جہان نسواں / فنون لطیفہطاہر سرور میرلکھاری

دلیپ کمار کی سالگرہ: پہلی 11 دسمبر جو سائرہ بانو اپنے ’صاحب‘ کے بغیر گزاریں گی

گیارہ دسمبر 2021، یہ ’صاحب‘ کی پہلی سالگرہ ہے جو سائرہ بانو اکیلے منا رہی ہیں۔
جب بالی وڈ کے اس جوڑے کی 11 اکتوبر 1967 میں شادی ہوئی تو اس وقت سائرہ بانو کی عمر 22 سال اور دلیپ کمار 44 برس کے تھے اور پھار اس کے بعد ان کا تقریباً 54 برس کا ساتھ رہا۔
دلیپ کمار اور سائرہ بانو کے عشق کی کہانی کسی اساطیری داستان سے کم نہیں۔ ممبئی کے علاقہ پالی ہل کو اس لیے بھی ممتاز حیثیت حاصل رہی ہے کہ یہاں دہائیوں سے دلیپ کمار اور سائرہ بانو کا بنگلہ واقع ہے۔
یہاں سال میں تین بار کیک کاٹا جاتا: 11 دسمبر کو صاحب کے جنم دن پر، 23 اگست کو سائرہ بانو کی سالگرہ کے دن اور پھر 11 اکتوبر کو ان کی شادی کی سالگرہ کے موقعے پر۔
گزرے ہوئے وقتوں میں 11 دسمبر کا دن بالی ووڈ میں ایک تہوار کی حیثیت رکھتا تھا جہاں پالی ہل کے اس مرکز عقیدت واحترام میں ہر ستارہ اپنے سورج کے گرد گردش کرتا دکھائی دیتا۔
اِس دن پر عموماً بالی وڈ کی کہکشاں کا عجب سماں ہوتا لیکن سائرہ بانو کی زندگی میں یہ پہلا 11 دسمبر ہے جب وہ غمزدہ اور اُداس ہیں۔
پالی ہل کے اس بنگلے میں کئی دن سے قرآن خوانی ہو رہی ہے۔ دلیپ صاحب کی زندگی میں بھی اس گھر کا معمول رہا ہے کہ جمعے کے روز مدرسے سے جواں سال حافظ قرآن آتے جن سے صاحب بلند آواز میں قرآن کی تلاوت سنا کرتے تھے۔
یہ نو دسمبر 2011 کا دن تھا جب میں اپنے دوستوں، اداکار سہیل احمد ’عزیزی‘ اور گلوکار رفاقت علی خاں کے ساتھ دلیپ کمار اور سائرہ بانو سے ملاقات کرنے ان کے ہاں گیا تھا۔
دلیپ صاحب نے سفید کرتے اور تہمد کے اوپر شال اوڑھ رکھی تھی۔ یہ بھی جمعے کا دن تھا اور صاحب اس روز بھی قرآن کی تلاوت سُن رہے تھے۔ قرآن خوانی کے بعد دلیپ کمار نے ہمیں شرفِ گفتگو بخشا۔
وہاں گزرے لمحات زندگی کی بہترین یادوں میں سے ہیں۔ مجھے یاد ہے اس نشست میں دلیپ کمار اور سائرہ بانو بالِ جبریل سے اقبال کا یہ کلام بار بار دہرا رہے تھے کہ:
کھول آنکھ، زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
دلیپ کمار کی قبر سانتا کروز قبرستان میں ہے جہاں محمد رفیع، مدھوبالا، مینا کماری، مجروح سلطان پوری اور کے آصف بھی دفن ہیں۔ محمد رفیع اور مدھوبالا کی قبریں پکی بنائی گئی تھیں لیکن بعدازاں ان کی پکی قبروں کو توڑ دیا گیا۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ شریعت میں پکی قبر منع کی گئی ہے۔
سائرہ بانو چاہتی ہیں کہ صاحب کی قبر پر چھاؤں رہے، اس لیے 11 دسمبر کو ان کی کچی قبر پر ایسا پودا لگایا جائے گا جو سایہ دار ہو۔
سائرہ بانو کی خواہش تھی کہ صاحب کی قبر ان کے اس بیٹے کی قبر کے ساتھ بنائی جائے جو مردہ پیدا ہوا تھا۔ سائرہ بانو اور دلیپ کمار کا یہ اکلوتا بیٹا تھا جسے یاد کرتے ہوئے سائرہ بانو کہتی ہیں ’میرا بیٹا شاہ رخ خان کی طرح تھا۔‘
راقم نے جب دلیپ کمار کی سالگرہ کے حوالے بات کرنے کے غرض سے جب ممبئی رابطہ کیا تو سائرہ بانو کے سیکرٹری مرشد نے بتایا کہ ان کی طبیعت ناساز ہے۔
’اگر آپ کل ٹیلی فون کریں تو کوشش کروں گا کہ آپ کی بات ہو جائے‘ تاہم مرشد نے یہ بھی کہا کہ آپ صاحب کی سالگرہ کے حوالے سے بات ضرور کیجیے لیکن ایسے سوال سے گریز کیجیے جن سے سائرہ بی غمزدہ اور اداس ہو جائیں۔
یہ سنتے ہوئے میں گہری سوچ میں ڈوب گیا کہ سائرہ بانو سے دلیپ کمار کے حوالے سے کیا پوچھا جائے کہ وہ غمزدہ اور اداس نہ ہوں۔
12 سال کی عمر میں دلیپ کمار کی دلہن بننے کا فیصلہ
جہاں فلمی شادیوں میں کامیابی کی شرح کم ہے وہیں دلیپ کمار اور سائرہ بانو کا ساتھ ایک مثالی رشتہ ہے۔
بر صغیر کی سب سے حسین عورت کا خطاب پانے والی سائرہ بانو نے اپنے صاحب کی آخری سانس تک داسیوں کی طرح خدمت کی اور زندگی کے ہر اتار چڑھاؤ میں ان کی طاقت بنیں۔
سائرہ بانو چونکہ بیمار ہیں اور ٹیلی فون پر لمبی بات نہیں کر سکتی تھیں تو اس لیے انھوں نے واٹس ایپ پر مختصر گفتگو کے علاوہ بی بی سی اردو کے بھیجے گئے سوالات کا جواب تحریری طور پر بھی دیا۔
سائرہ بانو نے بتایا کہ دنیا کے بہترین اداکار کی شریک حیات ہونا ہمیشہ ان کے لیے باعث فخر رہا۔ انھوں نے بتایا کہ محض بارہ سال کی عمر میں وہ یہ فیصلہ کر چکی تھیں کہ وہ دلیپ کمار سے ہی شادی کریں گی۔ یہ ایک بہت بڑا خواب تھا جسے حقیقت کا روپ ملا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ خود کو بہت خوش نصیب سمجھتی ہیں کیونکہ کسی انسان کی تمام حسرتیں پوری نہیں ہوتیں جبکہ ان کی کوئی حسرت باقی نہیں رہی۔
سائرہ بانو کی پرورش لندن میں ہوئی لیکن ان کی والدہ کی خواہش تھی کہ وہ اپنی مشرقی اقدار نہ بھولیں۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے سالانہ چھٹیوں میں وہ اپنے بچوں کو پورے یورپ کی سیر کرواتیں اور آخر میں انڈیا میں طویل قیام کرتیں۔
سائرہ بانو نے بتایا کہ بچپن میں جب وہ لندن میں تھیں تو انھیں شدت سے فلمی میگزینز کے تازہ شماروں کا انتظار رہتا تھا۔ حالانکہ اس وقت دیو آنند، راج کپور اور شمی کپور بھی بڑے سٹارز تھے لیکن انھیں لگتا تھا کہ انڈین فلم انڈسٹری میں صرف ایک ہی ہیرو ہیں۔۔۔ دلیپ کمار۔
سائرہ بانو نے غمزدہ لہجے میں کہا کہ ’میں اس حوالے سے تو خوش نصیب ہوں ہی کہ جس کی خواہش کی ،اسی کے ساتھ زندگی گزاری لیکن اس حوالے سے زیادہ خوش نصیب ہوں کہ مجھے ایک ہی انسان میں ساری خوبیاں ملیں۔‘
دلیپ کمار سے سائرہ بانو کی پہلی ملاقات بارہ برس کی عمر میں ہوئی تاہم تفصیلی ملاقات فلم ’مغلِ اعظم‘ کے سیٹ پر ہوئی تھی جب وہ اپنی والدہ اور ان کی لندن سے آئی سہیلیوں کے ہمراہ فلم کی شوٹنگ دیکھنے کے لیے گئی تھیں۔
یہی وہ ملاقات تھی جس میں سائرہ بانو نے اپنی زندگی کا ’اہم ترین فیصلہ‘ کیا تھا۔
اس دن کو یاد کرتے ہویے سائرہ بانو بتاتی ہیں کہ جب وہ سٹوڈیو پہنچیں تو ’پیک اپ‘ ہو چکا تھا جبکہ دلیپ کمار سفید رنگ کے سادہ سے لباس میں کھڑے تھے۔ صاحب کی اُسی سادگی پر وہ دل ہار گئیں۔
’صاحب نے ہمیں دیکھا تو بتایا کہ میری عکسبندی تو آج مکمل ہو گئی لیکن اندر قوالی کی ریکارڈنگ ہو رہی ہے، وہ دیکھ لیں۔‘
سائرہ بانو نے بتایا کہ ’سب لوگ قوالی سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور میں دلیپ صاحب کی شخصیت کا جائزہ لے رہی تھی۔ اُس کمسنی میں بھی مجھے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ کچھ الگ ہیں، ان میں کچھ خاص ہے۔ اس دن کے بعد میں صرف دلیپ صاحب کے بارے میں ہی سوچا کرتی۔‘
وہ بتاتی ہیں کہ صاحب جدید رجحانات کا علم رکھتے تھے اور ان کی ’ڈریسنگ سینس‘ بہت اچھی تھی لیکن اس کے باوجود وہ سادہ کپڑے پہننا پسند کرتے تھے۔
سائرہ بانو نے کہا کہ ’میری اور صاحب کی شادی 1967 میں ہوئی تھی، اس وقت تک زمانے نے دیکھ لیا تھا کہ دلیپ کمار پروردگار کی کس نعمت کا نام ہیں۔‘
جب دلیپ کمار نے اپنے آپ کو مسترد کر دیا
سائرہ بانو بتاتی ہیں کہ یوسف خان سے دلیپ کمار بننے والے نوجوان کو اداکاری میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
جب انھیں پہلی بار فلم کی آفر ہوئی تو انھوں نے خود کو ’ناتجربہ کار‘ قرار دیتے ہوئے معذرت کر لی لیکن دیویکا رانی کی حوصلہ افزائی کے بعد انھوں نے یہ چیلنج قبول کر لیا۔
دیویکا رانی کے اعتماد اور بالی وڈ کے پہلے ’کمار‘ اشوک کمار کی سنگت نے دلیپ کمار کے اندر چھپے فنکار کو نکال کر سِلور سکرین پر سجا دیا۔
دلیپ کمار کے اداکاری میں قدم رکھنے سے پہلے اشوک کمار ایک جانے مانے اداکار تھے اور دلیپ کمار کو ادکاری کی نوک پلک سنوارنے میں ان کی کافی معاونت رہی تاہم بہت جلد ہی خود اشوک بھی دلیپ کمار کی اداکاری اور ذہانت کے معترف ہو گئے۔
سائرہ بانو بتاتی ہیں کہ بالی وڈ کے لیے دلیپ صاحب کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے برصغیر کی فلم کو تہذیب بخشی۔
’جب ہندوستان میں فلم آئی تو اس سے منسلک ہونے والے فنکاروں کا تعلق تھیٹر سے تھا، چونکہ ان فنکاروں کی ریاضت تھیٹر کی تھی اس لیے ان کی باڈی لینگوئج اور ڈائیلاگ ڈلیوری لاؤڈ تھی۔‘
ان کے مطابق دلیپ کمار وہ پہلے فنکار تھے جنھوں نے تھیٹر اور فلم کی اداکاری کے فرق کو واضح کرتے ہوئے فلم کو فلم کی اداکاری دی تھی۔
’یہ بھی سچ ہے کہ وہ کسی ادارے میں باقاعدہ اداکاری سیکھنے نہیں گئے اور انھوں نے اپنا ہی انداز تخلیق کیا۔ لوگ ’میتھڈ ایکٹنگ‘ کی بات کرتے ہیں۔ ابھی یہ اصطلاح انڈیا یا بیرونی دنیا میں مروج نہیں ہوئی تھی مگر دلیپ صاحب برسوں پہلے اسے متعارف کروا چکے تھے۔‘
اپنی سوانح عمری میں دلیپ کمار لکھتے ہیں کہ انھوں نے اُن مغربی فلموں سے بہت کچھ سیکھا جو انھوں نے نوجوانی میں ’بمبئے ٹاکیز‘ میں دیکھی تھیں۔ گو کہ دلیپ کمار مغربی اداکاروں سے بہت متاثر تھے تاہم ان کی اداکاری پر کسی مغربی ایکٹر کی چھاپ دکھائی نہیں دیتی تھی۔
انھوں نے اداکاری میں ’رئیل ازم‘ یا حقیقی جذبات متعارف کروائے اور کردار کی ضرورت کے مطابق ان کی باڈی لینگوئج اور احساسات سے بھرپور لب و لہجہ برصغیر کی فلمی اداکاری میں ایک پیمانا قرار پایا۔
سائرہ بانو بتاتی ہیں کہ دلیپ صاحب نے خود اپنے اوپر یہ اصول لاگو کر رکھا تھا کہ ایک وقت میں وہ ایک ہی فلم میں کام کریں گے اور ہمیشہ اس بات پر کاربند رہے۔
‘اس سے یہ ہوتا تھا کہ ایک وقت میں ان کی توجہ کسی ایک کام پر ہی مرتکز رہتی تھی۔’
پسندیدہ کھانے: بریانی، پلاؤ اور آلو گوشت
اپنی خوشگوار یادیں شیئر کرتے ہوئے سائرہ بانو نے بتایا کہ صاحب کھانے میں بہت عمدہ ذوق رکھتے تھے۔
’وہ تخلیق کار تھے سو انھوں نے بہت سی تراکیب بھی خود بنائی تھیں۔ انھیں سُوپ بہت پسند تھا اور مختلف قسم کے سوپ انھوں نے خود متعارف کروائے تھے۔ ان کی پسندیدہ ڈشوں میں بریانی، پلاؤ اور آلو گوشت سرِ فہرست تھے۔‘
سائرہ بانو نے کہا کہ کرہ ارض پر دلیپ کمار جیسے انسان بہت ہی کم آئے ہوں گے۔
’بطور ایک اداکار اور دانشور تو ہم سب ان کی عظمت سے آگاہ ہیں مگر میں سمجھتی ہوں کہ اصل بات ان کی وہ بےنظیر شخصیت ہے جو رنگ ونسل، مذہب و ملت اور ممالک سے زیادہ کشادہ اور وسیع وعریض تھی۔‘
’ان کی ہنسی اتنی اچھی، معصومانہ اور بے داغ تھی جیسے گود میں کھیلنے والے کسی معصوم اور انتہائی پیارے سے بچے کی ہوتی ہے۔ ان کی آنکھیں ایسے خلوص اور دیانت سے بھری ہوئی ہیں جیسے کسی بہتی ہوئی خوبصورت ندی کا پانی صاف ستھرا اور انتہائی شفاف ہوتا ہے۔‘
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker