Browsing: رضی الدین رضی

یہ سب ادیب ایک ہی کہانی کے مختلف باب ہیں اور وہ انسان کی کہانی ہے۔ ان کے ہاں دکھ بھی ہے، سوال بھی، بغاوت بھی، اور ایک ایسی خاموش دعا بھی جو زمانے کے شور میں بھی سنائی دیتی ہے۔
روس کی سرد راتوں میں جلتے ہوئے چراغ آج بھی ان کے لفظوں سے روشنی لیتے ہیں۔ اور ہم، دور بیٹھے قاری، ان روشنیوں میں اپنے ہی چہرے پہچاننے لگتے ہیں۔

یہ مبارکباد کا لمحہ تو ہے اوراس لیے بھی ہے کہ ہم نے زندہ نہ ہونے کے باوجود زندہ رہنے کا ڈھونگ رچایا۔ ہم مرنے کے باوجود دفنائے نہ جا سکے۔ ہم سچ بولنے کے باوجود جھوٹے کہلائے اور اس کے باوجود خود کو سچا سمجھتے رہے۔
مبارک باد تو بہت ضروری ہے اوراس لیے ضروری ہے کہ جس معاشرے میں روزانہ بہت سے لوگ خودکشی کرلیتے ہیں اس معاشرے میں ہم جیسے بزدل بہت بہادری یا ڈھٹائی کے ساتھ زندہ ہیں۔

جب بھی لاہور ہمیں بلاتا ہم اشرف صاحب سے ضرور ملتے تھے ۔۔گوال منڈی میں محفل سجتی ۔ اشرف جاوید بعد ازاں انجمن ترقی ادب سے منسلک ہو گئے ۔۔ اب تک ان کے چھے شعری مجموعوں سمیت مختلف سیاسی و ادبی موضوعات پر جو کتب شائع ہوئیں ان میں عالمی سیاست کے فرمانروا ، پاکستان میں انتخابات کی تاریخ ، امنِ عالم خدشات و خطرات ، آفتابِ داغ ( داغ دہلوی کے کلام کی تدوین حواشی کے ساتھ شامل ہیں ۔۔

امی کے جانے کے بعد یہ خاندان مکمل ہو گیا ۔۔ سب نے آج خوب دل کی باتیں کی ہوں گی ۔۔ نانی اماں نے گلے سے لگایا ہو گا ۔۔ دادی ہاتھ پکڑ کر ابو کے پاس لے گئی ہوں گی کہ تم اتنے برسوں سے اس کی راہ تک رہے تھے لو آ گئی ہے اب پوچھ لو کیوں دیر سے آئی اور امی نے کہا ہو گا ’’ تہاڈیاں امانتاں دی حفاظت نئیں کرنی سی ۔۔ ؟ سب نوں بنے لا کے آئی آں ‘‘ ( آپ کی امانتوں کی حفاظت نہیں کرنا تھی ؟ ۔۔ سب کو کنارے لگا کر آئی ہوں )