اختصارئےتہمینہ بشیرلکھاری

ڈاکٹر قدیر : ہمارا ہیرو جسے مشرف نے زیرو کرنے کی کوشش کی ۔۔ تہمینہ بشیر

پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا سہرا اس عظیم ہیرو کے سر ہے ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھوپال کے ایک پشتو گھرانے میں پیدا ہوئے انہوں نے مغربی برلن کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی 1976 میں وطن واپس لوٹ آئے اور ذوالفقار علی بھٹو کے کہنے پر “انجینئری ریسرچ لیبارٹریز” کے پاکستانی ایٹمی پروگرام میں حصہ لیا جس کو بعد میں حکومت نے 1981 میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی گراں قدر خدمات پر “ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز’ کا نام دیا ۔
اس مرد مجاہد پر ہالینڈ کی حکومت نے اہم معلومات چرانے کا الزام بھی لگایا بعد ازاں تحقیقات ہونے پر انہیں اس مقدمے سے باعزت بری کر دیا گیا پاکستان کے اس بہادر سپوت نے آٹھ سال کے قلیل عرصہ میں ایٹمی پلانٹ نصب کر کے نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں کو بھی چکرا کر رکھ دیا ۔
مئی 1998 میں جب بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے تو ان کے جواب میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بھی تجرباتی ایٹمی دھماکے کرنے کی درخواست اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے کی۔ بالآخر اجازت ملنے پر آپ نے چاغی کے مقام پر چھ کامیاب تجرباتی ایٹمی دھماکے کیے نہ صرف پوری دنیا میں آپ کا شہرہ ہوا بلکہ سعودی مفتی اعظم نے بھی آپ کو اسلامی دنیا کا ہیرو قرار دیا پرویز مشرف دور میں ایٹمی مواد دوسرے ممالک میں بھجوانے کے الزامات کو بھی آپ نے پاکستان کی خاطر سینے سے لگایا اور نظر بند رہے پرویز مشرف کی اس مذموم حرکت سے ہمارا ملک آپ جیسے معتبر انسان کی خدمات سے بھی محروم رہا ۔
آپ کو نشان امتیاز ، ہلال امتیاز اور ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند سے نوازا گیا آپ نے سیچٹ(Sachet) کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جو آج بھی تعلیمی و فلاحی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہے
اگر دیکھا جائے تو یہ کارنامہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے تاریخ آپ جیسے مرد مجاہد کو ہمیشہ یاد رکھے گی مگر نہایت افسوس کے ساتھ مجھے کہنا پڑ رہا ہے کہ جب آپ جیسی عظیم ہستی کا انٹر ویو میری نظر سے گزرا تو میری گردن نام نہاد نظام کے باعث شرم سے جھک گئی کہ ہمارے ملکی دفاع کی خاطر تمام صعوبتوں اور الزامات کو دیرینہ دولت کے مانند سینے سے لگانے والا ہمارا ہیرو کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہا ہے ہماری حکومت یا متعلقہ ادارے کیوں ایسے ہیرو کی خدمات کو یاد نہیں رکھتے..؟ ان کا کہنا تھا کہ مالی حالات خراب ہونے کے باعث انہوں نے رواں سال قربانی نہیں کی پڑوسیوں اور دوستوں نے میرے گھر گوشت بھجوایا شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ہمیں اس عظیم ہیرو کی قربانیاں یاد نہیں کہ وہ آج کہنے پر مجبور ہیں کہ مالی حالات خراب ہونے کی وجہ سے وہ قربانی نہ کر سکے خدارا! ایسے لوگ ہی ہماری میراث ہیں ایسے گوہر نایاب بار بار جنم نہیں لیتے ان کی خبر لیجئیے 74 سالہ ہمارا یہ عظیم ہیرو خاموش زندگی گزار رہا ہے مگر اب بھی اس مرد مجاہد میں اتنی استطاعت ہے کہ وہ ہمیں اپنے علم و فن سے نواز سکتا ہے میری حکومت وقت اور تمام متعلقہ اداروں سے نہایت ادب سے گزارش ہے ہمارے ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے والے اس وطن کے عظیم بیٹے کی خبر لیں ارباب اختیار اور ذمہ داران گزشتہ کوتاہیوں کی معافی مانگ کر وطن کے اس بیٹے کو وطن کی خدمات کرنے دیں ہم ان کا وہ قرض تو نہیں چکا سکتے جو ستارہ انہوں نے ہمارے وطن کے سینے پر سجایا مگر ہم اس مشکل وقت میں ان کا ساتھ تو دے ہی سکتے ہیں ۔خدانخواستہ وہ اگر اسی بے بسی و غریبی کی حالت میں داغ مفارقت دے جاتے ہیں تو وہ دن دور نہیں جب مؤرخ لکھے گا کہ پاکستانی وہ واحد قوم ہیں جنہوں نے مشکل وقت میں اپنے ہیرو کی مدد تو نہ کی مگر آج ان کی لحد پر پھول برسائے گئے اور اس ہیرو کے قصے سنائے پھر مولانا محمد علی جوہر کے بقول
جیتے جی تو کچھ نہ دکھلایا مگر
مر کے جوہر آپ کے جوہر کھلے

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker