ٹیکساس:امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر کولیویل میں قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک ایسے شخص کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہیں جس نے ایک یہودی عبادت گاہ میں کم از کم تین افراد کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور سکیورٹی اہلکاروں نے امریکی میڈیا کو بتایا ہے کہ اس شخص کو امریکہ میں قید پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے بھی سنا گیا۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ایک امریکی عدالت نے افغانستان میں امریکی فوج اور حکومت کے اہلکاروں پر مبینہ طور پر قاتلانہ حملے اور قتل کی کوشش کرنے کے سات الزامات میں مجرم قرار دیا تھا اور انھیں 86 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
کانگریگیشن بیتھ اسرائیل نامی عبادت گاہ میں جب یہ واقعہ پیش آیا تو یہاں ہونے والی عبادت کو لائیو سٹریم کیا جا رہا تھا۔ تاہم اس لائیو سٹریم فیڈ کو اب ہٹا دیا گیا ہے لیکن ایسا ہونے سے قبل ایک شخص کو اونچی آواز میں یہ کہتے سنا جا سکتا تھا کہ وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔
کولیویل کی پولیس کی جانب سے اب سے کچھ دیر قبل جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ’مقامی وقت کے مطابق پانچ بجے کے بعد اس شخص کی جانب سے ایک یرغمالی کو رہا کیا گیا ہے جو صحیح سلامت ہے۔ جبکہ ایف بی آئی کے اہلکار تاحال اس شخص سے مذاکرات کرنے میں مصروف ہیں۔‘
پولیس کے مطابق: ’قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ عبادت گاہ میں اور لوگ بھی موجود ہیں لیکن کسی کو نقصان پہنچنے کے حوالے سے کوئی اطلاع موجود نہیں ہے۔‘
ایک قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار نے اسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اس شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ مسلح ہے تاہم وہ تاحال اس کی تصدیق نہیں کر سکے۔
خیال رہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے دو اہلکاروں نے آغاز میں اسوسی ایٹڈ پریس کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ اس وقت عبادت گاہ میں راہب سمیت کم سے کم چار افراد موجود ہیں۔
سکیورٹی اہلکاروں نے امریکی میڈیا کو یہ بھی بتایا کہ اس شخص کو امریکہ میں قید پاکستانی خاتون کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے بھی سنا گیا جو اس وقت امریکہ میں 86 برس کی قید کاٹ رہی ہیں۔
وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری جین پساکی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ صدر جو بائیڈن کو ’ڈیلاس کے علاقے میں ہونے والے اس واقعے کی بدلتی صورتحال سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔‘
عبادت گاہ کے گرد موجود مقامی افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا جا رہا ہے۔
اسرائیل کے وزیرِاعظم نفتالی بینیٹ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ‘میں نے کولیویل، ٹیکساس کے کانگریگیشن بیتھ اسرائیل میں یرغمال بنانے کے واقعے کی صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے۔ ہم یرغمال بنائے گئے افراد اور ان کو ریسکیو کرنے والوں کے تحفظ کے لیے دعاگو ہیں۔’
کولیویل کے محکمہ پولیس نے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے گیارہ بجے ایک ٹویٹ میں کہا کہ وہ کانگریگیشن بیتھ اسرائیل نامی عبادت گاہ پر ایک ’سپیشل ویپنز اینڈ ٹیکٹکس (سواٹ) آپریشن‘ کر رہی ہے۔
تاہم دو گھنٹے گزرنے کے بعد محکمے نے بتایا ہے کہ اس وقت تک بھی ’کارروائی جاری ہے۔‘
ٹویٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ہم آپ سے درخواست کریں گے کہ آپ اس علاقے میں جانے سے گریز کریں۔ ہم آپ کو سوشل میڈیا کے ذریعے باخبر رکھیں گے۔‘
فیس بک پر صبح ہونے والی عبادت کی لائیو سٹریم کے دوران ایک شخص کو اونچی آواز میں بولتے سنا جا سکتا ہے۔ وہ اس دوران کہہ رہے ہیں ’میری بہن سے فون پر میری بات کروائیں‘ اور ’میں مر جاؤں گا‘۔
انھیں یہ بھی کہتے سنا گیا کہ ’امریکہ کے ساتھ کچھ غلط ہے۔‘
بیری کلومپس جو سنہ 1999 میں اس عبادت گاہ کے قیام کے بعد سے اس کے اراکین میں سے ہیں نے کہا کہ انھیں اس واقعے کے بارے میں ایک اور رکن کی جانب سے بتایا گیا اور انھوں نے فوراً لائیو سٹریم لگا لی۔
کلومپس نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’یہ سب کچھ دیکھنا اور سننا خاصا تکلیف دہ تھا، لیکن اس بارے کچھ بھی معلوم نہ ہونا اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔‘
عافیہ صدیقی کون ہیں؟
ڈاکٹر عافیہ کو جولائی 2008 میں افغان پولیس نے کیمیائی اجزا اور ایسی تحریریں رکھنے پر گرفتار کیا تھا جن میں نیویارک پر حملے کا ذکر تھا جس میں بھاری جانی نقصان ہو سکتا تھا۔
حکام کے مطابق ڈاکٹر عافیہ نے کیمیائی اجزا اور نیویارک میں حملے کے بارے میں تحریروں کی برآمدگی کے بارے میں سوال پوچھے جانے پر رائفل اٹھا کر فوجیوں پر گولیاں چلائیں۔ اس حملے میں کوئی امریکی زخمی نہیں ہوا تھا۔
ڈاکٹر عافیہ کے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ عافیہ نے بدحواسی کی کیفیت میں رائفل چھینی اور فائرنگ کی۔ ان کا موقف تھا کہ عافیہ کے اس عمل کا دہشت گردی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بنتا۔
عافیہ صدیقی کو ایک امریکی عدالت نے افغانستان میں امریکی فوج اور حکومت کے اہلکاروں پر مبینہ طور پر قاتلانہ حملے اور قتل کی کوشش کے سات الزامات میں مجرم قرار دیا تھا اور انھیں 86 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

