تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : ریفری کے بغیر آخری شو ڈاؤن کی تیاری

اپوزیشن اور حکومت آمنے سامنے ہیں۔ اپوزیشن عدلیہ اور فوج کی غیر جانبداری پر سوال اٹھا کر پوچھ رہی ہے کہ موجودہ صورت حال کا ذمہ دار کون ہے اور اس کی اصلاح کرنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ اس کے جواب میں وفاق کے وزیر اطلاعات ایک نئی پریس کانفرنس میں پرانے الزامات کو دہرا کر شرم کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ ملک کی سیاسی قوتوں میں اس آخری شو ڈاؤن کا ’ریفری‘ موجود نہیں ہے۔
ایک امپائر 2014 میں درپردہ انگلی اوپر نیچے کررہا تھا۔ خواہش وکوشش ، پارلیمنٹ و ٹیلی ویژن اسٹیشن پر حملے اور وزیر اعظم کو استعفیٰ دینے کا انتباہ بھجوانے کے باوجود یہ انگلی ’آؤٹ‘ دینے کے لئے اٹھ نہیں سکی۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن جمہوریت کی بقا کے لئے حکمران مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ اس اتحاد و اشتراک میں اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان پر ذاتی حملوں کے ذریعے انتشار پیدا کرنے کی ایک مؤثر کوشش ضرور ہوئی لیکن نواز شریف کی معاملہ فہمی اور آصف زرداری کی جمہوریت پسندی نے غیر جمہوری طریقے سے حکومت گرانے کا یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہونے دیا۔ سیاسی پارٹیاں سرخرو ہوئیں اور پارلیمنٹ سربلند ٹھہری۔ پارلیمنٹ کے باہر کھڑے ہوکر ارکان کو مغلظات سنانے والے عمران خان کو بھی بالآخر اسی پارلیمنٹ میں واپس جانا پڑا۔ جن استعفوں کا چیلینج جو وہ اس وقت اپوزیشن کو دے رہے ہیں، 2014 میں وہ محض تیس کے لگ بھگ نشستوں کے باوجود اسی قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا حوصلہ نہیں کرسکے تھے۔
ایک جمہوری حکومت کو گرانے اور وزیر اعظم کو نااہل قرار دینے کے لئے پاناما لیکس کا انتظار کرنا پڑا ۔ اور واٹس ایپ پیغامات کے ذریعے ایجنسیوں کی نگرانی میں بنائی گئی جے آئی ٹی کے ذریعے ایک ایسے اقامے کو تلاش کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی جس کی بنیاد پر بال کی کھال اتارنے والے ججوں نے بالآخر یہ دریافت کیا کہ کوئی ایسا شخص ملک کا وزیر اعظم نہیں ہوسکتا جس نے جلاوطنی میں اپنے بیٹے کی کمپنی کے ذریعے کسی ملک کا اقامہ لیا ہو۔ لیکن اس مقصد کے لئے اس کی کمپنی میں اپنے عہدے کی کوئی تنخواہ وصول نہ کی ہو۔ سپریم کورٹ کے فاضل ججوں کا خیال تھا کہ تنخواہ وصول کی ہو یا نہ ، پاکستان کے ٹیکس نظام میں اس کی رجسٹریشن اور مناسب ٹیکس کی ادائیگی ضروری تھی۔ سپریم کورٹ سے بالا کون ہوتا ہے۔ فیصلہ صادر ہوگیا اور وزیر اعظم معزول ہوکر پاکستانی سیاست میں حصہ لینے کا نااہل قرار پایا ۔ حالات کی ستم ظریفی کہ وہی شخص اس وقت پاکستانی سیاست کا محور بنا ہؤا ہے۔ اسی کا بیانیہ کسی طوفان کی طرح ملک پر مسلط کئے گئے نظام کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جانے کی طاقت رکھتا ہے۔
کہانی کبھی ایک جگہ نہیں رکتی۔ کہانی کا ولن ایک ہزیمت کے بعد دوسرا وار کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔ کہانی زندگی سے اخذ ہوتی ہے تو زندگی بھی بعض اوقات کہانی کے ڈھب پر ہی آگے بڑھتی ہے۔ خاص طور سے پاکستان جیسے ملک میں جہاں طاقت کے کھیل میں کئی کردار بیک وقت پنجہ آزمائی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ حیرت ہے کہ اس عجیب وغریب کھیل میں ایک مرحلے پر اصولوں کے ساتھ کھڑا ہونے والا شخص دوسرے مرحلے میں کسی فریب نظر کا شکار ہوکر انہی اصولوں کو پامال کرنے کا سبب بھی بنتا رہا ہے۔ جو نواز شریف ، بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے ساتھ آنسو بہا رہے تھے، وہی نواز شریف چند برس بعد کالا کوٹ پہنے پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف میمو گیٹ اسکینڈل میں مدعی بنے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ جو آصف زرداری 2014 میں جمہوریت کے نام پر مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو سہارا دیتے ہیں ، وہی زرداری 2018 میں بلوچستان حکومت گرانے کے لئے درپردہ کاوشوں کا حصہ بنتے ہیں۔ اور سینیٹ میں اپنی ہی پارٹی کے رضا ربانی کو چئیر مین بنانے کی تجویز مسترد کردیتے ہیں۔
پاکستان میں سیاست کی کہانی انہی عجیب و غریب مصائب کا سامنا کرتی رہی ہے۔ آج پھر جمہوریت پر ابتلا وقت ہے۔ منتخب حکومت کے بارے میں گمان ہے کہ وہ مسلط کی گئی ہے اور کرداروں کا نام لے کر بات کرنے کی نئی اور ڈرامائی روایت استوار کی جارہی ہے۔ عمران خان ایک مقبول تحریک کی قیادت کرتے ہوئے بلاشبہ اپنی شخصیت کے سحر اور پاکستان کو جنت نظیر بنانے کے بلند بانگ دعوؤں کی بنیاد پر 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف کو سب سے بڑی پارٹی بنوانے میں کامیاب ہوگئے۔ قومی اسمبلی میں انہیں سب سے زیادہ نشستیں مل گئیں گو کہ ان کی جماعت واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکی۔ 2014 کے دھرنے اور امپائر کی بے چین انگلی سے شروع ہونے والا سفر جو پاناما کی گھاٹیوں سے ہوتے ہوئے راستے کی تمام رکاوٹوں کو دور کرتا آیا تھا، بالآخر اس مشکل پر قابو پانے میں کامیاب ہؤا ۔ عمران خان قائد ایون منتخب ہوئے اور ملک کے وزیر اعظم بنائے گئے۔وزیر اعظم بننے کے بعد انہیں روٹی کپڑا مکان کا وہی وعدہ پورا کرنا تھا جو ذوالفقار علی بھٹو کا طرہ امتیاز تھا۔ عمران خان نے اسے پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں فراہم کرنے کا نام دیا۔ اس عظیم منصوبہ کو انہوں نے بدعنوان سیاست دانوں کی لوٹی ہوئی دولت بیرون ملک سے واپس لاکر پورا کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ خواب دیکھ کر حقیقت کو تبدیل کیا جاسکتا ہے لیکن خواب حقیقت نہیں محض تصور ہوتے ہیں۔ تصوراتی محل بنا کر غریبوں کا پیٹ نہیں بھرا جاسکتا۔ عمران خان دو سال تک اقتدار میں رہنے کے باوجود اس سچائی کو سمجھ نہیں پائے ۔ یہی ان کی ناکامی کی وجہ ، غصہ کا سبب اور سیاسی مشکلات کی بنیاد ہیں۔ اس کی دوسری اہم ترین وجہ جمہوریت کے بارے میں عمران خان کی ناقص یا ادھوری تفہیم ہے۔ پارلیمانی نظام میں انتخاب کے ذریعے وزیر اعظم بننے کے باوجود عمران خان کو ابھی تک اس بات کا ادراک نہیں ہو سکا کہ جمہوری انتخاب شخصی حکمرانی کا راستہ ہموار نہیں کرتا۔ اس میں حکمران جماعت اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر قومی مسائل حل کرتی ہے۔ اختلاف کے باوجود تعاون کا راستہ تلاش کیا جاتا ہے۔ عمران خان اپوزیشن سے تعاون کو چوروں کو رعایت دینے کے مماثل سمجھتے ہیں۔
ملکی سیاست اس وقت آخری شو ڈاؤن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ہر محب وطن اور سیاسیات پر نگاہ رکھنے والا شخص اس تصادم سے گریز کا مشورہ دے رہا ہے۔ ملکی ادارے جانتے ہیں کہ یہ جنگ کسی خوشگوار نتیجے تک نہیں پہنچے گی۔ اگراسے روکنے میں ناکامی ہوئی تو سیاسی پارٹیوں اور اداروں کو یکساں طور سے اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔ لیکن سب سے زیادہ خسارہ ملک کو ہوگا۔ معیشت جو پہلے ہی ناقص انتظامی کارکردگی کی وجہ سے بے حال ہے، بدحالی کی طرف بڑھے گی۔ سرمایہ کار مایوس ہوگا، تجارتی سرگرمیاں محدود ہوں گی۔ پیداواری ذرائع کم ہونے سے کثیر آبادی والے ملک میں قومی پیداوار میں کمی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس کا مطلب بھوک، احتیاج اور پریشانی میں اضافہ ہے۔ شہروں میں آباد کسی قدر سیاسی شعور کا حامل متوسط طبقہ اپنے معاشی مسائل کو سیاسی فیصلوں کی روشنی میں دیکھے گا اور اس کی بے چینی غصہ کی شکل اختیار کرے گی۔
کراچی میں کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے معاملہ پر پولیس افسروں کے احتجاج اور بلاول بھٹو زرداری کی اپیل پر آرمی چیف کا فوری ایکشن یہ واضح کرتا ہے کہ وہ اس صورت حال کا ادراک رکھتے ہیں۔ سیاسی جلسہ میں نام لے کر الزام کا سامنا کرنے کے باوجود فوجی قیادت ہوشمندی سے معاملات کو مزید الجھانے سے گریز کرنا چاہتی ہے۔ اسی لئے کراچی میں 19 اکتوبر کی رات اور علی الصبح ہونے والے واقعات کے ذمہ داروں کا پتہ لگانا ضروری ہے۔ جنرل باجوہ نے بلاول بھٹو زرداری اور آئی جی پولیس سندھ کو فون کرنے کے علاوہ فوری طور سے اس معاملہ کی تحقیقات کا حکم دے کر کسی حد تک حالات کو کنٹرول کرنے اور تصادم سے گریز کا پیغام دیا ہے۔اس کے برعکس وفاقی حکومت نہ حالات کی سنگینی کو سمجھ پارہی ہے اور نہ ہی یہ دیکھ سکتی ہے کہ بروقت اقدام نہ کیا جائے تو ایک واقعہ بھی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے۔ کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کا اہتمام کرنے کا واقعہ خود میں ایسا ہی دھماکہ خیز مواد لئے ہوئے ہے۔ عمران خان کو لیکن ایک پیج کی طاقت پر مکمل بھروسہ ہے۔ وہ بدستور یہی سمجھ رہے ہیں کہ پلوں کے نیچے سے اتنا پانی گزرنے کے باوجود فوج سیاسی زوال میں بھی ان کے شانہ بشانہ ہوگی۔ انہیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ فوج جب حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کرتی ہے تو یہ ملکی آئین کے عین مطابق ہوتا ہے لیکن فوج اگر کسی سیاسی جماعت کی ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کرنے کا اقدام کرے تو یہ سیاست میں عسکری اداروں کی مداخلت کہلاتی ہے۔ کراچی کے واقعہ پر آرمی چیف کا اقدام یہ اعلان کررہا ہے کہ فوج سیاسی طوفان کی زد پر آئی ہوئی حکومت کو ’بیل آؤٹ‘ نہیں کرے گی۔ یہ کام اسے خود ہی کرنا پڑے گا۔
وفاقی وزرا کی بیان بازی ایسے تجاہل عارفانہ کا پتہ دیتی ہے جس میں حکومت سچ کو دیکھنے اور اس کی سنگینی کو سمجھنے سے انکار کرہی ہے۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کراچی واقعہ کا الزام براہ راست وزیر اعظم عمران خان پر عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ آئی ایس آئی اور رینجرز وزیر اعظم کو جوابدہ ہوتے ہیں اور اسی کے حکم پر اقدام کرتے ہیں۔ اس کے فوری بعد وزیر اطلاعات شبلی فراز کی پریس کانفرنس ایسی ہی تھی جیسے بلی کو دیکھ کر کبوتر آنکھیں بند کرلے۔ شاہد خاقان عباسی پر ملک میں گیس کی قیمتوں کا الزام عائد کرنے کی بجائے انہیں یہ جواب دینا چاہئے تھا کہ وزیر اعظم اگر آئی ایس آئی اور رینجرز کے براہ راست نگران ہیں تو کراچی واقعہ کا ذمہ دار کون ہے ؟ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ عمران خان کی بجائے آرمی چیف نے کیوں تحقیقات کا حکم دیا ہے؟
ملک کے حالات آخری شو ڈاؤن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ نہ حکومت ، اپوزیشن کو کمزور سمجھے اور نہ اپوزیشن حالات کو وہاں تک لے جائے جہاں آئینی بالادستی کی جد و جہد میں جمہوریت ہی نشانہ بن جائے۔ ابھی وقت ہے کہ کسی بڑے تصادم سے پہلے توقف کیا جائے۔ اپنے کارڈز کو احتیاط سے دیکھ لیا جائے۔ جان لیا جائے کہانی میں سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر ہی فتحیاب ہوتی ہیں۔ حالیہ ملکی تاریخ میں 2014 کا دھرنا اور امپائر کی ناکارہ انگلی اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker