کالملکھاریوجاہت مسعود

عورت مارچ جمہوریت کی لڑائی ہے۔۔ وجاہت مسعود

ستر کی دہائی تھی۔ روز نامہ امروز ایوب آمریت کی تخلیق نیشنل پریس ٹرسٹ کے پتھر تلے سسک رہا تھا۔ دست تہ سنگ آمدہ…. بھٹو صاحب بھی، خدا غریق رحمت کرے، مجموعہ اضداد تھے۔ نیشنل پریس ٹرسٹ کی تحلیل کا وعدہ کیا تھا۔ وزارت اطلاعات مولانا کوثر نیازی کو سونپ دی۔ ببیں تفاوت رہ…. امروز کا سیاسی تشخص تو نصیب دشمناں ہو چکا تھا لیکن تمدنی اور ادبی زاویوں کی کاٹ برقرار تھی۔ اس سائبان تلے روشنی دینے والے ستاروں میں فرزانہ ممتاز بھی تھیں، امروز کے نسواں ایڈیشن کی مدیر۔ 1975 میں عورتوں کا عالمی سال منایا گیا۔ فرزانہ ممتاز نے ایسے ایسے مباحث چھیڑے کہ ایک کم عمر لڑکے کے دل میں صنفی انصاف کی شمع روشن کر دی۔ ضیا آمریت کی اجتماعی ذلت، صحافیوں کی بے مثال مزاحمت، حدود آرڈیننس کی خجالت اور ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے قومی جرم سے ہوتے ہوئے تاریخ کی کہانی ایم آر ڈی تک پہنچی۔ تپش گلزار تک پہنچی، لہو دیوار تک آیا…. سیاسی جماعتیں کالعدم تھیں، عقوبت خانے آباد تھے، سیاسی کارکن کو تخریب کار کہا جاتا تھا۔ اخبارات پر کڑی سنسرشپ تھی۔ عبوری آئینی حکم مسلط کیا جا چکا تھا، کوئی ویرانی سی ویرانی تھی۔
پاکستان خوش قسمت ہے کہ جہاں قوم پر مشکل وقت آیا، اس ملک کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں مزاحمت کی تصویر بن گئیں۔ 1982 کے آخری مہینوں میں ضیا آمریت نے قانون شہادت میں ترمیم کا مسودہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا۔ مجوزہ آرڈیننس سے عورتوں کی قانونی حیثیت پر کاری ضرب لگتی تھی۔ لاہور کی بہادر عورتوں نے آدھی گواہی کے خلاف 12 فروری 1983 کو فری میسن بلڈنگ سے وہ جلوس نکالا جس نے کوئی تین سو گز دور ریگل چوک تک پہنچتے پہنچتے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کی بھگدڑ میں چادر اور چار دیواری کے چہرے سے منافقت کا نقاب نوچ لیا۔ فروری 1983 کی سہ پہر اس کریہ منظر کو دیکھنے والی آنکھ نے گزشتہ اتوار لاہور ہی میں پھولوں کی جان فزا بہار دیکھ لی۔ سینکڑوں نوجوان بچے بچیاں اس آزادی کی طلب میں نعرے لگاتے اور گیت گاتے آگے بڑھے جن کے انتظار میں فیض صاحب نے ایرانی طلبہ کا نوحہ لکھا تھا، یہ طفل و جواں / اس نور کے نو رس موتی ہیں…. ایک نوجوان بیٹی اپنی ضعیف ماں کی وہیل چیئر دھکیل رہی تھی۔ ایک باپ اپنی دو برس کی بیٹی کو پرام میں لے کر چل رہا تھا اور بچی کی ماں پیشوائی کر رہی تھی۔ تمتماتے چہروں والے بیٹے بیٹیوں کے ہمراہ سفید بالوں والے ماں باپ آئے تھے۔ صنفی مساوات، شخصی آزادی اور معاشی انصاف کی جوت کو روشن دیکھ لیا، اب آنکھ لگے یا نہ لگے، اپنی بلا سے۔ یہ امانت اگلی نسل کو منتقل ہو گئی۔ فروغ گلشن و صوت ہزار کے خواب کی اس سے بہتر تعبیر ممکن نہیں۔
اس بحث سے غرض نہیں کہ کون سا نعرہ مناسب تھا اور کونسا مفروضہ حدود سے آگے نکلتا ہوا۔ نعرہ تو احساس کی وہ چیخ ہے جو پنچایت کے مکھیا سے پوچھ کر حلق سے برآمد نہیں ہوتی۔ اگر کسی کو قوم کے اس دھارے کی فکری، ثقافتی اور اخلاقی بنت سے ایسا ہی نفور ہے تو وہ جماعت اسلامی کے بہن بھائیوں کے ساتھ جا کھڑا ہو۔ وہ بھی ہمارے عزیز بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔ محترم سراج الحق نے یوم خواتین پر جو مطالبات پیش کئے، ان کی اصابت سے کیا انکار۔ یہ کیا کم ہے کہ آٹھ مارچ ہی کے دن جماعت اسلامی کے لعل و گہر بھی عورت کے لئے انصاف مانگنے نکلیں اور روشن خیالی کا جھنڈا اٹھانے والے بھی اپنے خوابوں کو آواز دیں۔ ہماری قوم میں بہت سا تنوع ہے اور یہ ہماری اجتماعی توانائی ہے۔ قطرے شبنم کے ستاروں جیسے، آبجو آبجو دریاؤں میں مل جائیں گے۔
تاریخ کی کرید سے زخموں کی نمائش نہیں کی جاتی۔ آئندہ سفر کی سمت متعین کرنی چاہیے۔ 2020 کے موسم بہار کی قلمیں ہماری ماؤں نے 72 برس پہلے کاشت کی تھیں۔ 29 جنوری 1948 کو پنجاب اسمبلی میں مسلم پرسنل لا کے مسودہ قانوں پر بحث پر تجویز سامنے آئی کہ عورتوں کو پردے کا پابند کیا جائے۔ اس پر بہت گرد اڑی۔ بیگم رعنا لیاقت، بیگم شاہنواز، طاہرہ مظہر علی اور اصغری منظور قادر نے ڈٹ کر مخالفت کی۔ اس پر منبر و محراب سے ایک مہم شروع ہوئی۔ مولانا داؤد غزنوی نے ’عورتوں سے بذریعہ قانون حقیقی اسلامی پردہ‘کروانے کا مطالبہ کیا۔ دو مارچ کو وزیر آباد کی جامع مسجد بازار کلاں میں پیرزادہ بہاؤالحق قاسمی امرتسری نے ’سنیما میں عورتوں کے تھرکنے، ناچنے، ریڈیو پر گانے بجانے نیز بے پردگی اور بے حیائی‘ کو جرم قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ اینگلو محمڈن مسلمان کی ہتک آمیز اصطلاح کی آڑ میں قائد اعظم اور لیاقت علی پر رکیک حملے کئے گئے۔ ردعمل میں 3 اپریل 1948ءکو بیگم لیاقت علی کی سربراہی میں عورتوں نے لاہور میں ایک اجتماع منعقد کر کے صنفی مساوات کا مطالبہ کیا۔ بیگم لیاقت علی خان نے کہا کہ ’اگر حکومت پردے کو لازمی قرار دینے کا قانون بناتی ہے تو سب سے پہلے میں اس قانون کو توڑ کر خود کو گرفتاری کے لئے پیش کروں گی‘۔ کیا تعجب کہ شہید ملت لیاقت علی خان کے قاتل سید اکبر کے گھر سے تعمیر اور نوائے وقت کے وہ اداریے برآمد ہوئے جن میں بیگم لیاقت علی پر شرمناک حملے کئے گئے تھے۔
جنوری 65ء کے صدارتی انتخاب میں مادر ملت فاطمہ جناح سامنے آئیں۔ 78ء میں قذافی اسٹیڈیم لاہور میں بیگم نصرت بھٹو کو لہو لہان کیا گیا۔ غلیظ کردار کشی سے بہادرانہ شہادت تک بے نظیر بھٹو کی بہادری میں کیا شک؟ جب شیخ رشید کے بقول ’مردوں کے صوبے پنجاب‘ کے غیرتمند گھروں میں جا بیٹھے تو لاہور میں مرحومہ کلثوم نواز نے مزاحمت کی۔ اہل نظر جانتے ہیں کہ عوام دشمن قوتوں کو آج بھی کسی چوہدری یا سردار سے خطرہ نہیں، ووٹ کی لڑائی کو مریم نواز نے متشکل کیا ہے۔
عورت کے حقوق کی لڑائی مرد اور عورت کا جھگڑا نہیں، جمہوریت اور آمرانہ رویوں میں وہ کشمکش ہے جس میں پیوستہ مفادات نے حیلے بہانے سے ملک کی آدھی آبادی پر بند باندھ رکھا ہے۔ یہ دریا مصنوعی پشتے توڑ کر نکلے گا تو جمہوریت کی بالادستی ، معاشی انصاف اور شہری آزادیوں کو وہ اخلاقی قوت ملے گی جس کے منہ زور دھارے میں غیر آئینی عزائم اور غیر منصفانہ مفادات کے دمدمے منہدم ہو جائیں گے۔ اپنے جسم پر شرمسار شہریوں کا ذہن آزاد نہیں ہوا کرتا۔ عورت مارچ جمہوریت کی لڑائی کا مورچہ ہے، غیرت کا حقیقی مفہوم اس مورچے کی حفاظت میں سینہ سپر ہونا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker