تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : انقلاب کے دعووں سے عمران سنڈروم تک

قومی پیداوار کے غیر دستاویزی اور متنازعہ دعوے کے بعد حکمران تحریک انصاف نے ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ وہ کسی مافیا کے سامنے نہیں جھکے گی اور کرپشن میں ملوث ہر شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ عمران خان کی صدارت میں تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کے دوران ’کسی کو بھی این آر او نہ دینے‘ کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لودھراں میں جہانگیر ترین کی خواہش و مرضی کے مطابق پولیس افسر تعینات کئے گئے ہیں۔
پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے ساتھ جہانگیر گروپ کی ملاقات کے بعد بنیادی طور پر اس گروپ کی خواہش و ضرورت کے مطابق انتظامی تبدیلیوں پر اتفاق کیا گیا تھا ۔ پارٹی کے اندر سے وفاداروں کے ایک گروہ نے جس طرح عمران خان کو اپنے ہی دعوؤں کی دھول چاٹنے پر مجبور کیا ہے، وہ ہماری سیاسی تاریخ کا ایک المناک باب ثابت ہورہا ہے۔ دیگر اقدامات اور اصلاحات کے علاوہ پولیس کو ایک خود مختار اور آئیڈیل فورس بنانے کے دعوے کرنے والے عمران خان کی حکومت اب سیاسی بقا کے لئے ڈی پی او سطح کے افسروں کے تبادلوں پر اتفاق کررہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جب جہانگیر گروپ کے ارکان پنجاب اسمبلی عثمان بزدار سے انتظامی افسروں کے تبادلوں کا تقاضہ کررہے تھے تو ان سے پوچھا جاتا کہ قانون سازوں کا مقامی انتظامی معاملات سے کیا تعلق ہوسکتا ہے؟ اس کی بجائے گروپ کی خواہش و مرضی کے مطابق تبادلوں پر اتفاق رائے کیا گیا ہے۔
یہ بظاہر ایک بڑے مقصد کے لئے معمولی قیمت ہے جو ادا کرنے کے بعد عمران خان نے فی الوقت پنجاب کے علاوہ کسی حد تک مرکز میں اپنی حکومت کو عارضی سہارا دیا ہے۔ لیکن گزشتہ تین سال کے دوران تحریک انصاف کی حکومتیں جس طرح اتفاقی سہاروں کے بل بوتے پر قائم ہیں، ان کی روشنی میں یہ قیاس کرنا مشکل نہیں ہے کہ مستقبل قریب میں بھی اسے بار بار ایسے سہاروں کی ضرورت پیش آتی رہے گی۔ اور عمران خان ان کی تلاش میں ہر وہ قیمت ادا کرنے پر راضی ہوں گے جن سے ان کا اقتدار برقرار رہ سکے۔ ایسا کرتے ہوئے عمران خان کو ہرگز یہ احساس نہیں ہے کہ اس طرز عمل سے وہ اس اخلاقی برتری سے بھی محروم ہورہے ہیں جو انہیں کسی حد تک اپنے سیاسی مخالفین پر حاصل رہی ہے۔ مرکز ور صوبوں میں ان کی حکومتیں نہ تو انتخابی مہم کے دوران کئے گئے سیاسی وعدے پورے کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں اور نہ ہی اداروں کی خود مختاری یا حکومت کی کارکردگی میں اصولوں کی بالادستی کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔ گورننس کے معاملات بدستور مشکلات اور شبہات کا شکار ہیں۔ ان حالات میں عمران خان آئیندہ انتخابات کے دوران کس بنیاد پر خود کو دوسری جماعتوں سے بہتر متبادل کے طور پر پیش کریں گے؟
اس کا آسان حل یہ تلاش کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال، مین اسٹریم میڈیا پر کنٹرول اور بڑبولے وزیروں و مشیروں کے بیانات کے زور پر جھوٹ کا ایسا ماحول قائم کیا جائے جس میں عمران خان ایک عظیم الشان لیڈر کے طور پر دکھائی دیتے رہیں۔ عمران خان اور تحریک انصاف کی یہ کوششیں اس وقت بام عروج پر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملکی نظام میں ہمہ قسم کرپشن، بے قاعدگی اور بدانتظامی کو جاری رکھتے ہوئے بھی عمران خان اور ان کے ساتھی نہایت ڈھٹائی سے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ این آر او نہیں دیا جائے گا یا ہر قسم کے مافیاز کو ختم کیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف ملک کے مختلف شعبوں میں پہلے سے قائم ’مافیاز‘ حکومت کی سرپرستی سے سرفراز ہیں بلکہ سیاسی لاف زنی کرنے والا ایک ایسا منہ پھٹ مافیا بطور خاص پیدا گیا ہے جس نے ملکی سیاسی مکالمہ میں دلیل اور حجت کی ہر روایت کو تہ و بالا کردیا ہے۔
اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ عمران خان نعروں اور دعوؤں کو ہی کامیابی کی معراج سمجھتے ہیں۔ اسی مزاج کی وجہ سے اپوزیشن لیڈروں پر الزام لگاتے ہوئے وہ ہر غیر ثابت شدہ جرم کو طے شدہ معاملہ کہتے ہیں ۔ پروپیگنڈا کے زور پر ایک ایسا ماحول بنا دیا گیا کہ اس حجت کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہی کہ کسی کو چور ثابت کرنے کے لئے عدالتوں میں ثبوت پیش کرنا اور قانون کی بالادستی کے لئے شفاف قانونی عمل کو یقینی بنانا حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ عمران خا ن اس بات پر یقین کرتے ہیں کہ وہ جسے چور کہہ دیں اسے سب ہی برا اور قوم و ملک کا دشمن سمجھنا شروع کردیں اور اپنی سیاسی سہولت و ضرورت کے لئے وہ جسے نیک نیت اور ایماندار قرار دیں ، اس کے بارے میں یہی رائے قائم کرلی جائے۔ اس پر مستزاد یہ کہ عمران خان بدستور سب کو قانون کے سامنے مساوی قرار دینے کے دعویدار ہیں لیکن اس اصول کو نہیں مانتے کہ قانون کی بالادستی کے اصول کا تقاضہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے سیاسی مداخلت سے آلودہ نہ ہوں اور عدالتوں پر دباؤ ڈالنے کی سرکاری کوششیں ترک کی جائیں۔
احتساب کے معاملات کے علاوہ سیاسی مؤقف اختیار کرنے پر علی وزیر اور جاوید لطیف کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی روشنی میں دیکھا جاسکتا ہے کہ قانون کی بالادستی کا اعلان کس حد تک بودا ا ور بے بنیاد ہے۔ لیکن عمران خان نہ صرف اقتدار کا موجودہ دورانیہ پورا کرنے کے خواہاں ہیں بلکہ مستقبل میں اقتدار پر قابض رہنے کے لئے اس پر فریب نعرے کو مستقل مزاجی سے استعمال کرنے کا ارادہ ظاہر کرہے ہیں۔ دیگر متعدد دعوؤں کی طرح عمران خان کا یہ دعویٰ بھی غلط ثابت ہوچکا ہے کہ انہیں اقتدار کی خواہش نہیں ہے۔ اور اگر انہیں آزادی سے کام نہ کرنے دیا گیا یا ان پر دباؤ ڈالا گیا تو وہ اقتدار سے علیحدہ ہوجائیں گے۔ ایک تو ان کا طرز عمل اور بطور وزیر اعظم و چئیرمین تحریک انصاف سارے فیصلے اس دعوے کے برعکس ہیں۔ دوسرے انہوں نے عملی طور سے اپنی پارٹی کے اندر سیاسی اصلاحات کی کوئی ایسی روایت استوار نہیں کی جس سے یہ یقین کیا جاسکے کہ عمران خان نے محض اقتدار میں رہنے کے لئے سیاسی جماعت قائم نہیں کی بلکہ وہ ملک میں سیاسی تبدیلی برپا کرنا چاہتے ہیں۔ پارٹی فنڈنگ کیس کا مسلسل التوا اور تحریک انصاف کی طرف سے اس کیس کو مؤخر کروانے کے ہتھکنڈوں سے ہی واضح ہے کہ اپنے مفاد کے لئے ہر قانون شکنی کو درست سمجھنے کا رویہ عمران خان اور تحریک انصاف میں بھی اسی طرح راسخ ہے جیسا دوسری پارٹیوں میں موجود ہونے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کو کسی ایک منتخب اور شفاف ڈھانچے کی بنیاد پر منظم کرنے کی بجائے ، اسے مسلسل فرد واحد کی دسترس میں رکھ کر ذاتی جاہ پسندی کی افسوسناک مثال قائم کی گئی ہے۔
ملک کی دوسری دو بڑی پارٹیوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پر بھی یہ الزامات عائد کئے جاتے ہیں اور انہیں موروثی یا ایسی پارٹیاں کہا جاتاہے جن پر افراد کی اجارہ داری ہے۔ اس صورت حال کو تبدیل کرنے کے لئے ضروری تھا کہ عمران خان تحریک انصاف کو ان جماعتوں کے مقابلے میں بہتر پارٹی بنانے کا اقدام کرتے۔ پارٹی میں انتخابات کے دعوے جسٹس (ر) وجیہ الدین کو علیحدہ کرنے کے بعد ہی دم توڑ گئے تھے۔ اس کے بعد جہانگیر ترین کی رہنمائی میں ’الیکٹ ایبلز ‘ کو پارٹی کا اہم حصہ بنا کر درحقیقت عمران خان نے یہی اعلان کیا تھا کہ پاکستانی سیاست کے کھیل میں وہ قواعد و ضوابط تبدیل کرنے کی سوچ ترک کرکے وہی طریقے اختیار کریں گے جو انہیں اقتدار تک پہنچانے کے لئے ضروری ہوں گے۔ اس طرح وہ اقتدار تک تو پہنچ گئے لیکن اس کھیل میں سب کو ساتھ لے کر چلنے یا کسی حد تک قبول کرنے کا جو طریقہ پاکستانی سیاست دانوں نے بعد از خرابی بسیار سیکھا تھا، عمران خان اسے اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
حکومت کی ناقص کاکردگی اور ایک کے بعد دوسرے اسکینڈل کے باوجود جب اصرار کیا جاتا ہے کہ این آر او نہیں دیا جائے گا اور مافیاز کو کچل دیا جائے گا تو اسے سیاسی شعبدہ بازی سے زیادہ اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔ پہلے جہانگیر ترین گروپ کے ساتھ وزیر اعظم کی ’خوشگوار‘ ملاقات اور اب وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے اس گروپ کے مطالبوں کی تکمیل کے لئے ہونے والے اقدامات سے واضح ہورہا ہے کہ این آر او تو دیا جارہا ہے لیکن اسے سیاسی نعرے کے طور پر زندہ رکھنے کا جتن بھی جاری ہے۔ عمران سنڈروم کا شکار ایک طبقہ ضرور ان کوششوں کے سحر میں مبتلا رہے گا لیکن عمران خان سیاست میں ہائی مورل گراؤنڈ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ وہ تحریک انصاف کو فعال سیاسی تحریک نہیں بنا سکے۔ یہ پارٹی عمران خان کی قیادت میں عروج دیکھنے کے بعد اب ان ہی کی سربراہی میں تیزی سے رو بہ زوال ہے۔ یوں بھی عمران خان کے بعد تحریک انصاف کا کوئی والی وارث نہیں ہوگا اور اس کے حصے بخرے دوسری پارٹیوں میں پناہ حاصل کرتے دکھائی دیں گے۔
جہانگیر ترین گروپ بننے اور پھر اس کی بغاوت ملتوی ہو نے کی خبروں نے سیاست میں طوفان اٹھائے رکھنے کے خواہاں میڈیا کو ضرور مایوس کیاہے۔ پی ڈی ایم کے بعد جہانگیر ترین کی ’ بغاوت ‘ سے یہ امید وابستہ کی گئی تھی کہ تحریک انصاف کی ڈولتی ڈگمگاتی حکومت کو آخری دھکا لگنے کا وقت آگیا ہے۔ اب چوہدری نثار علی خان کے تین برس بعد پنجاب اسمبلی کا حلف اٹھانے سے انہی امیدوں کو نئی آب و تاب دینے کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم پاکستانی سیاست میں کے حوالے سے یہ جان لینا چاہئے کہ کہانی بھی پرانی ہے اور اس کا خالق بھی ایک ہی ہے۔ بس کرداروں کے نام بدل جاتے ہیں۔ عمران خان کے ہونے یا نہ ہونے سے کہانی تبدیل نہیں ہوگی۔ جیسے عمران خان کے دعوؤں اور حقیقی خواہشات میں بعد ہے اسی طرح جہانگیر ترین ہوں یا چوہدری نثار علی خان ، وہ انقلاب برپا والے مہرے نہیں ہیں۔ بلکہ ضلعوں تحصیلوں کی سیاست کرنے والے محدود مفادات کے اسیر لوگ ہیں۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker