اختصارئےتہمینہ بشیرلکھاری

یہ کیسی ریاست مدینہ ۔۔ تہمینہ بشیر

“پاکستان” جس کے نام کا مطلب پاک سر زمین ہے ایسی پاک سر زمین جسے اسلامی اصولوں کے نفاذ اور اخلاقی اقدار کی سر بلندی کے لیے حاصل کیا گیا تھا ایسی مملکت جس میں انصاف کا بول بالا ہو ، تمام لوگوں کو ان کے مساوی حقوق ملیں ، رشتوں کی قدر اور قانون کی بالا دستی ہو مگر دیکھنے کو کیا ملا آئے روز قتل و غارت کے بازار گرم ہیں ، ماں ، بہن ، بیٹی کی عزت سر عام نیلام کی جا رہی ہے ، چوری ، ڈاکہ ، رشوت ، منشیات فروشی گویا ہر برائی اپنے عروج پر ہے کوئی قانون کوئی عدالت کوئی ریاست کا سربراہ ٹھوس اقدامات نہیں کر رہا ۔
ریاست مدینہ کے دعویدار خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں یہ کیسی ریاست مدینہ ہے جہاں چھ سال کی معصوم بچی محفوظ نہیں ، جہاں وکیل عورت کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے ، جہاں معصوم بچوں کو زیادتی کے بعد بے رحمی سے قتل کر دیا جاتا ہے ، جہاں بچوں کے سامنے ان کی ماں کو ہوس کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے ، جہاں حوا کی بیٹی خود کو غیر محفوظ سمجھے ایسی ریاست مدینہ کے پہرے دار آخر کونسی نیند سو رہے ہیں کیوں ملزموں کو کڑی سزا نہیں دی جاتی کہ آئندہ اس عبرت ناک سزا کے ڈر سے کوئی کسی کی ماں بہن بیٹی کی عصمت دری کرنے کا سوچے بھی نا مگر بد قسمتی سے پہلے تو یہ درندے گرفتار نہیں کیے جاتے اوراگر گرفتار کر بھی لیے جائیں تو سیاسی و جاگیردارانہ اثرورسوخ سے جیل سے باہر ہوتے ہیں مظلوم کی آہ سننے والا کوئی نہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ ایسی کالی بھیڑوں کو شہ ملتی ہے اور گزشتہ چند برسوں میں اجتماعی زیادتی کے کیسز میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے روز بروز بڑھتے ہوئے ان واقعات اور پھر حکومت وقت کے مناسب اقدامات نہ کرنے کے سبب عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے نہایت افسوس کی بات ہے کہ ایک آزاد ملک ہونے کے باوجود بھی یہاں صنف نازک محفوظ نہیں ہے اکیلی عورت کسی ایمرجنسی میں گھر سے نکلنے کی روادار نہیں کیونکہ ان درندوں کا ڈر اس کے دل و دماغ میں بیٹھ چکا ہے
بقول ساحر لدھیانوی
عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا
جب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیا
حکومت وقت کو ان سنگین معاملات کو سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا اور غیر جانبدارانہ طور پر ان مسائل کے حل کا سوچنا ہوگا

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker