کالملکھاریوجاہت مسعود

بادل گہرے ہیں لیکن آسمان نیلا ہے۔۔ وجاہت مسعود

ہم دیکھتے ہی دیکھتے ایک طوفان بلا خیز کے دہانے پر آن کھڑے ہوئے ہیں۔ دیوہیکل قوتوں میں یہ کھلی کشمکش کوئی قدرتی آفت نہیں ہے۔ ہم نے عشروں پر پھیلی غلطیوں اور غفلتوں کے ایک خوفناک تسلسل سے قوم اور ریاست کے دفاعی دمدموں کو ایک ایک کر کے مسمار کیا۔ اب ہمارا بحران ہمہ جہتی ہے۔ آئینی پیچیدگیاں ہیں۔ قانونی الجھنیں ہیں، معاشی چیلنج ہیں، سیاسی انتشار ہے، تمدن میں افلاس ہے، بین الاقوامی تناظر کی پیچ در پیچ نزاکتیں ہیں۔ منصب وقار کھو بیٹے ہیں۔
اداروں پر اعتماد متزلزل ہو گیا ہے، اقدار اٹھ چکی ہیں۔ یہ ملبہ سمیٹا جا سکتا تھا اور ایک عمارت تعمیر ہو سکتی تھی لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے انسانی سرمائے کی قدر گر گئی ہے۔
جو زمیں کا بوجھ اٹھانے کی بصیرت اور صلاحیت رکھتے تھے، انہیں بے دست و پا کر دیا گیا ہے۔ پیوستہ مفادات کی آبیاری کے لئے زندگی کے تمام شعبوں میں جن بالشتیوں کو ترجیح دی گئی، وہ بحران کی سنجیدگی کو سمجھنے سے بھی قاصر ہیں۔
قومی تاریخ کے اس موڑ پر کسی بڑے تصادم سے بچ کر نکل جانا معجزے سے کم نہیں ہو گا۔ قوموں کی تعمیر ایک سائنس ہے۔ اس سائنس کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کیا جائے تو نتائج ہماری خواہشات کے تابع نہیں ہوتے۔
پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کی خلاف ورزی کے مقدمے کا فیصلہ سامنے آ گیا ہے۔ یہ فیصلہ 31 جولائی 2009 کو عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کا تسلسل ہے جس میں جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 14 رکنی بنچ نے جنرل پرویز مشرف کے 3 نومبر 2007 کو آئین معطل کر کے عبوری آئینی حکم نافذ کرنے کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو بغاوت کا مقدمہ قائم کرنے کا حکم دیا تھا۔
یہ وہ فیصلہ ہے جس کی نوید بانی پاکستان نے 14 جون 1948 کو اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کرتے ہوئے دی تھی۔ قائد اعظم نے لکھی ہوئی تقریر ایک طرف رکھ کر فرمایا تھا کہ ’آپ کے چند اعلیٰ افسروں سے بات چیت سے مجھے اندازہ ہوا ہے کہ وہ (افسر) مسلح افواج کے حلف کی اہمیت کو پوری طرح نہیں سمجھتے۔
یہ حلف محض رسمی کارروائی نہیں، اس کا مطلب ہے کہ اختیار کا سرچشمہ پاکستان کی حکومت ہے‘۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ اس وقت قائد اعظم کے پہلو میں سینئر ترین پاکستانی افسر لیفٹیننٹ کرنل یحییٰ خان تھے۔
خصوصی عدالت کے اس فیصلے کے انتظار میں پاکستان کی تین نسلوں کے بال سفید ہوئے ہیں۔ ایوب خان رخصت ہوئے تو اپنا ہی تخلیق کردہ آئین بھی منسوخ کر گئے۔ عاصمہ جیلانی کیس میں جسٹس حمود الرحمن نے یحییٰ خان کو غاصب قرار دیا تو 1973 کا آئین موجود تھا اور نہ آرٹیکل چھ دستیاب تھا۔ ضیاالحق وردی، اقتدار اور زندگی سے ایک ساتھ ہی سبکدوش ہوئے۔ جنرل پرویز مشرف کو اقتدار سے رخصت ہوئے گیارہ برس ہو گئے۔ فروری 2014 سے شروع ہونے والا یہ مقدمہ ساڑھے پانچ برس چلتا رہا۔
جنرل صاحب کو سنائی گئی سزا ایک فرد کے غیر آئینی اقدام سے تعلق رکھتی ہے۔ پاکستان کے جمہوریت پسند شہریوں نے چار آمریتوں کی آزمائش سے گزرتے ہوئے مارشل لا کو ہمیشہ افواج پاکستان سے الگ رکھ کے آمریت کی مزاحمت کی۔ افواج پاکستان قوم کا اٹوٹ حصہ ہیں۔
عوام کا حق حکمرانی غصب کرنے کی مزاحمت کو فوج کی مخالفت کیسے سمجھا جا سکتا ہے۔ فاطمہ جناح نام لے کر ایوب خان کی مخالفت کرتی تھیں۔ بھٹو صاحب نے بوناپارٹ ازم کی اصطلاح اختیار کی۔ بے نظیر بھٹو ہسپانوی زبان کے لفظ جنتا (junta) کا سہارا لیتی تھیں۔ نواز شریف مشرف آمریت کہتے تھے۔ یہ پاکستان سے وفاداری کا تقاضا تھا تاکہ افواج پاکستان کے ڈسپلن پر حرف نہ آئے۔ عزیزو، دستور کی حفاظت کا حلف تو واحد شہری کے طور پر اٹھایا جاتا ہے، اجتماعی مفاد کی جتھے بندی اس حلف کے منافی ہے۔
دیکھیے، کسی ایک منتخب وزیراعظم کو آئینی میعاد پوری نہیں کرنے دی گئی۔ سیاست اور سیاست دان کو گالی بنا دیا گیا۔ قائد اعظم کے وارث مشتعل نہیں ہوئے۔ اس لئے کہ عوام کے حق حکمرانی کا مقدمہ کسی فرد یا گروہ کے خلاف سازش نہیں۔ ہم مانگ بھی کیا سکتے ہیں؟ قائد اعظم کا 56 فیصد پاکستان کس سے مانگیں؟ قوم کے 34 سالہ زیاں کا معاشی، سیاسی اور تمدنی تخمینہ کیسے لگایا جائے گا؟ افواج پاکستانی قوم کا حصہ ہیں اور قوم کا کوئی حصہ آئین سے ماورا نہیں ہو سکتا۔
یہ ملک آئینی بندوبست سے قائم ہوا اور وفاق کی چار اکائیوں کو ایک لڑی میں پرونے والے دستور کی روشنی ہی میں آگے بڑھ سکے گا۔ہماری آزادی کو 72 برس بیت گئے۔ آزادی کا مطلب ہے قومی مفاد کے تعین پر عوام کا استحقاق، وسائل کی تقسیم پر اختیار، دستور کی بالادستی، اداروں میں اختیارات کی تقسیم، دستوری اداروں اور انتظامی محکموں میں واضح امتیاز۔ طاقت کی حکمرانی کے نفسیاتی نتائج ہم آج بھی دیکھ رہے ہیں۔ خصوصی عدالت کا فیصلہ ہی دیکھ لیں۔ یہ تاریخ ساز فیصلہ ایک بے احتیاطی سے گہنا گیا۔ پیراگراف 66 کی زبان کا دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ درویش تو انسانی حقوق کا ادنیٰ کارکن ہے اور سزائے موت کا اصولی مخالف ہے۔ عمل درآمد کے ضمن میں اس فیصلے کی اہمیت ایک علامتی اظہار سے زیادہ نہ ہوتی لیکن محترم منصف نے سزا کی تفصیل میں بربریت کا اظہار کر کے عرض مقدمہ پر پانی پھیر دیا۔
نطشے نے کہا تھا، ان لوگوں سے خبردار رہنا چاہیے جن میں انتقام کی بے لگام خواہش پائی جاتی ہو۔ جمہوریت فرد سے انتقام نہیں لیتی، جمہوریت اجتماعی فراست کی مدد سے قوم کے امکان کی دریافت کا راستہ ہے۔ خصوصی عدالت کے فیصلے اور اس پر ردعمل سے معلوم ہو گیا کہ فی الحال بادل گہرے اور سیاہ ہیں۔ لیکن یہ خبر بھی مل گئی کہ بادلوں سے پرے آسمان نیلا ہے اور دریاؤں کا پانی شفاف ہے نیز یہ کہ قوم نیلے آسمان اور ٹھنڈے پانیوں کی وادی کا راستہ پہچانتی ہے۔
( بشکریہ : روزنامہ جنگ )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker