تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:جہانگیر ترین گروپ بننے یانہ بنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟

یہ خبر سامنے آنے کے تھوڑی ہی دیر بعد جہانگیر ترین نے خود ہی اس کی تردید کردی کہ تحریک انصاف میں کوئی علیحدہ گروپ بنایا گیا ہے یا ان کے ساتھ یک جہتی دکھانے والے قومی و پنجاب اسمبلی کے ارکان تحریک انصاف سے علیحدہ ہورہے ہیں۔ لاہور میں میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے عمران خان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن پنجاب حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ علیحدہ گروپ بنانے کی تردید تو کی گئی لیکن ساتھ ہی یہ تصدیق بھی کردی کہ پنجاب اسمبلی میں سردار سعید اکبر خان نوانی ناراض گروپ کے پارلیمانی لیڈر ہوں گے۔ اب اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ گروپ بنا ہے یا نہیں۔ یہ بات طے ہے کہ تحریک انصاف میں دراڑ پڑ چکی ہے جو پنجاب یا وفاق میں تحریک انصاف کی حکومتیں ڈبونے کے لئے کافی ہے۔
گزشتہ رات سے یہ خبریں میڈیا میں گشت کرتی رہی تھیں کہ جہانگیر ترین کے حامی ارکان قومی و پنجاب اسمبلی نے اپنا علیحدہ گروپ بنا کر ان کے پارلیمانی لیڈر بھی مقرر کردیے ہیں۔ قومی اسمبلی میں راجہ ریاض کو گروپ کا لیڈر بنایا گیا ہے جبکہ پنجاب اسمبلی میں اکبر خان نوانی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ۔ یہ اطلاعات جہانگیر ترین کی رہائش گاہ پر ہونے والے عشائیہ کے بعد سامنے آئی تھیں اور ان کا ’ذریعہ‘ بھی جہانگیر ترین کے قریب ترین لوگ ہی تھے۔ جب خود ترین نے عدالت میں پیشی کے دوران پارٹی کے اندر پارٹی بنانے کی خبروں کی تردید کی تو دراصل وہ عمران خان تک یہ پیغام پہنچا رہے تھے کہ یا تو ان کی شرائط پر معاملات طے کئے جائیں یا پھر وہ پنجاب کی حد تک کچھ نہ کچھ کرکے دکھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
پاکستانی عوام کے لئے یہ کوئی نیا کھیل نہیں ہے۔ ماضی کی تاریخ ایسے سیاسی جوڑ توڑ اور ریشہ دوانیوں سے بھری پڑی ہے۔ پہلے ایک پارٹی کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے اقتدار تک لایا جاتا ہے پھر اسے اطاعت شعار بنائے رکھنے کے لئے دباؤ کے مختلف ہتھکنڈے اختیار کئے جاتے ہیں۔ جب تک اپوزیشن پارٹیاں حکومت اور عمران خان کو کمزور کرنے کے لئے سیاسی جوڑ توڑ کررہی تھیں ، اس وقت تک بھی بات سمجھ میں آتی تھی۔ عمران خان کا سخت گیر اور سیاسی انتقام پر مبنی رویہ اور اپوزیشن کو سیاسی سپیس دینے سے انکار نے ملک کی دونوں بڑی پارٹیوں کو نالاں کیا ہؤا تھا جس کے نتیجے میں پاکستان جمہوری تحریک کے قیام کے علاوہ ایسے احتجاجی جلسوں تک بات پہنچی جن میں دھؤاں دار تقریریں کی گئیں اور حکومت کے علاوہ اس کے ’سرپرستوں‘ کو چلتا کرنے کا اعلان کیا گیا۔ پھر درون خانہ نہ جانے کون سے قیامت ٹوٹی کہ عمران خان کی کرسی کھینچنے والے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے لگے۔ نتیجتاً لانگ مارچ اور احتجاجی تحریک کا قصہ تمام ہؤا اور لگنے لگا کہ ابھی ایک پیج میں جان باقی ہے۔
اپوزیشن اتحاد میں پڑنے والے شگاف کے بعد ابھی عمران خان اطمینان کا سانس بھی نہ لے پائے تھے اور نہ ہی شیخ رشید نئی پیش گوئیوں کے ساتھ کوئی تازہ بڑھکیں مارنے کی تیاری کرسکے تھے کہ جہانگیر ترین کی عدالتی پیشیوں کے موقع پر پنجاب اور قومی اسمبلی کے ارکان کی قابل ذکر تعداد نے ان کے ساتھ ’اظہار یک جہتی‘ کے لئے جانا شروع کردیا۔ پھر عشائیے ہوئے اور جہانگیر ترین کے ساتھ ’ناانصافی‘ کے خلاف سخت احتجاج سننے میں آیا۔ یہ گروپ تیس ارکان اسمبلی تک پہنچ چکا جس کے بارے میں تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ اب اس میں چالیس تک ارکان شامل ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ تعداد اتنی ضرور ہے کہ اگر جہانگیر ترین چاہیں تو قومی اسمبلی یا پنجاب اسمبلی میں حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب کرواسکتے ہیں۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران یہ گروپ نہ صرف اکٹھا رہا ہے بلکہ اس کی طاقت اور کسی حد تک سرگرمیوں میں اضافہ ہؤا ہے۔ عشائیہ پر ملاقاتیں اور کی جانے والی تقریروں کی خبریں میڈیا کو پہنچانے کا اہتمام کرکے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ عمران خان کو اقتدار میں رہنے کے لئے اپنی ہی پارٹی کے ناراض ارکان کے ساتھ مفاہمت کرنا ہوگی۔
اس مفاہمت کا پہلا باقاعدہ اظہار چند ہفتے پہلے جہانگیر ترین کے حامی ارکان سے وزیر اعظم کی باقاعدہ ملاقات تھی۔ تاہم ملاقات سے بھی زیادہ اہم یہ بات تھی کہ عمران خان نے اطمینان اور خاموشی سے اپنی حکومت کے خلاف ان ارکان اسمبلی و پارٹی کی شکایات کو سنا اور انہیں دور کرنے کا وعدہ کیا۔ جس جہانگیر ترین کے خلاف ایف آئی اے متعدد انکوائریاں کررہی تھی ، وزیر اعظم نے بنفس نفیس اس کی نگرانی کرنے کا وعدہ کیا اور گروپ کو بتایا کہ احتساب کے مشیر شہزاد اکبر اس معاملہ میں مداخلت نہیں کریں گے بلکہ سینیٹر علی ظفر سارے معاملہ کی تحقیقات کرکے وزیر اعظم کو براہ راست رپورٹ پیش کریں گے۔ اگرچہ سرکاری طور سے یہی تاثر دیا گیا کہ وزیر اعظم نے واضح کردیا ہے کہ کوئی احتساب سے بالا نہیں ہے اور جہانگیر ترین کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی لیکن ان کے حامی گروپ سے ملاقات ہی عمران خان کی کمزوری اور اس اعلان سے انحراف تھا کہ ’وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ نہ ہی انہیں کوئی بلیک میل کرنے کرسکتا ہے‘۔
اول تو وزیر اعظم کی طرف سے ایف آئی اے کے زیر تفتیش معاملات کی ’نگرانی‘کا وعدہ ہی اس مسلمہ انتظامی طریقہ کار اور انصاف کے تقاضوں کے برعکس تھا کہ تمام وفاقی ادارے خود مختاری سے کام کریں اور سیاسی لیڈر شپ ان کے کاموں میں مداخلت نہ کرے۔ عمران خان بلاشبہ ملک کے وزیر اعظم ہیں لیکن کسی ایک معاملہ میں رائے بنانے کے لئے خصوصی فرد کا تعین اور ایف آئی اے میں تحقیقات کو خود دیکھنے کا طریقہ بنیادی اصول قانون سے متصادم ہے۔ اب یہ اشارے دیے جارہے ہیں کہ درپردہ جہانگیر ترین گروپ کے ساتھ یہ افہام و تفیم کی جاچکی ہے کہ ان کے خلاف کوئی ’کارروائی‘ نہیں ہوگی اور جن مقدمات پر تفتیش ہورہی ہے وہ معمول کے مطابق اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے۔ تاکہ عمران خان احتساب کرنے اور کسی کو این آر او نہیں دوں گا کا نعرہ بھی لگاتے رہیں۔ حالانکہ ناراض ارکان اسمبلی سے ’خوشگوار‘ ماحول میں طویل ملاقات سے ہی احتساب کے وعدہ سے گریز کرلیا گیا تھا۔
تحریک انصاف میں بڑھتے ہوئے اختلافات، گزشتہ دنوں رنگ روڈ اسکینڈل میں نام آنے پر عمران خان کے قریبی دوست اور معاون خصوصی زلفی بخاری کا استعفی اور اسی اسکینڈل میں وفاقی وزیر غلام سرور پر الزامات اور ان کی وضاحت پر وزیر اعظم کا اظہار ناراضی، کسی مستحکم حکومت کے اشاریے ہیں ۔ حکومت اور پارٹی میں بڑھتے ہوئے اختلافات دراصل یہ واضح کرتے ہیں کہ عمران خان کی قیادت میں قائم ہونے والی حکومتیں اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ داخلی معاشی مسائل اور دباؤ سے قطع نظر خارجہ امور میں حکومت واضح طور سے بے یقینی و بے عملی کا شکار ہے۔ بعض اہم خارجہ شعبوں میں وزیر اعظم ہاؤس اور جی ایچ کیو سے سامنے آنے والے اشارے مختلف ہیں۔ اس دوران افغانستان کے صدر اشرف غنی نے جرمن میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کے افغان طالبان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں جو الزامات عائد کئے ہیں، ان پر وزارت خارجہ کے ترجمان کی نیم دلانہ وضاحت سے حالات کی تصویر مزید دھندلی اور مشکل ہورہی ہے۔
وزیر اعظم کو اپنی اتھارٹی بحال رکھنے اور حکومت کو فعال بنانے کے لئے پارلیمنٹ سے مکمل تعاون کی ضرورت ہے اور اپوزیشن کے ساتھ اشتراک عمل وسیع کرنا اہم ہے۔ اس کے برعکس عمران خان کشمیر کے بعد فلسطین کے سوال پر بیان بازی، شہباز شریف کی بیرون ملک روانگی کو ناکام بنانے میں صلاحیت صرف کرنے اور انتخابی قوانین میں من پسند ترامیم ٹھونسنے کا جتن کرکے ایک بہتر ، انصاف پسند اور مضبوط لیڈر کا امیج بنانے کی کوشش کررہےہیں۔ عمران خان ابھی تک یہ سمجھنےمیں ناکام ہیں کہ ان کی حکومت کا اصل مسئلہ معیشت کی دگرگوں حالت ہے۔ عوام بیروزگاری اور مہنگائی سے تنگ ہیں اور فوج مسلسل دفاعی اخراجات میں کمی پر سر پکڑے بیٹھی ہے۔ وزیر اعظم کو البتہ معیشت اڑان بھرتی دکھائی دیتی ہے کیوں کہ ترسیلات زر میں اضافہ ہورہا ہے۔ حالانکہ جس طرح کوئی بھی معیشت حقیقی معنوں میں نہ تو قرض اٹھا کر ترقی کرسکتی ہے ، اسی طرح تارکین وطن کی ترسیلات زر کو معاشی احیا کی بنیاد نہیں کہا جاسکتا ۔ اس کے لئے ملکی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانا بنیادی شرط ہے۔ نئے وزیر خزانہ شوکت ترین مسلسل یہ اعلان کررہے ہیں لیکن درست بات کرتے ہوئے بھی ان کے پاس صورت حال تبدیل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اگلے ماہ بجٹ آنے سے صورت حال مزید پریشان کن ہوسکتی ہے۔
کسی بھی منتخب حکومت کو کمزور کرنے کے لئے سیاسی جوڑ توڑ اور اندرون خانہ سازشیں قبول نہیں کی جاسکتیں۔ پاکستان میں جمہوری تسلسل کے لئے بے حد ضروری ہے کہ حکومت کو مدت پوری کرنے کا موقع دیا جائے لیکن اس کے ساتھ ہی حکمران جماعت اور اس کے لیڈر پر ملک میں سیاسی یگانگت و مفاہمت کا ماحول پیدا کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ یہ بات عمران خا ن کو شروع سے سمجھانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اب تحریک انصاف کے اندر اٹھنے والا طوفان خبر دے رہا ہے کہ وزیر اعظم نے فوری طور سے اپنی غلطیوں کا ادراک نہ کیا اور اصلاح احوال کے لئے واضح اشارے نہ دیے تو ان کے لئے اقتدار کی باقی مدت یا توپورا کرنا مشکل ہوگا یا وہ دن بدن بے اختیار اور غیر مؤثر قائد کی حیثیت اختیار کرتے جائیں گے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker