کالملکھاریوجاہت مسعود

وجاہت مسعود کا کالم:یوم آزادی اور آؤٹ آف کورس سوالات

پاکستان کو آزادی حاصل کئے 75برس مکمل ہو گئے۔ آج سیاسی رہنما حب الوطنی میں نچڑتے بیان جاری کریں گے۔ میڈیا کی قومی وابستگی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ برسوں سے یومِ پاکستان، یومِ آزادی اور یومِ دفاع کے موقع پر اخبارات میں چھٹی کی رسم ختم ہو چکی ہے۔ مذہبی تہواروں پر چھٹی البتہ ہوتی ہے۔ رات گئے نوجوان گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر ہلا گلا کرنے نکلیں گے جس کا قومی آزادی، سیاسی شعور، معاشی ترقی اور شہری ذمہ داریوں سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ اس میں تعجب کیسا؟ ہم نے پون صدی میں ایسا کون سا سیاسی، تمدنی یا معاشی کارنامہ انجام دیا کہ ہمارا شہری قومی آزادی کے مقاصد سے آشنا ہوتا۔ آج کل ہمارے ملک میں کچھ شعبدہ باز آزادی اور غلامی کی دو گیندیں اچھال رہے ہیں۔ اس ناٹک سے قطع نظر آپ کو دو بظاہر مختلف لیکن ناگزیر طور پر منسلک حقائق بتائیں۔
1947ءمیں آزادی کے فوراً بعد دہلی میں انڈین ہسٹاریکل ریکارڈ کمیشن کا پہلا اجلاس مولانا ابوالکلام آزاد کی صدارت میں منعقد ہوا تو ہندوستان کی تحریک آزادی کی مستند تاریخ مرتب کرنے کی تجویز منظور ہوئی۔ طے پایا کہ یہ منصوبہ حکومتی سرپرستی کی بجائے آزاد علما کی نگرانی میں مکمل کیا جائے تاکہ تحریک آزادی کی غیر جانبدار تاریخ لکھی جا سکے۔ ڈاکٹر تارا چند کی سربراہی میں برسوں کی عرق ریزی کے بعد 60ء کی دہائی میں تحریک آزادی ہند کی تاریخ چار جلدوں میں مکمل ہو گئی۔ سرحد کے اس طرف تحریک آزادی کا تو ذکر نہیں تھا البتہ حصول پاکستان کی تفصیلات پر زور تھا۔ گویا جس فریق (انگریز) سے آزادی لی تھی، اس کا ذکر مدہم کر کے نئی مملکت کامذہبی تشخص اجاگر کیا گیا۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین کی 4جلدوں میں ’تاریخ پاکستان‘ پر نظر ڈال لیجئے۔ تحریک آزادی اور آزادی کی دستوری حرکیات میں فرق واضح ہو جائے گا۔ تحریک آزادی اور حصول آزادی میں بنیادی فرق یہ ہے کہ مجرد آزادی ایک منفی تصور ہے گویا ہم کسی کے تابع فرمان نہیں ہیں۔ محض انتظامی آزادی اس قوم کی امتیازی خصوصیات، تمدنی نصب العین اور معاشی اہداف بیان نہیں کرتی جن کے حصول کیلئے سیاسی اقتدار اعلیٰ کی آرزو کی جاتی ہے۔ یہ باریک نکتہ ’قوم، ملک، سلطنت‘ کے تین مختلف تصورات ایک ہی مصرعے میں سمونے والوں کے لئے سمجھنا مشکل ہے۔
قومی وقار الٹے سیدھے نعرے لگانے سے بحال نہیں ہو تا، اس کے لئے ٹھوس معاشی پالیسیاں اور سیاسی استحکام کی راہیں سوچنا پڑتی ہیں۔ 1951کی مردم شماری میں مغربی پاکستان کی آبادی 3کروڑ 40 لاکھ اور شرح خواندگی 13فیصد تھی۔ 2022میں آبادی 23 کروڑ اور شرح خواندگی 58فیصد ہے۔ 1960 میں عالمی شرح خواندگی 42فیصد تھی جو اب 86.3 فیصد ہے۔ پاکستان میں 15 برس سے زائد عمر کے دس کروڑ افراد ان پڑھ ہیں اور قریب 6کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندہ ہیں۔ 1981 میں پاکستان کی شرح خواندگی 25.73 فی صد سے بڑھ کر 1998 ( 17 برس) میں 42.77 فیصد ہو گئی جب کہ 2007ء میں 52فیصد سے 2022 ( 15 برس) تک صرف 58فیصد ہو سکی ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ ملکی وسائل تعلیمی اور پیداواری شعبوں کی بجائے کہیں اور ضائع کئے گئے ہیں۔ ہم ہر روز 18500 بچے پیدا کر رہے ہیں۔ سالانہ ساٹھ لاکھ نوزائیدہ بچوں کی غذائی، تعلیمی اور معاشی ضروریات کیسے پوری ہوں گی؟ کتنے نئے اسکول اور اسپتال درکار ہوں گے؟ برآمدات بمشکل 28 ارب ڈالر اور ترسیلاتِ زر 32ارب ڈالر ہیں۔ ترسیلات زر اپنے ممکنہ پھیلاؤ کو پہنچ چکی ہیں اور چوتھے صنعتی انقلاب میں ان میں بے تحاشا کمی واقع ہو گی۔ ترسیلاتِ زر سے جاری اخراجات کا خسارہ تو کم ہو سکتا ہے، معاشی خود کفالت ممکن نہیں۔ جاننا چاہئے کہ ریئل اسٹیٹ کا کاروبار غیر پیداواری ہے، ریاست کے استحصالی تشخص کا اہم حصہ ہے اور پائیدار معاشی سرگرمی کی بجائے راتوں رات امیر بننے کا نسخہ ہے۔ معلوم کیجئے کہ ہم نے گزشتہ 5برس میں کتنی گاڑیاں برآمد کیں؟ 1980کے بعد سے بھارت میں 140سے زیادہ آٹو موبائل پلانٹ لگائے جا چکے ہیں۔ کسی ایک نفع آور فصل میں ہماری فی ایکڑ پیداوار عالمی معیار کے اوسط تک بھی نہیں پہنچتی؟ دنیا کی پانچویں بڑی افرادی منڈی کو انسانی ترقی میں 152ویں نمبر پر نہیں ہونا چاہئے۔ عورتوں کے حقوق میں نیچے سے دوسرے نمبر پر آنے والا ملک معاشی ترقی نہیں کر سکتا۔ آزادیٔ اظہار میں 157ویں نمبر پر آنے والے ملک کے نوجوان تنقیدی شعور سے بہرہ ور نہیں ہوں گے بلکہ جنون ہی میں مبتلا ہوں گے۔ ترقی کرنے والی قوموں کے استاد تعصب اور جہالت کی آبیاری نہیں کرتے، قوم کو درپیش مسائل پر تحقیق کرتے ہیں۔ ساٹھ کی دہائی میں امریکہ کے شہر بالخصوص نیویارک ڈاکا زنی، چوری اور ریپ کے لئے بدنام تھے۔ کوئی دس برس بعد جرائم میں معمولی کمی کے بعد 90 کی دہائی میں یہ رجحان ایک بار پھر اپنے عروج کو جا پہنچا۔ گہرے غور و فکر سے اپنائی گئی قانونی اور انتظامی پالیسیوں کے نتیجے میں صرف دس برس میں کار چوری میں 37 فیصد، ڈاکا زنی میں 41فیصد، قتل میں 30فیصد اور ریپ میں 41فیصد کمی واقع ہوئی۔ اس کی تفصیل کے لئے FRANKLIN ZIMRING کی کتاب The City That Became Safe دیکھئے۔2007میں امریکہ ایک بڑے معاشی بحران میں گھر گیا، جس کے نتیجے میں 99فیصد شہریوں کی آمدنی کم ہوئی جب کہ ایک فیصد امریکی امیر ہو گئے۔ معیشت دان Joseph Stiglitz نے The Price of Inequality کے نام سے ایک کتاب لکھی جس کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ ’شہریوں میں معاشی تفاوت سے ترقی کا پہیا رک جاتا ہے لیکن معاشی ناہمواری محض منڈی کا سوال نہیں، اس کا گہرا تعلق سیاسی نظام سے ہے‘۔ یہ سوالات اس ملک میں اٹھائے جاتے ہیں جس نے 246 برس قبل غیر ملکی غلامی سے نجات پائی تھی۔ جہاں سوال اٹھانے کی آزادی موجود نہ ہو، وہاں آزادی محض منافقانہ نعروں اور حقیقی غربت میں بدل جاتی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker