کوئٹہ : منگل کی صبح مستونگ میں دشت کے علاقے میں جعفر ایکسپریس کی بوگیاں دھماکے کی وجہ سے پٹری اتر جانے کے بعد نہ صرف اتوار کو جعفر ایکسپریس اپنے منزل تک نہیں پہنچ سکی بلکہ محکمہ ریلویز کی جانب سے دیگر ٹرینوں کی معطلی کا شیڈول جاری کردیا گیا۔دھماکے کے بعد ٹرین واپس کوئٹہ بھیج کر مسافروں کو اتار دیا گیا ۔
ریلویز کے مقامی ترجمان کے مطابق 11 اگست اور 14 اگست تک کوئٹہ سے ٹرین آپریشن بند رہے گا جبکہ 13 اور 14 اگست کو پشاور سے کوئٹہ آنے والی ٹرینیں معطل رہیں گی۔
اس دھماکے کے باعث گذشتہ روز کراچی سے کوئٹہ آنے والی بولان میل کو بھی معطل کیا گیا۔
ریلویز کے مقامی ترجمان کا کہنا ہے کہ کراچی سے 10اگست کو بولان میل کو کوئٹہ کے لیے روانہ ہونی تھی لیکن تعطل کی وجہ سے اب وہ 16 اگست کو کوئٹہ کے لیے روانہ ہو گی۔
جب ٹرینوں کی معطلی کی وجوہات جاننے کے لیے حکومت بلوچستان کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کوئی تبصرہ کرنے کی بجائے کہا کہ اس سلسلے میں ریلویز کے حکام سے رابطہ کیا جائے۔
کوئٹہ میں ریلویز کے ڈی ایس عمران حیات سے بھی اس سلسلے میں فون پر رابطہ کیا گیا لیکن انھوں نے وجہ بتانے کی بجائے یہ کہا کہ کوئٹہ اور دیگر شہروں کے درمیان ٹرینوں کی معطلی کا شیڈول ریلویز کے ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔
جب لاہور میں ریلویز کے ہیڈ کوارٹرز میں محکمے کے ترجمان سے فون پر رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ متعلقہ حکام سے بات کرکے جواب دیں گے لیکن تاحال ان کا جواب نہیں آیا ۔
کوئٹہ میں ریلویز کے ایک سینیئر اہلکار نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹرینوں کی معطلی کی ایک وجہ سکیورٹی خدشات ہیں جبکہ گذشتہ روز جو دھماکہ ہوا تھا اس کے بحالی اور مرمت کے لیے بھی کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔
( بشکریہ :بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

