کالملکھاریوسعت اللہ خان

‘آدمی بنو، نقشے بازی نہ کرو’۔۔وسعت اللہ خان

انڈیا نے کشمیر کا جو نیا نقشہ جاری کیا ہے اس میں پاکستان کے زیرانتظام علاقے گلگت اور بلتستان کو لداخ اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد اور میرپور کو نئی متنازع یونین یا وفاقی علاقے جموں و کشمیر کے ایک حصے کے طور پر دکھایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس نقشے کو مسترد کردیا ہے کیونکہ پاکستان کے سرکاری نقشے میں پہلے سے ہی پورا کا پورا لداخ اور جموں کشمیر پاکستان کا حصہ ہے۔
لیکن اس میں باریک حروف میں یہ بھی رقم ہے کہ یہ ایک متنازع علاقہ ہے۔
دوسری جانب ہندوستان کے پرانے نقشے میں بھی گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر کو ہندوستان کا حصہ دکھایا گیا ہے اور اس پر متنازع علاقہ بھی نہیں لکھا گیا ہے۔
جبکہ بین الاقوامی سطح پر شائع ہونے والے نقشوں میں جموں و کشمیر کا جو حصہ جس ملک کے کنٹرول میں ہے اسے اسی طرح دکھایا گیا ہے۔ سوائے چین کے جو لداخ کے کچھ حصے اور اکسائے چِن کے کچھ حصے پر اپنا دعوی پیش کرتا ہے۔
لیکن کہتے ہیں کہ تقدیر بدلے نہ بدلے، ہاتھ کی لکیر، سرحد کی لکیر اور دریا کا راستہ ہمیشہ تبدیل ہوتا رہتا ہے اور کوئی بھی ان تینوں تبدیلیوں کو نہیں روک سکتا۔
کبھی برطانیہ کے نقشے میں آدھی دنیا شامل تھی۔ آج برطانیہ یورپ کے نقشے سے باہر کودنے کے لیے ہاتھ پاو¿ں مار رہا ہے۔
کبھی الجیریا، فرانس کے نقشے میں اور مشرقی تیمور، انڈونیشیا کے نقشے میں ہوتا تھا اور برما، بنگلہ دیش اور پاکستان تینوں ہندوستان کے نقشے میں لیکن ایک ایک کرکے چاروں چار نظر آنے لگے۔
اسی لیے مجھے آج تک مادر وطن اور آبائی وطن کی سنسکرت سمجھ نہیں آئی اور نہ ہی بات پلے پڑی کہ اپنے ملک کے چپے چپے کے لیے جان دینے کا کیا مطلب ہے۔
کوئی یہ نہیں کہتا ہے کہ ہم اپنے ملک کی سرحد کے اندر موجود تمام لوگوں کی حفاظت کے لیے زندگی دے دیں گے یا لے لیں گے۔
اور بائی دی وے کیا دفاع کا مطلب جان دینا-لینا یا دشمن کو خاک میں ملانا ہی رہ گیا ہے؟
یا دانشمندی یہ ہے کہ آنکھوں میں خون اتارے بغیر، دل دہلا دینے والے نعرے لگائے بغیر ایک دوسرے کی سرحد، چاردیواری عزت کا خیال رکھنا سیکھ لیں۔
پیارے دوستو، جب تم پیدا نہیں ہوئے تھے تب بھی یہ سرزمین ہی تھی۔ جب تم نہیں رہو گے تو بھی یہ زمین باقی رہے گی اور کوئی دوسرا اس پر آباد رہے گا۔
اشوک کی سلطنت میں تو افغانستان بھی شامل تھا۔ اب افغانستان ایک الگ ملک ہے۔
تو پھر کون سا مادر وطن یا پدر وطن یا یہ تیرا ہے یہ میرا اور ایک انچ بھی آگے بڑھے تو اس زمین پر لیٹا دوں گا۔
ظاہر ہے ایک دن تو ہم سبھی لیٹ جائیں گے، اسی سرزمین پر۔ کوئی پہلے تو کوئی بعد میں۔
لہذا نقشہ بنانے اور ایک دوسرے کو نقشے دکھانے میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔
آدمی ہو تو آدمی بن کر جیو اور عزت سے نکل لو، نقشے بازی نہ کرو، پلیز!
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker