تجزیےخیبر پختونخواہسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : کرنل کی بیوی کا کھڑاک: اشارے بہت ہیں، سمجھنے والا چاہئے

چند روز پہلے خیبر پختون خوا کی ایک شاہراہ پر لگی رکاوٹوں کی وجہ سے ایک کرنل صاحب کی بیگم کو اپنا دم خم دکھانا پڑا۔ اس ویڈیو کے ملک بھر میں چرچےہوئے اور نت نئے تبصرے اور طنزیہ جملے سننے کو ملے۔ یہ سلسسلہ کسی نہ کسی طور اب بھی جاری ہے۔ حتی کہ اس ویڈیو پر ہونے والے مباحث کے دوران ملک میں پھیلی کورونا وبا کی سنگینی کو بھی فراموش کردیا گیا۔ کہنے کو تو یہ ایک معمولی واقعہ ہے جس میں کسی ایک فرد سے کچھ زیادتی ہوئی ہوگی یا کسی غلط فہمی کی وجہ سے کچھ چپقلش دیکھنے میں آئی لیکن اس پر سامنے آنے والا ردعمل مختلف کہانی بیان کرتا ہے۔
اس واقعہ اور اس کے بعد سامنے آنے والے طویل مباحث سے دو باتیں کھل کر سامنے آئیں: ایک یہ کہ ملک میں طاقت اور دباؤ کے زور پر کام نکلوانے کا رواج ہے ۔ کوئی بھی اپنی باری کا انتظار کرنے، قواعد کو ماننے اور اصول کے مطابق چلنا ضروری نہیں سمجھتا۔ ایسے میں جس کسی کے پاس جو صلاحیت/طاقت ہوتی ہے وہ اس کا بھرپور استعمال کرتا ہے۔ کرنل صاحب کی بیوی نے بھی یہی کارنامہ سرانجام دیا۔ اسی تصویر کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس واقعہ میں ایک کرنل کی بیگم کے ملوث ہونے اور قانون شکنی پر اصرار کو صرف معمول کا واقعہ سمجھنے کی بجائے اس حوالے سے ملک میں فوج کے کردار اور اثر ورسوخ کے بارے میں سنجیدہ اور غیر سنجیدہ مباحث کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ پاک فوج کے لئے یہ سوچنے کا مقام ہے کہ ایک فوجی افسر کی اہلیہ سے اگر کوئی بے ضابطگی ہوئی بھی ہے تو عام لوگ اسے نظر انداز کرنے اور ملکی نظام کے مطابق صبر سے اس پر کارروائی کا انتظار کرنے کی بجائے ، اس معمولی واقعہ کا سلسلہ ملک میں طاقت کے توازن، وسائل کی تقسیم اور سول ملٹری تخصیص سے جوڑنے پر کیوں مصر ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اس رکاوٹ پر جن پولیس اہلکاروں کو کرنل کی بیوی کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑا، ان کی طرف سے ایف آئی آر درج کروا دی گئی ہے۔ بعض خبروں کے مطابق اس ’نامعلوم خاتون ‘ کی گرفتاری کے لئے چھاپے بھی مارے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر چونکہ مصدقہ سے زیادہ غیر مصدقہ خبروں کی بہتات ہوتی ہے لہذا اس واقعہ کے بعد بھی بہت سے ’سازشی ‘ نظریات سامنے آئے۔ کسی نے کہا کہ یہ قانون کے ساتھ کھلواڑ ہے اور طاقت کے نشے میں فوجی ہی نہیں ان کی بیگمات بھی سول اتھاریٹیز کو خاطر میں لانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس خبر کو بھی ٹرینڈ کیا گیا کہ وہ خاتون کسی کرنل کی بیگم نہیں بلکہ کسی وکیل کی اہلیہ ہیں اور یہ دونوں میاں بیوی خود کو فوجی ظاہر کرکے اس سے پہلے بھی ایسے ہی تماشے کرچکے ہیں۔ تاہم بی بی سی اردو نے اپنی مفصل رپورٹ میں فوجی ذرائع سے یہ تصدیق کی ہے کہ موصوفہ کے شوہر فوج میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فائز ہیں اور اس معاملہ پر ضروری کارروائی کی جارہی ہے۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس واقعہ کو آرمی چیف کے نوٹس میں بھی لایا گیا ہے۔
ایک چھوٹی سی چیک پوسٹ پر ہونے والا یہ واقعہ ہرگز کوئی بڑا معاملہ نہیں ہے کہ اس پر غور کیا جائے۔ اگر ایک خاتون سے کچھ زیادتی ہوئی بھی ہے تو بھی سول انتظامیہ اس پر ضروری کارروائی کرکے چوہدری شجاعت کے مشہور زمانہ قول کے مطابق ’مٹی پاؤ‘ والا کام کرنے کی مہارت رکھتی ہے۔ یوں بھی یہ کوئی بہت سنگین واقعہ نہیں تھا اور نہ ہی ا س میں کسی طرف سے جسمانی تشدد کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ بس ایک خاتون نے خود کو کرنل کی بیوی قرار دیتے ہوئے وہاں موجود پولیس افسروں کو حقیر قرار دیا۔پولیس اہلکاروں کو دھمکیاں دیں ، ان پر گاڑی چڑھانے کی کوشش کی اور رکاوٹ کے باوجود وہاں سے گاڑی لے جانے میں کامیاب ہوگئیں۔ پاکستان میں اس سے کہیں زیادہ سنگین واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے دور میں بلوچستان میں ایک فوجی افسر کے ہاتھوں ایک لیڈی ڈاکٹر کا ریپ اور حکام کی طرف سے اسی خاتون اور اس کے شوہر کو ملک چھوڑ نے پر مجبور کرنا، اب بھی پاک فوج کی شہرت اور ملک کے نظام انصاف پر بدنما داغ کے طور پر زندہ ہے۔
ستمبر 2016 میں چند فوجی افسروں کو اوور اسپیڈنگ پر روکا گیا۔ سول کپڑوں میں ملبوس ان افسروں نے غلطی تسلیم کرنے کی بجائے اپنی یونٹ سے ساتھیوں کو بلوایا اور موٹر وے پولیس کے اہلکاروں اور افسروں کو زد و کوب کیا اور انہیں پکڑ کر اٹک قلعہ میں لے گئے۔ بعد میں موٹر وے پولیس کے اعلیٰ افسروں کی مداخلت اور یقین دہانی پر ان اہلکاروں کو رہائی نصیب ہوئی۔ اس معاملہ کی تحقیقات کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن کبھی یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ قانون شکنی کے اس سنگین واقعہ میں ملوث فوجی افسروں کو کیا سزا دی گئی ۔ ویسے بھی سول علاقے میں قانون شکنی کے مرتکب ہونے والے کسی بھی شخص پر ملکی قانون کے مطابق عدالتوں میں مقدمہ چلنا چاہئے۔ کوئی قانون کسی وردی والے کو کسی قانون سے استثنیٰ نہیں دیتا۔ لیکن جب بھی کوئی فوجی سول حکام کے خلاف زیادتی کا مرتکب ہوتا ہے تو فوجی نظام کے تحت کارروائی کا وعدہ کرکے معاملہ ٹال دیا جاتا ہے۔
فوجیوں کی طرف سے قانون شکنی کے ان واقعات کی روشنی میں کرنل کی بیوی کے کھڑاک کی حیثیت شب بارات پر چلائے جانے والے پٹاخے سے زیادہ نہیں ہے۔ اس لئے یہ واقعہ، اس کے بعد اس پر ہونے والی کارروائی یا اس خاتون کا رویہ ہمارا موضوع بحث نہیں ہے۔ تاہم اس ایک معمولی واقعہ کے بعد سول معاملات میں فوج کی مداخلت اور ہر سطح پر فوج کی زیادتی، استحصال اور زور زبردستی کے سوال پر جو مباحث سامنے آئے ہیں، وہ ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال اور ایک پیج کی حکمت عملی کے حوالے سے نہایت اہم ہیں۔ ان تبصروں اور فقرے بازی میں احتیاط کا دامن بھی ہاتھ سے چھوڑا گیا ہے اور شاید کسی حد تک گستاخانہ رویہ بھی اختیار کیا گیا ہو لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملکی فوج کے بارے میں عام لوگوں میں اتنا غم و غصہ کیوں موجود ہے۔ کیا فوجی قیادت کو اس بات کا احساس ہے کہ عوام سیاسی معاملات میں فوجی مداخلت یا سول امور کو فوج کی مرضی و خواہش کے مطابق چلانے کے طرز عمل کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟
جنرل قمر جاوید باجوہ متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ فوج محاذ پر اسی وقت لڑ سکتی ہے جب پوری قوم اس کے ساتھ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ فوج کا شعبہ تعلقات عامہ اپنی گڈ ول قائم کرنے اور فوج کے امیج کو ابھارنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ کسی حادثہ میں اگر فوج مدد کے لئے پہنچے تو مدد پہنچنے سے پہلے اس کا اعلان کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے اور اس کا حوالہ دیتے ہوئے باور کروایا جاتا ہے کہ فوج ہر موقع پر قوم کے ساتھ کھڑی ہے۔ اسی طرح نغموں ، ڈراموں اور اشتہارات کے ذریعے فوج کی خدمات کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں، لوگوں کی مزاج سازی کی جاتی ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ عوام کے دلوں میں فوج کے بارے میں ایک خاص طرح کی جذباتی وابستگی موجود رہے۔ فوج کو قوم کا محافظ قرار دے کر اس کی اہمیت اور ضرورت واضح کی جاتی ہے۔ عام تاثر یہی ہے کہ فوج قوم کی محسن ہے ۔ اب اسے سرحدوں کی محافظ کے علاوہ ملک کی نظریاتی سرحدوں کی پاسبان قرار دینے کا رجحان بھی عام کیا گیا ہے۔ گو کہ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ نظریاتی سرحدیں کیا ہوتی ہیں؟ اس لئے عام تفہیم میں فوج کی مرضی کو ملک کی نظریاتی سرحد سمجھا جانے لگا ہے۔
البتہ دو روز پہلے ایک شاہراہ کی رکاوٹ پر ہونے والے معمولی واقعہ سے محافظ پاکستان کے طور پر فوج کے امیج کو شدید دھچکا لگا ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ کیا دھرا اس ایک خاتون کی بدکلامی کا ہے بلکہ یہ سمجھنا درست ہوگا کہ حالات وواقعات کے تسلسل کی وجہ سے جو غم و غصہ عوام کے دل و دماغ میں لاوے کی صورت پکتا رہا ہے، اس ایک بے ضرر واقعہ کی وجہ سے اسے باہر نکلنے کاموقع ملا ہے۔ فوجی قیادت کو جذبات کے اس اظہار کو معمولی اور وقتی سمجھ کر نظرانداز کرنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے۔ نہ ہی کسی ایک افسر کو سزا دینے سے لوگوں کی یہ تشویش دور کی جاسکتی ہے۔ اس ایک واقعہ پر سامنے آنے والے شدید تاثرات قومی مزاج کے بارے میں سنگین انتباہ ہیں۔ ان پر سنجیدگی سے غور کرنے اور معاشرے میں فوج کے کردار کی نئی تعریف سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ عوام کے اس رد عمل کو نظر انداز کرنے سے ایک تقسیم شدہ معاشرہ میں سول ملٹری تقسیم کے نام پر پلنے والی نفرت سنگین تصادم کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔
اس واقعہ کو ملک میں جمہوریت کے لئے عوام کی تائد کا پیمانہ بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ یوں تو ملک میں ایک جمہوری حکومت ہے لیکن نہ موجودہ حکومت میں شامل عناصر اور نہ ہی عسکری ذرائع اس بات کو پوشیدہ رکھنے کی خاص ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ تحریک انصاف کی صورت میں ملک کو سابقہ دونوں پارٹیوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے چنگل سے نجات دلانے کی کوشش کی گئی ہے کیوں کہ یہ دونوں پارٹیاں ملک و قوم کے مفاد میں کام کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ لیکن اب یہ واضح ہورہا ہے کہ عوام اس رائے سے متفق نہیں ہیں۔ نہ تو سیاسی انجینئرنگ کے طریقہ کو قبول کیا جارہا ہے اور نہ ہی اس بات کو رائے عامہ کی حمایت حاصل ہے کہ کسی کٹھ پتلی حکومت کی آڑ میں فوجی ادارے ملکی معاملات چلانے کا اختیار اپنے قبضے میں لے لیں۔
عوام کی اس ناراضی کو جس قدر جلد سمجھ لیا جائے اتنا ہی بہتر ہوگا۔ کسی معمولی واقعہ پر سامنے آنے والا ردعمل ہی اس کی نوعیت کا تعین کرتا ہے۔ خیبر پختون خوا کی ایک شاہرہ پر دو روز قبل ہونے والے ایک واقعہ پر سامنے آنے والے جذبات اس تصویر سے مختلف ہیں جو میڈیا رپورٹوں اور سرکاری بیانات کے ذریعے استوار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker