اہم خبریں

سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر دو ہزار افراد کا رزق چھین لیا گیا

کراچی : سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے پیپلز پارٹی دور میں بھرتی کیے گئے سرکاری ملازمین کی بحالی سے متعلق پارلیمنٹ کا ایکٹ منسوخ کیے جانے کے بعد ان ملازمین کی برطرفیوں کا عمل شروع ہو گیا ہے اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) نے تقریباً 2000 ملازمین کا رزق چھین لیا ہے ۔سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بحال ملازمین کو فوری طورپرفارغ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔سوئی سدرن گیس کمپنی نے حکم نامہ جاری کردیا ہے جس پر منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) سوئی سدرن عمران منیار نے دستخط کیے ہیں۔
قبل ازیں 17 اگست کو سپریم کورٹ نے پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں ایکٹ 2010 ء کے ذریعے بحال ہونے اور ترقی پانے والے سول ایوی ایشن ،پاکستان ٹیلی کمیونیکشن ،انٹیلی جنس بیورو اور ٹریڈنگ کارپوریشن سمیت 72 اداروں کے ملازمین سے متعلق تفصیلی ٖفیصلہ جاری کیا تھا ۔ عدالت عظمی نے مذکورہ بالا ملازمین کی بحالی اور ترقی سے متعلق ’’برطرف ملازمین (بحالی ) آرڈیننس ‘‘ایکٹ 2010 ء کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ایکٹ 2010ء کے ذریعے ملازمین کو ملنے والے فوائد فوری رو ک دینے کا حکم دے دیا ۔
سپریم کورٹ سے جاری تفصیلی فیصلے میں قرار دیا گیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بنایا جانے والا ایکٹ 2010 ء ایک خاص طبقے کو فائدہ پہنچانے کے لئے تھا،2010 ء ایکٹ کے ذریعے ریگولر ملازمین کی حق تلفی کی گئی،برطرف ملازمین بحالی ایکٹ 2010 ء کالعدم قرار دیا جاتا ہے ۔ عدالت عظمی نے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ برطرف ملازمین بحالی ایکٹ 2010 ء سے فائدہ حاصل کرنے والے ملازمین اپنی سابقہ پوزیشن پر واپس جائیں گئے ۔ عدالت عظمی نے مذکورہ برطرف ملازمین کی بحالی کے بعد یکمشت(ایک ساتھ ) ہونے والی ادائیگیاں واپس لینے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ بحالی ایکٹ 2010 ء کے ذریعے ترقی پانے والے ملازمین کو عہدوں پر کام کے باعث ملنے والے فوائد واپس نہ لئے جائیں۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ایکٹ 2010 ء کے ذریعے بحال ہونے کے بعد ریٹائر ہونے والے ملازمین پر عدالت عظمی کے فیصلے کا اطلاق نہیں ہوگا۔42 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس مشیر عالم نے تحریر کیا ہے ۔ عدالت عظمی نے دسمبر 2019ء کو مذکورہ کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
واضح رہے کہ پیپلزپارٹی نے نے 2010 میں اپنے دور حکومت میں ایکٹ 2010 ء کے تحت سینکڑوں ملازمین کو بحال کرتے ہوئی ترقیاں بھی دی تھیں۔ سول ایوی ایشن ،پاکستان ٹیلی کمیونیکشن ،انٹیلی جنس بیورو،ٹریڈنگ کارپوریشن سمیت 72 اداروں کے ملازمین نے درخواستیں دائر کی تھی۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker