کالملکھاریوسعت اللہ خان

وسعت اللہ خان کا کالم۔۔جھوٹ کا لاشہ تیرتا رہتا ہے

کیا آپ کو ساڑھے نو برس قبل چار جنوری دو ہزار گیارہ کے تیونس میں خود سوزی کرنے والا سبزی فروش محمد بوعزیزی یاد ہے ؟ یاد اس لیے رہنا چاہیے کہ اس کے جسم سے اٹھنے والے شعلوں نے الجزائر سے بحرین تک پورے شمالی افریقہ اور عرب دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ان شعلوں میں کئی آمر اور ان کے تخت بھسم ہو گئے۔مگر اس مختصر سی عرب بہار ( عرب اسپرنگ )کی پائیداری کے بارے میں جو امید پیدا ہو چلی تھی وہ جلد ہی خانہ جنگیوں اور جبر کے بوٹ تلے کچلی گئی۔آج عرب اسپرنگ یاد ضرور ہے مگر حالات پہلے سے کہیں دگرگوں ہیں۔
مجھے عرب اسپرنگ یوں یاد آ گئی کہ آج جب کورونا نے پوری دنیا کو آکٹوپس کی طرح جکڑ رکھا ہے۔ ایک سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ کی موت نے نیویارک سے سڈنی اور میامی سے لندن تک جس ردِ عمل کو جنم دیا اس کے سبب مجھے تیونس کے بوعزیزی کی موت یاد آ رہی ہے۔
ویسے تو پچھلے تیس برس میں بالخصوص جب بھی امریکا میں پولیس کے ہاتھوں کسی سیاہ فام کی موت ہوتی ہے تو کئی مقامات پر بیک وقت توڑ پھوڑ شروع ہو جاتی ہے۔چند دن کشیدگی رہتی ہے اور پھر اگلے کسی ایسے ہی واقعہ تک خاموشی چھا جاتی ہے۔مگر اس بار کا احتجاج ذرا مختلف اور وسیع ہے اور اس کی بازگشت دنیا بھر میں سنائی دے رہی ہے۔ اس دوران ظلم کے جن اہداف کو غم و غصے کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ محض امریکی یادگاریں نہیں ہیں۔
یہ نشانے بازی بتاتی ہے کہ جو تاریخ اب تک پڑھائی جاتی رہی اس کی بنیاد ٹھوس حقیقی زمین کے بجائے ریت میں رکھی گئی۔ معاملہ محض کالے اور گورے کے عدم مساوات پر مبنی تاریخی تعلق کا نہیں بلکہ کہیں گہرا ہے۔مثلاً امریکا میں ہر برس اکتوبر میں وفاقی سطح پر کولمبس ڈے پر تعطیل ہوتی ہے۔کولمبس کو امریکی تاریخ میں ایسے پیش کیا جاتا ہے گویا اس سے پہلے براعظم امریکا کا وجود ہی نہیں تھا۔اور اگر یہاں انسان رہتے بھی تھے تو وہ اپنے عمل میں لگ بھگ نیم انسان تھے۔ چنانچہ یہ کولمبس ہے جو امریکا کے اندھیرے ساحل تک تہذیب کی روشنی لایا اور باقی دنیا کو امریکا سے روشناس کروایا۔
یہ تاریخ چار سو برس نسل در نسل پڑھائی جاتی رہی مگر کسی بھی نسل نے اس افسانے کو پوری طرح ہضم نہیں کیا۔ لہٰذا آج جب اکیسویں صدی میں یہ خبر آتی ہے کہ رچمنڈ ورجینیا میں کولمبس کا مجسمہ نذرِ آتش کر کے جھیل میں پھینک دیا گیا۔ریاست منی سوٹا کے شہر سینٹ پال میں کولمبس کا دس فٹ اونچا کانسی کا مجسمہ توڑ دیا گیا، بوسٹن میں کولمبس کے مجسمے کا سر اڑا دیا گیا۔میامی میں مجسمے پر رنگ پھینک دیا گیا۔تو اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا کی دریافت کولمبس کا عظیم کارنامہ ہو نہ ہو البتہ وہ امریکا میں داخل ہونے والا پہلا غیر قانونی تارکِ وطن ضرور تھا۔
ایسا نہیں کہ یہ سب توڑ پھوڑ غصیلے سیاہ فام ہی کر رہے ہیں بلکہ اس احتجاج میں نیٹیو امریکن اور گورے لڑکے لڑکیاں بھی شانہ بشانہ ہیں۔ اب تو معاملہ کانگریس کے گنبد تلے جا پہنچا ہے اور ایوانِ نمایندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے مطالبہ کیا ہے کہ کیپیٹل ہل پر سے اٹھارہ سو ساٹھ کے عشرے کی خانہ جنگی میں جنوبی ریاستوں کی غلام پسند کنفیڈرل حکومت کے گیارہ سرکردہ لوگوں کے مجسمے ہٹائے جائیں۔بقول نینسی ہمیں جمہوری وراثت یاد رکھنے کی ضرورت ہے نفرت ناک تاریخ نہیں۔
اسی طرح امریکی مسلح افواج کے دس اڈوں کے نام ایسی شخصیات کے نام پر ہیں جنھوں نے خانہ جنگی میں غلامی کو برقرار رکھنے کی حمایت کی۔ان فوجی اڈوں میں شمالی کیرولائینا کا فورٹ براک اور ٹیکساس کا فوٹ ہڈ بھی شامل ہے۔صدر ٹرمپ نے ان اڈوں کے نام بدلنے کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان فوجی مراکز میں دوعالمی جنگوں میں حصہ لینے والوں سمیت کئی امریکی سورماؤں کی تربیت ہوئی ہے لہٰذا اس تاریخی ورثے کا نام نہیں بدلا جا سکتا۔
مجسمہ توڑ تحریک جب سمندر پار پہنچی تو برطانوی شہر برسٹل میں چند جوشیلوں نے سترویں صدی کے معروف غلام فروش ایڈورڈ کولسٹن کا مجسمہ اکھاڑ کر دریا میں پھینک دیا۔ایڈورڈ کا مجسمہ شہر میں اس لیے نصب تھا کہ اس نے افریقی غلاموں کی فروخت سے کمائی گئی دولت کا ایک حصہ شہر کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا۔چنانچہ دائیں بازو والے اس کا احترام کرتے ہیں۔یہ بالکل ایسا ہے جیسے کوئی انسانی اسمگلر پاکستان کے کسی شہر میں پارک یا مسجد بنوا دے اور بلدیہ کسی شاہراہ پر اس کے نام کی تختی لگا دے۔
اسی طرح اٹھارویں صدی کے غلام فروش رابرٹ ملیگم کا مجسمہ بھی میوزیم آف لندن کے باہر سے اٹھوا دیا گیا۔جب کہ اسکاٹ لینڈ کے دارالحکومت ایڈنبرا کی سٹی کونسل کے دس ارکان نے شہر کے وسط سے ہنری ڈنڈاس کا مجسمہ ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ڈنڈاس انیسویں صدی میں برطانوی زمین پر غلاموں کی تجارت کے خاتمے کے قانون کی راہ میں لگ بھگ پندرہ برس رکاوٹ بنا رہا۔
سر سیسل رہوڈز نے انیسویں صدی میں جنوبی افریقہ میں کانکنی اور کالی افرادی قوت کے استحصال سے بے پناہ دولت کمائی۔دو ہزار پندرہ میں یونیورسٹی آف کیپ ٹاؤن سے سر سیسل رہوڈز کا مجسمہ ہٹا دیا گیا۔یہ وہی صاحب ہیں جن کے پیسوں سے آکسفورڈ یونیورسٹی رہوڈز اسکالر شپ دیتی ہے۔اب ان کے مجسمے سے برطانوی سرزمین کو بھی پاک کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
بلجئیم میں پچھلے ایک ہفتے کے دوران ہیروں کی تراش خراش کے لیے مشہور شہر اینٹورپ اور گھینٹ کے تاریخی شہر سے انیسویں صدی کے بادشاہ لیوپولڈ دوم کا مجسمہ نقصِ امن کے خدشے کے تحت ہٹا دیا گیا جب کہ دارالحکومت برسلز میں ان کے مجسمے کا چہرہ رنگ سے مسخ کر دیا گیا۔
بلجیئم میں کئی عمارات اور باغات شاہ لیوپولڈ دوم کے نام سے منسوب ہیں۔نصابی کتابوں میں عشروں تک پڑھایا جاتا رہا کہ جنابِ لیوپولڈ نے افریقہ کو تہذیب کی روشنی سے نہلا دیا۔جب کہ یہ حقیقت بلجئیم کے بچوں سے ڈیڑھ سو برس چھپائی گئی کہ موصوف نے بلجئیم سے دس گنا بڑے افریقی خطے کانگو ، روانڈا اور برونّڈی کو اٹھارہ سو پچاسی سے انیس سو آٹھ میں وفات تک اپنی ذاتی جاگیر سمجھا۔ربڑ کی کاشت سے بے پناہ دولت کمائی اور اس دوران ایک کروڑ سیاہ فاموں کی زندگی تشدد اور بیماریوں سے چلی گئی۔
افریقی تاریخ کا یہ سب سے بڑا قتلِ عام تھا جس پر حالیہ دنوں تک پردہ ڈالنے کی کوشش ہوئی۔دو ہزار پندرہ میں بلجئیم نے ریاستی سطح پر تینوں افریقی ممالک سے ماضی میں ہونے والے ان مظالم پر معافی مانگی۔ معاوضے کا ذکر گول ہو گیا۔حالانکہ اس کا مطالبہ اقوامِ متحدہ کے اسٹیج سے کیا گیا تھا۔
یقیناً مجسموں اور ماضی کی ظالم یادگاروں کی توڑ پھوڑ سے حالات نہیں بدلتے۔مگر ایک شے ضرور آشکار ہوتی ہے۔یعنی جھوٹ تہذیب کے سمندر پر ہمیشہ ایک لاشے کی صورت تیرتا رہتا ہے اور سچ کو جتنا بھی مسخ کیا جائے وہ اتنا ہی توانا بن کے ابھرتا ہے۔ گویا دیر ہے اندھیر نہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker