تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:اسرائیلی جارحیت پر عالمی سرد مہری اور مسلمانوں کی بے بسی

اسرائیلی بری، بحری اور فضائی فوج پوری طرح سے غزہ کے بیس لاکھ محصور اور لاچار باشندوں پر حملہ آور ہے۔ دنیا کے بہترین ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی سے لیس اسرائیلی فوج نہتے فلسطینیوں کے گھروں کو بمباری سے تباہ اور بچوں اور نوجوانوں کو ہلاک کررہی ہے۔ اسے نام نہاد ’خو حفاظتی‘ کا نام دیاگیا ہے۔ امریکہ میں انسانی حقوق کی دھوم مچانے والی جو بائیڈن کی حکومت کو اس سنگین مسئلے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے پر حیرت ہے اور امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اسرائیلی جارحیت کو اس کا حق دفاع قرار دے رہے ہیں۔
فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی تازہ ترین جارحیت کو پانچ روز بیت چکے ہیں اور اطلاعات کے مطابق اب تک سوا سو کے لگ بھگ لوگ جاں بحق ہوئے ہیں جن میں تین درجن بچے اور لاتعداد خواتین بھی شامل ہیں۔ پھر بھی دنیا کی سب سے بڑی طاقت اسے اسرائیل کی مظلومیت اور حماس کی ’جارحیت‘ سے تعبیر کررہی ہے۔ امریکہ اور دیگر مغربی دارالحکومتوں میں اس بات پر صف ماتم بچھی ہے کہ حماس کے راکٹوں سے ہونے والے حملوں میں سات اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔ بلاشبہ یہ افسوسناک کارروائی ہے۔ کسی مقصد کے بغیر کسی بھی انسان کی کا خون بہانے کا کسی کو حق حاصل نہیں ہے لیکن اسرائیل کے دفاع کی بات کرنے والوں کو نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی، اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کی زمینوں پر ذبردستی قبضہ کرکے وہاں یہودی بستیاں بسانے اور رمضان المقدس کے دوران مسجد اقصیٰ میں فلسطینی نوجوانوں پر ظلم و ستم جیسے مذموم اقدامات پر بھی غور کرنا چاہئے۔
فلسطینی عوام ستر سال سے اپنے علیحدہ اور خود مختار وطن کی خواہش میں مسلسل ظلم و ستم کا نشانہ بنائے جارہے ہیں۔ پوری دنیا فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتی ہے لیکن مٹھی بھر انتہا پسند اسرائیلی اور ان کے نمائیندے نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے مصالحت کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ اسرائیل کا خیال ہے کہ وہ اپنی عسکری طاقت کے بل بوتے پر فلسطینیوں کو مسلسل اپنی غلامی پر مجبور رکھ سکتا ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت ہر تھوڑے عرصے کے بعد کسی نہ کسی بہانے سے غزہ کو اسرائیلی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ حماس کا دہشت گرد نیٹ ورک تباہ کردیا گیا۔ دنیا کے باضمیر انسان بچوں کی لاشوں، بے گناہ انسانوں کے لہو اور بے وسیلہ لوگوں کے برباد گھروں کی تصویریں دکھا کر دنیا کو بیدار کرنا چاہتے ہیں لیکن کسی نہ کسی جگہ کوئی نہ کوئی مصلحت یا مفاد انسانیت اور انسانی زندگی پر بھاری پڑتا ہے۔ اس وقت بھی جو صورت حال بیت المقدس اور غزہ میں مشاہدہ کی جارہی ہے وہ کسی پرانی فلم کے ٹریلر کی مانند ہے۔
خطرہ ظاہر کیاجارہا ہے کہ ایک بار پھر جنگ طول پکڑ سکتی ہے۔ حیرت ہے کہ ایک ظالم استحصالی قوت کے فوجی استبداد کو مغربی میڈیا اور امریکی قیادت یوں پیش کرتی ہے گویا یہ دو ہم پلہ ملکوں کے درمیان کوئی عسکری تنازعہ ہے۔ حالانکہ اس میں ایک طرف فوجی طاقت ہے اور دوسری طرف نہتے فلسطینی ہیں۔ بیچ میں حماس ناقص اور ناکارہ راکٹوں کے ذریعے اسرائیل اور اس کے حامیوں کو مشتعل کرنے کے لئے بے مقصد نعرے لگانے کا کام کرتی ہے۔ اس میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ حماس کے انتہا پسند لیڈر بھی اپنے عوام کی جان و مال کے بارے میں اتنے ہی بے حس اور سفاک ہیں جس قدر اسرائیلی حکومت اور فوج ہے۔ یا ان جابرانہ حملوں کو اسرائیل کے دفاع کا نام دینے والے انسان دوست سیاست دان ، جن میں فلسطینی عوام کا جائز حق دلانےکا حوصلہ و ہمت نہیں ہے۔ ان میں سر فہرست جو بائیڈن کی قیادت میں امریکی حکومت ہے جو ظلم کی اس گھڑی میں بھی ظالم کے ساتھ کھڑی ہے اور تاریخ کے فیصلے سے بے خبر ہے۔
بظاہر دنیا بھر میں اسرائیلی حملوں کی مذمت کی جارہی ہے۔، متعدد شہروں میں اسرائیل کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ مسلمان لیڈر باہم مشورہ سے اس جارحیت کو مسترد کرتے ہوئے فلسطینیوں کی حفاظت کا اعلان کررہے ہیں۔ اسلامی تعاون تنظیم نے بھی اسرائیل کی جارحیت کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ کبھی عمران خان ترک صدر اردوان کے ساتھ مشاورت کرتے ہیں اور کبھی شاہ محمود قریشی سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود کے ساتھ فون پر گفتگو کے ذریعے اس سنگین صورت حال پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ لیکن اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ کوئی اسلامی تنظیم یا مسلمان ملک اور اس کی قیادت یا تو اس مسئلہ کو حل کروانے میں دلچسپی نہیں رکھتی یا پھر ان میں اس کی صلاحیت نہیں ہے۔ زیادہ گہرائی سے غور کیا جائے تو مسلمان لیڈروں کی باتوں اور طرز عمل میں یہ دونوں عوامل تلاش کئے جاسکتے ہیں۔
عرب ممالک فلسطینی عوام کا ساتھ دینے کی بجائے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ مل کر اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ کچھ ممالک نے باقاعدہ اسرائیل کو تسلیم کرلیا اور ان معاہدوں میں فلسطین کا مسئلہ حل کرنے کے لئے کوئی واضح وعدہ حاصل کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی۔ اس وقت بھی عرب ممالک افسوس کا اظہار کرنے کے سوا کوئی خاص کردار ادا کرنے کے نہ تو خواہش مند ہیں اور نہ ہی اس کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر ممالک میں آمرانہ نظام حکومت قائم ہیں اور حکمران صرف اپنا اقتدار محفوظ رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یا اس بات کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ کس طرح ایران کو مشرق وسطیٰ میں نیچا دکھا نے کے لئے اسرائیل کے ساتھ تعاون استوار ہوسکتا ہے۔ فلسطین کسی عرب ملک کے سیاسی ایجنڈے کا حصہ نہیں ہے۔ اسے نعرہ بنا کر کسی بھی سانحہ کی صورت میں گھڑے ہوئے بیانات جاری کرکے فلسطینیوں کے ’حق آزادی‘ کی حفاظت کرلی جاتی ہے۔
اتوار کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں اسرائیل میں پیدا ہونے والے حالات پر غور کیا جائے گا لیکن یہ اجلاس تقریریں کرنے تک ہی محدود رہے گا۔ جب تک امریکہ کو عالمی معاملات میں ’حرف آخر‘ کی حیثیت حاصل ہے، اقوام متحدہ یا کوئی دوسرا عالمی فورم فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی مظالم کی روک تھام کرنے کا اہل نہیں ہے۔ سلامتی کونسل تو اسرائیل کے خلاف کوئی مذمتی قرار داد بھی منظور نہیں کرسکے گی کیوں کہ اسے یا تو امریکہ ویٹو کردے گا یا پھر کوئی ایسا مسودہ قرارداد کے طور پر منظور کیا جائے گا جس میں اسرائیل سے رحم کرنے اور فوجی کارروائی روکنے کی درخواست کی جائے گی۔ جیسا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئیترس نے فریقین سے تشدد بند کرنے کا تقاضہ کیا ہے۔
دنیا کا جو بھی لیڈر اسرائیل اور حماس کو ہم پلہ فوجی قوت قرار دیتا ہے، وہ صرف جھوٹ کا سہارا لے رہا ہوتا ہے۔ اسی جھوٹ نے اسرائیل کو خود سر اور دہشت گرد ریاست میں تبدیل کردیا ہے جو غیر یہودی عرب باشندوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کے لئے فوجی طاقت کا بے دریغ استعمال کرتی ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں یا انسانی حقوق کے عالمی معاہدوں کو تسلیم نہیں کرتی۔

کوئی نہیں جانتا کہ حماس کی جارحیت کا نام لیتے ہوئے اسرائیلی فوج کب تک غزہ کے شہریوں پر زندگی تنگ کر رکھے گی اور وہاں شہریوں کی املاک کے علاوہ پبلک سہولتیں فراہم کرنے والی عمارتوں کو خوفناک فضائی حملوں میں تباہ کرتی رہے گی۔ اسرائیل چاہتاہے کہ وہ فلسطینیوں کی طرف سے ہر مزاحمت کو ختم کرکے انہیں مسلسل اطاعت شعاری پر مجبور کرسکے۔ تاہم 70 برس میں یہ مقصد حاصل نہیں کیا جاسکا۔ فلسطینیوں کے ہاں پیدا ہونے والی ہر نئی نسل پہلے سے زیادہ آزادی کی خواہش مند ہے اور اس کے لئے جان ہتھیلی پر لئے پھرتی ہے۔ عالمی لیڈر جب اسرائیلی ٹینکوں اور بکتر بند پولیس افسروں پر پتھر پھینکنے والے نوجوانوں کو تشدد کا سبب قرار دیتے ہیں اور فلسطینیوں کو امن کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں تو وہ جان بوجھ کر اس سچ کو دیکھنے پر آمادہ نہیں ہوتے کہ ہر تنازعہ میں تشدد کا راستہ اسرائیلی ریاست اختیار کرتی ہے اور وہی تمام بنیادی انسانی اصول پامال کرتے ہوئے نہتے نوجوانوں اور شہریوں کو تختہ مشق بناتی ہے۔ اسے برابر کی لڑائی کہنے والوں کے ساتھ دلیل سے بات کرنا ممکن نہیں ہے۔
جمہوریت کے یہی دعویدار کبھی پیرس میں اسرائیل مخالف مظاہرے پر پابندی عائد کرتے ہیں اور کبھی جرمن حکومت کے ترجمان کی صورت میں متنبہ کرتے ہیں کہ اسرائیل کے خلاف مظاہرے یہودیوں کے خلاف نفرت پیدا کرتے ہیں جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ حالانکہ اسرائیل کا پرچم جلانا ایک متعصب اور جابر حکومت اور ملک کے خلاف ناراضی کا اظہار ہے۔ ایسا کسی ایک عقیدہ یا لوگوں کے خلاف نفرت کی وجہ سے نہیں کیا جاتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ نیتن ہاہو کی حکومت اپنی پالیسیوں کی وجہ سے یہودیوں کی بہبود کا گلا گھونٹ رہی ہے۔
اسرائیل 90 لاکھ نفوس پر مشتمل ملک ہے۔ اس میں ایک چوتھائی آبادی اسرائیلی عربوں کی ہے۔ موجودہ تنازعہ میں اسرائیل کے مختلف شہروں میں انتہا پسند یہودی گروہوں نے عرب شہریوں اور ان کی املاک پر حملے کئے ، اس کے رد عمل میں عرب شہریوں نے بھی یہودیوں پر حملے کئے ہیں۔ نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ’اسرائیلیوں کی طرف سے ملک میں بسنے والے عرب شہریوں اور عربوں کی طرف سے اسرائیلیوں پر تشدد کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے‘۔ لیکن وہ یہ بھول رہے ہیں کہ اپنے ہی شہریوں میں نفرت اور انتقام کی یہ آگ انہوں نے خود اپنے اقتدار کو طول دینے اور فلسطینیوں کو غلام بنائے رکھنے کے جوش میں بھڑکائی ہے۔
اسرائیلی حکومت اور وہاں آباد انتہا پسند یہودی گروہ اگر صورت حال کی سنگینی کو سمجھ کر بقائے باہمی کے نقطہ نظر سے امن کا کوئی راستہ تلاش نہیں کریں گے تو اسرائیل میں خانہ جنگی کے بھڑکنے والے شعلوں پر اس کی عسکری قوت اور سیاسی تکبر بھی قابو نہیں پاسکے گا۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker