کالملکھاریوجاہت مسعود

وجاہت مسعودکا کالم۔۔عربی زبان کی تعلیم اور ہمارا اخلاقی کردار

سینیٹ کے نصف ارکان کی مدت ختم ہو رہی ہے۔ چند ہفتوں میں نصف مدتی انتخاب ہو گا تو اپنی میعاد مکمل کرنے والے 52 ارکان میں سے ’کچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے، کچھ اپنی جزا لے جائیں گے‘۔ جزا سے ناامید ایک رکن نے جاتے جاتے ایک ایسا مسودہ قانون ایوان بالا سے منظور کروایا ہے گویا ثریا ہی دکھا دی۔ ثریا سے نرگس، مینا کماری اور مادھو بالا کی ہم عصر اداکارہ نہیں بلکہ فلک مراد ہے۔ وہی ناہنجار فلک جس نے بندگان خاکی سے دشمنی پر کمر باندھ رکھی ہے۔ حکم ہوا ہے کہ وفاقی حکومت کے زیر انتطام تعلیمی اداروں میں عربی لازمی مضمون کے طور پر پڑھائی جائے گی۔
اس مسودہ قانون پر سنجیدگی کا یہ عالم تھا کہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اجلاس میں موجود ہی نہیں تھے اور نہ انہوں نے اس انقلابی قدم پر کہیں لب کشائی کی زحمت فرمائی۔ حکمران جماعت کے ایک رہنما اردو میں شعلہ بیانی کی شہرت رکھتے ہیں، تاہم اس موقع پر انہوں نے پشتو اور انگریزی زبان میں عربی زبان کے مدارج بلند کیے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق جذبات میں اس قدر مغلوب ہوئے کہ عربی کو سرکاری زبان قرار دینے کا مطالبہ کر ڈالا۔ سات دہائیوں سے اردو کی مدح جوش ایمانی میں یکلخت فراموش کر دی۔ ’سرکاری زبان‘ کے دستوری مفہوم پر نگاہ رکھنے کی زحمت تک نہیں کی۔ جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار۔ وہی فرزند عقل و خرد رضا ربانی…. انہوں نے عقیدے اور زبان میں تعلق کی تردید کی۔ زبان اور ثقافت کا رشتہ واضح کیا۔ وفاقی اکائیوں کے تنوع سے ابھرنے والے قومی تشخص کے زاویے بیان کیے۔ رضا ربانی قسمت کے ہیٹے ہیں۔ کبھی زرداری صاحب کی ’خوش بصری‘ کے نشانے پر آتے ہیں تو کبھی اپنے ہی کسی ’خوش عقیدہ‘ ساتھی کا وار سہتے ہیں۔ مخالفت بھی کی تو رحمن ملک نے۔
ریاست پاکستان نے دستور کی شق 25 (الف) میں لازمی اور مفت تعلیم کا وعدہ کیا ہے۔ اگرچہ یہ وعدہ ایفا نہیں ہوا اور ایسا ہونے کی امید بھی نہیں، تاہم یہ تو سمجھنا چاہیے کہ اس دستوری ضمانت سے ریاست کا منشا کیا ہے۔ پاکستان کی نوجوان نسل اس قابل ہو سکے کہ حصول روز گار کے علاوہ ذہنی اہلیت، علمی استعداد اور تیکنیکی مہارتوں میں ہم عصر دنیا کا مقابلہ کر سکے تاکہ معیشت اور علم کی دنیا میں اپنا جائز حصہ لے سکے۔ یہ محض سادہ لوحی ہے کہ ہمارے ملک میں قدرتی وسائل کی بہتات ہے۔ ہمارے قدرتی وسائل نہ صرف محدود ہیں بلکہ قدرتی وسائل کے بل پر معاشی ترقی کا عہد گزر چکا۔ اب معیشت انسانی سرمائے یعنی شہریوں کی علمی استطاعت سے بندھی ہے۔ ہماری آبادی میں اضافے کی سرکاری شرح 2.04 فیصد ہے اور شہریوں کی اوسط عمر 22.8 برس ہے۔ گویا 23 کروڑ کی آبادی کے ساتھ ہمارا اصل سرمایہ ہماری نوجوان نسل ہے۔ ہم شرح خواندگی (59 فیصد) میں دنیا کے دس پسماندہ ترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ عالمی سطح پر شرح خواندگی کی اوسط 86.3 فیصد ہے۔ ہر برس پبلک سروس کمیشن ہمارا تعلیمی معیار بیان کرتا ہے، اب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے بھی پی ایچ ڈی نوجوانوں کی قابلیت پر رائے دی ہے جسے دہرانا باعث شرمندگی ہو گا۔
200 برس سے انگریزی زبان سیکھ رہے ہیں۔ عملی طور پر ملک کی بیشتر آبادی اردو یا علاقائی زبانوں میں تعلیم پا رہی ہے۔ کسی بھی زبان میں ہماری اہلیت معیاری نہیں۔ اس پسماندگی کا تعلق کسی خاص زبان سے نہیں، ہم نے تعلیم کا منصب سمجھا اور نہ اسے ترجیح جانا۔ تعلیمی سہولیات مفقود اور طریقہ تعلیم فرسودہ ہے۔ نصاب ہمارے ریاستی بیانیے کے تابع ہے۔ قریب سو فیصد شرح خواندگی کے باوجود اشتراکی بلاک سرمایہ دار دنیا کا مقابلہ نہ کر سکا۔ اس کی بنیادی وجہ تین انسانی آزادیوں میں باہم تعلق سے غفلت تھی۔ درس گاہ میں تعلیمی آزادی، میڈیا میں اظہار کی آزادی اور سیاسی اقتدار میں شہریوں کے لئے شرکت کی شفاف آزادی۔ یہ وہ تین زاویے ہیں جن سے قوم کے افراد کا اخلاقی کردار تعمیر ہوتا ہے۔
تعلیم کو کسی خاص اخلاقی نمونے سے غرض نہیں۔ معیاری تعلیم بذات خود قوم کا اخلاقی کردار استوار کرتی ہے۔ تعلیم دراصل ریاست کے بندوبست اور شہریوں کے انفرادی کردار میں اعتماد اور ذمہ داری کا پل باندھتی ہے۔ دستور کی شق 20 کے مطابق عقیدے کی آزادی ہر شہری کا انفرادی حق ہے۔ ریاست کسی خاص عقیدے یا سیاسی موقف کے فروغ کا ذمہ اٹھا لے تو تعلیم کی شفافیت گہنا جاتی ہے۔ کٹی پھٹی تعلیم پانے والے شہری عملی زندگی میں حقائق کا سامنا کرنے اور مسائل کا درست حل ڈھونڈنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ذرائع ابلاغ کی آزادی میں خلل ڈالا جائے تو شہری سیاسی فیصلہ سازی میں بامعنی شرکت کے قابل نہیں رہتے۔ ایسی مفلوج ذہنی صلاحیت والی قوم چیلنج اور امکان، دونوں سے عہدہ برا نہیں ہو سکتی۔ اصل مسائل پر توجہ دینے کی بجائے شخصیات اور نعروں کی اسیر ہو جاتی ہے۔ ایسی ریاست کی بیرونی ساکھ باقی رہتی ہے اور نہ اس کے افراد کا اخلاقی کردار مرتب ہو پاتا ہے۔ ایسی قوم کو یکے بعد دیگرے صدمے اٹھانا پڑتے ہیں۔
عربی زبان ہی کو لیجیے۔ ملک کے ایوان بالا نے ایک ایسا قانون منظور کیا ہے جس پر عمل درآمد کا رتی بھر امکان نہیں۔ حقیقی المیہ یہ ہے کہ ایوان بالا میں سوائے ایک رکن کے کسی میں ہمت نہیں ہوئی کہ عقیدے کے نام پر قوم کو یرغمال بنانے کی مزاحمت کرے۔ آپ کو یاد دلائیں۔ بابائے قوم ابھی حیات تھے۔ 27 ستمبر 1947 کو کراچی کے ایک اجتماع میں مرکزی وزیر تعلیم فضل الرحمن، صوبائی وزیر تعلیم پیر الہٰی بخش اور وائس چانسلر اے بی حلیم کی موجودگی میں اعلان ہوا کہ آئندہ سندھ میں پانچویں جماعت کے بعد عربی زبان لازمی مضمون کے طور پر پڑھائی جائے گی۔ ہم وہاں سے چل کر اس ایوان بالا تک پہنچے ہیں جہاں حزب اختلاف کے 14 ارکان کا ضمیر پردے کے پیچھے جاگتا ہے اور حکمران جماعت کو اپنے ہی ارکان کی دیانت پر بھروسا نہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker