تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:سعودی عرب یک بیک کیوں اہم ہوگیا؟

وزیر اعظم کے دورہ سعودی عرب سے چند روز پہلے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ ریاض پہنچے ہیں۔ یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ سال وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ایک انٹرویو کے بعد پیدا ہونے والی خلیج دور کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس بیان کے بعد سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ ناراضی کا اظہارکرنے کے لئے اسے دیا گیا مختصر المدت قرض فوری طور سے واپس طلب کرلیا تھا۔ پاکستان کو چین سے ہنگامی طور سے قرضہ لے کر سعودی عرب کو دو ارب ڈالر واپس کرنا پڑے تھے۔
شاہ محمود قریشی نے اگست 2020 میں ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران مقبوضہ کشمیر کے سوال پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا اجلاس نہ بلانے پر شدید برہمی اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اگر او آئی سی نے فوری طور پر پاکستان کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لئے وزرائے خارجہ کا اجلاس طلب نہ کیا تو وہ وزیر اعظم سے مشاورت کے بعد ان مسلمان ملکوں کا اجلاس طلب کرلیں گے جو کشمیر اور بابری مسجد جیسے مسائل پر بھارت کے خلاف پاکستان کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہیں۔ پاکستان ایسا متبادل اجلاس تو طلب نہیں کرسکا تاہم ریاض سے موصول ہونے والے سفارتی اشاروں کے بعد کئی ماہ سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششیں ضرور ہوتی رہی ہیں۔ امریکہ میں قیادت کی تبدیلی ، بائیڈن حکومت کی طرف سے یمن جنگ کی مخالفت اور ایران کے ساتھ مفاہمت کے اعلان کے بعد سعودی عرب بھی اپنے خارجہ تعلقات پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہؤا ہے۔ بظاہر جنرل باجوہ کا دورہ اور اس کے بعد 7 مئی سے وزیر اعظم عمران خان کا دورہ سعودی عرب ، اسی تبدیل شدہ سعودی پالیسی کا نتیجہ ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات روائیتی طور سے گرم جوش رہے ہیں۔ پاکستان نے ہر سفارتی محاذ پر سعودی عرب کا ساتھ دیا ہے ۔ لاکھوں پاکستانی بھی سعودی عرب میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے تعلقات میں پڑنے والی دراڑ میں یہ اندیشہ پیدا ہوگیا تھا کہ اگر یہ تعلقات مزید خراب ہوئے تو اس کا اثر سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانی تارکین وطن پر مرتب ہوسکتا ہے جو پاکستانی معیشت کے لئے تباہ کن اثرات کا باعث بن سکتا تھا۔ مارچ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیر اعظم عمران خان سے فون پر بات کی اور انہیں سعودی عرب آنے کی دعوت دی تھی۔ اس طرح دونوں ملکوں کے تعلقات میں برف پگھلنا شروع ہوئی تھی۔
وزیر اعظم کے دورہ سے عین پہلے جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ سعودی عرب جہاں علامتی طور سے خارجہ معاملات میں پاک فوج کی بالادست پوزیشن کو واضح کرتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اس سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ یہ دورہ بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اور مقبوضہ کشمیر کے بارے میں پاکستانی حکمت عملی کے حوالے سے بھی نہایت اہم ہے۔ پاکستان نے حال ہی میں ایک ریٹائیرڈ فوجی جنرل بلال اکبر کو ریاض میں نیا سفیر مقرر کیا ہے۔ اس تقرری کو بھی پاک فوج کی اس خواہش کا حصہ کہا جاسکتا ہے جس کے تحت وہ سعودی عرب جیسے اہم ملک کے ساتھ تعلقات کو براہ راست کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔ اگرچہ شاہ محمود قریشی کے ٹیلی ویژن بیان میں اختیار کئے گئے سخت رویہ کی اصل وجہ ابھی تک سامنے نہیں آسکی لیکن یہ تو طے ہے کہ یہ بیان سانحاتی طور پر نہیں دیاگیا تھا بلکہ ملک کی اعلی ترین قیادت نے سوچ سمجھ کر سعودی عرب کو ’آنکھیں ‘ دکھانے کی ضرورت محسوس کی تھی۔ تاہم اس بیان بعد اس سے مخالف سمت میں قدم اٹھانے کے جو اشارے دیے گئے ، ان سے یہ بھی واضح ہؤا ہے کہ پاکستان کے پاس اپنی سفارتی قوت دکھانے کے لئے بہت زیادہ آپشن نہیں ہیں۔
سعودی عرب نے تو شاہ محمود قریشی کے توسط سے ملنے والی دھمکی کے بعد بھارت یا مقبوضہ کشمیر کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی لیکن پاکستان اور راولپنڈی سے گزشتہ چند ماہ کے دوران جو اشارے موصول ہوئے ہیں، ان سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ یا تو پاکستان خود بھارت کے ساتھ سینگ پھنسائے رکھنے کی صورت حال کو تبدیل کرنے کا خواہاں ہے یا عالمی طور سے پیدا ہونے والے حالات اسے اپنی دیرینہ کشمیر پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کررہے ہیں۔ 5 اگست 2019 کو نریندر مودی کی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے قانونی اقدامات کئے تھے اور کشمیر پر مکمل لاک ڈاؤن کے ذریعے وہاں اپنی دسترس مستحکم کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا تھا۔ پاکستان نے ان اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ دو طرفہ مذاکرات کے لئے ضروری ہے کہ بھارت کشمیر کی اگست 2019 سے پہلے والی حیثیت بحال کرے۔ پاکستانی قیادت میں اس معاملہ پر اختلاف کے اشارے بھی سامنے آئے ہیں۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے اسلام آباد کے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ماضی بھلانے، دشمنی ختم کرنے اور گھر کی صفائی کرنے جیسے اقدامات کی خواہش کا اظہار کیا تو دوسری طرف وفاقی کابینہ نے حال ہی میں بھارت کے ساتھ محدود تجارتی تعلقات بحال کرنے کی تجویز کو مسترد کرکے یہ نکتہ واضح کیا ہے کہ دو طرفہ تعلقات میں کسی پیش رفت کے لئے پہلے بھارت کو کوئی رعایت دینا ہوگی۔ اسلام آباد یہ رعایت کشمیر کے معاملہ پر مودی حکومت کی کسی نہ کسی طرح کی پسپائی کی صورت میں مانگ رہا ہے۔ البتہ یہ واضح نہیں ہے کہ عمران خان کی سیاسی حکومت اور ملک کی عسکری قیادت اس سوال پر ایک ہی طرح سوچتے ہیں۔ اگرچہ دونوں کے درمیان اس حوالے سے کسی واضح ٹکراؤ کا کوئی اشارہ موصول نہیں ہؤا لیکن کابینہ کی طرف سے بھارت کے ساتھ تجارت بحال کرنے سے انکار کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ نے صحافیوں سے ملاقاتوں میں بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کی ضرورت پر اصرار کیا ہے۔
اب وزیر اعظم سے پہلے جنرل باجوہ کا ریاض پہنچنا اور وہاں عسکری و سول قیادت سے ملاقاتوں کے شیڈول سے بھی واضح ہوتا ہے کہ فوج پاکستان کے خارجہ تعلقات کو ملکی سلامتی کا لازمی حصہ سمجھتی ہے اور ان پر اپنی بالادستی قائم رکھنے کا اشارہ دے رہی ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ عمران خان کس حد تک اس شعبہ میں مکمل تابعداری پر آمادہ ہوں گے یا کسی سطح پر انہیں فوجی حکمت عملی سے کھلم کھلا اختلاف ظاہر کرنے کی ضرورت محسوس ہوگی۔ کیوں کہ کسی بھی سیاسی حکومت کے لئے کشمیر پالیسی میں 180 درجے کا یوٹرن لینا آسان نہیں ہوگا۔ اپوزیشن فوری طور سے اس پر کشمیر بیچنے کا الزام عائد کرے گی ۔ کوئی بھی سیاسی لیڈر بھارت سے رعایت لئے بغیر حقیقی پالیسی میں کسی قابل ذکر تبدیلی کا اعلان نہیں کرے گا۔ سعودی دورہ شاید اس حوالے سے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
گزشتہ کچھ عرصہ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹریک 2 ڈپلومیسی امریکہ کی سرپرستی اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعاون سے بارآور ہوئی ہے۔ امریکہ ان دونوں عرب ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات سے دو فائدے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ایک تو پاکستان کومکمل طور سے چین کا محتاج ہونے اور پوری طرح اس کے بلاک میں شامل ہونے سے روکنا ۔دوسرے بھارت کے ساتھ پاکستان کے تنازعات ختم کرواکے برصغیر میں کشیدگی ختم کروانا شامل ہے۔ جو اشارے اب تک سامنے آئے ہیں ان سے یہی اندازہ ہورہا ہے کہ اس منصوبہ کے تحت دونوں ملکوں کو’ماضی بھول کر‘ مستقبل کے امکانات سے استفادہ حاصل کرنے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔ اس میں سر فہرست مقبوضہ کشمیر پر دونوں ملکوں کا اختلاف ہے۔
سفارتی حد تک پاکستان بھی یہ تسلیم کرتا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں قصہ پارینہ ہیں۔ اب خطے کے حالات اور کشمیری عوام کی سوچ دونوں میں ڈرامائی تبدیلی واقعہ ہوچکی ہے اور ستر برس پہلے منظور کی گئی یہ قرار دادیں اب نئے چیلنجز کا حل تلاش نہیں کرسکتیں۔ اگست 2019 میں نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کا جو اقدام کیا تھا ، اسے دنیا میں عام طور سے قبول کرلیا گیا ہے۔ بھارتی حکومت کی اس حکمت عملی کے بارے میں دو آرا سامنے آئی ہیں۔ ایک یہ کہ نئی دہلی نے کسی نہ کسی سطح پر اسلام آباد کو اعتماد میں لے کر یہ ڈرامائی اقدام کیا تھا۔ دوسری رائے کے مطابق پاکستان کو اندھیرے میں رکھا گیا لیکن اس کے پاس اس تبدیل شدہ حالات کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
نریندر مودی اپنے اقدامات کے ذریعے کشمیر کے حوالے سے تمام اہداف حاصل نہیں کرسکے۔ کشمیری عوام کی مزاحمت شدید ہے اور وہ کسی قیمت پر بھارتی حکومت کی زور ذبردستی کو ماننے پر راضی نہیں ہیں۔ کشمیر کی بھارت نواز سیاسی پارٹیوں نے بھی مشترکہ طور پر کشمیر کی اگست سے2019 پہلے کی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور بھارتی اپوزیشن بھی اس مطالبے کی حمایت کرتی ہے۔ اب پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت بھی اسی رعایت کا مطالبہ کررہی ہے۔ گویا اگر مودی حکومت کشمیر کے بارے میں بھارتی آئین کی شق 370 کو کسی طور سے بحال کرنے کا اعلان کردے تو وہ ایک پتھر سے دو شکار کرسکتی ہے۔ کشمیری قیادت کو مطمئن کرکے وہاں علیحدگی پسند سیاسی گروہوں کو کمزور کرنے کی کوشش کرے گی اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کا مطالبہ پورا کرکے ا سے کسی مستقل سمجھوتہ پر آمادہ کرسکے گی۔
پاکستان اور بھارت کو معروضی حالات کے مطابق جس حل کی طرف لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے، وہ یہی اصول ہے کہ دونوں ملک کشمیر کی موجودہ تقسیم کو قبول کرکے آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کریں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ اس اصول کو تسلیم کرنے کے حق میں ہیں۔ بھارت سے مقبوضہ کشمیر کا 5 اگست 2019 کا اسٹیٹس بحال کرنے کا اشارہ مل جائے تو عمران خان بھی یہ حل ماننے پر راضی ہوں گے۔ سعودی عرب اس سلسلہ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ وزیر اعظم سے پہلے پاک فوج کے سربراہ کا دورہ ظاہر کرتا ہے کہ بظاہر سعودی عرب سے مفاہمت کے لئے ہونے والا یہ دورہ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker