تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کاتجزیہ:آئیے سیاحت کو کلمہ پڑھائیں

وزیر اعظم عمران خان نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی حکومت پاکستان میں سیاحت کے ایسے مراکز بنانے کی منصوبہ بندی کرے گی جہاں ’اسلافوبیا‘ سے تنگ آئے ہوئے مسلمان سیاح آسکیں گے اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے مطابق اپنی چھٹیاں گزار سکیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سیاحت کو فروغ ضرور دے گا لیکن یہ ’مسلمان تہذیب و ثقافت ‘کی ضامن سیاحت ہوگی۔ ہم سیاحت کے لئے اپنا عقیدہ و ثقافت برباد نہیں کریں گے۔
عمران خان چونکہ زندگی کے ہر شعبہ پر اتھارٹی کا درجہ رکھتے ہیں ، اس لئے یہ دریافت کرنا بے سود ہے کہ انہیں یہ کیسے علم ہوگیا کہ مسلمان ملکوں کے سیاح یورپئین اور مغرب زدہ ملکوں سے عاجز آچکے ہیں اور وہ وہاں پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پائی جانے والی نفرت کی وجہ سے ایسے ملکوں کا رخ نہیں کرنا چاہتے۔ اب انہیں پاکستان جیسے کسی ملک کی تلاش ہے جہاں وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اسلامی طریقے سے چھٹیاں گزار سکیں۔ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ سیاحت کو اگر مشرف بہ اسلام ہی ہونا ہے تو مغرب سے تنگ آئے ہوئے یہ سارے لوگ سعودی عرب کا رخ کریں تاکہ عمرہ و حج کا ثواب بھی کمائیں اور سیاحت کا شوق بھی پورا کرلیں؟
تاہم پاکستانی وزیر اعظم کے اس قیاس (ہماری تفہیم کے مطابق اسے قیاس آرائی کہا گیا ہے لیکن عمران خان جو بات بھی کرتے ہیں پورے یقین سے کرتے ہیں کیوں کہ انہیں اپنی کہی ہوئی کسی بات کی ذمہ داری اٹھانے کا شوق نہیں ہے۔ وہ کسی پرانے دعوے کا جواب دینے کی نوبت آنے سے پہلے درجنوں نئے دعوے کرچکے ہوتے ہیں۔ کوئی کہاں تک سچ جھوٹ کو نتھارتا رہے گا) کی بنیاد تلاش کرنا ممکن نہیں ہے۔ عام طور سے سیاحت یا کسی بھی دوسرے بڑے منصوبہ کے آغاز سے پہلے، اس کے امکانات ، وجوہات ، ممکنہ مصارف و آمدنی اور معاشی و سماجی پہلوؤں پر غور کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لئے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی ٹیمیں مقرر کی جاتی ہیں جو مختلف شعبوں کے بارے میں معلومات اکٹھا کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر پاکستان میں سیاحت کو فروغ دینا مقصود ہے یا بلوچستان کے کسی علاقے کو دلکش ٹورسٹ ریزارٹ بنانے کا ارادہ ہو تو اس کے لئے مقامی سماجی و ثقافتی پہلوؤں کا جائزہ اور اس منصوبہ پر اٹھنے والے اخراجات کا تخمینہ لگانا ضروری ہوگا۔ تاکہ یہ اندازہ کیا جاسکے کہ اس منصوبہ کی تکمیل کے بعد ’دکان‘ پر کوئی گاہک بھی آئے گا۔
اس حوالے سے پہلا اقدام تو یہ ہونا چاہئے کہ جن ممکنہ مسلمان ملکوں سے حکومت یا وزیر اعظم ، مسلمان سیاحوں کو پاکستان لانے کی خواہش رکھتے ہیں اور اعلان کیاجارہا ہے کہ اس سلسلہ میں باقاعدہ منصوبہ بندی کی جائے گی تو سب سے پہلے ایسے ممالک میں عوامی رائے کا کوئی سروے کروالیا جائے۔ ایسے کسی بھی سروے میں بنیادی طور پر یہ پوچھا جائے گا کہ اس ملک میں کتنے لوگ سالانہ سیاحت کے نقطہ نظر سے غیر ملکی سفر کرتے ہیں۔ ایسا کوئی سفر کرنے کے لئے عام طور سے وہ کن ممالک یا خطوں کا رخ کرتے ہیں اور ان کی کیا وجوہات ہوتی ہیں۔ ایسے ہی سروے یا مطالعاتی جائزہ رپورٹس کے دوران یہ استفسار بھی کیا جاسکتا ہے کہ ان ممکنہ مسلمان ملکوں کے مسلمان سیاحوں میں سے کتنے فیصد یورپی یا دیگر مغربی ممالک کا رخ نہیں کرنا چاہتے کیوں کہ ان کے خیال میں اپنے بیوی بچوں کو ایسے ممالک میں لے جانا مناسب نہیں ہوگا۔
اس ’ نامناسب‘ کی تشریح و توضیح کرنا شاید کسی کے لئے بھی ممکن نہیں ہوگا۔ البتہ جملہ معترضہ ہی سہی لیکن پاکستان کا وزیر اعظم اس بیان سے صنفی تعصب کا پیغام عام کررہا ہے جو کسی بھی قسم کی سیاحت کا گلا گھونٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یعنی عمران خان کی تفہیم کے مطابق مسلمان ملکوں کے مسلمان خاندانوں میں مسلمان مردوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ ان کی بیویاں اور بچے کن ممالک میں جاسکتے ہیں اور کیا وہاں کی تہذیب و سماج ان کی اپنی اسلامی اقدار سے ٹکر تو نہیں کھاتا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی ایک مرد ہی طے کرے گا کہ کس ماحول یا معاشرے میں اس کے خاندان کو چھٹیاں گزارنے کا موقع ملنا چاہئے۔ اگر اب بھی بات سمجھنے میں کوئی ابہام ہو تو یہ بتا دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ جب پاکستان کا وزیر اعظم سیاحت کو ’مسلمان‘ بنانے کا جتن کرے گا تو وہ خواتین کو عین ’اسلامی طریقہ‘ کے مطابق مرد کا زیر نگیں قرار دے گا۔ یہاں یہ اضافہ کرنے میں حرج نہیں ہونا چاہئے کہ حال ہی میں سعودی عرب نے خواتین زائرین کے لئے محرم کی دیرینہ (نام نہاد متفقہ فقہی شرح کے مطابق ) شرط کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سعودی حکومت یہ اعلان بھی کرچکی ہے کہ اب سعودی عرب میں خود مختار عورتیں اپنی مرضی سے جیسے چاہیں اپنے رہنے کا انتظام کرسکتی ہیں۔ انہیں اب مرد کی نگرانی یا ساتھ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ البتہ پاکستان میں جب سیاحت کو کلمہ گو کیا جائے گا تو مسلمان مرد ہی گھرانے کا سربراہ قرار پائے گا اور اسی کی رضامندی سے ایسے کسی قیام کی منصوبہ بندی ہو سکے گی۔
یہاں یہ جاننا بھی ضروری ہوگا کہ سیاحوں کو لبھانے اور اپنے ملک میں دلچسپی لینے پر آمادہ کرنے کے لئے ہی سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ویزا سہولتوں میں نرمی کا اعلان کیا ہے اور تاریخ میں پہلی بار متعدد ملکوں کے شہریوں کو ٹورسٹ ویزا جاری کرنے کے طریقہ کار کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب کی قدیم سائیٹس کو سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سعودی عرب نے 500 ارب ڈالر کی لاگت سے ملک کے جنوب مغربی صوبے تبوک میں ’نیوم‘ کے نام سے نیا شہر بسانے کے منصوبے پر کام کا آغاز بھی کیا ہؤا ہے۔ 26500کلو میٹر رقبے پر مشتمل اس شہر کو عالمی سرمایہ کاری کا مرکز بنایا جائے گا اور اس علاقے میں سعودی عرب کے ’سخت گیر‘ اسلامی قوانین کا اطلاق بھی نہیں ہوگا۔ یعنی جو سہولتیں سیاحوں کی دلچسپی کا سبب بنتی ہیں ، انہیں حاصل کرنے پر کوئی قدغن نہیں ہوگی۔ ان سہولتوں میں عام طور سے ساحل سمندر تک رسائی ، شراب کا حصول اور کیسینو یا اس سے ملتے جلتے تفریحی مراکز تک دسترس شامل ہے۔ سعودی عرب ایسے قوانین کو بتدریج ختم کررہا ہے جو غیر ملکیوں کو اس ملک سے دور رکھتے ہیں۔ حال ہی میں سعودی شہریوں کو اپنے ہی ملک میں ان تمام سہولتوں سے استفادہ کرنے پر آمادہ کرنے کے اقدامات بھی کئے گئے ہیں جن کے لئے سعودی شہری اس سے پہلے دوبئی، قطر یا ایسے ہی دیگر ہمسایہ مقامات کا سفر کرتے تھے۔
دوبئی سے اہل پاکستان کا قریبی تعلق ہے اور پوری دنیا کی طرح یقیناً پاکستانی بھی اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ دوبئی کے حکمرانوں نے اپنے اس چھوٹے سے خطے کو سیاحوں و سرمایہ کاروں کے لئے دلچسپ و دلکش بنانے میں کتنے برس لگائے ہیں اور کتنی کثیررقم صرف کی گئی ہے۔ ایسے ہی اقدامات انڈونیشیا اور ملائشیا جیسے ممالک بھی کرتے رہے ہیں جہاں سیاحوں کی بڑی تعداد جاتی ہے۔ ترکی، یورپی و غیر یورپی سیاحوں کی دلچسپی کا اہم ترین مرکز ہے۔ اسی طرح مسلمان آبادی پر مشتمل جزائر مالدیپ کی حکومت نے امیر و خوشحال سیاحوں کو اپنے ملک کی طرف راغب کرنے کے لئے وہ تمام سہولتیں فراہم کرنے کا اہتمام کیا ہے جو شاید ’اسلامی عقیدے اور تہذیب‘ کی اس تعریف پر پورا نہ اتریں جو لسبیلہ میں سیاحت کو فروغ دینے کا خواب دکھاتے ہوئے عمران خان نے بیان کی ہیں۔
البتہ یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ کسی بھی ملک نے عمران خان سے پہلے سیاحت کو خالص ’اسلامی‘ کرنے کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ بلکہ ان ’مغرب زدہ‘ حکمرانوں نے نقالی میں وہی راستہ چنا جو مغرب کے سیاحوں کو مرغوب ہوسکتا ہے۔ عمران خان خالص اسلامی سیاحتی مرکز بنا کر صرف مسلمان سیاحوں کو مدعو کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جیسا کہ کہتے ہیں کہ مارکیٹ نئے خیال و تصور ہی کی ہوتی ہے۔ جو بھی نیا طریقہ بازار میں لائے گا ، اس کی چاندی ہوگی۔ اب عمران خان نے اسلامی سیاحت کا ڈول ڈالنے کا قصد کیا ہے تو شاید مارکیٹ میکینزم کی وجہ سے وہ اس میں کامیاب ہوجائیں۔
تاہم اس نئے نویلے اور انوکھے تصور کا اظہار کرنے سے پہلے اگر وزیر اعظم ، پاکستان میں ہی ایک سروے کروالیتے کہ لوگوں کو موقع ملے تو وہ کہاں جانا پسند کریں گے تو شاید عمران خان کے جوش و خروش کو کچھ تسکین نصیب ہوتی۔ اس بات کے کوئی ٹھوس اعداد و شمار موجود نہیں ہیں لیکن اگر موقع ملے تو پاکستان جیسے ملک کی نصف کے لگ بھگ آبادی امریکہ، یورپ یا آسٹریلیا روانہ ہونے کا ارادہ باندھ لے گی۔ مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر پاکستانی حکومت یہ اعداد و شمار جمع کرنے کی کوشش تو ضرور کرسکتی ہے کہ دوسرے ملکوں میں بطور سفیر یا سینئر سفارت کار خدمات سرانجام دینے والے کتنے فیصد لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد بیرون ملک ہی مقیم ہیں یا اپنے بچوں کو کسی ’محفوظ‘ ملک میں سیٹ کروا چکے ہیں۔ دل کی تشفی کے لئے ایسا ہی ایک سروے ریٹائرڈ اعلیٰ فوجی و سول افسروں کے بارے میں بھی کروایا جاسکتاہے تاکہ مسلمان سیاحت کے امکانات کا کچا چٹھا ایسے کسی منصوبہ پر ہم نشینوں کو متعین کرنے سے پہلے ہی کھل جائے۔
ایک نارویجئن اخبار نے حال ہی میں بوسنیا کے ایک پناہ گزین سنٹر سے ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس کے مطابق اس سنٹر میں دس ہزار نوجوان موجود ہیں جن میں سے نصف کا تعلق پاکستان سے ہے باقی ماندہ افغانستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ لوگ کسی بھی ہمسایہ ملک کی سرحد عبور کرکے کسی بھی قیمت پر کسی یورپی ملک میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ ایسی کوشش کرنے پر سینکروں نوجوان نہ صرف ڈی پورٹ کئے جاتے ہیں بلکہ متعلقہ ملکوں کی پولیس ان کے ساتھ بدترین تشدد بھی روا رکھتی ہے تاکہ وہ دوبارہ سرحد عبور نہ کریں ۔لیکن چند ہی ہفتوں یا مہینوں کے بعد تمام تر مشکلات اور بدسلوکی کے باوجود یہ نوجوان ایک بار پھر قسمت آزمائی پر تیار ہوجاتے ہیں۔
بوسنیا تک پہنچنے اور وہاں سے کسی خوشحال یورپی ملک میں پہنچنے کے لئے یہ نوجوان انسانی اسمگلروں کو کثیر رقوم بھی ادا کرچکے ہیں۔ لیکن نہ تو ان کے پاس واپسی کا راستہ ہے اور نہ ہی یورپی ممالک ان کے لئے دروازے کھولنے پر آمادہ ہیں۔ ہوسکتا ہے عمران خان کے نئے مسلمان ٹورسٹ شہر میں ان مظلوم و بے بس مسلمانوں کو بھی کام اور پناہ مل سکے؟
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker