تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:زرداری کی مفاہمت اور اسامہ بن لادن کی شہادت پر فواد چوہدری کی گواہی

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک ٹی وی پروگرام میں ایک طرف ’دہشت گردی‘ کے بارے میں سرکاری پالیسی واضح کی ہے تو دوسری طرف یہ بھی بتایا ہے کہ وہ صرف عمران خان کے ترجمان اور تحریک انصاف کی حکومت کے نمائیندے نہیں ہیں بلکہ حکومت کے وزیر کے طور پر وہ دراصل اسٹبلشمنٹ کی ترجمانی کا حق بھی رکھتے ہیں۔ اس حیثیت میں انہوں نے آصف زرداری کی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ صلح کی خبروں کو ’غلط فہمی ‘ قرار دیا۔
فواد چوہدری نے البتہ یہ تفصیل بتانے سے گریز کیا کہ یہ غلط فہمی کیوں اور کیسے پیدا ہوئی اور انہیں حقیقی صورت حال کیوں کر معلوم ہے۔ کیا وہ اس بیان کے ذریعے اپوزیشن پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف، عمران خان اور چند گنے چنے افراد کواسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کی اجارہ داری حاصل ہے اور باقی ماندہ سیاسی پارٹیوں کو انہی شرائط پر عمل کرنا ہوگا جو حکومت طے کرے گی۔ اگر اس تناظر میں فواد چوہدری کے بیان کا جائزہ لیا جائے تو ان میں اور ان عناصر میں کوئی خاص فرق نہیں ملے گاجو مختلف پارٹیوں میں موجود ہیں اور اپنے اپنے طور پر’ اسٹبلشمنٹ سرکار‘ سے تعلقات کا رعب جھاڑ کر یہ واضح کرتے رہتے ہیں کہ بس اب ان کی باری لگنے ہی والی ہے۔ اس مقابلے میں جب بھی تحریک انصاف کے نمائیندے حصہ دار بننے کا اعلان کرتے ہیں خواہ وہ وزیر اعظم کے ایک پیج والے بیانات ہوں جن میں عام طور سے ایک پیج پر اپنا وزن بتانے کے لئے یہ اضافہ ضروری سمجھا جاتا ہے کہ ’آرمی چیف میرے نیچے ہے‘ ۔ یا وزیروں مشیروں کے مل کر کام کرنے اور قومی مفاد میں اداروں کے احترام سے لبریز جاں گداز قسم کے فرمودات ہوں تو اس سے یہی تاثر قوی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ملک میں اصل طاقت تو ایک ہی ہے ۔ سب سیاسی پارٹیوں کو اسی کی انگلی پکڑ کر چلنا پڑتا ہے۔
یہ تاثر خواہ اسے قائم کرنے میں آصف زرداری سب پر بھاری ہونے والی شہرت کی آڑ میں اپنی ’اصل اہمیت‘ واضح کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیں یا مفاہمت اور نئے عمرانی معاہدے جیسے خوشنما دعوؤں کے ذریعے شہباز شریف یہ بتا رہے ہوں کہ ملک میں حقیقی سیاسی متبادل وہی ہیں کیوں کہ انہیں اسٹبلشمنٹ کی سرپرستی حاصل ہے یا پھر شیخ رشید اور فواد چوہدری حکومت کی نمائیندگی کرتے ہوئے یہ دعویٰ کریں کہ اپوزیشن جھوٹی ہے، طاقت کے مراکز کا اصل ساتھ تو عمران خان اور ان کی حکومت کو حاصل ہے ۔۔۔ اس سے عام ووٹر کا جمہوری نظام پر اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ اور ملکی آئین کے مطابق جمہوری نظام کو پروان چڑھتا دیکھنے کی خواہش رکھنے والے تمام عناصر کو شدید مایوسی اور پریشانی لاحق ہوتی ہے۔ اس روشنی میں وزیر اطلاعات کے علاوہ تمام سیاسی لیڈروں سے دست بستہ یہ گزارش کی جاسکتی ہے کہ ملک میں جس آئین کے تحت حکومت قائم ہے اور تحریک انصاف بھی جو انتخابات جیت کر اقتدار پر اپنا حق جتاتی ہے، اس میں ایسی کسی خفیہ طاقت کے اثر و رسوخ اور دسترس کی کوئی گنجائش نہیں جس میں ووٹرکے علاوہ ملک میں سیاسی معاملات طے کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کے سوا کسی دوسرے ادارے ، فرد یا عہدیدار کو حاصل ہو۔
جب بھی ایسی بحث کو تقویت دی جاتی ہے اور جو عناصر بھی خواہ وہ براہ راست سیاسی جماعتوں اور حکومت سے تعلق رکھتے ہوں یا میڈیا سے وابستہ ہوں، اس شبہ کو یقین میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آئین کچھ بھی کہتا ہو اور خواہ انتخابی نظام ہی بظاہر حکومت سازی کا واحد ذریعہ ہو جس میں پارلیمنٹ تمام اہم فیصلوں کا مرکز و محور سمجھی جاتی ہے لیکن درحقیقت یہ ڈھونگ ہے اور فیصلے تو وہی قوت کرتی ہے جسے عرف عام میں اسٹبلشمنٹ کہا جاتا ہے۔ یہ طرز عمل دراصل آئینی بالادستی، عوامی حکمرانی کے تصور اور جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔ اسے مسترد کرنا اور اس رویہ کے خلاف آواز اٹھانا ہی دراصل جمہوریت کو کامیاب و یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے۔ اسی لئے وزیر اطلاعات جب کسی سیاسی لیڈر کے درپردہ تعلقات کے حوالے سے ایک قومی ٹی وی پر ’انکشافات‘ کرتے ہوئے اپنی حکومت کی اتھارٹی کا تاثر قوی کرنے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں تو دراصل وہ اپنی اس کمزوری کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ نہ تو جمہوریت پر یقین رکھتےہیں، نہ ہی عوام کی بہبود یا آئینی بالادستی ان کا مطمح نظر ہے بلکہ وہ اپنے ذاتی اقتدار کے لئے درپردہ سازشوں، جموریت کا ڈھونگ رچانے اور آئینی طریقہ کا مذاق بنانے کو بھی برا نہیں سمجھتے۔
ہوسکتا ہے کہ فواد چوہدری ہی کی معلومات درست ہوں اور آصف زرداری کے اسٹبلشمنٹ کے ساتھ کوئی مفاہمانہ تعلقات نہ ہوں تو بھی انہیں اس سوال کا جواب تو دینا ہی چاہئے کہ اسٹبلشمنٹ سے ان کی کیا مراد ہے اور انہیں ایک سیاسی لیڈر اور جمہوری طور سے منتخب حکومت کے وزیر کے طور پر اس طاقت سے مواصلت کا موقع کیوں کر ملتا ہے؟ یہ تو تسلیم کیا جاسکتا کہ کسی بھی ملک کی فوج اور تمام اداروں کو حکومت وقت کی تابعداری کرنی چاہئے اور ان تمام فیصلوں کا احترام کرنا چاہئے جو وہ قانونی طریقوں کے مطابق کرتی ہے لیکن کسی وزیر کو کسی ایسی پراسرار طاقت کے بارے میں بات کرتے ہوئے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے جس کی ملکی آئین میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ سیاسی لیڈروں کے ساتھ اسٹبلشمنٹ کے تعلقات کی روایت اگر اس ملک میں موجود بھی رہی ہے تو اب اس کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ سوال ہے کہ یہ خاتمہ کون کرے گا؟ اصولی طور پر اس کا خاتمہ ملک کی جائز طور سے منتخب حکومت اور بالادست پارلیمنٹ کو ہی کرنا چاہئے۔ لیکن اگر حکمران جماعت پارلیمنٹ کو بحث کا فورم سمجھنے کی بجائے اپوزیشن کو شکست دینے کا ’اکھاڑہ‘ بنانے پر یقین رکھے گی اور اس کا وزیر اطلاعات کسی نام نہاد بھاری بھر کم قوت کا ’رازدار‘ ہونے کا تاثر قائم کرے گا تو اسے جمہوریت کا نہیں جاہ پسندی کا عمل سمجھا جائے گا۔
ہوسکتا ہے کہ اس جاہ پسندی کو ختم کرنے میں ابھی طویل جد و جہد کی ضرورت ہو اور اس مقصد کے لئے محض ’ووٹ کو عزت دو ‘ کا نعرہ لگا کر لوگوں کے دل گرمادینا ہی کافی نہ ہو لیکن اس مقصد کے لئے یہ اہم ہے کہ ایسے کسی بھی تاثر کو ختم کیا جائے کہ ملک میں جمہوری عمل کی بجائے سازباز کے کسی نظام کو قبول کیا جاسکتا ہے۔ اور کوئی ایسی حکومت باوقار اور نمائیندہ کہلانے کی مستحق ہو سکتی ہے جو اپنی قوت کا سرچشمہ بیلیٹ بکس کی بجائے کہیں دوسری جگہ تلاش کرتی ہو۔ یہ مان لینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہئے کہ سیاسی لین دین کی ایسی درپردہ سازشیں اس ملک کی افسوسناک تاریخ کا حصہ ہیں اور اب بھی انہیں کسی نہ کسی صورت میں تسلسل دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔
تاہم اس کے ساتھ ہی یہ بتادینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہونا چاہئے کہ سیاسی سازشوں اور خفیہ ایوانوں میں اقتدار بانٹنے کے طریقہ کار کو اب وسیع طور سے مسترد کیا جارہا ہے۔ بہت لوگ اس ڈھونگ کی حقیقت جان کر اسے مہلک سمجھنے لگے ہیں ۔ اور جو اب بھی کسی دھوکے میں ہیں انہیں بدستور جمہوریت یا قومی مفاد کے نام پر ہی یہ جھانسہ دیا جاتا ہے۔ نوشتہ دیوار البتہ یہی سچائی ہے کہ اس ملک میں اقتدار پر کنٹرول کرنے کا کوئی چور طریقہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ طاقت کے زور پر حکومت سنبھال لینے کا وقت بیت چکا اور اب انتخابات کو ہتھیار بناکر عوامی اختیار میں نقب لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ملک میں اس طریقہ کے خلاف آگاہی میں اضافہ ہورہا ہے۔ اب لوگ ان چہروں کو پہچاننے لگے ہیں جو اسٹبلشمنٹ کی نمائیندگی یا اس سے دوستی کے نام پر سیاسی ہوس کا اظہار کرتے ہیں۔ وقت آیا چاہتا ہے کہ ایسے سب چہرے بے نقاب ہوں گے۔ اہم ہوگا کہ ملکی سیاست میں سائینٹیفک اور جدید سوچ کے دعویدار فواد چوہدری بھی اس سچائی کو جان لیں۔ تاکہ وقت کا ظالم دھارا انہیں ایک ایسے دور میں عوام دشمنوں کے ساتھ کھڑا ہونے کا الزام نہ دے جب خفیہ طاقتوں کی ساز باز کے خلاف رائے ایک تحریک نما قوت کی صورت اختیار کررہی تھی۔
حکومتی نمائیندے کے طور پر فواد چوہدری نے ایک ٹی وی انٹرویو میں دہشت گردی اور اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے حوالے سے دو ٹوک اور شفاف مؤقف اختیار کرکے درحقیقت حکمران جماعت کی بجائے انفرادی ذہانت اور سیاسی زیرکی کا ثبوت دیا ہے۔ وزیر اطلاعات کے طور پر انہوں نے دہشت گردی کو مسترد کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو انسانیت کا دشمن قرار دے کر اپنےوزیر اعظم کے گمراہ کن بیان کو ’زبان کی لغزش‘ بتاکر اس کا ازالہ کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ حالانکہ عمران خان نے ایک سال قبل قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو شہید کہا تھا اور اس کے بعد وضاحت کے متعدد مواقع ملنے کے باوجود ، انہوں نے کبھی اس اہم معاملہ پر زبان کھولنا ضروری نہیں سمجھا۔ حتی کہ گزشتہ ہفتہ کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جب میڈیا کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے اس کی وضاحت دینے کی کوشش کی تو وہ افغان صحافی کے ضمنی سوال پر بے بس ہوگئے کہ ’کیا وہ اسامہ بن لادن کو شہید کہنے کو غلط مانتے ہیں‘۔ وزیر خارجہ نے اس سوال کا جواب دینے سے معذرت کرلی تھی۔
عالمی سطح پر وزیر خارجہ کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ کو پاکستان کی قومی پالیسی سمجھا جائے گا ۔ فواد چوہدری وزیر اطلاعات ہونے کے باوجود اس غلطی کی تلافی نہیں کرسکیں گے جو پہلے وزیر اعظم اور پھر وزیر خارجہ کے غلط اور افسوسناک طرز تکلم کا نتیجہ ہے اور جس کی وجہ سے بلاشبہ عالمی فورمز پر پاکستان کے مفادات پر ضرب پڑی ہے۔ فواد چوہدری کے لئے بہتر ہوگا کہ وہ ٹی وی انٹرویو میں پاکستانی عوام کو عمران خان کی سچائی کا درس پڑھانے کی بجائے اپنے لیڈر کو بتائیں کہ بزرگ کہہ گئےہیں کہ ’بولنے سے پہلے لفظوں کو تول لینا چاہئے‘۔ ورنہ غیر ذمہ داری سے کہے ہوئے الفاظ نہ صرف ان کا پیچھا کرتے رہیں گے بلکہ ان کی گفتگو ملک و قوم کے مفادات کو شدید نقصان پہنچاتی رہے گی۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker