کالملکھاریوجاہت مسعود

وجاہت مسعود کا ناقابل اشاعت کالم۔۔وجاہت مسعود

مانٹریال کے پولی ٹیکنیک سکول میں 6 دسمبر 1989 معمول کا دن تھا۔ انجنیئرنگ کے طلبا اور طالبات درس و تدریس میں مصروف تھے۔ سہ پہر 5 بج کے دس منٹ پر ماخت لپینو (Marc Lépine) نام کا 35 سالہ مسلح شخص دوسری منزل کے ایک کمرہ جماعت میں داخل ہوا۔ یہاں نو طالبات سمیت ساٹھ طالب علم موجود تھے۔ حملہ آور نے طالبات اور طلبا کو علیحدہ کر کے طالبات پر فائرنگ شروع کر دی۔ چھ بچیاں موقع پر ہلاک ہو گئیں۔ اس دوران حملہ آور نعرے لگاتا رہا ۔ I hate feminists. I am fighting feminists. (مجھے فیمنسٹوں سے نفرت ہے۔ میں فیمنسٹوں سے جنگ کر رہا ہوں)۔ اگلے بیس منٹ میں حملہ آور نے درسگاہ کے برآمدوں اور کیفے ٹیریا میں درجنوں طالبات پر گولیاں برسانے کے بعد خود کو گولی مار لی۔ چودہ طالبات ماری گئیں۔ حملہ آور نے اپنی خود کش تحریر میں کسی ذاتی عداوت کی تردید کرتے ہوئے اپنے فعل کو سیاسی جدوجہد قرار دیا تھا۔
اس واقعے کے دو برس بعد Center for Women’s Global Leadership نے فیصلہ کیا کہ ہر برس 25 نومبر سے دس دسمبر تک صنفی تشدد کے خلاف آگہی کی سولہ روزہ مہم چلائی جائے گی جس کا مقصد 2030 تک عورتوں پر ہر قسم کے تشدد کو ختم کرنا ہے۔ ہمارے ملک میں اس برس اس مہم کی خاص اہمیت ہے کہ ہم کم سن بچے بچیوں پر جنسی تشدد، اغوا اور مذہب کی جبری تبدیلی کی خوفناک لہر سے دوچار ہیں اور یہ بحران ہماری سیاسی صورت حال سے جڑا ہوا ہے۔ مانٹریال کے حملہ آور خود کو ایک سیاسی موقف کا حامی قرار دیتا تھا، صنفی تشدد اور امتیاز کے خلاف آگہی کی مہم اعلان کرتی ہے کہ مہذب انسان ماخت لپینو کے سیاسی موقف کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں۔
کسی ریاست کے اجتماعی سیاسی بندوبست کی نوعیت نچلی ترین سطح پر افراد کے رویے تشکیل دیتی ہے۔ کسی معاشرے کی بنیاد کے دو ہی اصول ممکن ہیں، جسمانی طاقت (Kinetic Force) یا دلیل پر مبنی مکالمہ۔ عورتوں کے حقوق دلیل کی ثقافت ہیں۔ صنفی امتیاز کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ حقوق، رتبے اور اختیار کا سرچشمہ دلیل نہیں، طاقت، دھمکی اور تشدد ہے۔ ریپ فرد پر تشدد کی بدترین صورت ہے اور یہ جرم قومی سطح پر آمریت کی صورت اختیار کرتا ہے۔ ریپ رضاکارانہ تائید کی نفی ہے۔ قوم کی مرضی کے بغیر بندوق کے بل پر اقتدار چھیننا آمریت ہے۔ شہری کو ریپ کے خوف سے آزاد کرنے کے لئے ضروری ہے کہ قوم کو آمریت کے خوف سے نجات دلائی جائے۔ یہ درست ہے کہ جمہوری ریاستوں میں بھی ریپ ممکن ہے، فرق یہ ہے کہ جمہوری ریاست ریپ کے جرم کی اصولی مخالف ہے۔ آمریت بدترین اجتماعی ریپ کی پشتی بان ہونے کے ناتے فرد کے ریپ کی کماحقہ دادرسی نہیں کر سکتی۔
اگلے روز ہمارے برادر بزرگ نے کالم میں لکھا کہ سوویت یونین میں ریپ نہیں ہوتا تھا۔ لاحول ولا قوة…. خروشچیف کی خود نوشت ہی دیکھ لی ہوتی۔ اسٹالن کے عہد میں بارہ برس تک سوویت شہریوں کی عزت و آبرو کا محافظ اور سیکورٹی چیف لیورانچی بیریا سکول کی سینکڑوں بچیوں کے اغوا اور ریپ کا مجرم تھا۔ درویش سمجھتا ہے کہ مطلق اقتدار اپنی بے معنویت کے خلا میں ناگزیر طور پر ریپ کی کھائی میں اترتا ہے۔ ریپ محض چاقو دکھانے اور مار پیٹ کا نام نہیں، اس جرم کی تعریف میں خوف اور لالچ دونوں شامل ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ جنگ اور ریپ میں چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔
آمرانہ ریاستیں ریپ جیسے جرم کا علاج عبرت ناک سزاؤں میں تلاش کرتی ہیں۔ ایک وجہ تو یہ کہ اقتدار کی چوٹی پر فائز افراد اور طبقات کو ان سزاؤں کا اندیشہ نہیں ہوتا اور دوسرے یہ کہ سخت جسمانی سزائیں بذات خود طاقت کے اصول کی توسیع ہیں۔ جرم کے محرک کی بجائے واقعے کو مرکزہ تسلیم کر کے چلیں تو جرم اور سزا کا سلسلہ شانہ بشانہ چلتا رہتا ہے۔ پھانسی گھاٹ بھی آباد رہتا ہے اور جرم بھی جاری رہتا ہے۔ گزشتہ روز (26 نومبر) کابینہ کی متعلقہ کمیٹی نے اینٹی ریپ آرڈیننس (2020) کی منظوری دے دی ہے۔ اب ہم اس عدلیہ سے ریپ کے مقدمات میں عبرت ناک سزاؤں کے ذریعے انصاف کی توقع باندھیں گے جس نے قوم کی بے حرمتی اور آئین کے قتل پر ہمیں عشرہ در عشرہ مایوس کیا ہے۔ یہ آلودہ اور نمدار قلم سزا تو لکھ سکتا ہے، انصاف نہیں دے سکتا۔ اس لئے کہ اس ملک میں عدل کی تاریخ پر آمریت کو مفید مطلب مشاورت کے دھبے ہیں۔ ڈوسو کیس میں ہانس کیلسن کا مثلہ کیا، 60ء میں ایوب خان کو مشورہ دیا کہ مجوزہ آئین پر عوامی جلسوں میں ہاتھ اٹھوا کر تائید لی جائے۔ جولائی 77ء میں آئین شکنی کو آئینی تعطل کی اصطلاح بخشی۔ 85ء میں ضیاالحق کو ریفرنڈم کا سوال مرتب کر کے دیا۔ میری آہیں بخیہ چاک گریباں ہو گئیں….
آمرانہ ریاست قوم کی توقیر سے انکار کرتی ہے، کسی شہری کے ریپ اور بے حرمتی کی دادرسی نہیں کر سکتی۔ ہم نے تو ننگی طاقت کو لشکر کا علم بنائے رکھا ہے۔ 1958ء میں سکندر مرزا کو دھمکی دی کہ ابھی تمہاری پہلی بیوی رفعت بیگم اور بچے پاکستان میں ہیں۔ عرفان اللہ مروت اور شازیہ خالد والے قصے دہرانا بھی باعث ندامت ہے۔ 2000ء میں حمزہ شریف کو پاکستان میں یرغمال رکھ لیا تھا۔ اکتوبر 2007ءمیں بے نظیر بھٹو سے ٹیلی فون پر کہا کہ تمہاری سلامتی تمہارے تعاون سے مشروط ہے۔ عورت کی عزت، ووٹ کی عزت سے بندھی ہے۔ ووٹ کی عزت کی تحریک حتمی تجزیے میں اٹھارہویں ترمیم کے تحفظ سے جڑی ہے۔ یہ ترمیم پاکستان کے وفاق کی ضمانت ہے۔ محسن داوڑ سے آنکھ مچولی کرنے والی سیاسی قیادت سے پوچھنا چاہیے کہ آپ کے جلسے اقتدار تک رسائی کا زینہ ہیں یا آپ ریپ اور صنفی تشدد سے آزادی کے لئے باہر نکلے ہیں۔ کورونا کی جبری قرنطینہ تنہائی میں عورت پر تشدد اور آئین کے ریپ میں تعلق پر غور کرنے کا اچھا موقع ہے۔
ٌ(بشکریہ:ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker