کالملکھاریوسعت اللہ خان

وسعت اللہ خان کا کالم : اپنے ہی خلاف دھرنا دینے والی سرکار

سرکردہ ترقی پسند شاعر اسرار الحق مجاز نے کہا تھا کہ ہندوستان میں انقلاب کب کا آ جاتا مگر راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود کیمونسٹ پارٹی ہے۔ آج کے پاکستان میں بھی کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ملک تو تبدیلی کے لیے بے تاب ہے مگر راہ میں سب سے بڑی اڑچن تحریکِ انصاف کی حکومت بن رہی ہے۔اس برس جنوری میں اسلامی نظریاتی کونسل نے پاکستان کو ریاستِ مدینہ میں تبدیل کرنے کے خدوخال کی تشکیل کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی۔ حکومت نے کونسل سے رجوع کرنے کے بجائے ریاست مدینہ کی تشکیل میں تیزی لانے کے لیے اب اپنی ایک کمیٹی بنا دی ہے جس میں دیگر کے علاوہ جہانگیر ترین، فواد چوہدری اور ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بھی شامل ہیں۔ پنجابی میں کہتے ہیں ایتھے رکھ۔۔۔
مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد دھرنا ختم کرانے کے لیے سرکار کی جانب سے بات چیت وزیرِ دفاع، وزیرِ مذہبی امور، سینیٹ چیئرمین اور قومی اسمبلی کے اسپیکر وغیرہ پر مشتمل کمیٹی نے کی مگر دھرنا اٹھوانے میں بنیادی کردار گجرات کے چوہدری برادران نے ادا کیا۔ اب چوہدری برادران بھی کھل کے کہہ رہے ہیں کہ وزیرِ اعظم کو ’پنک پینتھر‘ ٹائپ مشیروں نے گھیر رکھا ہے۔ تازہ ثبوت سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی بیرونِ ملک علاج کے لیے روانگی کا معاملہ ہے۔ اعلیٰ عدالتوں نے ضمانتیں منظور کرتے ہوئے اور نیب نے اپنی خاموشی کے ذریعے گذشتہ ہفتے نواز شریف کی روانگی کی راہ اچھی خاصی ہموار کر دی تھی۔ اس کے بعد وزارتِ داخلہ کو بس رسماً نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کی کارروائی کرنا تھی۔ مگر وہ مسئلہ ہی کیا جو خوش اسلوبی سے نمٹ جائے۔ چنانچہ پی ٹی آئی حکومت اس سیدھے معاملے کو ٹیڑھی کھیر بنانے کے لیے وہ بُڑھیا بن گئی جو کسی بات پر طیش میں آ کر عین وقت پر اپنا مرغا بغل میں دبا، یہ کہتے ہوئے گاؤں سے نکل گئی کہ نہ میرا مرغا ہو گا، نہ اذان دے گا اور نہ ہی گاؤں میں صبح ہو گی۔ تاہم صبح ہوئی اور وہ بھی لاہور ہائی کورٹ کے ذریعے۔ اس پورے معاملے میں ایم کیو ایم، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور قاف لیگ سمیت پی ٹی آئی کے اتحادی بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ بندے دے پتر بنو۔ شاید ان ہی بوالعجبیوں کو دیکھتے ہوئے میرے محلے کے عبداللہ پنواڑی نے آج ہی فرمایا کہ یہ پہلی حکومت ہے جو اپنے خلاف مسلسل دھرنا دے رہی ہے۔ اگر حکومت بھانت بھانت کے مشوروں کے سہارے چل رہی ہے تو حزبِ اختلاف بھی ارسطوؤں اور آئن سٹائنوں سے خالی نہیں۔ اس وقت حزبِ اختلاف کے سب سے بڑے عملی رہنما مولانا فضل الرحمان نے اپنے دھرنے میں جہاں اور کئی چشم کشا حقائق اس مظلوم قوم کے سامنے رکھے وہیں انیس سو چھیانوے کے نوائے وقت میں شائع ہونے والی ایک خبر کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ قادیانی اور یہودی ایک سابق کرکٹر کو پاکستان پر مسلط کرنے کے لیے تب سے تیار کر رہے تھے۔ میں چونکہ مولانا کا پرستار ہوں اس لیے یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ یہ خبر دراصل جعلی ہے جو نوائے وقت سے منسوب کر کے مولانا کے گوش گزار کروا دی گئی۔ لیکن کیا فرق پڑتا ہے۔ مولانا کے لاکھوں پیروکار اسے سچ ہی سمجھیں گے کیونکہ مولانا نے اس کا حوالہ جو دیا ہے۔ البتہ میں مولانا کی ہی جماعت کے ایک رہنما مفتی کفایت اللہ صاحب کے علمی درجات کا سر تا پا قائل ہو گیا جب انھوں نے ایک لائیو ٹی وی مباحثے میں فرمایا کہ وکی لیکس شائع کرنے والا وکی دراصل عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما کا کزن ہے اور یہ بات میں پوری تحقیق کے بعد کہہ رہا ہوں۔ مفتی کفایت اللہ نہ صرف جمیعت علمائے اسلام مانسہرہ کے ضلعی امیر ہیں بلکہ ایک مدرسے کے بھی نگراں ہیں۔ ان کے شاگردوں کی تعداد بھی بلاشبہہ ہزاروں میں ہو گی۔ اور یہ شاگرد کبھی تصور بھی نہیں کر سکتے کہ ان کے محترم استاد کبھی کوئی بات بلا تحقیق بھی کہہ سکتے ہیں۔ مفتی صاحب کے شاگردوں کی یہی نسل اگلے کم از کم پچاس برس تک لاکھوں پاکستانیوں کی مذہبی قیادت و تربیت کرے گی اور پھر ورثے میں اپنے جیسی ہی ایک اور نسل چھوڑ کے رخصت ہو جائے گی۔ اناللہ وانا الیہہ راجعون۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker