تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:نواز شریف ’میثاق تحفظ پاکستان‘ کا اعلان کریں

مسلم لیگ (ن) کے رہبر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی ہی پارٹی میں اٹھنے والی ان آوازوں کو مسترد کیا ہے کہ ’ووٹ کو عزت‘ دو کا مزاحمتی بیانیہ شہباز شریف کے مصالحتی اور اسٹبلشمنٹ کے ساتھ اشتراک سے اقتدار حاصل کرنے کی کوششوں میں تبدیل کیا جائے۔ گزشتہ روز ٹوئٹ پیغامات میں نواز شریف نے واضح کیا ہے کہ سویلین بالادستی کے اصول پر نظرثانی نہیں ہوگی اور ان کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
آزاد کشمیر کے بعد سیالکوٹ کے ضمنی انتخاب میں شکست کے بعد مسلم لیگ (ن) میں یہ بحث زور پکڑ رہی تھی کہ ان انتخابی نتائج سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ موجودہ پالیسی کے تحت پارٹی کو 2023 کے انتخابات میں حکومت سازی کا موقع نہیں مل سکے گا۔ پارٹی کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اسی مؤقف کے حامی ہیں جس کے تحت وہ نام نہاد ’عمرانی معاہدہ‘ کی بات کرتے ہیں تاکہ طاقت کے سب مراکز مل کر ملک کے نئے سیاسی انتظام کے بارے میں بعض اصولوں پر متفق ہوجائیں۔ اس رائے کے تحت سیاسی معاملات میں فوج کے ماورائے آئین کردار کو تسلیم کرنے کی بات کی جاتی ہے۔ شہباز شریف کسی حد تک اس بات پر بھی تیار ہیں کہ سیاسی معاملات میں فوج کی رائے کو جگہ دینے کے لئے وسیع تر سیاسی ااتفاق رائے پیدا کرلیا جائے۔ عملی طور سے تحریک انصاف اسی اصول کے مطابق کسی پریشانی کے بغیر حکومت کررہی ہے اور آصف زرداری کی ہدایت و سرپرستی میں پیپلز پارٹی نے بھی اسی طریقے کو عملی طور سے تسلیم کر رکھا ہے۔ شہباز شریف اور پارٹی میں ان کے حامیوں کو پریشانی ہے کہ اگر نواز شریف اور مریم نواز اداروں کے ساتھ ’تصادم‘ کی حکمت عملی سے گریز نہیں کرتے تو پارٹی کے لئے آئیندہ انتخابات مایوس کن ہوں گے۔
ملک کے سیاسی تجزیہ نگار کافی عرصہ سے یہ رائے دے رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی دو رخی حکمت عملی اب کارآمد نہیں ہے۔ ایک طرف شہباز شریف صلح اور مل جل کر کام کرنے کا علم اٹھاتے ہیں تو دوسری طرف مریم اور نواز شریف سویلین بالادستی کے اصول کی بات کرتے ہیں۔ اس تضاد میں ووٹر بھی پریشانی کا شکار ہے اور پارٹی ٹکٹ کے خواہاں ارکان بھی بے یقینی محسوس کرتے ہیں۔ اسٹبلشمنٹ اس متضاد فکر کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کوئی معاملہ کرنے سے گریز کرتی ہے۔ گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی حکومت کے خلاف حکمت عملی کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی اسی پریشان خیالی کا حوالہ دیا تھا اور کہا تھا کہ جو پارٹی خود غیر واضح ہو ، اس کے ساتھ تعاون ممکن نہیں ۔
مسلم لیگ (ن) میں شہباز شریف کا مسئلہ یہ ہے وہ اسٹبلشمنٹ کے چہیتے تو سمجھے جاتے ہیں لیکن گزشتہ چند برس کے دوران وہ ان تعلقات کی بنیاد پر پارٹی اور اس کے لیڈروں کے لئے کوئی ریلیف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں حتی کہ انہیں خود اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو بھی طویل مدت تک نیب کی حراست میں رہنا پڑا ۔ تاہم یہ بھی کہا اور مانا جاتا ہے کہ شہباز شریف کی سیاسی مصلحت کوشی کی وجہ سے ہی نواز شریف نومبر 2019 میں کوٹ لکھپت جیل سے لندن جانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ اس کے باوجود وہ ابھی تک نواز شریف کو مزاحمتی حکمت عملی ترک کرنے پر رضامند نہیں کرسکے۔ یہ اختلاف اشاروں کنایوں اور طرز عمل کے ذریعے ہی سامنے آتا ہے۔ شہباز شریف نے کسی بھی مرحلہ پر دو ٹوک انداز میں نواز شریف کی سیاسی حکمت عملی سے اختلاف نہیں کیا ۔ اس کی ایک وجہ نواز شریف بیانیہ کی عوامی مقبولیت ہے۔ مریم نواز کے جلسوں میں لوگوں کی شرکت اور ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی پے در پے کامیابیوں کا کریڈٹ اسی بیانیہ اور مریم نواز کی مہم جوئی کو دیا جاتا ہے۔ شہباز شریف کے سیاسی مؤقف کو عوامی پذیرائی حاصل نہیں ہے۔ جبکہ نواز شریف کے بیانیہ کی موجودگی میں مسلم لیگ (ن) کی انتخابی حکمت عملی کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
گزشتہ دنوں شہباز شریف کی طرف سے ایک بار پھر پارٹی حکمت عملی کی خامیوں کا حوالہ دے کر اصلاح احوال کی کوشش کی گئی ہے۔ نواز شریف نے اپنے تازہ ٹوئٹس میں انہی کوششوں کا جواب دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ’ پارٹی پیچھے نہیں ہٹے گی اور آئین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی‘۔ نواز شریف نے واضح کیا ہے کہ ’ یہ جدوجہدمحض چند سیٹوں کی ہار جیت کے لئے نہیں بلکہ آئین شکنوں کی غلامی سے نجات کے لئے ہے۔ اور اپنی عزتِ نفس پر سمجھوتہ کئے بغیر تاریخ کی درست سمت میں کھڑے نظر آنے کے لئے ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور عوام کے درمیان خلیج ڈالنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو گی‘۔
یہ ممکن ہے کہ اس وقت سویلین بالادستی کے اصول کے لئے جد و جہد جاری رکھنے کا بیان متعلقہ اداروں پر دباؤ بڑھانے اور پارٹی کے اندر حکمت عملی کی تبدیلی کے خواہاں عناصر کو یہ بتانے کے لئے دیا گیا ہو کہ نواز شریف انہی لوگوں کے ساتھ ہوں گے جو ’ووٹ کو عزت دو‘ کے بیانیہ پر کھڑے رہیں گے۔ اس طرح دو سال بعد منعقد ہونے والے عام انتخابات میں پارٹی کو عوامی حاکمیت کے لئے جد و جہد کرنے والی پارٹی ثابت کرکے عوامی تائد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔ نواز شریف اچھی طرح جانتے ہیں کہ سویلین بالادستی کا بیانیہ مقبول ہے اور عوام کا یک بہت بڑا طبقہ اس بیانیہ پر ووٹ دیتا ہے۔ اسٹبلشمنٹ کے علاوہ موجودہ حکومت کے شدید دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے باوجود اسی بیانیہ کے زور پر مسلم لیگ (ن) کی صفوں میں انتشار پیدا نہیں کیا جاسکا بلکہ اس کی مقبولیت میں اضافہ ہؤا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا نواز شریف اسی اصول کی بنیاد پر پارٹی کو نئے انتخابات میں لے کر جائیں گے یا انتخابات نزدیک آنے پر وہ شہباز شریف کو کچھ ’سیاسی سپیس‘ دینے کا اہتمام کریں گے تاکہ مزاحمتی بیانیہ کا فائدہ اٹھانے کے علاوہ مصالحتی طرز عمل کے حامی الیکٹ ایبلز کو بھی ساتھ رکھاجاسکے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ شاید یہ حکمت عملی کامیاب نہ ہوسکے۔ مسلم لیگ کو اب دو طرح کے اشارے دینے کی بجائے واضح اور یکسو حکمت عملی کا انتخاب کرنا ہوگا۔ شہباز شریف اور ان کے حامی آزاد کشمیر انتخاب کی مثال لاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’طاقتور اداروں‘ سے مصالحت کے بغیر انتخابات میں کامیابی ممکن نہیں ہوگی۔ جواب میں نواز شریف نے اپنے ٹوئٹس میں انہی اداروں کو چیلنج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے ’ آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کو چھ لاکھ ووٹ اور 25 نشستیں ملیں۔ مسلم لیگ (ن) کو پانچ لاکھ ووٹ اور 6 سیٹیں حاصل ہوئیں۔ اس پر کون یقین کرے گا؟ آزاد کشمیر میں انتخابی مہم کے دوران پی ایم ایل این کے جلسے تاریخی تھےاور شرکا پرجوش تھے جبکہ سرکاری جلسوں میں خالی کرسیاں دیکھی جاسکتی تھیں۔ جس طرح آزاد کشمیر انتخاب اور سیالکوٹ میں ضمنی انتخاب کے نتائج حاصل کئے گئے ہیں، اس بارے میں پولنگ سے پہلے ہی انکشاف ہوگیا تھا۔ مزید معلومات جلد ہی سامنے آئیں گی‘۔
نواز شریف اگر بہر صورت مزاحمتی پالیسی پر اصرار کرتے ہیں اور ان کا یقین ہے کہ اسٹبلشمنٹ کی سرپرستی میں جیتنے کی بجائے دھاندلی زدہ انتخابات میں ہار جانا ہی بہتر ہوگا تاکہ عوامی حاکمیت کی جد و جہد کو مہمیز دی جاسکے تو انہیں اپنی ہی نہیں بلکہ پارٹی کی پالیسی کو نعروں کی بجائے ٹھوس منشور پر استوار کرنا چاہئے۔ اس سے پہلے نواز شریف پیپلز پارٹی کی قائد بے نظیر بھٹو کے ساتھ جمہوری بالادستی کے لئے ’میثاق جمہوریت‘ کرچکے ہیں۔ اس معاہدہ پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی باہمی چپقلش میں عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ اب وہ اسی طرز پر عوامی حاکمیت کے اصول کے لئے ’میثاق تحفظ پاکستان‘ کا اعلان کریں جو آئیندہ انتخابات میں پارٹی کے منشور کی حیثیت سے پیش کیا جائے ۔ اس طرح مسلم لیگ (ن) کی پالیسی کے بارے میں الجھاؤ ختم ہوجائے گا۔ پارٹی کے رہبر ’مصالحت‘ کے امکان کو ہمیشہ کے لئے ختم کرکے ہی ایسے کسی میثاق کا اعلان کرسکتے ہیں۔ اس اعلان نامہ میں درج زیل نکات شامل کرنے سے سیاست میں غیر آئینی مداخلت کی بنیاد ختم کرنے کی طرف پہلا ٹھوس قدم اٹھایا جاسکتا ہے:
1)فوجی سربراہان کے عہدوں کی مدت میں توسیع کا طریقہ ختم کیا جائے اور فورسز کے سربراہ بھی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی طرح صرف سینارٹی کے اصول پر نامزد ہوں۔
2)آرمی چیف کے ساتھ وزیر اعظم کی ون ٹو ون ملاقاتوں کی روایت ختم کی جائے۔ افواج کے سربراہان وزیر دفاع کے ذریعے اپنے معاملات سے وزیر اعظم اور حکومت کو آگاہ کرنے کے پابند ہوں۔ اگر کسی ایمرجنسی میں وزیر اعظم افواج کے سربراہان سے ملنا ضروری سمجھیں تو وہ تینوں فورسز کے سربراہان سے اکٹھے ملیں تاکہ صرف آرمی چیف کو پاکستان کی آرمڈ فورسز کے سپریم کمانڈر کی غیر اعلانیہ پوزیشن حاصل نہ ہو۔
3) دوران ملازمت یا ریٹائرمنٹ پر زرعی رقبہ یا رہائشی پلاٹ دینے کا طریقہ ختم کیا جائے۔ ضروری ہو تو افواج کی تنخواہوں میں ضروری اضافہ کردیا جائے لیکن غیر اعلانیہ مالی مراعات ختم کی جائیں۔
4)مسلح افواج کے تمام معاشی منصوبوں اور اداروں کو غیر جانبدار اتھارٹی کی نگرانی میں دے کر اسے بتدریج سول انتظام میں لانے کا اہتمام کیا جائے۔ تاکہ معاشی مفادات کے تحفظ کے لئے فوج یا کسی دوسرے عسکری ادارے کو سیاسی معاملات میں مداخلت کی ضرورت پیش نہ آئے۔
5) شہیدوں کے نام پر فاؤنڈیشنز قائم کرنے اور ان کے لئے غیر قانونی مراعات کا موجودہ طریقہ ختم کیا جائے۔ اگر حکومت ضروری سمجھے تو کسی سول اتھارٹی کی نگرانی میں لوئر رینک کے شہیدوں کے اہل خاندان کے لئے ادارہ قائم کرسکتی ہے۔ تاہم اس ادارے کا آڈٹ سول اختیار میں ہو اور پارلیمنٹ اس پر رائے دینے کی مجاز ہو۔
6)فورسز کے نام پر رہائشی کالونیاں بنانے اور ان کے لئے زرعی رقبے الاٹ کروانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ پہلے سے موجود تمام ڈیفنس ہاؤسنگ اسکیموں کو سول کنٹرول میں منتقل کیا جائے تاکہ افواج پاکستان یکسوئی سے دفاع وطن کے مقدس مشن پر توجہ مرکوز کرسکیں۔
7) سول اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر ریٹائرڈ فوجی افسرمقرر کرنے کا طریقہ کالعدم قرار دیا جائے۔ اسی طرح سفارت خانوں میں سابقہ فوجی افسروں کو سفیر لگا کر بھیجنے کی روایت تبدیل کی جائے تاکہ کوئی سیاسی حکومت اسے فوج کی ترغیب و تحریص کے لئے استعمال نہ کرسکے۔
8)سیاسی معاملات اور امن و امان کی صورت حال پر فوجی قیادت سے مشاورت و اعانت کا موجودہ طریقہ تبدیل کیا جائے۔ مستقبل میں سویلین اتھارٹی کے تحت کام کرنے والے ادارے مثلاً پولیس وغیرہ کو مضبوط کیاجائے تاکہ موقع بے موقع فوج کی مدد لینے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
9)تمام ریٹائرڈ اعلیٰ فوجی افسروں کے اندرون ملک اور بیرون ملک اثاثوں کا اعلان کیا جائے۔ تاکہ فوج کی سیاسی گرمجوشی کے بارے میں شبہات ختم ہوسکیں۔
نواز شریف خوب جانتے ہوں گے کہ ان بنیادی پہلوؤں پر ٹھوس انداز میں کام کئے بغیر سیاست میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کا موجودہ طریقہ ختم نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح جب تک مسلم لیگ (ن) ان بنیادی اقدامات کو اپنے منشور کا حصہ بنانے کا اعلان نہیں کرتی اس وقت تک مزاحمتی سیاست کے بارے میں اس کے خلوص پر ہمیشہ سوالیہ نشان لگا رہے گا۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker