تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:صدر عارف علوی نے خوشامد کے تمام ریکارڈ توڑ دیے

صدر مملکت عارف علوی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خوشامد اور شاہ پرستی کی بدتر مثال قائم کی ہے ۔ پارلیمانی تاریخ میں اس کی نظیر تلاش کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ یہ درست ہے کہ ملک کا صدر پارلیمنٹ کی اکثریتی پارٹی کی نظر عنایت ہی کی وجہ سے منتخب ہوتا ہے۔ اور پاکستان میں یہ افسوسناک روایت بھی راسخ ہے کہ حکمران جماعت کسی بھی وفادار کو اس عہدے پر فائز کرتی ہے۔
تاہم یہ ایک آئینی عہدہ ہے۔ اس پر فائز ہونے والے شخص کو کسی حد تک غیر جانبداری کا اہتمام کرنا چاہئے اور اس آئینی منصب پر فائز ہوتے ہوئے پارٹی لیڈر کی خوشامد کی بجائے متوازن اور باوقار طرز بیان کے ذریعے سیاسی وابستگی سے قطع نظر تمام طبقہ ہائے فکر کویہ احساس دلانا چاہئے کہ صدر بننے کے بعد ان کا کسی ایک سیاسی جماعت سے تعلق محض رسمی ہے اور وہ بنیادی طور پر ریاست پاکستان اور اس میں آباد باشندوں کے مفادات کے سرپرست ہیں۔ وہ ریاستی اداروں کے محافظ ہیں اور آئین کی بالادستی کی علامت ہیں۔ آج پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ڈاکٹر عارف علوی کی تقریر، ان میں کسی بھی اصول پر پوری نہیں اترتی۔
پارلیمانی جمہوریت میں بلاشبہ یہ بھی روایت کا حصہ ہے کہ صدر مملکت اپنی سالانہ تقریر میں وہی اعداد و شمار پیش کرتا ہے جو حکومت اسے فراہم کرتی ہے اور ان کامیابیوں کا راگ الاپتا ہے جس کی تفصیلات اسے وزیر اعظم ہاؤس سے فراہم ہوتی ہیں۔ تاہم پارلیمنٹ کے سب ارکا ن اور عوام یکساں طور سے صدر مملکت کی ان آئینی حدود و مجبوریوں کو سمجھتے ہیں ۔ صدر کی تقریر میں کامیابیوں کی تفصیل کو حکومت کا اعلامیہ مانا جاتا ہے ۔ اسی حوالے سے اس پر جب تنقید کی جاتی ہے یا سوال اٹھائے جاتے ہیں تو یہ حکومت پر نکتہ چینی ہوتی ہے، ملک کا صدر اس کا نشانہ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ میں صدر کی تقریر کے بعد اپوزیشن لیڈروں کو رائے ظاہر کرنے کا موقع دینا بھی عالمگیر پارلیمانی روایت کا حصہ ہے۔ یہ موقع نہ تو گزشتہ پارلیمانی سال کے دوران فراہم ہؤا اور نہ ہی اس بار اپوزیشن کے احتجاج اور واک آؤٹ کے باوجود یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ ملک و قوم جس نازک صورت حال سے گزررہے ہیں، اس میں افہام و تفہیم اور وسیع البنیاد اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے پارلیمنٹ کے فورم کو مضبوط کیا جائے اور بحث و مباحثہ کے ذریعے ایسا ماحول پیدا کیا جائے جس میں حکمران جماعت کے علاوہ اپوزیشن بھی خود کو نظام کا حصہ سمجھنے پر مجبور ہوجائے۔
صدر عارف علوی نے اپنے خطاب کے دوران اپوزیشن لیڈروں کے احتجاج، نعرے بازی اور پھر واک آؤٹ کو پارلیمانی روایت کا حصہ سمجھ کر اس سے درگزر کرتے ہوئے اپنے عہدے کی شان و مرتبہ کے مطابق رہنما تقریر کرنے کی بجائے اپوزیشن کو مخاطب کرنا بھی ضروری سمجھا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’شورمچانےکی بجائےحقیقت تسلیم کرنا پڑےگی ۔ صبرکریں اورسنیں،عوام کوبات سمجھ آگئی ہے۔یہاں بھی سمجھنی چاہیے۔حکومتی کارکردگی اورکامیابی کوشورشرابےسےنہیں روکاجاسکتا۔ گزشتہ 3 سالوں میں ملک وقوم میں بہت مثبت تبدیلیاں آئی ہیں، پاکستان درست سمت کی جانب اور معیشت ترقی کی جانب گامزن ہے‘۔ یہ حکومتی بیانیہ ہے۔ لیکن صدر عارف علوی نے اس میں فریق بن کر اور اپوزیشن سے براہ راست مخاطب ہو کر اسے ’ذاتی رائے‘ میں تبدیل کردیا۔ اس طرح ایک ایسے عہدے کو متنازعہ اور جانبدار بنا یا جسے پوری قوم کا نمائیندہ ہونا چاہئے۔
اپوزیشن کے احتجاج پر صدر مملکت کی سرزنش اس وقت تو قابل فہم ہوسکتی تھی اگر وہ حکومت کو بھی مشورہ دیتے کہ اسے اپوزیشن کو مسترد کرنے اور الزام تراشی کی فضا کم کرنے کے لئے مناسب اور دانشمندانہ طرز عمل اختیار کرنا چاہئے۔ تاکہ ملک میں افہام و تفہیم کا صحت مند ماحول پیدا ہوسکے۔ انہیں اصولی طور پر اپوزیشن کے اس مطالبے کی حمایت کرنی چاہئے تھی کہ صدر مملکت کی تقریر چونکہ سرکاری پالیسی کابیان ہوتا ہے اور اس میں وہی خوشنما تصویر پیش کی جاتی ہے جو حکمران جماعت عوام کو دکھانا چاہتی ہے ، اس لئے مشترکہ اجلاس کو ملتوی کرنے کی بجائے صدارتی تقریر کے بعد قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈروں کو بھی اپنے خیالات کا موقع دیا جائے تاکہ ملک میں ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنے کی روایت راسخ ہوسکے۔ لیکن عارف علوی اس حوالے سے صرف یہ خواہش ظاہر کرکے آگے بڑھ گئے کہ ہمیں ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنا چاہئے۔ سوال تو یہ ہے کہ جب کسی بھی سطح پر رائے کا موقع دینے سے ہی انکار کیاجائے گا تو احترام کی فضا کیسے قائم ہوگی۔
صدر مملکت نے کرپشن کے بارے میں حکومت کے آزمودہ اور فرسودہ مؤقف کو ایک بار پھر ماضی کی حکومتوں پر کیچڑ اچھالنے کے لئے استعمال کیااور یہ اظہار ایک ایسے فورم سے کیا گیا جہاں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی پارٹیوں کو مسلسل اس بات کی شکایت ہے کہ انہیں بات کرنے اور اپنی رائے سامنے لانے کا باقاعدہ موقع فراہم نہیں ہوتا۔ مشترکہ اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کے باہر ملک بھر کے صحافی میڈیا اتھارٹی کے بارے میں حکومتی منصوبے کے خلاف احتجاج کررہے تھے ۔ صحافیوں کی تنظیموں اور میڈیا کی صنعت سے وابستہ سب حلقوں کا متفقہ مؤقف ہے کہ نئی قانون سازی سے حکومت ملک میں میڈیا پر کنٹرول کی بدترین مثال قائم کرنا چاہتی ہے۔ اس قانون کے نفاذ اور تجویز کردہ میڈیا اتھارٹی کے قیام سے خبر کی غیر جانبدارانہ ترسیل اور متوازن رائے کا اظہار ممکن نہیں رہے گا۔ حکومت صرف اخبارات و ٹیلی ویژن ہی تک نہیں بلکہ اظہار کے ہر فورم پر اپنا تسلط نافذ کرنے کا ارادہ ظاہر کرچکی ہے۔ اس صورت حال میں صدر مملکت نے پارلیمنٹ سے خطاب میں یہ کہہ کر آزادی رائے اور صحافیوں کی خود مختاری کو اللہ کا حکم سنا کر ختم کرنے کا ’فرما ن‘ جاری کیا ہے کہ ’فیک نیوزکےذریعےدنیاکوگمراہ کیاگیا۔ اللہ تعالیٰ بھی قرآن میں فرماتاہےکہ پہلےتحقیق کروپھربات کوآگےپھیلاؤ، جھوٹی خبروں کا سدباب ضروری ہے‘۔
’فیک نیوز‘ کی اصطلاح امریکہ کے سابق پاپولسٹ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایجاد کی تھی اور امریکی میڈیا کی تنقید مسترد کرنے کے لئے تواتر سے اس اصطلاح کا استعمال کیا تھا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ امریکی معاشرہ اس وقت بری طرح تقسیم ہے اور ملک میں ایک ایسا طبقہ پیدا کرلیا گیا ہے جو متفقہ، مسلمہ اور قانونی دائرہ کار میں ہونے والے انتخابات کے بارے میں بھی شبہات کا اظہار کررہا ہے یا امریکی کانگرس پر متشدد حملہ کو جائز جمہوری طریقہ قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب یہ اصطلاح بھارتی پروپیگنڈا کے تناظر میں پاکستان میں متعارف کروائی گئی ہے۔ اسے ففتھ جنریشن وار یا ہائیبرڈ وار فئیر کا نام دے کر ہمہ قسم اظہار کو فلٹر کرنے اور سرکاری نقطہ نظر سے متصادم یا برعکس کسی بھی رائے کے بارے میں شبہ پیدا کرنے کے مقصد سے استعمال کیا جانے لگا ہے۔ صدر مملکت نے اس اصطلاح کو استعمال کرکے نہ صرف ملکی صحافیوں اور میڈیا اداروں کے احتجاج کو مسترد کیا ہے بلکہ سنسرشپ اور کنٹرول کی سرکاری حکمت عملی کی تائد کرنے کا افسوسناک جرم بھی کیا ہے۔
افغانستان کے بارے میں سرکاری پالیسی بیان کرتے ہوئے البتہ صدر عارف علوی خوشامد ی لب و لہجہ میں اس حد تک بڑھ گئے کہ نہ انہیں اپنے مقام و مرتبہ کا خیال رہا اور نہ ہی وہ یہ احساس کرپائے کہ وہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کررہے ہیں جو بہر حال ایک مقدس اور باوقار ادارہ ہے اور وہاں تقریر کرتے ہوئے صدر مملکت کے عہدہ پر فائز شخص کو کسی ایک فرد کی خوشنودی کے لئے متانت و سنجیدگی کی حد یں عبور کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ ’ دنیا افغانستان میں پاکستان کی پالیسی کوسراہ رہی ہے۔ طالبان رہنماؤں کے بیانات بھی حوصلہ افزا ہیں۔ دنیا تسلیم کرے کہ افغانستان کے متعلق عمران خان اور پاکستان کا مشورہ درست ثابت ہوا۔ دنیا کو دیگر معاملات میں بھی عمران خان کی شاگردی و مریدی اختیار کرنی چاہیے۔ انہوں نے کتنا بڑا مشورہ دیا تھا۔ لیکن دنیا کو کھربوں ڈالر صرف کرنے اور لاکھوں افراد کی جانیں ضائع ہونے کے بعد یہ بات سمجھ میں آئی ہے‘۔
عالمی معاملات، بین الملکی تعقات اور سفارتی پیچدگیاں اگر اتنی ہی سادہ ہوتیں تو واقعی دنیا کے تمام لیڈر اور سفارتکار ٹرمپ، مودی اور عمران خان جیسے مقبول لیڈروں کے سامنے زانوے ادب تہ کرتے۔ کیوں یہ اور اس قسم کے سارے پاپولسٹ لیڈر نعروں کے ذریعے تمام مسائل حل کرنے میں ید طولی رکھتے ہیں۔ عارف علوی اگر اپنے عہدہ کی ثقاہت سے قطع نظر عمران خان کی چاپلوسی میں حد سے گزرنا چاہتے ہیں تو اس کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہے کہ پاکستان کی وزارت عظمی کے منصب پر فائز شخص واقعی کوئی ایسا ایزدی فرستادہ جس کا فرمایا حرف آخر اور ہر مسئلہ کا حل ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو تین سال میں پاکستان کو واقعی کوئی منزل مل گئی ہوتی اور اس وقت پاکستان دنیا میں تنہا، افغانستان میں رونما ہونے والے حالات سے پریشان اور معاشی معاملات میں ہراساں نہ ہوتا ۔اور عوام ہر روز بڑھتی ہوئی قیمتوں کا حساب کرتے ہوئے اس بات پر سر نہ پیٹ رہے ہوتے کہ اس حکومت کی صورت میں انہیں کن گناہوں کی سزا مل رہی ہے۔
یوں بھی پیری مریدی سے پاکستان میں جاہ پسندوں کے مسائل حل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقتدار تک پہنچنے کے لئے منتیں مرادیں چڑھانے اور پیر مرشد تلاش کرنے کا کام پاکستان میں کیا جاتا ہے۔ دنیا ان مراحل سے بہت آگے نکل چکی ہے۔ وہ درپیش مسائل کو مرشد کے فیض سے نہیں، تدبر و حکمت سے حل کرنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ صدر عارف علوی کے علاوہ ان کے ممدوح عمران خان کو اگر یہ حقیقت سمجھ آجائے تو شاید وہ بھی خوابوں کی دنیا سے نکل کر سچائی کا سامنا کریں اور واقعی عوامی بہبود کے کسی منصوبے کی تکمیل کا سبب بن سکیں۔ ورنہ خیرات کو ویلفئیر کا نام دے کر کوئی ملک فلاحی ریاست نہیں بن سکتا۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker