ّعاصمہ شیرازیکالملکھاری

عاصمہ شیرازی کا کالم : عاصمہ شیرازی کا کالم: فیض آباد کا جاری فیض

دائروں کا سفر ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا اور ستم ظریفی یہ ہے کہ احساس زیاں بھی نہیں کہ وقت اور حالات نے ملک اور ملت کو کہاں لا کھڑا کیا ہے۔
ایمان کی قسموں، یقین کے وعدوں اور وقتی معاہدوں سے جذبہ ایمانی کو ناپنے کے پیمانے ہیں۔ دل کی گواہی بے معنی اور لفظی گواہی کے امتحان بہت۔
کبھی سوچا نہ تھا کہ شاہ بطحا سے محبت کے دعوؤں پر پورا اترنے کے لیے تشدد، عدم برداشت کا راستہ بھی دیکھنا ہو گا۔ عوام گُم صم ہیں کہ لبیک کے نعروں کا جواب دیں یا نا دیں۔۔۔ نعرہ ہی ایسا ہے کہ کوئی منھ کیسے موڑے مگر تشدد کا طریقہ نہ شیوہ محمدی اور نہ ہی اُسوہ رسول۔
غلطیاں گناہ بن جائیں تو کفارے بھی ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ ذرا دیکھ تو لیں کہ 2016 کے بعد سے راتوں رات جنم لینے والی تحریک لبیک کس طرح چند ہی ماہ میں ملک کے سیاسی اُفق پر کھڑی ہو گئی اور کیوں کر زورآور بن گئی۔ اس سے پہلے کون کون سی تنظیمیں کیسے طاقت کے بل بوتے پر تخلیق ہوئیں اور کیسے طاقت سے کچلی گئیں۔
تحریک لبیک مگر خاموش اکثریت میں سرایت کرنے لگی۔ وسطی پنجاب کے مذہبی جذبات اور احساسات کو لبیک کے جذباتی لگاؤ نے چار چاند لگائے اور پنجاب کے سیاسی افق کے دائیں بازو کی حمایت کا ووٹ بنک ایک خاص جھکاؤ کی صورت اُبھرنے لگا۔
طاقت کے مراکز اس نئی اہم اتفاقی مگر غیر اتفاقی قوت کو بھانپ نہیں سکے یا بھانپا تو سیاسی مقاصد کے لیے ’سانوں کی‘ کی پالیسی پر عملدرآمد کرنے لگے۔ لگے ہاتھوں ایک اہم پریشر گروپ بھی ہاتھ لگا اور یوں نظریاتی، سیاسی حدود اپنے آپ اثاثوں کی حیثیت اختیار کر گئیں۔
26 جولائی 2017 کو عرب امارات کے کسی شخص نے جماعت رجسٹر کی جس کا ذکر قاضی فائز عیسیٰ کیس کے فیصلے میں موجود ہے۔ اس جماعت نے نواز شریف کی نا اہلی کے بعد این اے 120 میں سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا اور پہلی بار ہی تیسری پوزیشن حاصل کر لی۔
یہاں تک کہ سنہ 2018 کے انتخابات میں تحریک لبیک بغیر کوشش کے بائیس لاکھ ووٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی چند ایک نشستیں لینے میں کامیاب ہو گئی۔ نومبر سنہ 2017 کے فیض آباد دھرنے نے تحریک لبیک کو نہ صرف نام بلکہ مقام بھی عطا کر دیا۔ اس دھرنے کے بعد مقام فیض پر کوئی اور مقام جچا ہی نہیں۔۔۔
معاہدوں پر معاہدوں اور ضمانتوں پر ضمانتوں نے تحریک لبیک کو ایک ایسی سیاسی قوت بنا دیا کہ اب سے صرف چند ہفتے قبل تک تحریک انصاف انتخابات کی صف بندی کے لیے اُسے سنجیدہ آپشن کے طور پر دیکھ رہی تھی اور اب کے بعد تو اس امکان کا بے حد اضافہ ہو چکا ہے۔
بہرحال فیض آباد دھرنے کے بعد نیکٹا نے ایک رپورٹ جاری کی اور بے حد تفصیل کے ساتھ اس جماعت کے سیاسی عمل، اثر اور انتہاپسندی سے خبردار کیا مگر وہ ہم ہی کیا جو سیکھ جائیں۔
فیض آباد دھرنے کا آج بھی ’فیض‘ اٹھانے والے قاضی فائز عیسی نے اس تاریخی فیصلے میں کئی ایک شخصیات، اداروں، میڈیا اور عوامل کو بیان کر دیا مگر جب شخصیات، اداروں سے بڑی اور مفادات طویل المدتی ہوں تو کون دوڑ کے گھوڑوں کو باندھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ نومبر سنہ 2020 کے دھرنے میں حکومت نے لبیک کے ساتھ سفارتی اور قانونی نوعیت کا معاہدہ کیوں کیا؟ اور اگر کیا تو یہ کیوں نہیں سوچا کہ اس پر عملدرآمد کیسے ممکن ہو گا؟
سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ وردی میں ملبوس اہلکاروں نے فیض آباد دھرنے کے شرکا میں رقوم تقسیم کیں اور یہ کوئی اچھا منظر نہیں ہے
پابندی کا فیصلہ کیوں اور کس نے کیا؟ طاقت کا بے جا استعمال اور میڈیا پر مکمل پابندی کا اظہار کیوں؟
افراتفری کا ماحول کیوں پیدا کرنے کی کوشش کی گئی اور پنجاب کے دل لاہور میں حالات کیوں بے قابو ہوئے؟ حکومت چُپ کیوں تھی اور بولی تو بہت دیر سے کیوں بولی؟
تحریک لبیک کے ساتھ موجودہ سلوک بھی سیاسی صف بندی کا اشارہ تو نہیں کیونکہ پاکستان کی ساری سیاسی جماعتیں انتخابات کی جانب دیکھ رہی ہیں ایسے میں یہ سب کچھ بے جا تو نہیں؟
دوسری جانب کالعدم تحریک لبیک ایک سیاسی قوت بن رہی ہے تو اس جماعت کو سیاسی مقاصد میں تشدد سے گریز کرنا ہو گا مگر یہ سب تب ہو گا جب ملک میں آئین کی عملداری ہو مگر آئین کی عملداری کے لیے قاضی فائز عیسی کے فیصلے کو ذاتی مفاد کی بجائے آئینی عینک سے پڑھنا ہو گا۔۔۔
کیا ایسا ممکن ہے؟
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker