افسانےطلعت جاویدلکھاری

باس(1)۔۔طلعت جاوید

دفتر پہنچ کر جب اپنا ای میل اکاؤنٹ کھولا تو امریکہ ہیڈ آفس سے ایک نہایت اہم ”نیوز الرٹ“ آیا ہوا تھا۔ ہرلے میکفرسن کو پاکستان میں کنٹری لیڈر مقرر کر دیا گیا تھا۔ یہ خبر میرے لیے اس قدر غیر متوقع تھی کہ کئی لمحے بغیر آنکھیں جھپکائے میں اس خبر کو بار بار پڑھتا اور اس کے مندرجات پر غور کرتا رہا۔ عین اسی وقت دفتر کے تمام اہم عہدیداران اس خبر کو پڑھتے ہوئے حیران ہو رہے تھے۔ اس کے بعد میرے انٹر کام اور دوسری ٹیلیفون لائنوں پر گفتگو کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔ تمام افراد اس خبر پر حیرانگی اور افسوس کا اظہار کر رہے تھے۔
واقعہ دراصل یوں تھا کہ میں چند سال قبل کنٹری لیڈر کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے سب عہدیداروں میں سینئر ہونے کے ناطے یہ ذمہ داریاں ادا کر رہا تھا۔ سب لوگوں کا اور خود میرا اندازہ یہی تھا کہ میری سابقہ کارکردگی کے باعث اس عہدہ پر میرا مستقل تقرر ہو جائے گا۔ مگر اب اس عہدہ کے لیے ہرلے میکفرسن پاکستان آ رہی تھی۔
غیر ملکی اداروں میں تنخواہ اور دیگر سہولیات تو قابل قدر ہوتی ہیں مگر تقرری، تبادلہ اور برخواستگی بھی بذریعہ ای میل نہایت سرعت سے وقوع پذیر ہو جاتی ہے۔ نہ تو انکار کی گنجائش ہوتی ہے اور نہ ہی فیصلہ میں تبدیلی کی۔ دن بھر دوست احباب اور دوسرے اظہار افسوس کرنے والوں کا تانتا بندھا رہا۔ مجھے دکھ ضرور تھا مگر بظاہر خوش دلی سے میں نے بھی یہ فیصلہ قبول کر لیا حکم عدولی کی گنجائش بھی کہاں تھی۔ ہرلے میکفرسن کا پیغام موصول ہو گیا کہ عین ایک ہفتے کے بعد وہ آ کر اپنا چارج سنبھال لے گی۔ اس دوران اس کی رہائش کے لیے کوئی اعلیٰ درجے کا اپارٹمنٹ یا وِلا تلاش کر لیا جائے ۔ ہرلے نے وضاحت کی کہ میں بدستور اپنے عہدے پر فائز رہوں گا اور یہ کہ پاکستان میں اسے میری مکمل حمایت اور مدد درکار ہو گی۔
ہرلے کی تقرری کے بعد قدرتی طور پر دفتر کے تمام لوگوں نے مجھ سے فاصلے بڑھانے شروع کر دیئے تھے۔ کارپوریٹ دنیا کی روایت ہے کہ تقرری کے بعد اس عہدے کا ناکام امیدوار نئے آنے والے کے لیے لاشعوری طور پر مشکلات پیدا کرتا ہے اور بالآخر ایک روز خود اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ اس روایت کے پیش نظر کہ ہرلے اپنی آمد کے بعد جلد یا بدیر مجھے ملازمت سے برخواست کرا دے گی ہر شخص بادی النظر مجھ سے دور ہونے لگا۔ یہ خوف مجھے بھی لاحق تھا کیونکہ جن حقائق سے میں واقف تھا دوسرے لوگ نہ تھے لہٰذا اس خدشہ کے درست ہونے میں کچھ بعید نہ تھا۔
اگلا ہفتہ نہایت مصروف گزرا۔ ضوابط کے مطابق مجھے تمام ریکارڈ کاروباری منصوبہ جات اور اہم امور سے ہرلے میکفرسن کو آگاہ کرنا تھا۔ جو لوگ میرے ماتحت تھے ان کے کام کی تکمیل بھی میری ذمہ داری تھی اس کے علاوہ مالی امور کے بارے میں بھی مجھے نئی کنٹری لیڈر کو اعتماد میں لینا تھا۔ نئی باس کی خوشنودی کی خاطر کام کے علاوہ دفتر کی آرائش اور انتظام پر بھی توجہ دینا پڑی ۔ نئی باس کے دفتر کے لیے اعلیٰ درجے کا فرنیچر خریدا گیا پورے دفتر میں نیا پینٹ کرایا گیا پردے اتار کر نئی بلائنڈز لگوائیں قالین تبدیل کرائے گئے اور چھوٹے ملازمین کو طور طریقے سمجھائے گئے۔ سابقہ کنٹری لیڈر کی روانگی کے بعد اس ملٹی نیشنل کمپنی کا بہت سا کام روایتی طریقوں سے ہونے لگا تھا۔ اب ایک سفید فام خاتون باس کی آمد اور اس کی خوشنودی ایک مشکل کام لگ رہا تھا۔
مجھے اس کمپنی سے وابستہ ہوئے تقریباً تیس برس ہو چکے تھے۔ پنجاب یونیورسٹی سے انگلش میں ایم اے کا امتحان دینے کے بعد میں ملازمت کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہا تھا کہ ایک روز اخبار میں ایک ”واک اِن“ انٹرویو کا چھوٹا سا اشتہار پڑھا اس روز فلیٹیز ہوٹل میں آفس اسسٹنٹ کی اسامی کے لیے انٹرویو ہو رہے تھے۔ میں ان دنوں کرشن نگر میں ایک دوست کے پاس رہائش پذیر تھا۔ صبح سویرے ناشتہ کر کے گھر سے نکلتا اور شہر بھر میں جوتے چٹخاتا شام کو بے نیل و مرام واپس آ جاتا تھا۔ اخراجات کے لیے رقم موجود نہ تھی میرا دوست بھی ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا مگر تھا نہایت مخلص۔ وہ اپنے اخراجات میں سے کچھ رقم پس انداز کر کے مجھے دیتا اور یوں میں ملازمت کی تلاش میں لاہور میں رہنے کے قابل ہو گیا تھا۔ میں اپنے دوست کی شرٹ اور ٹائی مستعار لے کر اور اپنی دستاویزات کا پلندہ تھامے پیدل ہی فلیٹیز ہوٹل پہنچ گیا۔ گیٹ اور لان میں سینکڑوں میری طرح کے ضرورتمند امیدوار اپنی باری کے منتظر تھے میں بھی ان میں شامل ہو گیا۔ انٹرویو شروع ہو چکے تھے۔ دوپہر کے بعد کہیں میری باری آئی۔ پانچ افراد کے بور ڈ میں دو غیر ملکی بھی شامل تھے۔ کوئی امریکن کمپنی تھی اس وقت تک مجھے یہ علم بھی نہ تھا کہ اس کمپنی کے اغراض و مقاصد کیا ہیں مجھے تو بس ملازمت سے غرض تھی۔ غیر ملکیوں نے مجھ سے انگریزی میں سوال کئے تو ایم اے انگلش کے طالبعلم ہونے کے ناطے مجھے جواب دینے میں کوئی دشواری نہ ہوئی۔ انہیں حیرت اس بات پر تھی کہ آفس اسسٹنٹ کا تعلیمی معیار ایف اے تھا جبکہ میں انگلش میں ماسٹرز کئے ہوئے تھا۔ اس بات پر مجھے ملازمت دینے میں انہیں تامل بھی تھا مگر خدا کی قدرت کہ مجھے یہ ملازمت مل گئی۔ دوسرے روز مال روڈ پر واقع دفتر میں گیا تو معلوم ہوا کہ یہ امریکن کمپنی دنیا کے بیشتر ممالک میں اپنے دفاتر کھولے ہوئے ہے۔ ان کا بنیادی کام مختلف نوعیت کی دستاویزی فلمیں بنانا اور بین الاقوامی نشریاتی اداروں کو فروخت کرنا تھا۔
دفتر میں کام کرتے ہوئے ابھی چند روز ہوئے تھے کہ منیجر صاحب نے مجھے طلب کیا اور بتایا کہ امریکہ سے کمپنی کی نمائندہ خاتون لاہور آ رہی ہے اور مجھے اس کے ہمراہ ایک دستاویزی فلم کی تکمیل کے لیے سوات جانا ہے۔ مجھے اور کیا چاہیے تھا نہ گھر بار تھا نہ گھر والے جن سے مجھے اجازت لینا پڑتی فوراً حامی بھر لی۔ چند روز میری تربیت اور تیاری میں گزر گئے۔ دفتر کی گاڑی ، ڈرائیور اور وافر زادِ راہ فراہم کر دیا گیا۔ اس دوران وہ امریکی خاتون بھی لاہور آ چکی تھی۔ مجھے بتا دیا گیا کہ صبح نو بجے اس خاتون کو انٹرنیشنل ہوٹل کے کمرہ نمبر 103 سے ہمراہ لینا ہے اور سوات کے لیے روانہ ہو جانا ہے۔ چونکہ مجھے گفتگو سراسر انگریزی میں کرنا تھی لہٰذا ایک شام قبل ہی اردو بازار سے ”انگلش اردو بول چال“ کی ایک کتاب خرید لایا تھا تاکہ دشواری نہ ہو۔ اس روز اپنی دانست میں نہایت عمدہ لباس زیب تن کیا اور رکھ رکھاؤ سے ہوٹل پہنچا۔ ڈرائیور کو انتظار کرنے کا کہہ کر ریسیپشن سے کمرہ نمبر 103کا پوچھا اور عین 9بجے کمرے کا دروازہ جا کھٹکھٹایا مگر جواب نداردتھا۔ دوبارہ دستک دی تو انگلش میں کچھ بولنے کی آواز آئی اور ذرا سی دیر میں کھٹاک سے دروازہ کھل گیا۔ نجانے میری بدقسمتی تھی یا ایم۔اے انگلش ہونے کے ناطے حد سے بڑھی ہوئی خود اعتمادی، مَیں یہ سمجھا کہ میم صاحبہ مجھے اندر آجانے کو کہہ رہی ہیں میں اپنا بیگ اٹھائے کمرے میں داخل ہو گیا وہ ابھی باتھ روم میں تھیں میں نہایت اعتماد سے صوفے پر جا کر بیٹھ گیا۔ وہ باتھ روم سے تولئے کا گاؤن پہن کر نکلیں تو صوفے پر مجھے براجمان دیکھ کر ٹھٹھک سی گئیں وہ غالباً ویٹر کی منتظر تھیں جسے ناشتہ لے کر آنا تھا میں نے اپنا تعارف کرایا تو وہ چیخ کر بولیں ”وٹ دی ہل یو آر ڈوئنگ ہیئر“۔
“What the hell you are doing here?”
مجھے اس ناروا سلوک کی امید نہ تھی وضاحت کرنے لگا تو وہ اور بھی غصے سے بولیں ”گیٹ لاسٹ“ یعنی دفع ہو جاؤ میں اپنا بیگ اٹھائے ہوئے باہر لابی میں آ گیا۔ غالباً میم صاحبہ نے فون پر دفتر کے منیجر صاحب کو میری شکایت کر دی تھی کہ اس احمق کو میں ساتھ نہیں لے جا سکتی کسی اور شخص کو ساتھ روانہ کریں۔ ذرا سی دیر میں ہوٹل کے رسیپشن والے مجھے تلاش کرتے آگئے کاؤنٹر پر نقوی صاحب کا فون ہولڈ کئے ہوئے تھا انہوں نے پہلے تو خوب ڈانٹ ڈپٹ کی اور پھر ماجرا پوچھا۔ کہنے لگے کہ ”تم نہایت احمق ہو تمہیں لابی میں انتظار کرنا چاہیے تھا زیادہ سے زیادہ فون پر اسے مطلع کر دیتے تم اس کی خوابگاہ میں بلا اجازت کیوں چلے گئے۔“ میں بے حد دل برداشتہ ہوا ۔ جی میں آئی کہ ایسی ملازمت پر تین حرف بھیجیں مگر بے روزگاری کے خوف نے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آخر ہوا ہی کیا ہے ۔ غلطی آخر میری تھی اور مجھے اس کا اعتراف کر لینا چاہیے۔ اس اثناءمیں کاریڈور میں بیگ اٹھائے میم صاحبہ آتی ہوئی نظر آئیں تو یکدم میرا دوران خون بھی بڑھ گیا۔ نجانے اب کیا ہو گا میں نے سوچا۔ ہرلے میکفرسن جین اور جیکٹ میں ملبوس تھی پاؤں میں جوگر تھے سنہری بال اس کے ہر قدم کے ساتھ اُڑ رہے تھے حالانکہ وہاں ہوا نہ تھی سرخ و سپید رنگت اور چہرے پر شوخ مسکراہٹ تھی۔ اس نے ادھر اُدھر نظر دوڑائی اور مجھے ایک کونے میں بیٹھے دیکھ کر ہاتھ ہلایا میں فوراً اُٹھا اور ذرا خجل سی مسکراہٹ سے اُسے خوش آمدید کہا۔ اس نے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو ڈرتے ڈرتے میں نے بھی ہاتھ بڑھا دیا ایک آہنی شکنجے نے میرا ہاتھ جکڑ لیا میم صاحبہ نے مسکرا کر اپنا تعارف کرایا ”ہرلے میکفرسن…. تم سے مل کر خوشی ہوئی۔“ میں نے صبح والے واقعے پر معذرت کی مگر اس نے اس کا نوٹس ہی نہیں لیا اور یوں میری جان میں جان آئی۔
لابی میں بیٹھ کر ہرلے نے نقوی صاحب کی دی ہوئی دستاویزات کا مطالعہ کیا مووی کیمرے، فلموں کی خالی ریل کے سٹاک، خشک اناج، بسکٹ کے پیکٹ، ٹن پیک غذا کے سٹاک، سفر کے نقشے، رہائش کے انتظامات، ریسٹ ہاؤس کی تفصیل کا جائزہ لیا اور تمام سامان اور سوٹ کیس گاڑی میں رکھوائے گئے۔ اس دوران ہرلے کو احساس ہو گیا تھا کہ میں ایک قابل بھروسہ آدمی ہوں۔ اس نے مجھے مسٹر شاہ کہہ کر پکارا اور ہدایت کی کہ میں آگے ڈرائیور کے ساتھ بیٹھ جاؤں فرنٹ سیٹ پر بیٹھنا میرے لیے بہت بڑی سعادت تھی۔ شام ڈھلے ہم راولپنڈی پہنچ گئے۔ وہ رات ہرلے کو فلیش مین ہوٹل میں بسر کرنا تھی اسے کمرہ دلوا کر میں اور ڈرائیور کمپنی کے راولپنڈی والے دفتر سے متصل کمپنی کے گیسٹ ہاؤس میں رہائش پذیر ہو گئے۔
( جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker