تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : امریکہ کے سامنے’ ڈٹ‘ جانے کی کیا قیمت چکانا ہوگی؟

پاکستان اس وقت سنگین سیاسی اور پالیسی بحران کا سامنا کررہا ہے۔ یقیناً مختلف سیاسی لیڈروں اور متعلقہ اداروں کے ذہن میں موجودہ صورت حال کے حوالے سے کوئی خاکہ ہوگا لیکن بجٹ کا معاملہ ہو یا دنیا کے مختلف ممالک سے تعلقات کی نوعیت، افغانستان سے امریکہ کی روانگی کے بعد پیدا ہونے والی ممکنہ صورت حال ہو یا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی مضبوط ہوتی ہوئی گرفت، پاکستان ہر شعبہ میں بے یقینی اور مشکل صورت حال سے دوچار ہے۔
نہ تو اس بحران سے نکلنے کا کوئی خاکہ پیش نظر ہے اور نہ ملک کی سیاسی و غیر سیاسی قوتوں میں ایسی ہم آہنگی اور اشتراک عمل دیکھا جاسکتا ہے جس سے یہ امید کی جاسکے کہ مل جل کر ملک کو موجودہ مشکل مرحلے سے نکال لیا جائے گا۔ قومی اسمبلی میں بجٹ سیشن کا آغاز حکومتی بنچوں کی طرف سے غیر روائیتی ہنگامہ آرائی اور اپوزیشن پر حملوں سے ہؤا تھا۔ دو تین دن تناؤ جاری رہا پھر دونوں طرف کے ہوشمند عناصر نے مفاہمت کا راستہ نکالنے کی کوشش کی ۔ اس کے باوجود حکومت اور اپوزیشن ایسا ماحول پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں ، جس میں ملک کی وسیع تر بہتری کے لئے مل جل کر مسائل کا حل تلاش کرنے کی بات کی جاسکتی۔ حکمران اتحاد نے اپنی عددی صلاحیت استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن کی ہر تجویز کو مسترد کیا اور بجٹ میں اپوزیشن کا کوئی مشورہ قبول نہیں کیا گیا۔ اسی طرح اپوزیشن نے بھی بجٹ سیشن کے اہم موقع کو الزام تراشی یا خودستائی سے بھرپور تقریریں کرنے کے لئے تو ضرور استعمال کیا لیکن اس دوران کوئی ایسا ٹھوس مشورہ یا تجویز سامنے نہیں آئی جسے اگر پارلیمنٹ میں اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے منظور نہ کروایا جاسکتا لیکن عام لوگوں کے سامنے یہ خاکہ ضرور آجاتا کہ ملک میں موجودہ حکومت کا متبادل فراہم کرنے والی اپوزیشن قیادت کیسے ملکی مسائل کا حل تلاش کرے گی۔
سیاسی ماحول کے تلخ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حکومت ملک کی دونوں بڑی اپوزیشن پارٹیوں کو سیاسی طور سے نیست و نابود کرنے کا خواب دیکھتی ہے اور اس کے بیانات کا واحد مقصد اپوزیشن لیڈروں کو کرپٹ، حریص اور قانون شکن ثابت کرنا ہوتا ہے۔ پارلیمانی سیاست باہمی احترام اور قبولیت کے جس مزاج کا تقاضا کرتی ہے، وہ ملکی ماحول میں عنقا ہے۔ تاہم اس کی ساری ذمہ داری صرف حکومت پر عائد نہیں کی جاسکتی۔ عمران خان جس سیاسی سلوگن کی بنیاد پر کامیاب ہوئے تھے، اس کی روشنی میں ان سے کسی دوسرے رویہ کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔ اگر ان کی حکومت معاشی طور سے کامیاب پالیسی دینے میں کامیاب ہوتی اور سفارتی و علاقائی سیاست کے محاذ پر اسے کچھ اہمیت حاصل ہوجاتی تو شاید اس کے طرز عمل میں بھی متانت و سنجیدگی دیکھنے کو ملتی لیکن بوجوہ حالات مثبت رخ اختیار نہیں کرسکے۔ پے در پے ناکامیوں کے بعد حکومت نے تمام صورت حال کا جائزہ لینے اور حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے ملک میں مفاہمت اور وسیع تر مکالمہ کا ماحول پیدا کرنے کی بجائے، ضد، انا پسندی اور نعروں کی بنیاد پر معاملات کو سنبھالنے کی کوشش کی ہے۔ اس طرح وزیر اعظم سمیت حکومتی نمائیندوں کا لب و لہجہ مزید تلخ اور تند و تیز ہوگیا ہے۔بلکہ اب تو یوں لگنے لگا ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ امریکہ ، افغانستان اور بھارت کے بارے میں بھی ویسا ہی سخت، ہتک آمیز اور ترش رویہ اختیار کررہے ہیں جس کا مستحق اب تک اپوزیشن لیڈروں کو ہی سمجھا جاتا رہا ہے۔ گزشتہ روز ہی قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے نئے امریکی صدر کی طرف سے وزیر اعظم کو ٹیلی فون نہ کرنے پر انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ انہوں نے مطالبے ہی کرنے ہیں تو بہتر ہے کہ فون نہ کریں۔ ایسا ہی رویہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیانات میں دیکھا جاسکتا ہے۔ وزیر خارجہ گزشتہ کچھ عرصہ سے مسلسل افغان صدر اشرف غنی اور ان کے معاونین پر تنقید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ حتی کہ ایک موقع پر انہوں نے افغانستان میں امن دشمنوں کا ذکر کرتے ہوئے افغان صدر کو بھی انہی میں شامل کردیا اور کہا کہ افغانستان میں تشدد کی سب سے بڑی وجہ اشرف غنی کی حکومت ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میں امریکہ کو طالبان کی سرکشی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ نے فوجیں نکالنے کا ٹائم ٹیبل دے کر طالبان پر پاکستان کے اثر و رسوخ کو ختم کردیا ہے۔ کیوں کہ اب طالبان خود کو فاتح اور کامیاب سمجھ رہے ہیں ، وہ کیوں کسی کی بات سنیں گے۔ دوسرے لفظوں میں نیویارک ٹائمز کو دیے گئے اس انٹرویو میں امریکی حکومت کو پیغام دیا گیا تھا کہ وہ طالبان کو کسی مفاہمت پر آمادہ کرنے کے لئے پاکستان سے کسی کردار کی توقع نہ کرے۔ اس قسم کا بیان دینے کے درپردہ نہ جانے کیا مقاصد ہوں گے لیکن بظاہر ایسا بیان یہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان سفارتی ذرائع سے امریکہ کے ساتھ مواصلت میں ناکام ہورہا ہے اور اس پریشانی کا اظہار میڈیا میں سخت بیانات کی صورت کیا جارہا ہے۔ پاکستان کی کمزور معاشی، سفارتی اور سیکورٹی صورت حال کو دیکھتے ہوئے یہ کوئی دانشمندانہ حکمت عملی نہیں ہے۔ البتہ اس سے عمران خان کی یک طرفہ اور بے مقصد ہٹ دھرمی کا اندازہ ضرور ہوتا ہے۔ ان کے حامی ضرور اسے عمران خان کی اصول پرستی کہہ سکتے ہیں لیکن درحقیقت یہ رویہ پاکستان کے وسیع تر مفادات کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگا۔
اب چائینہ گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم نے پاک چین تعلقات کو ٹھوس بنیاد پر استوار قرار دیا ہے اور کہا کہ کسی بھی قسم کے حالات میں یہ تعلقات متاثر نہیں ہوسکتے۔ چین کے ساتھ ہمارے دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں جو ہر آنے والے دن کے ساتھ مزید مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ یہ اضافہ کرنا بھی ضروری سمجھا کہ ’امریکہ اور اور مغربی طاقتیں چین سے تعلقات کم کرنے کے لئے پاکستان پر دباؤ ڈال رہی ہیں‘۔انہوں نے اس طریقہ کو ’ انتہائی نامناسب‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کسی بھی قسم کا دباؤ ڈالا جائے، چین کے ساتھ ہمارے تعلقات تبدیل نہیں ہوں گے۔ یہ کہنا تو مشکل ہے کہ درپردہ سفارتی مواصلات میں حکومت پاکستان کو کیا پیغامات دیے جاتے ہیں لیکن ریکارڈ پر امریکہ یا دیگر مغربی ممالک نے پاکستان سے ہرگز یہ تقاضہ نہیں کیا کہ وہ چین کے ساتھ تعلقات تبدیل کرے۔ امریکہ کا سی پیک کے حوالے سے ضرور دو ٹوک مؤقف ہے اور اب صدر بائیڈن نے جی۔ 7 گروپ میں شامل ممالک کو بھی اس پالیسی کا ہمنوا بنایاہے۔ پاکستان سے بھی یہی کہا جاتا ہے کہ اس منصوبہ کے تحت چین کے مہنگے قرضوں سے پاکستانی معیشت زیر بار ہوجائے گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اقتدار میں آنے سے پہلے اور اقتدار سنبھالنے کے ابتدائی دور میں تحریک انصاف کی حکومت اسی رویہ کا مظاہرہ کرتی رہی ہے۔ سی پیک منصوبوں کے خلاف بیان دیتے ہوئے وہ انہیں تبدیل کرنے کا اشارہ بھی دیتے رہے ہیں۔ البتہ چینی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان کا مؤقف تبدیل ہوچکا ہے۔ اب وہ کہتے ہیں کہ پاک چین اقتصادی منصوبہ پاکستان میں وقوع پذیر ہونے والا اہم ترین واقعہ ہے اور دعویٰ کرتے ہیں کہ اس منصوبہ کی وجہ سے دونوں ملکوں کے سیاسی تعلقات بھی مستحکم ہوئے ہیں۔ ’اب تمام عالمی فورمز میں ہر معاملہ پر پاکستان اور چین ہم آواز ہوتے ہیں‘۔ یہ وہی باتیں ہیں جو مسلم لیگ (ن) کے لیڈر سی پیک کو گیم چینجر قرار دے کر دونوں ملکوں کے تعلقات کے بارے میں کہا کرتے تھے لیکن عمران خان اس سیاسی مؤقف کو مسترد کرتے تھے۔ قومی یا بین املکی تعلقات میں مؤقف تبدیل کرنا کوئی بری بات نہیں ہے لیکن جب کسی ملک کا وزیر اعظم کسی ایک ملک کے ساتھ تعلقات کی ’عظمت ‘ کا قصیدہ پڑھتے ہوئے یہ انکشاف کرنا ضروری سمجھے کہ اسے یہ پالیسی تبدیل کرنے کے لئے امریکی دباؤ کا سامنا ہے لیکن اسے مسترد کردیا گیا ہے۔ اس سے خارجہ تعلقات میں پیچیدگیوں اور مشکلات کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ رویہ ملک کو درپیش عمومی سیاسی و سفارتی بحران کی سنگینی کا ایک نمونہ پیش کرتا ہے۔
دوسری طرف قومی اسمبلی اجلاس کے بجٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت عزیز نے کہا ہے کہ ’جب 40 لاکھ لوگوں کو گھر ملے گا، صحت کارڈ بھی مل جائے گا۔ لوگوں کو کاروبار کے لیے بلاسود قرضے ملیں گے تو اپوزیشن فارغ ہوجائے گی‘۔ یعنی حکومت کا مقصد لوگوں کے لئے حالات کو بہتر بنانا نہیں ہے بلکہ ’اپوزیشن کو فارغ‘ کرنا اصل سیاسی ٹارگٹ ہے۔ مخالف سیاسی قوتوں کے بارے میں یہ رویہ ملکی مشکلات میں اضافہ کررہا ہے۔ یوں تو عمران خان پچاس لاکھ غریبوں کو گھر اور ایک کروڑ لوگوں کو روزگار دینے کا وعدہ کرتے ہوئے برسر اقتدار آئے تھے۔ پاکستانی عوام نے تین سال تک اس خواب کو پریشان ہوتے دیکھا ہے اور ملک میں بیروزگار لوگوں کی تعداد میں ڈیڑھ سے دو کروڑ نفوس کا اضافہ ہوگیا۔ اب ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری اور قرضوں کی سہولت کے ذریعے ووٹر کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ آئیندہ انتخابات تک دوبارہ جیت کا امکان پیدا ہوسکے۔ یہ کوئی بری بات نہیں ہے لیکن اس حقیقت سے انحراف نہیں کیا جاسکتا کہ ماضی میں ’پرانے پاکستان‘ کی ساری حکومتیں بھی ایسے ہی ہتھکنڈے اختیار کرکے انتخابی کامیابی کے لئے ملکی معیشت کو زیر بار کرتی رہی ہیں۔ اگر ’نئے پاکستان‘ میں بھی پرانی شعبدے بازی ہی دیکھنے میں آئے گی تو پھر عمران خان اس سوال سے گریز نہیں کرسکیں گے کہ: کہاں ہے نیا پاکستان اور کہاں گئی مدینہ ریاست؟
اس بار البتہ حکومت کو مہنگا بجٹ پیش کرنے پر آئی ایم ایف کی شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ اس مزاحمت کو متبادل ذرائع سے قرض حاصل کرکے کم کرنے کی کوشش کی جائے گی لیکن بڑھتے ہوئے بیرونی قرضوں کی وجہ سے پاکستانی معیشت کا بھرکس بھی نکلے گا۔ آئی ایم ایف ہو یا ایف اے ٹی ایف یا اقوام متحدہ کے مختلف پلیٹ فارمز اور فورمز، پاکستان کو وہاں شنوائی کے لئے بدستور امریکہ کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔ لیکن جب امریکہ کو مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی سمجھتے ہوئے ، سخت گیر رویہ اختیا رکیا جائے گا تو معاملات کی سنگینی کا اندازہ کرنا دشوار نہیں ہونا چاہئے۔
ان حالات میں اپوزیشن اگر الزام تراشی کے مقابلہ پر اترنے اور گالی کو ’پنجابی کلچر‘ قرار دینے کی بجائے مسائل پر ٹھوس متبادل تجاویز سامنے لاتی تو سیاسی محاذ آرائی سے تنگ آئے ہوئے لوگوں کو سکھ کاسانس نصیب ہوسکتا تھا۔ لیکن اپوزیشن نہ تو متبادل حل پیش کرتی ہے اور نہ ہی اس نے حکومت کے خلاف سیاسی محاذ مستحکم کرنے کی کسی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایسے میں عوام کے لئے تحریک انصاف اور دوسری پارٹیوں میں فرق کرنا آسان نہیں ہوگا۔ بدقسمتی سے ووٹ کی عزت اور پارلیمنٹ کو باختیار بنانے کے دعوے بے معنی ہوکر رہ گئے ہیں۔

( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker