قندھار : افغانستان کے جنوب اور مغرب میں موجود تین بڑے شہروں میں لڑائی جاری ہے۔ طالبان جنگجو ان شہروں کو سرکاری فورسز سے چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں۔طالبان جنگجو ہرات، لشکر گاہ اور قندھار کے کچھ حصوں میں داخل ہو چکے ہیں۔
جب سے یہ اعلان کیا گیا کہ ستمبر تک تمام غیر ملکی فوجی یہاں سے چلے جائیں گے تب سے طالبان نے دیہی علاقوں میں تیزی سے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔لیکن ان اہم شہروں کی قسمت انسانی بحران کے خدشات کے حوالے سے اہم ہو سکتی ہے۔ اور یہ بھی کہ حکومتی افواج کتنی دیر تک صورتحال پر قابو پا سکیں گی۔
لشکر گاہ سے اطلاعات موصول ہوئیں کہ سنیچر کو عسکریت پسند گورنر ہاؤس سے چند سو میٹر کی دوری پر تھے لیکن انھیں رات تک واپس دھکیل دیا گیا۔یہ گذشتہ چند روز میں ان کی حملے کی دوسری کوشش تھی۔افغان فورسز کے کمانڈر نے کہا کہ انھوں نے جمعے کو عسکریت پسندوں کو کافی حد تک جانی نقصان پہنچایا ہے۔جنوبی صوبہ ہلمند کے دارالخلافہ لشکر گاہ میں اطلاعات کے مطابق طالبان جنگجو شہر کے مرکز کے دو کلومیٹر دور تک پہنچ گئے ہیں تاہم افغان سکیورٹی فورسز گذشتہ رات طالبان کی ایک پیش قدمی روکنے میں کامیاب رہی ہیں۔
مقامی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان جمعے کو گورنر کے دفتر کے قریب پہنچ گئے تھے جہاں سے اُنھیں پسپا کیا گیا ہے۔یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ٹامس نکلسن کے خیال میں صورتحال میں ابھی مزید بگاڑ پیدا ہو گا۔اُنھوں نے بی بی سی کی مرکزی نامہ نگار برائے بین الاقوامی اُمور لیز ڈوسیٹ کو بتایا کہ اُنھیں خدشہ ہے کہ طالبان اب ایک مرتبہ پھر امارتِ اسلامی کے قیام کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ برطانوی افواج کے سابق سربراہ جنرل ڈیوڈ رچرڈز نے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی انخلا سے افغان فوج کا مورال مکمل طور پر ختم ہو جائے گا اور طالبان ملک کا کنٹرول سنبھال لیں گے۔امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس جنگ کی وجہ سے غذا، پانی اور سہولیات کا بڑا بحران پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
طالبان اور افغان فورسز کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے صوبہ نورستان میں آنے والے شدید سیلاب کے بعد امدادی کاموں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔رواں ہفتے آنے والے اس سیلاب سے کم از کم 113 افراد ہلاک اور ایک سو زخمی ہوئے تھے۔افغانستان کی وزارتِ قدرتی آفات کے ترجمان تمیم عظیمی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ‘بدقسمتی سے یہ علاقہ طالبان کے زیرِ کنٹرول ہے، چنانچہ ہم اس علاقے تک اپنی صوبائی ٹیمیں نہیں بھیج سکے ہیں، تاہم ہم نے افغان ہلالِ احمر کے ساتھ مقامی ریسکیو ٹیمیں بھیجی ہیں۔’
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

