تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:بیانات، تضادات اور وضاحتیں: سچ کیا ہے؟

مقبوضہ کشمیر کے لئے بھارتی آئین کی شق 370 معطل کرنے کو بھارت کا داخلی معاملہ قرار دینے کے بعد اب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اعلان کیا ہے کہ کشمیر سے متعلق کوئی بھی پہلو بھارت کا داخلی معاملہ نہیں کیوں کہ کشمیر بین الاقوامی طور سے تسلیم شدہ تنازعہ ہے جسے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے۔ اس طرح وزیر خارجہ کو کشمیریوں کے احتجاج اور اپوزیشن کی نکتہ چینی کی وجہ سے اپنے ہی مؤقف سے دست بردار ہونا پڑا ہے۔
اس دوران وزیر اعظم عمران خان نے پاکستانی سفیروں کو شرمندہ اور متنبہ کرنےوالے خطاب کے بعد اب کہا ہے کہ وزارت خارجہ تو ہونہاروں سےبھری پڑی ہے اور ہمارے سفارت کار گراں مایہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ’میرے بیان سے یہ تاثر لے لیا گیا کہ جیسے میں نے وزارت خارجہ میں کام کرنے والے سب لوگوں کے بارے میں کوئی منفی بات کہی ہے۔ بس کسی سے کوئی غلطی ہوجاتی ہے جس کی نشاندہی کی تھی‘۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس سارے خطاب کو براہ راست ٹی وی پر دکھانے کی بجائے ، محض کچھ حصے نشر ہونے چاہئیں تھے۔
شاہ محمود قریشی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بھارتی آئین کی شق370 کو بھارت کا داخلی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے پاکستان کا کچھ لینا دینا نہیں ہے البتہ شق 35 اے کو بحال کرنا بے حد ضروری ہے۔ حالانکہ کشمیر سے متعلق بھارتی آئین کی یہ دونوں شقات جنہیں 5 اگست 2019 کو ایک نئے صدارتی حکم کے ذریعے غیر مؤثر کیا گیا تھا، کشمیریوں کے حقوق اور جداگانہ شناخت کے حوالے سے اہمیت رکھتی تھیں۔ اسی لئے پاکستان شروع سے کہتا رہا ہے کہ ان شقات کو ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کے باشندوں کو خود مختارانہ حقوق سے محروم کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود شاہ محمود قریشی نے بڑے اعتماد سے ان دونوں شقات کو علیحدہ کرتے ہوئے ایک کو اہم اور دوسری کو غیر ضروری و غیر متعلقہ قرار دیا۔
بعینہ وزیر اعظم نے پاکستانی سفیروں کو جو بھی کہا لیکن اس میں سب سے تکلیف دہ ان کا یہ فرمان تھا کہ پاکستانی سفارت خانوں کے مقابلے میں بھارتی سفارت کار بہت اچھا کام کرتے ہیں۔ اس طرح پاکستانی وزیر اعظم نے دشمن ہمسایہ ملک کے سفیروں اور سفارت کاروں کی کارکردگی کو ان کے پاکستانی ہم منصبوں سے بہتر بتا کر درحقیقت پاکستانی وزارت خارجہ کی شدید توہین کی ۔ وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی سفارت خانے درحقیقت انگریز کے زمانے کا رویہ اختیا رکرتے ہیں جو نئے پاکستان میں قابل قبول نہیں ہے۔ سابق پاکستانی سفیروں کی تنظیم کے صدر انعام الحق نے اس پر احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعظم کی توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کروائی ہے کہ پاکستانی سفارت کاروں کی موجودہ نسل کو انگریز راج میں ہونے والے دفتری طریقوں کا علم ہی نہیں ہے اور وہ محدود وسائل اور پاکستان کے مشکل داخلی حالات کے باوجود پر عزم ہیں اور پاکستان کی ساکھ اور بھلائی کے لئے پوری لگن سے کام کرتے ہیں۔ البتہ کسی بھی ادارے میں بہتری کے امکانات موجود ہوتے ہیں لیکن وزیر اعظم کو براہ راست نشر کی گئی تقریر میں پاکستانی سفارتی عملہ کو تمام خرابیوں کا ذمہ دار قرار نہیں دینا چاہئے تھا ۔ اسی طرح بھار تی سفارت کاروں کے مقابلے میں انہیں کمتر بتانے سے ان کی کارکردگی اور حوصلہ پر منفی اثر پڑے گا۔
وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے کے دو مختلف معاملات پر دو مختلف مواقع پر دیے گئے مؤقف میں بھارت قدر مشترک ہے۔ وزیر خاجہ کشمیر سے متعلق بھارت کو بعض حوالوں سے رعایت دینا چاہتے تھے اور وزیر اعظم بھارتی سفارت کاری کو ایک عمدہ نمونہ کے طور پر پیش کرکے پاکستانی سفارت کاروں کو شرم دلانا چاہتے تھے۔ ان بیانات سے دست برداری ظاہر کرتی ہے کہ مملکت پاکستان کے یہ دونوں ذمہ داران دراصل خود اپنے کہے پر شرمندہ ہیں ۔ انہیں بالواسطہ طور سے ہی سہی ، یہ تسلیم کرنا پڑا ہے کہ ان اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوکر خارجہ امور سے متعلق ہر معاملہ اور ادارے کے بارے میں ایک ایک لفظ سوچ سمجھ کر بولنے کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ جس ملکی مفاد کے تحفظ کے لئے یہ جوش بیان صرف کیا جاتا ہے، غیر ذمہ دارانہ گفتگو اسی کو نقصان پہنچانے کاسبب بنتی ہے۔ تاہم ان دونوں صورتوں میں یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا کہ کیا کسی بیان کی تردید کرکے اور یہ کہہ کر کہ ایسا غلطی سے ہوگیا، ایسا نہیں کہنا یا کرنا چاہئے تھا، ملکی مفاد محفوظ کرلیا گیا ہے؟
اس سوال کا سادہ سا جواب ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے عہدوں پر فائز افراد کی طرف سے ایسے بیان جاری کرنا اگر غیر دانشمندانہ تھا تو ان سے دست بردار ہوکر یہ تاثر قوی کیا گیا ہے پاکستان کے ان مقتدر عہدوں پر ایسے لوگوں کا قبضہ ہے جو ان کے اہل نہیں ہیں۔ ان دونوں معاملات میں وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے بظاہر وزارت خارجہ کے افسروں یا متعلقہ شعبوں کے ماہرین سے مشورہ کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ بیان جاری کرتے ہوئے دراصل مختلف مقاصد پیش نظر تھے۔ عمران خان بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو رجھانا چاہتے تھے اور انہوں نے مناسب سمجھا کہ سفیروں سے براہ راست خطاب میں ان کے ساتھ توہین آمیز طرز تکلم سے وہ اپنے سامعین تک یہ بات پہنچانے میں کامیاب ہوں گے کہ عمران خان ڈسپلن میں سخت ہے، وہ کسی کو نہیں چھوڑے گا۔ اور اسی تاثر کی بنیاد پر اس سیاسی نقصان کی تلافی ہوسکے گی جو حکومت کی عاقبت نااندیشانہ فیصلوں کی وجہ سے اس وقت تحریک انصاف کی عوامی مقبولیت کو پہنچ رہا ہے۔ تاہم وزیر خارجہ کے انٹرویو میں کہی گئی باتوں کی یہ وضاحت ممکن نہیں ہے۔ کشمیر کے متعلق بھارتی آئین کی شق 370 کے متعلق بیان دے کر وزیر خارجہ کے ذریعے کہیں نہ کہیں، کوئی نہ کوئی اشارہ یا پیغام پہنچانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اب اس کی وضاحت سے پاکستانی عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
شاہ محمود قریشی کا یہ بیان بھی گزشتہ سال اگست میں اسلامی تعاون تنظیم اور سعودی عرب کے بارے میں دیے گئے انٹرویو ہی کی طرح کا تھا۔ یعنی وزیر خارجہ نے کوئی اشارہ دینے کی کوشش کی لیکن اس کا منفی اثر ہونے پر اس سے فرار کا راستہ اختیار کیا گیا۔ جیسے او آئی سی اور سعودی عرب کے بارے میں بیان کے نتیجے میں پاکستان کو فوری طور سے سعودی عرب کے دو ارب ڈالر واپس کرنا پڑے اور اس کے بعد کئی ماہ کی فدویانہ سفارت کاری کے بعد بالآخر آرمی چیف اور وزیر اعظم سعودی عرب کے دورے پر گئے اور تعلقات کو نئی جہت دینے کا اعلان کیا گیا۔ اس دورہ کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اس طرح کشمیر کو شاہ محمود قریشی کے تازہ دعوے کے مطابق عالمی تنازعہ سے دو ہمسایہ ملکوں کا باہمی جھگڑا بنادیا گیا ۔ درحقیقت کشمیر کےسوال پر یہ پاکستان کی بد ترین پسپائی ہے۔ لیکن نیا پاکستان بنانے کے دعوے دار عمران خان وزیر ہوا بازی غلام سرور کی طرح وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے بھی باز پرس نہیں کرسکتے۔ غلام سرور کے ایک بیان نے پاکستان انٹرنیشنل کو تباہ کردیا ہے اور دنیا بھر میں اس کی پروازوں پر ہنوز پابندی عائد ہے۔
شق 370 کے حوالے سے شاسہ محمود قریشی کابیان کشمیر پر ریاست پاکستان کی تبدیل شدہ حکمت عملی کا پرتو ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ حکومت کس حد تک نام نہاد ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے ذریعے طے گئے امور پر قائم رہنے کا حوصلہ کرے گی۔ یہ بات اب صاف ہوچکی ہے کہ اس وقت پاکستانی اسٹبلشمنٹ کے نمائیندوں نے بھارت کے ساتھ کسی حد تک اس اصول پر اتفاق کیا ہے کہ کشمیر کی موجودہ تقسیم کو تسلیم کرلیا جائے۔ پہلے مرحلے میں اس کا باقاعدہ اعلان نہیں ہوگا لیکن اس مفاہمت کے ساتھ باقی شعبوں میں پیش رفت کی جائے گی ۔ آہستہ آہستہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں مواصلت و آمد و رفت کو سہل بنایا جائے گا۔ اور مناسب وقت پر کسی ایسے معاہدے پر اتفاق کرلیا جائے گا جس میں لائن آف کنٹرول کو پاکستان اور بھارت کے درمیان بین الاقوامی سرحد کی حیثیت سے تسلیم کرلیا جائے۔
جو بات ہر تجزیہ نگار اور صحافی کے نوک زبان ہے ، پاکستانی حکومت اس بارے میں عوام کو اعتماد میں لینے اور پوری اسکیم پیش کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتی۔ بھارت میں نریندر مودی کی حکومت کو بھی شاید ایسی ہی سیاسی مشکل کا سامنا ہو لیکن اگر پاکستان اصولی طور سے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ تسلیم کرنے پر راضی ہوگیا تو یہ درحقیقت بھارت اور نریندر مودی کی بہت بڑی سیاسی وسفارتی کامیابی ہوگی۔ اس پس منظر میں شاہ محمود قریشی کا شق 370 کے بارے میں انٹرویو اتفاقیہ یا حادثاتی نہیں ہوسکتا۔ وزیر اعظم عمران خان نے ’آپ کا وزیر اعظم آپ کے ساتھ‘ نامی پروگرام میں ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ بھارت جب تک کشمیر کی 5 اگست 2019 والی حیثیت بحال نہیں کرے گا، اس وقت تک دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ بعد میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی ایک پریس کانفرنس میں اسی مؤقف کو دہرایا۔
موجودہ حالات اور واقعات کی مکمل تصویر کے تناظر میں 5 اگست 2019 کی پوزیشن بحال کرنے کو شرط کے طور پر سامنے لانے کایہ مطلب نہیں ہے کہ پاکستان کشمیر کے مسئلہ پر اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو ہی اس مسئلہ کا حتمی اور واحد سمجھتا ہے۔ اگر یہ بات درست ہوتی تو سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ اعلامیہ میں کشمیر کو دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی بجائے یہ کہا جاتا کہ کشمیر کا تنازعہ اقوم متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے۔ 5 اگست 2019 کو یک نیا سنگ میل بتا کر دراصل پاکستان کے پرانے مؤقف سے گریز کا راستہ ہموار کیا جارہا ہے۔
غیر مصدقہ اور نیم مصدقہ ذرائع درون خانہ پکنے والی کھچڑی کی خبریں عوام تک پہنچا رہے ہیں ۔ بہتر ہوگا کہ عمران خان اور حکومت پاکستان اس معاملہ پر حقیقی صورت حال سے قوم کو آگاہ کریں یا اس معاملہ کو پارلیمنٹ میں بحث کے لئے پیش کیا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker