تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:آصف زرداری اور جہانگیر ترین ایک ہی پیج پر ہیں

خبر ہے کہ پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کی طرف سے بھیجا گیا شو کاز نوٹس پڑھ کرسنانے کے بعد اسے پرزے پرزے کردیا۔ حاضرین نے تالیاں بجا کر اس طریقے کا خیر مقدم کیا۔ میڈیا تک یہ خبر پہنچاکر پیپلز پارٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے مؤقف پر قائم ہے اور اپوزیشن اتحاد کو کسی قسم کی رعایت دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔
پیپلز پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس صرف ایک نکتہ پر مبنی ایجنڈے پر بحث کے لئے منعقد ہورہا ہے۔ اس میں پاکستان جمہوری تحریک کی اس تجویز پرغور کیا جارہا ہے کہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے دوران اسمبلیوں سے اجتماعی استعفے دے دیے جائیں۔ سولہ مارچ کو پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں عدم اتفاق کے بعد مولانا فضل الرحمان نے 26 مارچ کو مجوزہ لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس لانگ مارچ کی تیاری کئی ماہ سے کی جارہی تھی لیکن آخری مرحلے پر استعفوں کے بارے میں پیدا ہونے والے اختلاف کی وجہ سے اسے ملتوی کرنا پڑا۔ پیپلز پارٹی کے معاون چئیرمین آصف زرداری لانگ مارچ کے ساتھ استعفے دینے کے خلاف ہیں ۔ سربراہی اجلاس میں انہوں نے نواز شریف کو ’پیش کش‘ کی تھی کہ وہ احتجاج کی قیادت کے لئے وطن واپس آجائیں تو استعفے ان کے ہاتھ میں دیے جائیں گے۔ مریم نواز نے اس تقاضے پر احتجاج کیا اور کہا تھا کہ اس وقت نواز شریف کی پاکستان واپسی ان کی زندگی کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔
پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور جمیعت علمائے اسلام (ف) نے استعفوں کو لانگ مارچ کے ساتھ منسلک کرکے باہمی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ اس حوالے سے قیادت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا اور پیپلز پارٹی کو اس سوال پر اعتماد میں بھی نہیں لیا گیا ۔ دوسری طرف مولانا فضل الرحمان اور مریم نواز کا کہنا ہے کہ استعفوں کا معاملہ پہلے سے پی ڈی ایم کے ایجنڈے کا حصہ تھا اور پیپلز پارٹی اس پر آمادگی ظاہر کرتی رہی ہے۔ تاہم یہ طے ہؤا تھا کہ اس بارے آصف زرداری کی تجویز کے مطابق سینیٹ انتخاب کا بائیکاٹ کرنے سے گریز کیا جائےاور ضمنی انتخابات میں بھی حصہ لیا گیا۔ جب اپوزیشن یوسف رضا گیلانی کو اکثریت کے باوجود سینیٹ کا چئیرمین بنوانے میں کامیاب نہیں ہوئی تو لانگ مارچ کو مؤثر بنانے کے لئے ، اسی دوران اسمبلیوں سے استعفے دے کر موجودہ حکومت کو نئے انتخابات پر مجبور کیا جاسکتا تھا۔ پیپلز پارٹی اس حکمت عملی سے متفق نہیں تھی ۔ البتہ 16 مارچ کے اجلاس میں پاکستان جمہوری تحریک کے باقاعدہ خاتمہ کا اعلان کرنے کی بجائے، اس معاملہ کو طویل کرنے کا فیصلہ ہؤا۔ پیپلز پارٹی نے اس بارے میں حتمی فیصلہ کے لئے سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سے مشورہ کرنے کا وقت مانگا جس پر اتحاد کی باقی جماعتیں طوعاً کرہاً راضی ہوگئیں۔
اپوزیشن کا موجودہ اتحاد دراصل گزشتہ ماہ 16 مارچ کو ختم ہوچکا تھا کیوں کہ احتجاج کے بنیادی طریقہ کار پر دو بڑی پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت ایک دوسرے سے متفق نہیں تھی۔ پیپلز پارٹی نے شروع میں استعفوں کے معاملہ پر رضا مندی ظاہر کی تھی اور بلاول بھٹو زرداری نے ایک مرحلہ پر یہ بھی کہا تھا کہ موجودہ حکومت کے خاتمہ کے لئے پیپلز پارٹی سندھ حکومت بھی قربان کردے گی۔ لیکن دراصل وہ یہ قربانی مسلم لیگ (ن) سے پنجاب میں چاہتی تھی۔ سینیٹ انتخاب کے بعد آصف زرداری کا مشورہ و تجویز تھی کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ق) کے تعاون سے عثمان بزدار کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے اور مسلم لیگ (ن) اس کی حمایت کرے کیوں کہ اس طرح مرکز میں عمران خان کی حکومت کمزور ہوجائے گی اور اس کے خلاف عدم اعتماد لانا آسان ہو گا۔ مسلم لیگ (ن) کے لئے پرویز الہیٰ کو وزیر اعلیٰ کے طور پر قبول کرنا صوبے میں سیاسی موت کے مترادف ہے۔ وہ اس آپشن سے اسی طرح انکار کرتی ہے جیسے پیپلز پرٹی سندھ حکومت کو ہر قیمت پر بچانا چاہتی ہے۔ دونوں پارٹیاں پی ڈی ایم کے اندر رہتے ہوئے کوئی بیچ کا راستہ نکالنے پر راضی نہیں ہوسکیں۔
پی ڈی ایم کے 16 مارچ کو ہونے والے سربراہی اجلاس کے بعد دونوں پارٹیوں کے لیڈرو ں نے ایک دوسرے کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔ پیپلز پارٹی سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی کو چئیرمین بنوانے میں کامیاب نہیں ہوئی لیکن پی ڈی ایم کے متفقہ فیصلہ کے برعکس سینیٹ میں اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے اس نے گیلانی کو اپوزیشن لیڈر بنوانے کا قصد کیا۔ جماعت اسلامی کو ساتھ ملانے کے علاوہ بلوچستان عوامی پارٹی کے ایسے ارکان کی حمایت بھی حاصل کی گئی جو صادق سنجرانی کو چئیرمین بنوا چکے تھے۔ اس طرح پیپلز پارٹی اور یوسف رضا گیلانی نے اپوزیشن میں ’اکثریت‘ ثابت کرکے چئیر مین سینیٹ سے اپوزیشن لیڈر کا عہدہ حاصل کرلیا۔ مسلم لیگ (ن) نے اسے بدعہدی قرار دیا۔ اس فیصلہ سے سیاسی تلخ نوائی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہؤا۔ نتیجہ میں ایک طرف سینیٹ میں اپوزیشن کے دو گروپ ہوگئے تو دوسری طرف پی ڈی ایم کا اتحاد یا کم از کم متحدہ لائحہ عمل خطرے میں پڑ گیا۔
مسلم لیگ (ن) نے پی ڈی ایم کو سینیٹ اپوزیشن لیڈر کے سوال پر پیپلز پارٹی کی بدعہدی کے خلاف ’اظہار وجوہ کا نوٹس‘ بھیجنے کا اہتمام کیا ۔پیپلز پارٹی اور اس کی حمایت پر اے این پی کو شاہد خاقان عباسی کے دستخطوں سے نوٹس جاری کردیے گئے۔ اس اقدام نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ شاہد خاقان عباسی اور ان کے ساتھیوں کو اس غلطی کا احساس نوٹس جاری کرنے کے بعد ہؤا۔ اسی لئے وہ یہ صفائی دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ شو کاز نوٹس نہیں ہے بلکہ ایک متفقہ فیصلہ پر عمل نہ کرنے والی دو پارٹیوں سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔ اے این پی نے نوٹس ملنے کے ایک ہی روز بعد پی ڈی ایم سے علیحدگی کا اعلان کردیا اور کہا کہ سیاسی اتحاد میں کسی پارٹی کو انگلی پکڑ کر نہیں چلایا جاتا۔ پیپلز پارٹی کا رد عمل بھی اس سے مختلف نہیں ہوگا۔ البتہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ سوموار کو سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے اس کا اظہار کیسے دیکھنے میں آتا ہے۔
یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی کے برعکس پی ڈی ایم سے نکلنے کا اعلان نہ کرے لیکن شو کاز نوٹس پر شدید غم و غصہ کا اظہار سامنے آئے۔ پیپلز پارٹی کے لیڈروں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ واضح کرنا شروع کردیا ہے کہ استعفے نہ دینے کے بارے میں آصف زرداری کی پالیسی درست ہے اور پارٹی اس حکمت عملی پر ہی عمل کرے گی۔ مسلم لیگ (ن) اگر استعفے دینا چاہتی ہے تو وہ اپنے طور پر یہ کام کرسکتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے عدم تعاون کے بعد استعفوں کا آپشن اپنی اہمیت کھو چکا ہے۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کےلیڈر یہ جتا رہے ہیں کہ نظام کو اندر سے بدلنے کا فیصلہ ہی درحقیقت بہترین طریقہ ہے۔ پارٹی کی ایم این اے شازیہ مری نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈسکہ کے حلقہ این اے 75 کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نوشین افتخار کو یہ کامیابی آصف زرداری کی حکمت عملی کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔ نظام کو اندر سے ہی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ نظام تبدیل کرنے کی بات کرتے ہوئے دونوں پارٹیاں دو مختلف باتیں کرتی ہیں۔ پیپلز پارٹی عمران حکومت کے خاتمہ کو نظام میں تبدیلی سمجھتی ہے ۔ وہ سیاست میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کے خاتمہ کی بات نہیں کرتی۔ مسلم لیگ (ن) کے لیڈر بھی اس حوالے سے شدت پسندانہ بیانات سے گریز کرتے ہیں لیکن پھر بھی پارٹی کی حکمت عملی میں ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ ابھی تک بنیادی ایجنڈے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ نعرہ دراصل اس بات کی علامت ہے کہ مسلم لیگ پر نواز شریف اور مریم نواز کا کنٹرول ہے اور شہباز شریف اور ان کی مصلحت پسندی کے حوالے سے پہنچانے جانےوالے گروپ کو پارٹی معاملات میں اہمیت حاصل نہیں ہے۔ تاہم مسلم لیگ (ن) کو ایک طرف پیپلز پارٹی کے ساتھ کھلی جنگ کا سامنا ہے تو دوسری طرف پارٹی کی صفوں میں بھی اتحاد قائم رکھنا، اہم ہے۔ خاص طور سے اسمبلیوں سے استعفوں کا معاملہ ٹھنڈا پڑنے کے بعد پنجاب میں حکومت کی تبدیلی کے تناظر میں تحریک انصاف کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کو بھی کڑے امتحان کا سامنا ہوگا۔
جہانگیر ترین کے حامی ارکان اسمبلی نے گزشتہ کچھ عرصہ سے اپنی سیاسی موجودگی کا احساس دلایا ہے اور اب ان ارکان نے تحریری طور سے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات اور جہانگیر ترین کے قانونی مسائل پر بات کرنے کی درخواست کی ہے ۔ اس کی روشنی میں یہ سمجھنا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف گھیرا تنگ ہورہا ہے۔ پنجاب میں تبدیلی کا نادر روزگار مشورہ صرف آصف زرداری کے زرخیز دماغ کی پیداوار نہیں ہے بلکہ یہ اشارے کہیں اور سے بھی آرہے ہیں۔ اس موقع پر اگر عمران خان ، عثمان بزدار کی تبدیلی پر راضی نہیں ہوتے تو پنجاب میں ان کی سیاسی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ تحریک انصاف کا جہانگیر ترین گروپ بڑا ہوسکتا ہے یا پنجاب کی حد تک حکومت تبدیل کرنے کے لئے کوئی فارورڈ بلاک دیکھنے میں آجائے۔ لگتا یہی ہے کہ ایسی کسی سیاسی تبدیلی میں بھی وزارت اعلیٰ کے مضبوط امیدوار بہر حال پرویز الہیٰ ہی ہوں گے۔
شہلا رضا نے گزشتہ دنوں جہانگیر ترین کی آصف زرداری سے ملاقات کی پیش گوئی کی تھی لیکن ترین نے اس امکان کو مسترد کیا تھا۔ دونوں لیڈر وں کی براہ راست ملاقات سے قطع نظریہ واضح ہورہا ہے کہ پنجاب میں تبدیلی کے لئے جہانگیر ترین اور آصف زرداری ایک ہی پیج پر ہیں۔ ایسی کسی پیش رفت میں صرف عمران خان کو ہی سخت چیلنج درپیش نہیں ہوگا بلکہ مسلم لیگ (ن) کو بھی مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker