کالملکھاریوسعت اللہ خان

روشن جمالِ یار سے ہے انجمن تمام۔۔وسعت اللہ خان

محمد بوعزیزی کوئی صحافی نہیں تھا لہذا کسی واشنگٹن پوسٹ میں اس کے بلاگز چھپنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔وہ کوئی جدی پشتی متمول شخص بھی نہیں تھا۔
ایک دیہاڑی دار سبزی فروش کی اوقات ویسے بھی کسی بھی ملک میں کیا ہوتی ہو گی ؟ ایسے کروڑوں لوگ ہر جگہ پیدا ہوتے ہیں ، زندگی انھیں کسی نہ کسی طور گذارتی ہے اور پھر وہ بھی گذر جاتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ مسجد سے اعلان ہی ہوتا ہے کہ قضائے الہی سے فوت ہوگئے یا بہت ہوا تو کسی مقامی اخباری چیتھڑے میں کہیں اندر کی طرف خبر چھپ جاتی ہے کہ بس کے نیچے آگئے ، قتل ہو گئے ، خودکشی کر لی وغیرہ۔
مگر تاریخ جو بظاہر نابینا ہے۔ کبھی بھی کسی بھی ناقابلِ تسخیر کے سر پے ذلت کا تاج رکھ دیتی ہے اور کسی بھی راہ چلتے کے گلے میں مالا ڈال دیتی ہے۔جیسے روزانہ دنیا کے ہر کونے میں بے شمار گویے بے شمار سر فضا میں بکھیرتے رہتے ہیں مگر ان ان گنت سروں میں سے کسی خاص لمحے میں کسی سے کوئی ایک سر ایسا لگ جاتا ہے کہ بارش ہو جاتی ہے یا شیشہ چٹخ جاتا ہے۔
تیونس کے خوانچہ فروش محمد بو عزیزی کے ساتھ بھی یہی ہوا۔پولیس نے اس کا بلا لائسنس ٹھیلہ ضبط کر لیا اور بو عزیزی نے اسے ظلم سمجھتے ہوئے بلدیہ کے دفتر کے سامنے خود سوزی کر لی۔احتجاج پھیلتا پھیلتا صدر زین العابدین بن علی کے محل تک پہنچ گیا۔حتی کہ بن علی کو اس ٹھیلے والے کی عیادت کے لیے اسپتال جانا پڑا۔مگر دسویں دن بوعزیزی مر گیا اور اس کے بیس دن بعد صدر زین العابدین کی حکومت کا بھی جنازہ اٹھ گیا۔
پھر عرب اسپرنگ وہاں سے حسنی مبارک کے مصر پہنچی ، وہاں سے اس کی تپش قذافی کے لیبیا تک پہنچی ، پھر کچھ شعلے اردن میں بھڑکے جن پر جلد قابو پالیا گیا ، یمن اور بحرین میں بھی تبدیلی کے شدید جھٹکے محسوس ہوئے ، اور پھر شام کے بارود خانے نے آگ پکڑ لی۔ گویا محمد بوعزیزی کی دسمبر دو ہزار دس میں خود سوزی نے بھس میں چنگاری کا کام کیا اور مشرقِ وسطی توڑ پھوڑ کے نئے دور میں داخل ہو گیا۔
جب زلزلہ آتا ہے تو کمزور عمارات ڈھیتی ہیں اور مضبوط عمارتوں میں کریکس پڑ جاتے ہیں۔کریکس کی مرمت عمارت کو قابلِ رہائش بنائے رکھتی ہے مگر یہ ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ اسی طرح کا کوئی اگلا جھٹکا بھی سہار لے گی۔
عرب اسپرنگ کو بھی کئی ریاستی عمارتیں سہار گئیں اور بظاہر کریکس کی مرمت بھی کر لی گئی۔مگر کریکس کی جتنی بھی مرمت کر لی جائے مصیبت یہ ہے کہ اگلی بار پہلے سے کم شدت کا جھٹکا بھی جھیلنا مشکل تر ہوتا جاتا ہے۔
ثبوت جمال خشوگی کی موت ہے۔ہر سال دنیا بھر میں بیسیوں صحافی بیسیوں طریقوں سے مرتے ہیں۔کچھ کے لیے ذرا دیر واویلا ہوتا ہے اور پھر ایسی ہی اگلی واردات تک زندگی پھر سے ڈھرے پر چڑھ جاتی ہے۔لیکن جمال کی موت کے بعد پچھلے تین ہفتے میں جس نوعیت کا ردِعمل سامنے آیا ہے اور خبر دینے والے کی خبر جس انداز میں رولر کو سٹر کی طرح رفتار پکڑ رہی ہے کوئی نہیں جانتا کہ یہ رولر کوسٹر کہاں جا کے رکے گا۔ اس واقعہ سے ایک بار پھر یہ سچائی تازہ ہو گئی ہے کہ تاریخ کسی بھی فرد کی زندگی یا موت سے کس وقت کیا کام لے لے کوئی نہیں جانتا۔
میں اس کھکیڑ میں نہیں پڑنا چاہتا کہ جمال کو کس کے کہنے پر کس نے مارا اور اس کا کس کو فائدہ یا نقصان ہوا یا ہو رہا ہے یا ہوگا۔مجھے تو یوں لگ رہا ہے کہ جمال اس صدی کی اب تک کی سب سے مہنگی لاش ہے۔جو کچھ لوگوں کو بنا دے گی اور کچھ کو بگاڑ دے گی۔
ذرا دو اکتوبر کی دنیا دیکھئے جب جمال استنبول میں اپنے ہی ملک کے قونصل خانے میں داخل ہوا۔اس دن تک باقی دنیا کے لیے یمن خلیجی عربوں کا آپس کا معاملہ تھا۔ایران کے گرد گھیرا تنگ سے تنگ ہو رہا تھا۔قطر ذہنی طور پر تیار تھا کہ اس کا محاصرہ اور سخت ہونے والا ہے کیونکہ اس کے ارد گرد ایک ایسی نہر کھودے جانے کا منصوبہ ہے جس میں استعمال شدہ ایٹمی فضلہ ڈالا جائے گا۔ٹرمپ کی فلسطین اور ایران حکمتِ عملی کے کتابچے میں خلیجی ریاستیں اور اسرائیل ایک ہی خاموش پیج پر تھے۔ترک لیرا کی قدر میں گراوٹ اور ترک امریکا تعلقات میں کشیدگی کا گراف اوپر ہی اوپر چڑھ رہا تھا۔پاکستان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ چین اور سعودی عرب کی جانب سے بامروت سرد مہری کے بعد وہ آئی ایم ایف کے پاس جائے کہ نہ جائے۔سیدھا جائے کہ مڑ مڑ کے دوستوں کی جانب دزدیدہ نگاہوں سے دیکھتا جائے۔
آج جمال کے قتل کے پچیس روز بعد مجھے ایک برطانوی مدبر ہیرلڈ ولسن کا یہ مقولہ کاٹ رہا ہے کہ سیاست میں ایک ہفتہ بھی بہت لمبا زمانہ ہوتا ہے۔یہاں تو چوتھا ہفتہ شروع ہو گیا ہے۔دو ماہ پہلے تک کیا تیور تھے کہ کینیڈا کی وزیرِ خارجہ کرسٹیا فری لینڈ نے انسانی حقوق کی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہری حقوق کی ایک کارکن ثمر بداوی کی رہائی کا مطالبہ کیا تو سعودی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ہم کوئی بنانا ریپبلک نہیں کہ کسی کی بھی دھونس میں آ جائیں گے۔ کینیڈا کا سفیر اڑتالیس گھنٹے میں ملک چھوڑدے۔براہ راست پروازیں ختم، معاشی تعلقات منجمد ، سعودی طلبا کو کینیڈا سے کہیں اور منتقل کرنے کے احکامات۔جب تک کینیڈا معافی نہیں مانگتا۔
آج دنیا میں سب سے اہم ملک ترکی اور سب سے اہم شخصیت رجب طیب اردگان ہیں۔روزانہ جمال خشوگی کی واردات کے بارے میں کوئی نہ کوئی تازہ اشارہ لیک ہورہا ہے اور واشنگٹن اور سعودی عرب جی جناب جی جناب کرتے چلے جا رہے ہیں۔ترک بہت پیارا کھیل رہے ہیں۔ بہت دنوں بعد انقرہ کھل کے علاقائی و تاریخی ارمانوں کا لطف لینے کے قابل ہوا ہے۔آنے والے دنوں میں ڈالر کے مقابلے میں لیرا کی گرتی قدر بھی بہتر ہونے جا رہی ہے۔ تیل کی قیمت بھی پچاسی ڈالر فی بیرل کا ہندسہ چھو کے نیچے اتر رہی ہے۔ویسے بھی سنگ دل دنیا کا دل نرم کرنے کے لیے قیمت میں کمی اور پیداوار میں اضافہ وقت کا تقاضا ہیں۔
ریاض میں ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس میں سعودی ولی عہد نے اپنے خطاب میں کہا ’’ برادر ملک قطر سے اختلافات اپنی جگہ مگر قطر نے گذشتہ چند برسوں میں متاثر کن ترقی کی ہے ’’۔تین ہفتے پہلے کوئی سوچ سکتا تھا کہ قطر کا تذکرہ یوں بھی ہوگا۔ان تین ہفتوں کے دوران قطر نے ایک بار بھی اپنی رائے کا سرکاری اظہار نہیں کیا۔البتہ دوہا سے جاری الجزیرہ کی نشریات سے اندازہ مل سکتا ہے کہ کون کس پر بھاری پڑ رہا ہے۔ایران نے حیرت انگیز خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ جب حریف کے ہاتھ میں تاش کے پتے اوپر نیچے ہو رہے ہوں توسامنے والے کو خواہ مخواہ بولنے کی کیا ضرورت۔ ٹرمپ نے اس نومبر میں ایران کو سبق سکھانے کے لیے بہت کچھ سوچا تھا مگر یوں لگ رہا ہے کہ جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے۔
امریکی کانگریس کے مڈ ٹرم الیکشن سر پہ ہیں۔ٹرمپ سرکار الیکشن بچائے کہ سعودی اتحادی کو دھوپ سے بچائے۔اب ٹرمپ کو ایران کو سبق سکھانے کی گیم دوبارہ ترتیب دینی پڑے گی۔تب تک صدارت کا تیسرا اور پھر چوتھا برس لگ جائے گا۔پوتن اور ڑی پنگ گیلری میں ٹانگ پر ٹانگ رکھے یہ بلیک کامیڈی دیکھ رہے ہیں۔
عمران خان کو سرمایہ کاری کانفرنس میں خصوصی طور پر مدعو کیا گیا۔ڈیڑھ ماہ پہلے وہ صرف وعدے لے کر آئے تھے اس بار پیسے لائے ہیں۔انھوں نے اشارہ بھی دیا ہے کہ یمن کی جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی ضرورت ہے۔یہ آپ طے کیجیے کہ تیزی سے بدلے حالات میں یہ تجویز عمران خان نے ازخود دی ہے یا ان سے دلوائی گئی ہے۔ المختصر اگلے تین ماہ میں بفضلِ مرگِ جمال خشوگی سب کے حالات سلٹنے جا رہے ہیں۔
ہر اک شے کا تعلق ہے دوسری شے سے
ہوا چلی تو بکھرنے لگے خس و خاشاک
(عارف امام)
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker