اختصارئےادبتہمینہ بشیرلکھاری

آنندی ، طوائفیں اور نام نہاد اشرافیہ ۔۔ تہمینہ بشیر

میں نے غلام عباس کا افسانہ ” آنندی “ کئی بار پڑھا اور اس افسانے کو جتنی بار پڑھا میرے ذہن میں کئی سوالات آئے اور ان سوالوں کا تانتا بندھا رہا افسانے میں غلام عباس نے کوئی کردار نہیں دکھایا بس ایک اجلاس کی روداد بیان کی بلدیہ کا اجلاس ہے اور اس اجلاس میں بڑے بڑے افسر اور معززین شامل ہیں اور جس مسئلے پر بات ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ یہ زنان بازاری ( طوائفوں کا اڈہ ) شہر کے وسط میں کیوں واقع ہے ؟
انہیں یہاں بیٹھنے کی اجازت کس نے دی…؟ ان طوائفوں کی موجودگی ہمارے لیے باعث شرم ہے کسی کا کہنا تھا کہ ان کے چال چلن اور عریاں لباس کو دیکھ کر ہمارے لڑکے بگڑ رہے ہیں اور کچھ معززین کو لگتا کہ ان کا فیشن دیکھ کر ان کی عورتیں بھی ایسے لباس کی فرمائشیں کرنے لگی ہیں اتنے میں ایک طرف سے صدا بلند ہوئی جو بھی سیاح یہاں آتے اور اس زنان بازاری کے متعلق دریافت کرتے ہیں تو ان پر گھڑوں پانی پڑ جاتا ہے اس لیے اس زنان بازاری کو یہاں سے کہیں دور نکال دیا جائے اس لیے وہ زنان بازاری وہاں سے دور کہیں منتقل ہوگیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہاں اور لوگ آنا شروع ہوئے اور کچھ عرصہ بعد وہ جگہ پھر سے ایک شہر بن گئی اور یوں آج پھر بلدیہ کا اجلاس ہو رہا ہے اور پھر وہی زنان بازاری کا مسئلہ درپیش ہے۔
غلام عباس نے اپنا یہ افسانہ بیسویں صدی میں لکھا اور اس افسانے کو اگر ہم آج بھی پڑھیں تو یوں لگتا ہے یہ ہمارے لوگوں کی کہانی ہے اس کہانی میں بھی وہی معززین اور اشرافیہ کسی کی قسمت اور کردار کا فیصلہ کر رہے تھے جو نام نہاد اشرافیہ آج بھی موجود ہیں جن کو ان طوائفوں کے ہونے سے اپنے عزت کی پامالی کا خدشہ تھا اور آج بھی ہے مگر اندرون خانہ یہ شریف لوگ راتیں انہی طوائفوں کے کوٹھوں پر گزارتے ہیں رات کے اندھیرے میں رقص و سرور کی محفلوں میں تمام دنیا سے بے خبر ، نشے میں چور یہ لوگ تب یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ دن کی روشنی میں اس زنان بازاری کا ہونا ان عزت دار لوگوں کے لیے باعث شرم ہے اور اس طرح یہ نام نہاد عزت دار لوگ جو دن کی روشنی میں ان طوائفوں کو تباہی کا سبب قرار دیتے ہیں رات کے اندھیرے میں یہی معززین انہی طوائفوں کے پہلو میں نشے میں دھت رال ٹپکاتےنظر آتے ہیں جن کا وجود انہیں اپنے شہر میں ایک لمحے کے لیے برداشت نہیں ہوتا انہی طوائفوں کے مہکتےوجود کو یہ اشرافیہ راتوں کو اوڑھ لیتے ہیں کیسا دوغلہ رویہ ہے ان طوائفوں اور ایسے لوگوں میں کیا فرق ہے؟؟
فرق صرف یہی ہے کہ وہ سر عام دھندہ کرتی ہیں مگر یہ نام نہاد امیر زادے بدنامی کے ڈر سے رات کی تاریکی میں منہ چھپاتے ہیں اور دن کا اجالا ہوتے ہی عزت کا شملہ اوڑھ کر پگڑی اور ناک دونوں اونچی کر کے گردن اکڑا کر فیصلہ سناتے ہیں کہ زنان بازاری کو شہر بدر کر دیا جائے کیونکہ ان کا وجود انسانیت ، شرافت اور تہذیب کے دامن پر بد نما داغ ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker