کسی ملک میں تخلیقی سرگرمی کا معیار ناگزیر طور پر اجتماعی بندوبست کی توانائی سے بندھا ہے۔ ہم نے جو اجتماعی ذہن مرتب کیا ہے وہ تخلیقی صلاحیت کھو بیٹھا ہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں امریکا اور سوویت یونین میں فلم کے میدان میں کڑا مقابلہ رہا اور بازی امریکا کے ہاتھ رہی۔ وجہ یہ کہ سوویت یونین میں تخلیقی سرگرمی پر نظریاتی قبا اوڑھے ہوئے کم سواد ، خوشامدی اور جعل ساز اہلکاروں کا اجارہ تھا۔
Browsing: وجاہت مسعود
زندہ قومیں اپنی تاریخ میں سنہ 71ء یاد رکھتی ہیں اور جنہیں زندگی سے تعلق نہ ہو وہ اپنا سنہ 71ء فراموش کر دیتے ہیں۔
ے شک خارجہ امور میں ہمیں قابل تعریف کامیابیاں ملی ہیں لیکن سمجھنا چاہیے کہ مطلق العنان ریاستیں خرابیوں سے توجہ بٹانے کے لیے خارجہ محاذ پر کامیابیوں کا ڈھول پیٹا کرتی ہیں۔
1914کے موسم بہار میں ویانا کا ایک نوجوان مصنف اسٹیفن زیوگ فرانس کے ایک تھیٹر گھر میں فلم دیکھ رہا تھا۔ اچانک کسی تکنیکی خرابی سے سکرین پر جرمنی کے شہنشاہ ولہلم دوم کی تصویر نمودار ہوئی۔ لمحوں میں تمام تماشائی عورتوں اور بچوں سمیت نفرت انگیز نعرے لگاتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اسٹیفن زیوگ خوفزدہ ہو گیا۔ اسے پہلی بار معلوم ہوا کہ جنگی جنون میں اچھے بھلے انسان کس پاگل پن پر اتر آتے ہیں۔
بھائی چوڑے بازار کی گلیوں میں ادھر اُدھر گھوم رہے تھے کہ ایک سکھ نے انہیں پہچان لیا اور کہا کہ آپ کی ایک امانت ہمارے گھر میں محفوظ ہے۔ اندر گیا اور جزدان میں لپٹا ہوا کلام مقدس کا نسخہ اٹھا لایا اور عقیدت سے چوم کر بھائی کے ہاتھوں پر رکھ دیا۔
2014 کا برس تھا۔ اپریل کی 22 تاریخ تھی۔ حامد میر پر قاتلانہ حملہ ہوئے دو دن گزرے تھے۔ اسی ادارتی صفحے پر بے خبر صحافی…
استاد من، برادر بزرگ، پروفیسر امین صاحب مغل، عالم ہمہ داں، تفقہ فی العصر، تفقہ فی السان، تفقہ فی الادب، حضرت بعد ایک طویل مدت کے…
ہمارے برادر بزرگ ڈاکٹر فرید پراچہ کا مسئلہ وہی ہے جو ان کے بہت سے ہم صفیر صاحبان زہد و اتقا کا ہے۔ برادر بزرگ سے…
21 مئی 1947 کو رائٹرز کے نمائندے ڈون کیمبل کو انٹرویو دیتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح نے جہاں عوام کی حاکمیت اعلیٰ کا اصول…
منٹو اپنے ہی رنگ کا لکھنے والا تھا۔ امرتسر کے شرارتی لڑکے کی ابھی مسیں نہیں بھیگی تھیں کہ 1919 ء کا جلیانوالہ باغ ہو گیا۔…
