تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ :لاہور جلسہ ، حکومت اور اپوزیشن بند گلی کے قیدی

اپوزیشن اتحاد نے واضح کیا ہے کہ 13 دسمبر کو لاہور کا جلسہ ہر صورت میں مینار پاکستان پر ہی منعقد ہوگا ۔ مریم نواز سمیت تمام اپوزیشن لیڈروں نے کورونا کی دوسری لہر کی وجہ سے اس جلسہ کو ملتوی کرنے سے انکار کردیا ہے۔ لاہور میں ایک اجتماع سے خطاب سے کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا ہے کہ اتوار کا جلسہ حکومت کے کفن میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ’ اب آر یا پار‘ ۔ اتوار کو یہ بات صاف ہوجائے گی کہ موجودہ حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں۔
اس دوران لاہور ہی میں اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے لیڈروں نے ایک پریس کانفرنس میں اتوار کا جلسہ ہر قیمت پر منعقد کرنے کا اعلان کیا ۔ لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے منتظمین کو یہ جلسہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات کے عین مطابق ہے۔ انہوں نے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ہم جلسہ کی اجازت نہیں دیں گے لیکن اس سے روکیں گے بھی نہیں۔ البتہ ان تمام لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی جو کورونا کی وجہ سے عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کریں گے‘۔ انہوں نے کہا تھا کہ اسٹیج پر کرسیوں پر بیٹھے لیڈروں سے لے کر کرسیاں اور ساؤنڈ سسٹم فراہم کرنے والے ہر شخص کے خلاف ایف آئی آر درج ہوگی اور قانون کو بالادست بنایا جائے گا۔ اس مؤقف پر طنز کرتے ہوئے آج مریم نواز نے کہا ہے کہ ’اگر عمران خان کرسیاں نہیں دے گا تو کیا اہل لاہور جلسہ میں شریک نہیں ہوں گے؟‘
لاہور کے جلسہ کا انتظام مسلم لیگ (ن) کی ذمہ داری ہے۔ لاہور کو اپنا سیاسی گڑھ سمجھنے والی اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کے لئے اس جلسہ کی کامیابی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اسے ایک طرف ہر قیمت پر جلسہ منعقد کرنا ہے بلکہ اس میں عوام کی بھرپور شرکت کو بھی یقینی بنانا ہے۔ پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک میں لاہور کے جلسہ کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ اس جلسہ کی کامیابی ہی ملک میں شروع کی گئی جمہوری تحریک کے مستقبل کا تعین کرے گی۔ طبی نقطہ نظر سے اگرچہ کورونا کی دوسری لہر کے دوران سیاسی اجتماعات میں ہزاروں یا لاکھوں لوگ جمع کرنے کی کوشش انتہائی خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ حکمت عملی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن محاذ آرائی میں البتہ ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہیں جہاں سائنسی ضروریات اور عوامی صحت جیسے معاملات کو بے دردی سے نظر انداز کیا جارہا ہے۔عمران خان اور تحریک انصاف کی حکومت اگرچہ کورونا وبا کی وجہ سے اپوزیشن کو جلسے جلوسوں سے پرہیز کا مشورہ دے رہے ہیں لیکن حال ہی میں کئے گئے سرکاری جلسوں اور گلگت بلتستان کے انتخابات کے دوران ہونے والی سرگرمیوں کی روشنی میں یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ حکومت کورونا کو دراصل اپوزیشن کی احتجاجی تحریک سے نجات حاصل کرنے کے لئے عذر کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔ عمران خان اور ان کی حکومت نے کسی بھی مرحلے پر کورونا کے پھیلاؤ کو سنجیدگی سے نہیں لیا ۔ عمران خان لاک ڈاؤن کے ذاتی طور سے مخالف رہے ہیں۔ ایک منتخب حکومت کے طور پر تحریک انصاف سیاسی جلسوں سے تو انکار نہیں کرسکتی لیکن کورونا کے بہانے اپوزیشن کو مطعون کرنے کی بھرپور کوشش کی جاہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کردیا جاتا ہے کہ اس ملک کی تاریخ میں تحریک انصاف سے بڑے جلسے کوئی نہیں کرسکا۔ حکومت کے سب کارپرداز جانتے ہیں کہ اگر سیاسی تحریک کے دوران تعطل پیدا کردیا جائے تو اپوزیشن کو دوبارہ تحریک منظم کرنے کے لئے کم از کم ایک سال انتظار کرنا پڑے گا۔
اپوزیشن لیڈر بھی یہ بات جانتے ہیں کہ اگر کورونا کا عذر مان کر لاہور کا جلسہ ملتوی کردیا گیا تو اسے کسی وبا سے عوام کو بچانے کا طریقہ نہیں سمجھا جائے گا بلکہ عام لوگوں تک پوری شدت سے یہ پیغام پہنچایا جائے گا کہ اپوزیشن کا اتحاد کمزور پڑ چکا ہے اور وہ کورونا کے بہانے میدان سے بھاگ گئے ہیں۔ ملک کے عوام کو بھی اس پورے سال کے دوران کورونا وبا کی سنگینی، شدت و پھیلاؤ سے آگاہ کرتے ہوئے ، سماجی دوری اختیار کرنے ، اجتماعات سے گریز اور شدید ضرورت سے قطع نظر تنہائی اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں کیا گیا۔ اس کا ثبوت سرکاری و غیر سرکاری تقریبات اور اجتماعات کی صورت میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے حکومت کی پروپیگنڈا مشینری کے متحرک ہونے سے پہلے ہی عوام بھی لاہور ریلی کے حوالے سے اپوزیشن کی رعایت کو اس کی کمزوری ہی سمجھیں گے۔ بعد میں حکومت اور اس کے نمائیندے اس سوچ کو سیاسی مقاصد کے لئے بھرپور طور سے استعمال کریں گے۔
یہ صورت حال کو حکومت اور اپوزیشن کے لئے یکساں طور سے ’پوائینٹ آف نو ریٹرن‘ ہے۔ اس مقام تک پہنچنے کے لئے اگرچہ فریقین یکساں طور سے ذمہ دار ہیں۔ حکومت نے البتہ سخت اور غیر مفاہمانہ طرز عمل اختیار کرکے صورت حال کو شدید کیا ہے۔ کورونا کی مشکل سے قطع نظر ملک کی معاشی اور سماجی صورت حال میں اس وقت احتجاج اور سیاسی تصادم نامناسب اور غیر ذمہ دارانہ طریقہ ہے لیکن حکومت نے پارلیمنٹ کو غیر مؤثر بنا کر اور کسی بھی قسم کے سیاسی احتجاج کو ’لوٹ مار بچانے یا این آر او لینے کا طریقہ‘ قرار دے کر کسی درمیانی راستہ کی گنجائش ختم کی ہے۔ اگر حکومت واقعی یہ سمجھتی کہ کورونا کی وجہ سے اجتماعات درست نہیں ہیں تو پہلے وہ خود اس کی اچھی مثال قائم کرتی، اس کے بعد سیاسی ماحول میں تلخی ختم کرنے کی کوشش کی جاتی اور اپوزیشن کو سیاسی مسائل کے حل کے لئے کسی قسم کا متبادل دینے کی کوشش ہوتی۔ عمران خان کی قیادت میں حکومت اور تحریک انصاف کسی سطح پر بھی ایسے کسی آپشن پر آمادہ نہیں ہے۔ وزیر اعظم نے اپوزیشن لیڈروں کے بارے میں معاندانہ اور ہتک آمیز رویہ اختیار کرکے سیاسی صورت حال کو پیچیدہ اور مشکل بنادیا ہے۔
حکومت اگر واقعی کورونا کو صحت عامہ کے لئے سنگین خطرہ سمجھتی تو اسے اپوزیشن کے ساتھ سیاسی احتجاج ملتوی کرنے کے لئے مواصلت کا کوئی مؤثر راستہ تلاش کرنا چاہئے تھا۔ اس قسم کی مواصلت بعد میں سیاسی تصادم کو ٹالنے کے لئے وسیع البنیاد بات چیت کا نقطہ آغاز بھی بن سکتی تھی۔ تاہم عمر ان خان ایسی کسی حکمت عملی کو اپوزیشن لیڈروں کی بدعنوانی کو قبول کرنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔ اس لئے اس وقت یہ آپشن موجود نہیں ہے حالانکہ ملک بھر کے تمام مبصر اور تجزیہ نگار مذاکرات و مفاہمت کو ہی حکومت و اپوزیشن کے درمیان جاری لڑائی کو ختم کرنے کا واحد راستہ سمجھتے ہیں۔ البتہ حکومت بات چیت کو اپنے منشور اور بنیادی اصولوں سے متصادم قرار دیتے ہوئے مسترد کررہی ہے۔ حکومت اپوزیشن کو بدنیت اور احتجاج کو کرپشن چھپانے کا راستہ قرار دیتی ہے۔ یوں ارباب اختیار سرکاری پالیسیوں کی ناکامی کے سبب عوام میں پائی جانے والی بے چینی کو سمجھنے سے بھی قاصر دکھائی دیتے ہیں۔
مواصلت و مفاہمت اگر عوام کو کورونا سے بچانے کے لئے ضروری نہیں تھی تو حکومت کو اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے طاقت کے زور پر اپوزیشن کا جلسہ روکنا چاہئے تھا۔ ملتان میں ایسی کوشش میں ناکام ہونے کے بعد عمران خان اور عثمان بزدار کی حکومتیں اس وقت دفاعی پوزیشن میں ہیں۔ وہ جلسہ کی ’اجازت‘ بھی نہیں دیتے کیوں کہ حکومت کے پاس اس کا اختیار ہے لیکن ’روکیں گے بھی نہیں‘ کیوں کہ وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ ملتان کا جلسہ روکنے میں ناکامی سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ حکومت کے پاس اپنا اختیار نافذ کرنے کے آپشنز بہت محدود ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ماہ کے دوران تحریک لبیک کے احتجاج کوفوری ’معاہدہ‘ کے ذریعے ختم کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی تھی۔ اس کا رویہ اطلاق البتہ اپوزیشن کے 11 جماعتی اتحاد پر نہیں کیا جارہا۔ حکومت کے پاس اگر اپنے حکم پر عمل کروانے کی طاقت نہیں ہے تو مصالحت کے سوا کیا چارہ باقی رہ جاتا ہے ؟ تاہم عمران خان اور ان کے مشیر ابھی اس نکتہ کو سمجھنے سے انکار کررہے ہیں ۔ اس کی وجہ بھی شاید یہی ہے کہ ہٹ دھرمی کو سیاسی و سرکاری پالیسی کی بنیاد بنا لینے کے بعد بند گلی میں بھاگتے رہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جاتا۔ عمران خان فی الوقت یہی کر رہے ہیں۔
حکومت کی یہ مجبوری سیاسی حد تک قابل فہم ضرور ہوسکتی ہے لیکن کورونا وبا کے دوران اجتماعات کو ’قبول‘ کرلینے کی پالیسی سے کیا عوام میں یہ وبا پھیلنے سے انکار کردے گی؟ کیا صحت عامہ کو ہونے والے نقصان کا تدارک بیانات دینے، اپوزیشن کو برا بھلا کہنے اور ذمہ داروں کے خلاف مقدمے قائم کرنے سے ہوسکے گا؟ اگر ان سوالوں کا جواب نہ میں ہے تو لاہور کا جلسہ کورونا وبا کے حوالے جو نقصان پہنچائے گا، اس کی ذمہ داری تن تنہا اپوزیشن پارٹیوں پر عائد نہیں ہوگی۔ستم ظریفی ہے کہ اپوزیشن عمران خان کو وزیر اعظم ہاؤس سے باہر نکالنے کی طاقت نہیں رکھتی اور حکومت اپوزیشن کو احتجاج سے روکنے کے اختیار سے محروم ہے۔ پھر بھی دونوں اپنی کمزوری کو ماننے سے گریزاں ہیں۔ حالانکہ ملک کی ساری سیاسی طاقتیں مل کر اس موقع کو سیاسی و منتخب قیادت کو حقیقی معنوں میں ’بااختیار‘ بنانے کے لئے استعمال کرسکتی تھیں۔ لیکن حکومت کو امید ہے کہ عین وقت پر اسے ’کمک‘ فراہم ہوجائے گی اور اپوزیشن کو توقع ہے کہ یہ کمک کبھی نہیں آئے گی۔ اس لئے پاکستان کے عوام اسی کھیل کا اگلا ’ایکٹ‘ دیکھنے پر مجبور ہیں جس نے نواز شریف کے لفظوں میں’ 70برسوں میں کسی منتخب حکومت کو مدت پوری کرنے کا موقع نہیں دیا‘۔

( بشکریہ ۔۔ کاروان ، ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker