تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہدعلی کا تجزیہ:کیا سپریم کورٹ میں ملک پر حکمرانی کی جنگ لڑی جارہی ہے؟

گزشتہ چند روز کے دوران سپریم کورٹ کے مختلف ججوں کے اختلافات کے حوالے سے سامنے آنے والی صورت حال میں یہ سوال اہم ہوگیا ہے کہ کیا ملک کے اعلیٰ ترین عدالتی فورم پر ایک بار پھر ملک پر حکمرانی کے سوال پر میدان کارزار گرم کیا جاررہا ہے یا یہ تنازعہ محض قانون کی تشریح، آئینی تقاضوں اور معمول کی عدالتی کارروائی کا حصہ ہے؟
یہ سوال اس پس منظر میں بے حد اہم اور ضروری ہوگیا ہے کہ اس وقت ملک کے دو اہم ترین ادارے یعنی حکومت اور فوج ایک پیج پر ہونے کے دعوے دار ہیں۔ اگرچہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اصل فیصلے کہاں ہوتے ہیں لیکن ایک بات صاف دکھائی دے رہی ہے کہ ملک کے اہم ترین فیصلے جس فورم پر ہونے چاہئیں، وہاں پر نہیں ہوتے۔ عوام کے منتخب نمائیندوں پر مشتمل پارلیمنٹ اس وقت جزو معطل کی حیثیت اختیار کرچکی ہے اور وزیر اعظم تن تنہا آرمی چیف کی اعانت و مرضی سے وہ سارے فیصلے کررہے ہیں جن سے اس ملک میں آنے والی کئی نسلیں متاثر ہوں گی۔ ان میں سب سے ہم اس وقت افغانستان میں پیدا ہونے والی صورت حال ہے۔ طالبان کی کامیابی، اور کابل میں کسی باقاعدہ حکومت کی عدم موجودگی کی وجہ سے پاکستان کی سلامتی اور متعدد شعبوں پر محیط قومی مفادات کو شدید اندیشہ لاحق ہے۔ اپوزیشن لیڈروں کے اصرار کے باوجود اسپیکر قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر اس اہم ترین قومی معاملہ پر بحث کا آغاز کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
عمران خان کی سرکردگی میں حکومت نے ہر اختلافی رائے کو دبانے کے لئے اقدام کئے ہیں۔ حکمران جماعت تحریک انصاف کی قیادت یہ واضح کررہی ہے کہ اسے کسی قسم کا اختلاف منظور نہیں ہے ۔ خواہ یہ سیاسی بیانات کی صورت میں لیڈروں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے ہو یا اخباری تبصروں اور رپورٹوں کی شکل میں صحافی اور مبصر کوئی ایسی رائے اور حالات کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کریں جو سرکاری نقطہ نظر سے مختلف ہو اور ان حقائق کو چیلنج کرتی ہو جو بڑی ڈھٹائی سے واحد سچائی کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ اختلاف رائے کسی بھی جمہوری نظام کو فعال اور بہتر بنانے کا واحد ذریعہ ہوتا ہے لیکن عمران خان کی قیادت میں حکمرانوں نے اختلاف رائے کو ایسی تنقید بتانا شروع کیاہے جس سے براہ راست ملکی مفاد متاثر ہوتا ہے۔
ملک میں سیاسی اختلاف کو دبانے کے لئے اپوزیشن لیڈروں کو نیب اور ایف آئی اے کے ذریعے گرفتار اور ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا اور بیان بازی کی حد تک بدعنوانی اور ملکی خزانے لوٹ لینے کے الزامات کو اس حد تک دہرایا گیا ہے کہ یہ عام پاکستانی شہری کے تحت الشعور کا حصہ بنا دیے گئے ہیں۔ اب ایسا الزام سننے کے بعد کوئی یہ سوال نہیں کرتا کہ ملک کی عدالتوں نے ایسے معاملات میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں سنایا ۔ بلکہ یہ مان لیا جاتا ہے کہ ملک کے سیاست دان چور لٹیرے ہی ہیں۔ اس طرح پروپیگنڈے کے زور پر نہ صرف عوام کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو مصلوب کیاگیا ہے بلکہ ملک کے عدالتی نظام کو ناکارہ ثابت کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ حکومتی وزیر اور حکمران جماعت کے لیڈر وقتا ً فوقتاً عدالتوں کو بدعنوانی کے خلاف اقدام کرنے میں ناکام قرار دےچکے ہیں۔ ابھی تک ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے اس سنگین سماجی رجحان کا نوٹس لینے اور یہ غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ اس رویہ کے عام ہونے سے نہ صرف جمہوریت بلکہ عدالتی نظام کے بارے میں عام شہریوں کا اعتماد کمزور ہؤا ہے۔ اس طریقے سے جمہوریت اور جمہوری ادارے ہی کمزور و ناکارہ نہیں ہوں گے بلکہ آئین کے تحت ملکی جمہوری نظام کی محافظ عدالتوں کو بھی غیر متعلقہ اور فضول دارے کی حیثیت سے متعارف کروانے کا رجحان عام کیا جارہا ہے۔ یہ طریقہ اس آئینی طریقہ کار پر براہ راست حملہ ہے جس کے تحت موجودہ نظام کام کررہا ہے۔
اس طریقہ کو مؤثر بنانے اور اس کے خلاف ہر تنقیدی آواز کو دبانے کے لئے موجودہ حکومت کے دور میں تسلسل سے میڈیا کی آزادی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پہلے پیمرا جیسے نیم سرکاری اداروں کے ذریعے ٹیلی ویژن نشریات کو کنٹرول کیا گیا، وزارت اطلاعات کے اشتہاری بجٹ کی طاقت سے میڈیا ہاؤسز اور مالکان کو قابو کرنے کا اقدام کیا گیا اور میڈیا اداروں کو کمرشل بنیادوں پر استوار کرنے کا مشورہ دے کر نہ صرف ہزاروں صحافیوں کو بیروزگار کیا گیا بلکہ ناپسندیدہ صحافیوں اور اینکرز سے ’نجات‘ حاصل کرنے کا اہتمام بھی کیا گیا۔ اب حکومت میڈیا اتھارٹی کے ذریعے مواصلات کے تمام شعبوں پر اپنا کنٹرول مکمل کرنا چاہتی ہے۔ اس حوالے سے صحافیوں اور مالکان سے مشاورت کرنے کی بجائے چہیتے سرکاری ڈیجیٹل براڈ کاسٹرز کو مشاورت کے لئے چنا گیا ہے جو بطور خاص سرکاری پروپیگنڈا کو اعتبار بخشنے کے مقصد سے میدان میں اتارے گئے ہیں۔
وزارت اطلاعات کے علاوہ پاک فوج کا ادارہ تعلقات عامہ بھی اب میڈیا کی ذمہ داریاں نبھارہا ہے تاکہ رائے میں دوئی کا کوئی بھی شائبہ موجود نہ رہے۔ میڈیا پر اس ناجائز اور غیر معمولی کنٹرول کے خلاف یا جمہوری نظام میں عسکری اداروں کی براہ راست اور مؤثر مداخلت کے بارے میں اگر کوئی اکا دکا آواز سامنے آتی ہے تو اسے ہراساں کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ نامعلوم افراد ممتاز صحافیوں پر حملہ آور ہوتے ہیں ، ان کے گھروں میں گھس کر مارپیٹ کی جاتی ہے یا انہیں اچانک غائب کرکے ہوش کے ناخن لینے کا مشورہ لیا جاتا ہے۔ اس کھلم کھلا قانون شکنی کے خلاف احتجاج کرنے والوں کی مکمل زبان بندی کا اہتمام معمول کا واقعہ بن چکا ہے۔ میڈیا کی بھرپور خود مختاری کا ڈھنڈورا پیٹنے والی حکومت کا یہ حال ہے کہ وہ کسی ایک صحافی کو ہراساں کرنے کے کسی ایک واقعہ میں ملوث کسی شخص کو عدالتی کٹہرے تک نہیں لاسکی۔
اسی پس منظر میں پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ (پی اے ایس) نے ایک درخواست دائر کی تھی جس میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کا نوٹس لینے اور ایسے افراد یا اداروں کے خلاف کارروائی کی استدعا کی گئی تھی جو ملکی صحافیوں کو پریشان و خوفزدہ کرنے میں ملوث ہیں۔ جمعہ 20 اگست کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے اس درخواست میں اٹھائے گئے معاملہ کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس پر آئین کی شق 184(3) کے تحت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔ ابھی اس حکم کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ہفتہ 21 اگست کو اپنی ہی سربراہی میں ایک پانچ رکنی بنچ تشکیل دیتے ہوئے حکم دیا کہ لارجر بنچ ، دو رکنی بنچ کے فیصلہ کے بارے میں طے کرے گا کہ کیا اس معاملہ میں سو موٹو اختیار استعمال کیا جاسکتا ہے۔ سوموار 24 اگست کو اس لارجر بنچ نے پہلی ہی سماعت میں دورکنی بنچ کے حکم کو معطل کردیا اور یہ کہتے ہوئے کارروائی جاری رکھی کہ بنچ یہ طے کرے گا کہ ازخود نوٹس لینے کا کیا طریقہ ہونا چاہئے۔ لارجر بنچ کے اس حکم کے فوری بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کے نام ایک خط میں واضح کیا کہ عدالت عظمی کا کوئی بنچ کسی دوسرے بنچ کے فیصلہ پر رائے زنی کرنے یا اسے تبدیل کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ ایسا کوئی بھی فیصلہ آئین کے خلاف ہوگا اور غیر مؤثر رہے گا۔
منگل کو لارجر بنچ کی سماعت کے دوران قائم مقام چیف جسٹس نے واضح کیا کہ نیا لارجر بنچ کسی دوسرے بنچ کے فیصلہ پر کوئی رائے نہیں دے گا لیکن سو موٹو معاملہ پر وضاحت ضروری ہے۔ فاضل جسٹس یہ رائے اس وقت دے رہے تھے جب پانچ رکنی بنچ پہلے ہی دو رکنی بنچ کے فیصلہ کو معطل کر چکا تھا۔ منگل کو ہی عدالت میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ قانونی تنازعہ سے نمٹنےکا بہتر طریقہ یہ ہوگا کہو صحافیوں کو ہراساں کرنے کے معاملہ پر ابتدائی سماعت کرنے والے بنچ میں شامل دو ججوں کو بھی لارجر بنچ کا حصہ بنا لیا جائے۔ اٹارنی جنرل پاکستان نے بھی اس تجویز سے اتفاق کیا لیکن قائم مقام چیف جسٹس نے اس تجویز پر اقدام سے گریز کیا۔ ایک ہی دن بعد یعنی جمعرات 26 اگست کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ سو موٹو نوٹس لینا صرف چیف جسٹس کا اختیار ہے۔ عدالت عظمی کا کوئی جج یا بنچ ایسا کوئی فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ اس حکم کے ساتھ ہی دو رکنی بنچ کو اس معاملہ کی سماعت سے روکتے ہوئے یہ معاملہ رجسٹرار کے حوالے کردیا گیا تاکہ وہ چیف جسٹس کی مشاورت سے اس پر مزید اقدام کریں۔ گویا قائم مقام چیف جسٹس نے آج جس فیصلہ کا اعلان کیا ہے وہ ایک روز پہلے ان کی اپنی آبزرویشن کے برعکس ہے۔
اس دوران قانونی ماہرین اس بات پر حیرت کا اظہار کررہے ہیں کہ اس معاملہ میں اتنی عجلت کی کیا ضرورت تھی۔ قائم مقام چیف جسٹس جو خود فروری میں چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہوں گے، خود ہی ایک ایسا فیصلہ کیسے کرسکتے ہیں جس سے انہیں خود ہی فائدہ پہنچے گا؟ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ سوموٹو کی آئینی شق میں کہیں بھی چیف جسٹس کے اختیار کا بالخصوص ذکر نہیں ہے ۔ اس طرح سپریم کورٹ کا ہر جج اور ہر بنچ کسی معاملہ میں از خود نوٹس لینے کا حق و اختیار رکھتا ہے۔ بلکہ عدالت عظمی کے جج ماضی میں اس اختیار کا استعمال بھی کرچکے ہیں۔ کیا سپریم کورٹ کے تازہ فیصلہ کے بعد ایسے تمام اقدامات پر بھی نظر ثانی کی جائے گی اور چیف جسٹس کی رائے کے بغیر لئے گئے سو موٹو نوٹس کیسز میں کئے گئے فیصلوں کو کالعدام قرار دیاجائے گا۔
معاملہ کا یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ سابق چیف جسٹس سابق نثار نے جب سو موٹو نوٹس کا بے تحاشہ استعمال شروع کیا تھا تو وکلا اور ان کی تنظیموں کی جانب سے مطالبہ سامنے آیا تھا کہ اس معاملہ کو فل سپریم کورٹ کے سامنے رکھا جائے تاکہ سوموٹو اختیار کی حدود وقیود کا تعین ہوسکے۔ عدالت عظمی نے اس رائے کو قابل اعتنا نہیں سمجھا۔ تاہم اب سپریم کورٹ ہی کے ایک بنچ کی طرف سے ایک اہم معاملہ میں سوموٹو اختیار استعمال کرنے کے سوال پر آئین و قانون کی عملداری کے بارے میں ایسی شدید تشویش محسوس کی گئی کہ تین روز کے اندر از خود نوٹس کے بارے میں فیصلہ سناتے ہوئے ایک اہم معاملہ کو ’داخل دفتر‘ کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور بنچ میں شامل دیگر فاضل ججوں نے ضرور یہ دعویٰ کیا ہے کہ عدالت صحافیوں کی حفاظت کا اہتمام کرے گی اور وہ اس معاملہ میں اس پر اعتبار کرسکتے ہیں۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر دو رکنی بنچ صحافیوں کی داد رسی کرنا چاہتا تھا تو اس کے کام میں مداخلت سے کس کے مفاد کا تحفظ مقصود تھا؟
اس وقت ملک میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کی حفاظت کے حوالے سے سپریم کورٹ ہی واحد ادارہ ہے۔ لیکن عدالت عظمی میں سامنے آنے والی تازہ چپقلش سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ ملک پر حکمرانی کی جنگ بالواسطہ طور سے اب سپریم کورٹ میں لڑی جارہی ہے۔ سپریم کورٹ اگر ایک بار پھر عوام کے آئینی حق کی حفاظت میں ناکام رہتی ہے تو یہ عدالت عظمی کی داغدار تاریخ میں ایک سیاہ باب کا اضافہ ہوگا۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker