری لنکن حکام کی پریشانی قابل فہم ہے کیوں کہ پاکستانی وزیر اعظم فی البدیہہ تقریر کرنے کے عادی ہیں۔ ایسے موقع پر وہ کوئی بھی بات کہہ سکتے ہیں۔ ماضی میں متعدد مواقع پر وہ اپنی تقریروں میں پاکستان کی مسلمہ خارجہ اور داخلہ پالیسی سے انحراف کا سبب بن چکے ہیں۔ گزشتہ سال جون میں قومی اسمبلی سے خطاب میں وہ عالمی طور سے مسلمہ دہشت گرد اور القاعدہ کے بانی لیڈر اسامہ بن لادن کو ’شہید‘ قرار دے چکے ہیں۔ آزاد کشمیر میں یوم یک جہتی کشمیر کے موقع پر جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وہ کشمیریوں کو پاکستان سے علیحدہ خود مختار ریاست بنانے کا حق دینے کا اعلان بھی کرچکے ہیں۔ یہ بیان پاکستان کی خارجہ پالیسی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں میں تجویز کردہ استصواب رائے کے اصول سے متصادم تھا جس میں کشمیریوں کو پاکستان یا بھارت کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ غلطی کی نشاندہی کے بعد بھی عمران خان اسے تسلیم کرنے اور اپنے بیان کی اصلاح کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ البتہ وزارت خارجہ مبہم انداز میں یہ وضاحت کرنے کی کوشش ضرور کرتی ہے کہ پاکستان کی مسلمہ پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔
ظاہر ہے کہ کوئی دوسرا ملک اپنی پارلیمنٹ میں کسی ایسے لیڈر کو خطاب کا موقع نہیں دینا چاہے گاجس کے نتیجے میں اس کی خارجہ پالیسی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے اور بھارت جیسے بڑے ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات میں دراڑ پڑنے کا اندیشہ ہو۔ پاکستان کے لئے یہ سوچنے کا مقام ہے کہ سری لنکا نے بھارت کے مقابلے میں پاکستان کو سفارتی طور سے نیچا دکھانے اور وزیر اعظم پاکستان کی بالواسطہ توہین کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا۔ اور نہ ہی پاکستانی وزیر خارجہ نے وزیر اعظم کو اس ہزیمت سے بچانے کے لئے سفارتی آداب کے مطابق کوئی متوازن تحریر شدہ تقریر کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تاکہ کولمبو کو عمران خان کا پارلیمنٹ سے خطاب منسوخ کرنے سے روکا جاسکتا ۔ اور وزیر اعظم کا دورہ شروع ہونے سے پہلے ہی ناکامی کا منہ بولتا نمونہ نہ بن جاتا۔ یا یہ بھی ممکن ہے کہ سری لنکا پر بھارت کا دباؤ اس قدر زیادہ ہو کہ اسے ہر قیمت پر عمران خان کا خطاب منسوخ کرنا پڑا اور پاکستان کی پوزیشن پر غور کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔
البتہ عمران خان کی سری لنکا آمد کے بعد مسلمان پارلیمنٹیرینز سے طے شدہ ملاقات کو سیکورٹی کے بہانے سے منسوخ کرنا اور پاکستان کا خاموشی سے اس توہین کو برداشت کرلینا ، ناقابل فہم ہے۔ پارلیمنٹ کے چند ارکان سے ملاقات میں سیکورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہوسکتا تھا۔ ویسے بھی سیکورٹی پروٹوکول کسی غیر ملکی لیڈر کے دورہ سے پہلے طے کرلیا جاتا ہے۔ سری لنکا میں سیکورٹی کی صورت حال میں اچانک ایسی کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی کہ سری لنکن وزیر کی اس بات کو تسلیم کیا جاسکے کہ سیکورٹی پہلی ترجیح ہے لہذا مسلمان پارلیمنٹ ارکان سے ملاقات منسوخ کرنا ضروری تھا۔ ایسے میں سری لنکن مسلم کانگریس کے رہنما راؤف حکیم کا یہ کہنا کہ یہ عذر تراشی ’مضحکہ خیز اور بزدلانہ ‘ ہے، قرین قیاس ہے ۔ سری لنکن مسلمانوں کے دوٹوک مؤقف کے باوجود پاکستانی وفد کی جانب سے اس معاملہ پر مکمل خاموشی افسوس ناک اور پاکستان کی ناکام خارجہ حکمت عملی کا ایک اور نمونہ ہے۔
اسی پر اکتفا نہیں ہے۔ سری لنکا کی حکومت نے ملک میں مرنے والے مسلمانوں کو جلانے کا فیصلہ برقرار رکھ کر بھی عمران خان کے لئے مشکل سفارتی صورت حال پیدا کی ہے۔سری لنکا کے وزیر اعظم مہندرا راجا پکشے نے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ حکومت کووڈ 19 سے مرنے والے مسلمان شہریوں کو دفنانے کی اجازت دے گی۔ کیوں کہ اس سےمسلمان کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ سری لنکن وزیر اعظم کے اس بیان کو عمران خان نے ٹوئٹر پر سراہا تھا۔ البتہ اس بیان کے چند گھنٹے بعد ہی سری لنکا کی حکومت نے کہا کہ کووڈ 19 سے مرنے والے افراد کی میت کو جلانے کی پالیسی جاری رہے گی اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ حکومت کے اس بیان پر سری لنکا کے مسلمانوں نے پاکستانی وزیر اعظم سے مداخلت کی اپیل کی تھی۔ اب مسلمان لیڈروں سے عمران خان کی ملاقات منسوخ کرکے یہ واضح کیا گیا ہے کہ راجا پکشے کی حکومت دس فیصد مسلمان اقلیت کے ساتھ روا رکھے گئے امتیازی اور متعصبانہ سلوک پر کسی قسم کے تبصرے کا کوئی موقع فراہم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔
عمران خان کے دورہ سے پہلے سری لنکن مسلم کونسل کے صدر این ایم امین نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’سری لنکا کے مسلمان ایک عظیم مسلمان لیڈر کا خیر مقدم کریں گے اور امید کرتے ہیں کہ وہ ان کے حقوق کا معاملہ سری لنکن حکام کے ساتھ اٹھائیں گے‘۔ ویمن ایکشن نیٹ ورک کی لیڈر شیرین سرور نے امید ظاہر کی تھی کہ ’پاکستانی لیڈر ہمارے لئے انصاف اور انسانی حقوق کی بات ضرور کریں گے‘۔ تاہم عمران خان کے دورہ میں مسلمان لیڈروں سے ملاقات منسوخ کرکے سری لنکن حکومت نے پاکستان کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کی حالت زار پر کوئی تبصرہ نہیں سنے گی۔ بظاہر پاکستان نے سری لنکن حکومت کی اس شرط کو قبول کرلیا ہے۔ یہ وقوعہ ایک ایسے موقع پر ہؤا ہے جب سری لنکا کو اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل میں مسلمان اقلیت کے ساتھ تعصب برتنے کے الزامات کا سامنا ہے اور اسے امید ہے کہ پاکستان اس فورم پر اس کا ساتھ دے گا۔
لگتا ہے کہ پاکستان میں ضمنی انتخابات میں شکست ، پارٹی ارکان کی بے رخی اور بظاہر اسٹبلشمنٹ کی سرد مہری سے پیدا ہونے والی سیاسی تنہائی کا شکار عمران خان، سری لنکا کے دورہ میں بھی شدید سفارتی بیگانگی کا شکار ہوئے ہیں۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker