کالملکھاریوجاہت مسعود

وجاہت مسعودکاکالم:نااہل پیادہ اور نالائق گھڑسوار

ملک عزیز میں ان دنوں پھر سے نااہلیوں کا موسم ہے۔ کہیں عدل کی غلام گردشوں میں نااہلی کے سرٹیفکیٹ بٹ رہے ہیں تو کہیں سیاسی زعما آئینی نکتے تراش رہے ہیں۔ کچھ معاملات اعلیٰ عدالتوں تک پہنچ چکے اور باقی راستے میں ہیں۔ افواہوں کا بازار گرم ہے۔ بے یقینی کی ان ہواؤں میں درویش معمولی تصرف کے ساتھ غالب نکتہ سنج سے رجوع کرتا ہے۔ ’میں غریب پرچہ نویس برسوں سے فکاہات اور مطائبات لکھنے پر مامور ہوا ہوں۔ خواہی اس کو نوکری سمجھو، خواہی مزدوری جانو۔ اس فتنہ و آشوب میں کسی مصلحت میں، میں نے دخل نہیں دیا، نظر اپنی بے گناہی پر، شہر سے نکل نہیں گیا‘۔ جہاں صاحبانِ اختیار میں تخت یا تختہ ہوتے دیکھا، سامنے کے سوال داخل دفتر کر دیے اور اِدھر اُدھر کے افسانوں سے قرطاس اور ضمیر کو بیک وقت داغ دار کیا۔ اب بھی یہی صورت ہے۔ رنجیت سنگھ کی مطبوعہ مائی موراں کے بعد زمین پنجاب کو ایک بخت آور، اولوالعزم بی بی نصیب ہوئی تھی۔ پردے میں ملفوف، باشرع اور تاحد افق امور سلطنت پہ نظر رکھنے والی، فلک کج رفتار کو یہ بھی گوارا نہ ہوا۔ اب گلی کوچوں میں لڑکے بالے امانت لکھنوی کی اندر سبھا کے ٹکڑے دہراتے پھرتے ہیں۔ ادھر ہم ہیں جنہیں اپنی ہی زمین پر جلاوطنی کی عقوبت تفویض ہوئی ہے۔ حرف قانون میں دخل نہیں، فرمان شاہی پہ اختیار نہیں اور سانس کا بھروسا نہیں۔ سو پرانی کہانیاں کہتے ہیں۔
14 فروری 2017 ء کو خبر آئی کہ حال ہی میں سربراہ افواج پاکستان کے عہدہ جلیلہ پر فائز ہونے والے جنرل قمر جاوید باجوہ نے اعلیٰ فوجی افسروں سے گفتگو میں انہیں Steven I. Wilkinson کی کتاب Army and Nation پڑھنے کا مشورہ دیا ہے۔ 2015 ء میں شائع ہونے والی یہ کتاب بھارت میں جمہوریت کی کامیابی اور فوج کے کردار میں تعلق بیان کرتی ہے۔ کوئی ہفتہ بھر بعد 20 فروری کو اس وقت کے ترجمان افواج جناب آصف غفور نے اس خبر کو من گھڑت قرار دے دیا۔ صاحبان تدبر کا یہی نشان ہے کہ تصدیق اور تردید کے حسن و قبح پر ہفتہ بھر غور کرتے ہیں۔ 2 مئی 2011 ء کی صبح آنے والی خبر پر بھی چھ مئی کو پہلا ردعمل دیا گیا تھا۔ کوئی پڑھے یا نہیں پڑھے، کتاب تو بہرصورت موجود ہے اور اس کا آغاز ہی 12 ستمبر 1946 ء کو پنڈت نہرو کے لکھے ایک خط سے ہوتا ہے۔ نہرو نے یہ طویل مکتوب برٹش انڈین فوج کے سربراہ کلاڈ آکن لیک اور سیکرٹری دفاع کے نام لکھا تھا اور اس کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ آزادی کے بعد ہندوستانی فوج کی ہیئت، ترکیب اور پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ اس موضوع پر نہرو کے خیالات قائداعظم محمد علی جناح کے ان ارشادات سے مختلف نہیں تھے جو انہوں نے 14 جون 1948 ء کو اسٹاف کالج کوئٹہ میں فوجی افسروں سے خطاب کرتے ہوئے ارزاں کئے تھے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد ایک طرف نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کا نقارہ بج گیا۔ دوسری طرف افریقہ، لاطینی امریکہ اور ایشیا میں فوجی بغاوتوں کا سلسلہ چل نکلا۔ 1962ء میں Samuel E. Finer نے سیاست میں فوج کے کردار پر ایک اساسی کتاب لکھی۔ عنوان تھا The Man on the Horseback ۔ ٹھیک ساٹھ برس بعد اس کتاب کے بہت سے مندرجات غیر متعلق ہو چکے ہیں لیکن کچھ بنیادی تصورات آج بھی قابل غور ہیں۔ 1915 ء میں رومانیہ کے ایک غریب یہودی گھرانے میں پیدا ہونے والے سیاسی مفکر پروفیسر فائنر نے قضیہ پیش کیا تھا کہ نوآزاد ممالک میں سیاسی اور تمدنی قوتیں کمزور ہیں چنانچہ وہاں نامیاتی طور پر ارتقا پانے والے معاشروں میں عسکری اور سیاسی قیادت جیسے ہموار تعلق کی توقع محال ہے۔ فائنر نے لکھا کہ جہاں مسلح جدوجہد کے ذریعے آزادی حاصل کی گئی ہے وہاں فوج نے آزادی میں براہ راست شرکت کے تاوان میں اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے۔ تاہم جہاں سیاسی قوتوں نے دستوری اور سیاسی عمل کی مدد سے آزادی حاصل کی ہے وہاں ایک بنا بنایا فارمولا موجود ہے کہ سیاست دان نااہل، بددیانت اور بدعنوان ہیں۔ آگے چل کر اس کتاب میں تمدنی قوتوں پر عسکری بالادستی کے چار درجے بیان کئے گئے تھے۔ ( 1) اثر و رسوخ ( 2 ) بازو مروڑنا ( 3 ) جوڑ توڑ یعنی ایسے حالات پیدا کرنا جن میں سیاسی قوتوں کو اپنی مرضی کے فیصلے کرنے پر مجبور کیا جا سکے ( 4 ) براہ راست قبضہ۔ فاضل مصنف نے ان چاروں نکات کا حقیقی مقصد یہ بیان کیا تھا کہ فیصلہ سازی پر اثر انداز ہو کر زیادہ سے زیادہ وسائل حاصل کئے جائیں نیز ملک کی پالیسیوں کو اس نہج پر رکھا جائے جہاں تمدنی اور سیاسی قوتوں پر عسکری بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس دلچسپ کتاب سے بہت سے نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں۔ تاہم دون کی لینا عاجز فقیر کا شیوہ نہیں۔ پڑھنے والا لکھنے والے سے زیادہ بصیرت رکھتا ہے۔ قیاس کن زگلستان من بہار مرا۔
اس مختصر تحریر میں کم از کم دو مرتبہ نا اہلی کا ذکر آیا۔ یہ تو آپ جانتے ہیں کہ غلام محمد نے خواجہ ناظم الدین کو معزول کرتے ہوئے نا اہلی اور بدعنوانی ہی کا الزام لگایا تھا۔ یہ وہی نصابی فرد جرم ہے جو پچھتر برس میں بارہا دہرائی گئی۔ کوئی ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ نا اہلی تو اپنی اصل میں صلاحیت کی امکانی قدر پیمائی ہے۔ اندازہ لگانا کہ کوئی فرد یا ادارہ دیے گئے فرائض ادا کر سکتا ہے یا نہیں۔ دوسری طرف نالائقی موقع ملنے کے بعد کارکردگی کا موثر بہ ماضی جائزہ ہے۔ علم قانون میں نااہلی کے مدارج تو بیان کئے جاتے ہیں لیکن نالائقی کی جواب دہی کتاب قانون نہیں بلکہ تاریخ میں ہوتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کون سا گھڑ سوار نالائق تھا اور کون سا پیادہ ناکردہ گناہوں کی پاداش میں نا اہل قرار پایا۔
سروں پر ڈال رہے ہیں دیارِ خواب کی خاک
زمیں سے اپنی محبت عجیب ہے کہ نہیں
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker