کالملکھاریوسعت اللہ خان

وسعت اللہ کا کالم : محمد جمن زندہ باد

اور کے بار ثابت ہو گا کہ ریاست گڈریا ہے اور ہم اس کی بھیڑیں۔ بلکہ یوں سمجھو کہ ریاست اشرافیہ کا ڈنڈا بردار چرواہا ہے کہ جس سے بھیڑوں کو ہنکالنے کا کام لیا جاتا ہے۔ کب ہم بھیڑوں کو گھاس چرنا ہے، کس چراگاہ میں کب تک چرنا ہے؟ اس کے بعد طویلے میں کب بند ہونا ہے؟



بھیڑوں کو اس سے کیا؟ بھیڑیں تو ہر حال میں خوش رہنے کی عادی ہیں۔ انھیں قدرت نے ڈیزائن ہی ایسے کیا ہے۔ ان کی قسمت نسلی افزائش کی مشین بننا ہے، ضرورت پڑ جائے تو قربان ہونا ہے اور قربانی کے بعد بھی بال، خون اور گوشت پوست سمیت مالکان کے کام آنا ہے۔ آپ 800 سال بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ اب مسلمان اور ہندو بھیڑیں ساتھ ساتھ نہیں رہ سکتیں۔ کالی اور سفید بھیڑوں کا ریوڑ الگ الگ کرنا پڑے گا۔ ہم نے کہا جیسے آپ کا فیصلہ ہمارے سر آنکھوں پر۔



آپ نے کہا اب مشرق میں ہمارے لیے کوئی چراگاہ نہیں بچی۔ ہمیں مغرب کی طرف دیکھنا پڑے گا۔ ہم نے کہا آمنا و صدقنا۔ پھر آپ نے کہا مغربی چراگاہیں ہمارے لیے زہریلی خار دار ہیں ہم نے کہا آپ جیسے فرمائیں۔



آپ نے کہا کچھ دوستوں کا ریوڑ کم پڑ گیا ہے لہذا اپنے قومی ریوڑ سے کچھ بھیڑیں دوستوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دساور بھیجنا پڑیں گی۔ ہم نے کہا آپ مالک ہم آپ کے تابع فرمان۔ آپ نے کہا ہماری چراگاہ کا محاصرہ کرنے والے دشمنوں نے بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں۔ انھیں ناکارہ بنانے کے لیے کچھ بھیڑوں کو سرنگوں سے اٹے میدان میں سے چل کر جانا ہوگا۔ ہم تو بھیڑیں تھیں سو چل پڑیں اور ہزاروں کی تعداد میں آپ کے حکم پر واری گئیں۔ نہ حساب، نہ کتاب، نہ جواب۔ بھیڑیں تو بھیڑیں ہیں۔



آپ نے جب جب کہا آج سہہ پہر سے الف، ب اور ت غدار ہیں۔ ہم نے بھی کورس میں گایا الف، ب اور ت غدار ہیں۔ آپ نے جب جب کہا الف، ب اور ت اب محبِ وطن ہیں ہم نے بھی آواز ملائی الف’ ب ت اب محبِ وطن ہیں۔ آپ نے کہا زید اور بکر اسلام کے مجاہد ہیں۔ ہم نے بھی کہا زید اور بکر اسلام کے مجاہد ہیں۔ آپ نے کہا آج رات بارہ بجے سے زید اور بکر دہشت گرد ہیں ہم نے بھی بلند آہنگ میں سر جھٹکتے ہوئے کہا آج رات سے زید اور بکر دہشت گرد ہیں۔



آپ نے کہا جمہوریت زندہ باد، ہم نے بھی آپ کی طرف تکتے ہوئے کہا جمہوریت زندہ باد۔ آپ نے کہا نہیں نہیں مغربی جمہوریت مردہ باد اسلامی جمہوریت زندہ باد، ہم بھی منمنائے مغربی جمہوریت مردہ باد اسلامی جمہوریت زندہ باد۔



آپ نے کہا نواز شریف زندہ باد ہم نے بھی کہا نواز شریف زندہ باد۔ پھر آپ نے کہا نواز شریف نہیں عمران خان زندہ باد۔ ہم بھی کہہ رہے ہیں عمران خان زندہ باد۔ یقین کیجیے کل اگر آپ نے کہا کہ محمد جمن زندہ باد تو ہم بھی آسمان سر پر اٹھا لیں گے محمد جمن زندہ باد۔ کل آپ نے کہا انڈیا ہمارا ازلی دشمن ہے۔ ہم نے میڈیا سے لے کر پارلیمان اور درسی کتابوں تک میں کہہ اور لکھ دیا انڈیا ہمارا ازلی دشمن ہے۔ آپ نے کہا کشمیر ہماری شہہ رگ ہے اس کے لیے ہم خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے۔ ہم بھیڑوں نے کہا لبیک، لبیک۔



آپ نے کہا ایٹم بم حفاظت کے لیے ضروری ہے۔ ہم نے بیک آواز کہا گھاس ملے نہ ملے ایٹم بم ضروری ہے۔ آپ نے کہا مگر ایٹمی جنگ سے مکمل تباہی ہو گی اس لیے کشمیر کا مسئلہ جنگ سے نہیں عالمی دباؤ کے ذریعے حل کروائیں گے۔ ہم نے بھی کہا بے شک، بے شک۔

آپ نے کہا انڈیا کی تنگ نظر ہندو قوم پرستی اس علاقے کے لیے بقائی خطرہ ہے۔ ہم نے کہا بلا شبہہ، بلا شبہہ۔ آپ نے کہا مگر اس تنگ نظر قوم پرستی کی سزا سکھ بھائی کیوں بھگتیں؟ وہ کیوں کرتارپور سے محروم رہیں۔ ہم نے کہا یقیناً، یقیناً۔
یہاں تک آ تو گئے آپ کی محبت میں
اب اور کتنا گناہ گار کرنا چاہتے ہیں



بھلے ہمارے گوشت پوست اور دودھ کے پیسے آپ ہی رکھیں مگر چارے کا معیار اور مقدار قدرے بہتر کر دیں اور طویلے کی گرتی چھت کی تھوڑی بہت مرمت کر دیں، ہم بھیڑوں کو اور کیا چاہیے؟
خیر ہو میرے گڈریے اور اس کی آل اولاد کی۔

( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker